القاب، خطاب اور دعائیہ جملوں کے مسائلترميم

 Y حل شدبخاری سعید تبادلہ خیال 05:18، 11 اگست 2018ء (م ع و)
گفتگو کو مقفل کر دیا گیا ہے۔ براہ کرم اسے تبدیل نہ کریں۔ تبصرے ممکنہ طور پر متعلقہ صفحہ پر رکھے جائیں گے۔ اب اس گفتگو میں مزید کوئی تبدیلی نہ ہوگی۔

تمام ویکی احباب کی توجہ کی ضرورت ہے مسلم اکثریتی ویکیاں جیسے فارسی ویکیپیڈیا اور عربی ویکیپیڈیا پر دعائیہ الفاظ کی کوئی گنجائش نہیں یہ شرف صرف ہماری ویکی کو حاصل ہے کہ ہر جگہ اصل نام کو ترجیح نہیں دی بلکہ علیہ السلام کا استعمال کیا ہے۔ جیسے اسلامی پیغمبر عیسیٰ کا حقیقی نام عیسیٰ ابن مریم ہے اور اس کے ساتھ علیہ السلام جیسے دعائیہ جملے صرف ثواب کے لیے لگائے گئے ہیں ورنہ ویکی کے اصول بھرے پڑے ہیں جن میں القاب کی گنجائش نہیں۔ اور جگہ جگہ ذیلی متن میں رضی اللہ عنہ، رحمۃ اللہ اور حضرت جیسے الفاظ نظر آتے ہیں۔ اب محمد کے نام کے ساتھ مسلم اکثریت والی فارسی ویکیپیڈیا اور عربی ویکیپیڈیا نے بھی درود نہیں استعمال کیا بلکہ اصل نام کو ترجیح دی ہے اور صرف محمد نام رکھنے کی وجہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکے انگریزی ویکی کے تبادلۂ خیال پر مل جائے گی جو یہ کہ اس میں دیگر مذاہب کے نقطہ نظر شامل ہیں۔ شاید اسے ہماری ویکی پر ثواب کی نیت سے رکھا گیا ہے۔ اگر صرف محمد نہیں تو محمد بن عبد اللہ بھی رکھا جاسکتا ہے۔ اور چند ماہ پہلے علیہ السلام کا تذکرہ ویکی ڈیٹا پر ایک فارسی ویکی صارف نے کیا تھا بات یوں ہوئی تھی اُس صارف نے ایک علیہ السلام والے صفحے پر بائبل والے زمرے کو دیکھ کر اسے دوسرے یعنی مرکزی مضمون میں منتقل کر دیا تھا جس پر میں نے سوال کیا تو انہوں نے واپس اسلامی نقطہ نظر والے آئٹم میں اس مضمون کو منتقل کر دیا مگر بات ہی بات میں کہہ دیا کہ ”علیہ السلام تو honorific ہے اور ہماری فارسی ویکی پر یہ استعمال نہیں ہوتا اور مگر میں دوسری ویکی کا کچھ کہہ نہیں سکتا“۔ بہر حال مجھے اس مضمون کا نام یاد نہیں مگر اس کا ذکر میں نے شعیب صاحب سے واٹس ایپ پر کیا تھا مگر اُن کی جانب سے کوئی خاص جواب نہیں ملا۔ میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں آپ لوگ بھی ویکیپیڈیا کے اصول دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ وقت نکال کر میری رائے پڑھنے کا شکریہ!-- بخاری سعید تبادلۂ خیال 13:38, 23 اکتوبر 2017 (م ع و)

اردو ویکیپیڈیا برادری کے سامنے اپنے خیالات کو انتہائی مہذب اور شائستہ اسلوب میں پیش کرنے کا یہ عمل قابل تقلید ہے، صدہا مبارک باد قبول فرمائیں۔
آمدم بر سر مطلب، درحقیقت دنیا کی ہر زبان کی ویکی کسی دوسری ویکیپیڈیا کی پابند نہیں ہے، چنانچہ اردو ویکیپیڈیا بھی فروعی امور میں انگریزی، عربی یا فارسی ویکیپیڈیا کی پابند نہیں۔ بنا بریں، کسی معاملے میں مذکورہ ویکیپیڈیاؤں کا عمل حجت نہیں سمجھا جائے گا تا آنکہ اردو ویکیپیڈیا کی برادری اس پر متفق ہو۔ القاب کا معاملہ بھی انہی فروعی مسائل میں شامل ہے، بنیادی طور پر اردو برصغیر کی زبان ہے جہاں کی تہذیب و ثقافت کا اپنا امتیاز ہے۔ یہاں کے عوام اپنے بزرگوں کے ناموں کو القاب کے بغیر لکھنا انتہائی معیوب خیال کرتے ہیں، لیکن برا ہو مسالک کی باہمی منافرت کا کہ ایک بزرگ کسی فرقے کے نزدیک محترم ہے تو دوسرے فرقے کے نزدیک جہنمی۔ اسی انتشار سے بچنے کے لیے ماضی میں ہم ویکیپیڈیا صارفین نے یہ طے کیا تھا کہ تمام متفق علیہ شخصیات کے ساتھ معتدل القاب کا استعمال کریں گے اور ظاہر ہے تمام فرقوں کے نزدیک متفق علیہ شخصیات انبیاے عظام اور صحابہ کرام ہی ہیں۔ اسی ضمن میں ان صحابہ کرام کا مسئلہ بھی زیر بحث تھا جنہیں اہل تشیع محترم نہیں گردانتے، تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان کے یہاں بھی ان صحابہ کے ناموں کے ساتھ رضی اللہ عنہ/عنہا لکھنے کا رواج ہے۔ اور یوں یہ طے کر لیا گیا کہ ہم اپنی تہذیب کا خیال رکھتے ہوئے انبیا اور صحابہ کے ناموں کے ساتھ معتدل القاب کو استعمال کریں گے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ :)  —خادم—  14:54, 23 اکتوبر 2017 (م ع و)
بجا فر ما رہے ہیں مگر ایسے مضامین کے عنوان حقیقی نام پر مبنی ہونے چاہیے نا کہ دعائیہ جملے ورنہ ویکیپیڈیا معتدل نقطہ نظر کا صفحہ (neutral point of view) موجود بس اسے توجے سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ رہا سوال حرج کا تو مجھے کسی قسم کی تکلیف نہیں مگر ہوسکتا ہے مستقبل میں بھی کوئی میرا جیسا سوال اٹھائے! میرے نزدیک پیغمبران اسلام کے عنوان تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ نام حقیقی ہونا چاہیے۔-- بخاری سعید تبادلہ خیال 15:04, 23 اکتوبر 2017 (م ع و)
صحابہ کے ناموں کے ساتھ بھی رضی اللہ عنہ یا رحمت للہ علیہ کا استعمال، 2 سال پہلے کی ایک ایسی بحث کے تحت طے کر دیا گیا تھا کہ، ان کلمیات کا استعمال عنوان میں کسی صورت قبول نہیں، مضمون کے اندر شروع میں ویکی اصول کے تحت ایک بار لکھا جا سکتا ہے، جیسے سینٹ، ڈیوڈ، گریٹ، کنگ، سید، سر وغیرہ لکھا جاتا ہے، لیکن باقی متن میں ان کی اجازت نہیں۔ انبیائے اسلام کے ناموں کے ساتھ بغیر علیہ السلام لگائے مسئلہ پیدا ہوتا ہے، ویکیپیڈیا کا اصول ہی یہ ہے کہ ہر عنوان کو ایسا ہونا چائیے (یا بالکل اوپر یا تعارف کی ابتدا میں) ہی شخصیت واضع ہو جائے کہ کس شخصیت پر مضمون ہے، جیسے ہم قوسین کا استعمال کرتے ہیں، جیسے پیشے یا عہدے کا استعمال کیا جاتا ہے یا سانچہ امتیاز، ضد ابہام اور دیگر وغیرہ کا سانچہ لگا کر وضاحت کر دی جاتی ہے۔ اسی لیے ہم اسلامی انبیا کے نام کے ساتھ عنوان میں علیہ السلام لکھتے ہیں، باقی متن میں بحث ہو سکتی ہے، عام مضامین میں ہم بار بار شخصیت کا ذاتی یا خاندانی نام استعمال کرتے ہیں، جیسے محمد اقبال ہے تو باقی متن میں صرف اقبال لکھا جاتا ہے۔ لیکن ان مضامین میں جب مسلسل علیہ السلام کا استعمال کیا جاتا ہے تو مضمون اسلامی ہو جاتا ہے، متن کے اندر اگر بار بار مجرد موسی لکھنا مناسب نہیں تو نام کی بجائے آپ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ یہ مسئلہ کسی حد تک کم ہو۔ باقی مہاویر بھی اسی قبیل کا ہے، مہا کے سابقے کے اور بھی عنوان ہو سکتے ہیں اردو ویکی پر۔ عنوان میں القاب کا استعمال منع ہے، لیکن رجوع مکررات کو باقی رکھنا یا بنانا ضروری ہوتا ہے، یہ بھی نہیں کہ ایک شخصیت کے سو رجوع مکرر بنا دیے جائیں، لیکن، سید، مخدوم، غازی، شہید، مولانا، علامہ، پروفیسر، ڈاکٹر جیسے سابقوں لاحقوں سے رجوع مکررات ضروری ہیں، تاکہ گوگل سرچ یا ویکی پر تلاش کرتے وقت نئے صارف کو دقت نہ ہو۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:02, 23 اکتوبر 2017 (م ع و)
مہاویر ایک exceptional article ہے بالکل لال شہباز قلندر کی طرح۔ جس کا ایک انگریزی ویکی پر ایک الگ اصول موجود ہے۔ کچھ مقدسین کے ساتھ بھی مقدس لگایا جاتا ہے جو کچھ exceptional مضامین ہوتے ہیں جیسے مقدس یوسف (Saint Joseph) کے ساتھ جو عوام الناس میں اُسی نام سے جانے جاتے ہیں جس طرح لال شہباز قلندر کا حقیقی نام عثمانی مروندی اسی طرح مہاویر کا حقیقی نام وردھمان موجود ہے مگر پھر بھی عوام الناس میں لال شہباز قلندر و مہاویر کے نام سے جانے جاتے ہیں کیونکہ exceptional article کی وجہ سے ان میں اور ان جیسے مضامین میں القاب کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے۔ مگر پیغمبران اسلام کے ساتھ علیہ السلام لگانا NPOV کی خلاف ورزی ہے ایسا کیوں ہے اس کے کئی اصول موجود ہیں مگر وہی بات پڑھنے کی ضرورت ہے۔ انگریزی ویکی پر Jesus in Islam کرکے مضامین بنائے گئے مگر ہماری ویکی پر اسلام میں عیسیٰ عجیب سا لگے گا کیونکہ مسیحیوں و مسلمانوں میں الگ الگ نام بولے جاتے ہیں اسی لیے عیسیٰ ابن مریم ہوسکتا ہے اسی طرح موسیٰ کا موسیٰ بن عمران۔ شاید کچھ مضامین انگریزی ویکی پر اسلامی نقطہ نظر کے جیسے en:Zechariah in Islam انگریزی ویکی پر ضم ہوچکے ہیں مگر شاید ہمیں بھی ایسے مضامین کی درستی کی ضرورت ہے علیہ السلام ختم کرکے مسیحی، اسلامی، یہودی و دیگر مذاہب کے نقطہ نظر کو ایک مضمون میں کرنے کی ضرورت ہے اس سے خود بہ خود عنوان سے علیہ السلام ہٹانا پڑ جائے گا کیونکہ اس وقت اُس مضمون میں تمام نقطہ نظر ہوں گے-- بخاری سعید تبادلہ خیال 17:40, 23 اکتوبر 2017 (م ع و)
میرے خیال سے لقب، اعزاز یا دعائیہ کلمات کے نام سے صفحات بنا کر انہیں اصل مضمون کی طرف رجوع مکرر کیا جا سکتا ہے، تاکہ ان کلمات سے تلاش کرنے والوں کو آسانی ہو۔ جملہ مذاہب کے صارفین/افراد عناوین میں اپنی محترم شخصیات کے ساتھ القاب/دعائیہ کلمات لگا کر اسے اصل مضمون سے رجوع مکرر کر سکتے ہیں مثلاً بہاء اللہ کے لیے حضرت بہاء اللہ۔-- بخاری سعید تبادلہ خیال 05:41, 24 اکتوبر 2017 (م ع و)
@Obaid Raza: یہ معاملہ ماند پڑ گیا ہے گزارش ہے کہ ایشیائی مہینہ کی طرح اس معاملے کے لیے بھی MediaWiki message delivery سے تمام صارفین کو یہاں متوجہ کیا جانا چاہیے۔ تاکہ علیہ السلام اور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معاملے پر رائے شماری کی جاسکے کہ آیا یہ استعمال کریں یا دوسری ویکیوں اور ویکیپیڈیا:معتدل نقطہ نظر کے تحت اسے خارج کر دیں؟ یہ دعائیہ جملے ہم دل میں بھی پڑھ سکتے ہیں میرے خیال سے ضروری نہیں کہ اس پلیٹ فارم پر ان دعائیہ جملوں کی ضرورت ہے۔— بخاری سعید تبادلہ خیال 13:47, 14 نومبر 2017 (م ع و)
ہم ان امور کے بارے میں پہلے ہی اتفاق رائے سے فیصلہ کر چکے ہیں۔ اس لیے یہ رائے شماری غیر ضروری ہے۔ ہم نے طے کیا تھا کہ ہم انبیا کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام لکھیں گے، صحابہ کرام کے ساتھ رضی اللہ عنہ اور اگر کوئی بزرک القاب سے مشہور ہے تو اسی سے لکھا جائے گا، آپ کو اس سے اختلاف ہے، کوئی بات نہیں، پہلے یہ متفقہ فیصلہ تھا، اب بھی یہ اکثریتی فیصلہ ہے۔ دوسرا اردو ویکی پیڈیا اپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد ہے، کسی دوسرے ویکی کی پالیسیوں پر چلنے کا پابند نہیں۔ ہاں ہم اگر ہم نے کوئی پالیسی نہیں بنائی تو ہم دوسرے ویکی کی پالیس جو بظاہر مناسب لگتی ہو پر عمل کرتے ہیں۔--امین اکبر (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:15, 15 نومبر 2017 (م ع و)
میرے رائے بھی محترم امین اکبر سے مختلف نہیں۔ محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:31, 15 نومبر 2017 (م ع و)
جن کو ہم اور آپ "علیہ السلام" یا "رضی اللہ عنہ" کہہ کر دعا دیتے ہیں کیا دوسرے مذاہب والے ان کو انہی ناموں سے بلاتے ہیں؟ اور حیرت ہوتی ہے اس ویکیپیڈیا کو دیکھ کر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم والا مضمون مکمل خالص اسلامی مقالہ ہے (شاید دوسرے مذاہب کے نقطہ نظر شامل کرنے کی زحمت نہیں کی گئی) مگر پھر بھی اسلام میں محمد (مگر کیوں محمد کا دوسرا مضمون تو پہلے سے ہے؟ ) موجود ہے۔ درود اور علیہ السلام تو ٹھیک ہے مگر رضی اللہ عنہ/عنہا غلط ہوگا شاید ایک اسلامی فرقہ اس کا استعمال نہیں کرتا۔ میں نے تو بات ہی درود اور علیہ السلام کی کری ہے وہ صرف ثواب کی نیت سے لکھے جاسکتے ہیں معتدل نقطہ نظر کے تحت نہیں۔ رائے شماری دوبارہ ہونی چاہیے۔ ایسی کونسی سے پالیسی ہے جو ہم انگریزی ویکیپیڈیا کی نقل نہیں کرتے؟ یہ اور تمام ویکیاں انگریزی ویکیپیڈیا کے ترجمہ کا ایک نسخہ ہے تو ان کے بنائے گئے باقی قوانین پر عمل کیوں نہیں؟ مجھے بزرگان مذہب کے القاب سے کسی قسم کا اختلاف نہیں لال شہباز قلندر جیسے exceptional مضامین کا میں نہیں کہہ رہا میرا اختلاف دعائیہ جملوں سے ہے۔ — بخاری سعید تبادلہ خیال 09:50, 15 نومبر 2017 (م ع و)

──────────────────────────────────────────────────────────────────────────────────────────────────── میں یہاں اپنی رائے دینا چاہوں گا کہ اردو ویکیپیڈیا اردو صارفین کے لیے ہے نہ کہ مسلمان صارفین کے لیے۔ اس لیے اگر القابات کو ہم مسلم شخصیات کے لیے روا رکھتے ہیں تو ہمیں ہر مذہب کے لیے اسی اصول کو اپنانا ہوگا۔ اگر ہم صرف اسلامی نکتہ نظر کو ترجیح دینا چاہتے ہیں تو پھر اردو ویکپیڈیا کی بجائے اسے اسلامی ویکیپیڈیا کر دیں کیونکہ ویکیپیڈیا کا بنیادی اصول غیر جانبداری ہے۔ یعنی اگر ایک اصول اسلامی مذہبی شخصیات کے لیے روا ہے تو اسے تمام مذاہب کے لیے بھی لاگو کریں، اگر کسی مذہب کو ہماری اکثریت نہیں مانتی (قادیانیت اس کی ایک مثال ہے) تو پھر ہمیں اسلامی شخصیات کے لیے بھی ایسے القابات سے گریز کرنا چاہیے کہ غیر جانبداری اسی کا نام ہے۔ اس کا ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ جیسے سیٹنگ میں صارفین اردو یا انگریزی اعداد کو منتخب کر سکتے ہیں، اسی طرح ان کو انبیا اور دیگر شخصیات کے اسماء کے ساتھ القابات کو منتخب کرنے کی اجازت ہو۔ حساس مسئلہ کو مستحسن انداز سے پیش کرنے کا شکریہ--قیصرانی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:22, 17 نومبر 2017 (م ع و)

درست کہہ رہے ہیں مگر نام تو اردو ویکیپیڈیا ہی ہے :) مگر مجھے یہ اسلامی ویکیپیڈیا لگتی ہے۔ — بخاری سعید تبادلہ خیال 02:53, 18 نومبر 2017 (م ع و)

رائےترميم

{{تائید}} سے مراد القاب ہٹا دیے جائیں اور {{تنقید}} مخالفین (جو القاب کے حق میں ہیں) کے لیے ہے۔

تائیدترميم

تنقیدترميم

(تصحیح)_ نورالدین __وکی طالب علم_☺گفتگو . 13:16, 15 جنوری 2018 (م ع و)

تبصرہترميم

@امین اکبر: یہی کہ اسلامی انبیا کرام کہ ساتھ علیہ السلام (عیسیٰ علیہ السلام) رکھا جائے یا نہیں اور محمد کے ساتھ درود لگائیں یا نہیں؟ — بخاری سعید تبادلہ خیال 09:37, 15 نومبر 2017 (م ع و)
جس صارف نے بحث شروع کرائی ہو، اس نے جس نقطہ نظر کی حمایت کی ہے، اس کے لیے تائید اس کے خلاف کے لیے تنقید۔ میرے خیال میں اگر آپ ان دعائیہ کلمات کے مکمل خلاف ہیں تو تائید کریں گے (یعنی صارف کی رائے کی تائید)۔
انبیا کے سوا تمام شخصیات کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام، رضی اللہ عنہ (عنہا، عنہما، عنہم) رحمتہ اللہ علیہ، رح، رض، عل، مرحوم، آنحہانی، ماجدہ، ماجد (جیسے والدماجد) حضرت، حضور، (سید اور سیدہ جب اصلی نام کا حصہ نہ ہوں)، آمین (بطور دعا)، لعنت اللہ (بطور دعا) بارک اللہ (بطوردعا) ایسے اور بھی کلمات و الفاظ ہیں۔ ان کا استعمال ممنوع۔ (استثنا کی صورت، صرف یہ کہ (مسلمان یا جو فرقہ یا مذہب جس دعائیہ کلمے سے یاد کرتا ہے) وہ ان ہی کی طرف نسبت کر کے بیان کیا جائے) (مثال: مسلمان ان کا نام حضرت عیسی علیہ السلام لکھتے اور بولتے ہیں، مثال: حسین ابن علی کے نام کے ساتھ اہل تشیع امام کا سابقہ اور علیہ السلام کا لاحقہ لگاتے ہیں، دیگر فرقے امام کا سابقہ تو لگاتے ہیں لیکن اکثر علیہ اسلام کی بجائے، رضی اللہ عنہ لکھتے اور بولتے ہیں)۔
دو درجن شخصیات ہیں جن کے لیے ہم نے یہ تخصیص کی ہوئی ہے، یہ کوئی بڑی تعداد نہیں ہے، ویکی اصول کم از کم ایسے نام سے نہیں روکتا جو مقامی زبان میں ہمیشہ ایک ہی طرح لکھا جائے، بولا جائے۔ اگر بعض شخصیات کے ناموں کے ساتھ، پاک، سید، مخدوم، شہید کا سابقہ یا لاحقہ اس لیے قبول ہے کہ وہ اصل نام سے زیادہ معروف ہے بلکہ وہ سابقہ یا لاحقہ لگائے بغیر شخصیت مبہم ہو جائے تو یہ اصول انبیائئے اسلام پر لاگو ہوتا ہے۔ (اردو بولنے والوں کی بڑی تعداد مسلمان ہے اور ہم جب معروف نام و رواج کی یا مستعمل یا متروک کا بولیں گے تو اس سے مراد خاص اردو زبان میں اس شخصیت یا لفظ کے بارے میں وہ رائے ہو گی۔— سابقہ غیر دستخط شدہ تبصرہ بدست Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں)
"اردو بولنے والوں کی بڑی تعداد مسلمان ہے اور ہم جب معروف نام و رواج کی یا مستعمل یا متروک کا بولیں گے تو اس سے مراد خاص اردو زبان میں اس شخصیت یا لفظ کے بارے میں وہ رائے ہو گی۔"
جواب: انگریزی ویکیپیڈیا پر انگریزی بولنے والوں کی بڑی تعداد مسیحیوں کی ہے اور مسیحیوں میں معروف نام اور رواج "یسوع خدا کا بیٹا" (Jesus the Son of God) بولنے کا ہے مگر انہوں نے تو یسوع کو خدا بیٹا نہیں لکھا اور نہ کسی کہ ساتھ دعائیہ جملے چپکائے جیسے درود، علیہ السلام وغیرہ؟ — بخاری سعید تبادلہ خیال 15:13, 17 نومبر 2017 (م ع و)
انگریزی عالمی زبان ہے اور انگریزی ویکیپیڈیا دنیا بھر کے لیے ہے، اردو یا سندھی علاقائی زبانیں ہیں، انگریزی ویکی پر مریمیات اور مسیحیت متعلقہ مضامین کی تعداد دیکھ لیں اور ان میں استعمال کیے جانے والے القابات، خطابات اور دعائیہ الفاظ کا ترجمہ کریں، (بے شک وہ صرف تعارف کی حد تک ہے، جس کی میں اردو ویکی پر حمایت کر رہا ہوں) عہد نامہ کی ایک ایک کتاب، ایک ایک باب اور ایک ایک آیت پر مضمون ہے، بلکہ عبرانی ویکی و انگریزی ویکی پر تو بائبل میکں جن قبائل اور شخصیات کے فقط نام ہیں، ان پر دو دو سطروں کے مضامین موجود ہیں، غیر جانبداری کا دعوی وہاں صرف غیر مسیحیوں کے لیے ہے۔ اور انگریزی بولنے والے ہمیشہ خدا کا بیٹا کہتے ہیں، اس کا ثبوت دیں؟ علیہ السلام یا درود نام کا حصہ ہے۔--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:35, 17 نومبر 2017 (م ع و)
میں نے کب کہا کہ "ہمیشہ خدا کا بیٹا بولتے ہیں" اس طرح تو عیسیٰ کو بھی عیسیٰ ابن مریم بولا جاتا ہے ہمیشہ علیہ السلام نہیں لگایا جاتا۔ وہ جو آپ ایک ایک آیت، باب کے قبائل اور شخصیات کا کہہ رہے ہیں وہ ویکی منصوبہ بائبل کے تحت تخلیق کیے گئے ہیں۔ :) — بخاری سعید تبادلہ خیال 18:15, 17 نومبر 2017 (م ع و)
@قیصرانی: بھائی {{تائید}} سے مراد القاب ہٹا دیے جائیں اور {{تنقید}} مخالفین (جو القاب کے حق میں ہیں) کے لیے ہے۔ — بخاری سعید تبادلہ خیال 12:59, 17 نومبر 2017 (م ع و)
شکریہ--قیصرانی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 13:17, 17 نومبر 2017 (م ع و)
اس موقف کی مخالفت کرنے کے لیے ایک دلیل میرے پاس یزید بن معاویہ اور مالک بن اشتر کی ہے۔ _ نورالدین __وکی طالب علم_☺گفتگو . 11:57, 10 جنوری 2018 (م ع و)
@Nooruddin2020: اگر تنقید کر رہے ہیں تو تنقید میں {{تنقید}} استعمال کریں تائید نہیں اور یہاں صرف پیغمبران اسلام کے القاب ہٹانے یا رکھنے کی بحث جاری ہے اور باقی رحمتہ اللہ رضی اللہ ویسے ہی ممنوع ہے۔— بخاری سعید تبادلہ خیال 12:03, 10 جنوری 2018 (م ع و)
رائے کے عنوان / سرخی سے اوپر مبہم انداز میں کافی کچھ لکھا گیا۔ مگر پھر بھی سمجھ نہيں آ رہا کہ ہم جو تائید کریں گے وہ کس موقف کی تائید ہو گی یا جو تنقید کریں گے وہ کس موقف کی تنقید ہو گی۔ بہتر ہو گا کہ رائے کے سرخی میں محض ایک جملے پر مبنی موقف لکھا جائے تا کہ نیچے لکھی تائید اور تنقید بھی واضح ہو سکے۔ میں نے رائے میں جو رائے جملہ /موقف لکھا تھا اس کو مٹا دیا گیا۔ تو اس کے بعد جو صحیح جملہ ہے وہ تو لکھ دیں کہ یہ رائے کس بارے میں ہو رہی ہے۔ ویسے میری رائے میں انبیا کے نام کے ساتھ حضرت اور علیہ السلام نہ ہی لکھا جائے۔ کیوں کہ ویکی پیڈیا اردو ہو یا انگریزی بہر حال اس کے قواعد کی بنیاد غیر جانب داری ہی ہے۔ جانب داری بہر حال غلط ہے چاہے وہ اقلیت کی ہو یا اکثریت کی۔ ہاں ہم اپنے گھر میں، اپنے ذات میں اور اپنے حلقہ احباب میں آزاد ہیں کہ ان القابات کا استعمال اپنے مذہبی جذبات کے مطابق ضرور کریں۔ _ نورالدین __وکی طالب علم_☺گفتگو . 13:52, 10 جنوری 2018 (م ع و)

گفتگو کو مقفل کر دیا گیا ہے، براہ کرم اسے تبدیل نہ کریں۔ تبصرے ممکنہ طور پر متعلقہ صفحہ پر رکھے جائیں گے۔ اب اس گفتگو میں مزید کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔


فی البدیہہ؟ترميم

احباب گرامی! لغات اور اردو تحریروں کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ اردو کی مشہور ترکیب فی البدیہہ کے دو املا مستعمل ہیں، فی البدیہہ اور فی البدیہہ۔ اور اردو ویکیپیڈیا کے مضامین میں بھی دونوں املا ملتے ہیں تاہم فی البدیہہ زیادہ مستعمل ہے۔ دائرۃ المعارف میں یکسانی برقرار رکھنے کے لیے ہمیں کسی ایک املا کو اختیار کرنا ہوگا۔ امید ہے احباب ذیل میں اپنی آرا سے نوازیں گے، ممنون! :)  —خادم—  مورخہ 18 فروری 2018ء، بوقت 6 بج کر 12 منٹ (بھارت)

فی البدیہہترميم

فی البدیہہترميم

  •   تائید، مادہ کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ اسے فی البدیہہ ہونا چاہیے۔ :)  —خادم—  مورخہ 18 فروری 2018ء، بوقت 6 بج کر 52 منٹ (بھارت)

تبصرہترميم

  تبصرہ: میرے خیال سے دونوں کو درست مانا جانا چاہیے۔ اور دونوں استعمال کرنے چاہیے — بخاری سعید تبادلہ خیال 13:30, 18 فروری 2018 (م ع و)

  تبصرہ: عربی میں فی البدیہۃ اور فی البداہۃ ہے اور اردو میں فی البدیہہ غلط استعمال ہے۔ چونکہ مکمل عربی ترکیب ہے اور اس میں ارتجال نہیں ہوا ہے توفی البدیہہ صحیح ہے۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:28, 18 فروری 2018 (م ع و)

ویکی مینیا اسکالر شپترميم

آداب! ٰ بہ طور خاص @Arif80s، امین اکبر، مھتاب احمد، JogiAsad، محمد مجیب، Abbas dhothar، Danish47، Drcenjary، اور Faranjuned: صاحبان،

جیساکہ اس سال کے شروع میں نے آپ احباب کو یہ اطلاع دے دی تھی کہ میں اس سال ویکی مینیا کے لیے اسکالر شپ درخواست نہیں دوں گا، میں نے درخواست نہیں دی۔ اگر اردو، سندھی یا شاہ مکھی سے کسی کو اسکالر شپ ملی ہو تو براہ مہربانی اطلاع دیں تاکہ ویکی منینیا میں شرکت کے دوران تکنیکی معاملوں، نیز کمیونٹی سے جڑے معاملوں کی مناسب نمائندگی کی جا سکتی ہے۔ --مزمل الدین (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:39، 29 مارچ 2018ء (م ع و)

ویکیپیڈیا زمرہ جاتترميم

السلام علیکم، میں کافی دنوں سے ویکیپیڈیا پر نئے زمرہ جات بنانے کی جستجو میں ہوں۔ ایک آلہ ہوتا تھا جس سے آپ ممالک کے زمرہ جات وغیرہ یکبارگی ہی بنا سکتے تھے، اب مجھے یاد نہیں آ رہا کہ وہ کس طرح سے ہوتا تھا کیا کوئی بھائی مدد کر سکتے ہیں۔ --ساجد امجد ساجدپیغام لکھئے 17:28، 30 مارچ 2018ء (م ع و)

آپ اپنی ترجیحات میں جائیں اور زمرہ ساز: آلہ برائے خودکار تخلیق زمرہ جات بلحاظ انگریزی ویکیپیڈیا کو نشان زد کرکے محفوظ کر لیں۔ پھر کسی ویکی صفحہ میں جائیں اور دائیں جانب خانہ آلات پر نظر ڈالیں تو "زمرہ ساز" کا اختیار نظر آئے گا۔ :)  —خادم—  مورخہ 30 مارچ 2018ء، بوقت 11 بج کر 08 منٹ (بھارت)
کامیابی نہیں مل سکی، براہ مہربانی کچھ تفصیل سے بتا دیں۔ ممنون رہوں گا۔ --ساجد امجد ساجدپیغام لکھئے 12:33، 2 اپریل 2018ء (م ع و)
جناب محمد شعیب صاحب نے ذاتی پیغامات کے ذریعے رہنمائی فرمائی اور میرا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ جزاک اللہ تعالی --ساجد امجد ساجدپیغام لکھئے 15:40، 2 اپریل 2018ء (م ع و)

ویکی ایڈوانسڈ ٹریننگ کی رو دادترميم

بھارت میں سینٹر فار انٹرنیٹ اینڈ سوسائٹی کی جانب سے امسال اواخر جون سے یکم جولائی کے بیچ رانچی شہر میں ویکی ایڈوانسڈ ٹریننگ پروگرام کا احتمام کیا گیا۔ اس پروگرام کے رانچی میں انعقاد کا مقصد بھارت کے غالبًا سب سے زیادہ ترامیم کرنے والے صارف گنگادھر بھدانی کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا جو کچھ عرصہ بہلے سانحہ ارتحال کی وجہ سے ہمارے بیچ نہیں رہے۔ یہ پروگرام ان صارفین کے لیے تھا جو کسی نہ کسی درجے میں ویکی اسلوب سے واقف ہیں۔

اس پروگرام کے انعقاد میں ایک بڑا سقم جو میں نے دیکھا وہ یہ تھا کہ اس کا اعلان باضابطہ بھارتی زبانوں کے دیوان عام پر نہیں ہوا۔ یہ میلنگ لسٹ کے ذریعے ہوا۔ اور وہ بھی چند مخصوص زبانوں کے۔ مثلًا ہندی میلنگ لسٹ پر تو ہوا تھا، مگر اردو پر نہیں۔ اس پروگرام میں شرکت کے لیے مجھے پروگرام اسکالرشپ کے غالبًا آخری دن کسی نے فیس بک کے ذریعے اطلاع دی تھی اور میں نے فوری اپلائی کیا۔

پروگرام میں جو باتوں پر گفتگو ہوئی تھی، اس کا کچھ اندازہ اس ایتھرپیاڈ کے ایوینٹ کے دوران رواں نوٹس سے ہو سکتا ہے۔ اس پروگرام میں شرکت کے بعد جو روداد میں نے مہتممین کے لیے لکھی تھی وہ یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ اردو ویکی پیڈیا کے لیے تین اہم باتیں نکل کر آئی ہیں:

  1. جاریہ اردو عبرانی تعاون کے لیے حسب سابق ہم سی آئی ایس کی مدد کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس میں میں نے یہ مشکل بھی پیش کی کہ بے حد فعال صارفین پاکستان میں مقیم ہیں جہاں سے اسرائیل خطوط یا کوئی اور مواد کا آنا جانا دشوار ہے اور اس سلسلے میں بھی سی آئی ایس کی مدد درکار ہوگی۔ اس پر سی آئی ایس کے تنویر حسن نے یہ کہا کہ اگر چیکہ ادارے کا دائرہ کار بھارت ہی ہے، تاہم عند الضرورت کچھ اور مدد کے بارے میں بھی سوچا جا سکتا ہے۔
  2. ہندی صارف جے پر کاش سے میں نے اردو ویکیپیڈیا پر اعداد کی از خود تصحیح پر گفتگو کی۔مجھے انہوں نے اور کچھ اور لوگوں نے بتایا کہ یہ فاونڈیشن کے لوگ ہی کر سکتے ہیں کیوں کہ اس کے لیے ایک روبہ درکار ہوگا۔
  3. ان ہی جے پرکاش صاحب مختلف زبانوں میں بصری ترمیم میں از خود حوالہ جاتی عنوان کے فعال کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے کچھ مخصوص سانچوں / ماڈیولز کو اردو ویکی پر فعال کرنے کی بات کہی۔ تاہم پھر بھی یہ فائدہ اردو ویکی کو حاصل ہو نہ سکا۔ اس کی وجہ انہوں نے میرے تبادلہ خیال پر "Replace the getSelection" کے قطعے میں میڈیا ویکی میں درکار چند گیجیٹس کو قرار دیا ہے۔ ممکن ہے کہ شعیب صاحب اس پر غور کر کے کچھ حل نکال سکیں۔ --مزمل الدین (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:36، 12 جولائی 2018ء (م ع و)
ماشاء اللہ بہت خوب۔ --امین اکبر (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:50، 13 جولائی 2018ء (م ع و)
@محمد شعیب:بخاری سعید تبادلہ خیال 03:13، 14 جولائی 2018ء (م ع و)
یہ خاصا طویل کام ہے جو فی الوقت موبائل سے ممکن نہیں۔ ہمارے یہاں حوالہ جاتی سانچوں کے ماڈیول پرانے ہو گئے ہیں، ان سب کی تجدید کرنی ہوگی اور ان کے متبادل اردو سانچوں کو اصل سانچوں میں ضم کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی citoid بہتر کام کر سکے گا۔ :)  —خادم—  مورخہ 14 جولا‎ئی 2018ء، بوقت 11 بج کر 37 منٹ (بھارت)
@Obaid Raza:بخاری سعید تبادلہ خیال 08:15، 16 اگست 2018ء (م ع و)

مزمل صاحب کی عارضی کنارہ کشیترميم

بہت دکھ اور انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اردو ویکیپیڈیا کے انتہائی متحرک اور فعال منتظم و مامور اداری جناب مزمل الدین صاحب نے عارضی طور پر اردو ویکیپیڈیا کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ انہيں ہمیشہ خوش و خرم رکھے، سلامت رکھے اور ان کے اس عارضی فیصلہ کو عارضی ہی رکھے تاکہ وہ پھر سے جلد از جلد میر کارواں کے منصب پر فائز ہوں اور ہمارے لیے مشعل راہ بنیں۔ آمین!
ان کے پیغام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عارضی کنارہ کشی کا باعث میں (محمد شعیب) بنا ہوں۔
واقعہ یوں ہے کہ گزشتہ دنوں انہوں نے منصوبہ امن کے پیامبر کے تحت بڑی جانفشانی سے پاکستان اسرائیل تعلقات پر ایک مضمون لکھا جو مواد، معلومات اور اسلوب کے لحاظ سے یقیناً انگریزی، عبرانی اور دوسری ویکیوں کے مضامین سے کئی گنا زیادہ عمدہ تھا۔ قبل ازیں انہوں نے ایسے متعدد مضامین لکھے ہیں جو مواد کے لحاظ سے دوسری ویکیوں سے کہیں بلند ہیں۔ ان کی اس محنت اور عرق ریزی کو دیکھتے ہوئے جناب حماد سعید نے اس کو منتخب مضمون بنانے کے لیے نامزد کیا جس پر شاید چند تائیدیں بھی موصول ہوئیں۔ تاہم اس رائے شماری میں اپنی رائے دینے سے قبل میں نے اس مضمون کا مفصل جائزہ لیا جو تمام رائے دہندگان کا فریضہ ہے۔ اس جائزے سے یہ بات مجھ پر عیاں ہوئی کہ یہ مضمون بلا شبہ مزمل صاحب کی جاں گسل کاوشوں کا ثبوت ہے لیکن بایں ہمہ وہ اردو ویکیپیڈیا کے منتخب مضمون کے مقررہ معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ چنانچہ میں نے اس رائے شماری میں اپنی تنقیدی رائے درج کی اور ساتھ ہی تجویز بھی دی کہ اسے بہترین مضمون کے لیے نامزد کیا جا سکتا ہے۔ میری اس تجویز کے بعد جناب حماد سعید نے بلا کسی تاخیر مذکورہ رائے شماری کو موقوف کرکے بہترین مضمون کی رائے شماری کا آغاز کر دیا اور پھر وہ مضمون متفقہ طور پر منتخب کی بجائے بہترین مضمون قرار پایا۔ یہی وہ پھانس ہے جو مزمل صاحب کے دل میں چبھتی رہی اور اب اس کا نتیجہ سامنے ہے۔ میں اپنے اس عمل کا کوئی جواز تلاش نہیں کرنا چاہتا۔ اس پورے معاملہ کو من و عن میں نے اردو ویکی برادری کے سامنے پیش کر دیا ہے، اب احباب جو فیصلہ کریں وہ مجھے منظور ہوگا۔ اگر برادری یہ کہتی ہے کہ میرا مذکورہ عمل غلط تھا اور مجھے اپنی اس حرکت پر اظہار ندامت کرنا اور معافی کا خواستگار ہونا چاہیے تو میں بغیر کسی پس و پیش کے اس کے لیے تیار ہوں۔ :)  —خادم—  مورخہ 16 اگست 2018ء، بوقت 8 بج کر 35 منٹ (بھارت)

دی ویکی لائبریری کانفرنس بھارت 2019ءترميم

معزز ساتھیو!

مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ دی ویکی لائبریری کانفرنس 2019ء کی درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں۔ یہ ایک چھوٹی کانفرنس ہے جو دی ویکی لائبریر (ٹی ڈبلیو ایل) پر مرکوز ہے اور بھارت میں اس ضمن کے آؤٹ ریچ کی کوشش ہے۔ اس سلسلے کا درخواست فارم یہاں موجود ہے۔ آخری 25 نومبر 2018ء ہے۔ یہ اجلاس جنوری 2019ء میں منعقد ہوگا۔ اہلیت سے متعلق رہنمایانہ خطوط یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ شکریہ۔ --Shypoetess (talk) 19:19, 19 November 2018 (UTC)


امین اکبر صاحب کی گراں قدر خدمات کا اعترافترميم

معزز ساتھیو! آداب!!

مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ ویکی میڈیا فاؤنڈیشن نے ہمارے ساتھی امین اکبر صاحب کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا انٹرویو اپنی سائٹ پر شائع کیا ہے۔

اس سے قبل ویکی میڈیا فاؤنڈیشن نے طاہر صاحب، احمد نثار صاحب اور ییژی کیپکا صاحب جیسے عمدہ معاونین اور اردو ویکی کے پچاس ہزار اور ایک لاکھ مضامین کے مکمل ہونے کے مواقع پر کمیونٹی بلاگ بھی شائع کر چکا ہے۔

@Obaid Raza: صاحب، اس بلاگ کو آپ ہماری ویکی کی سال واری ڈائری میں نوٹ فرمالیجئے۔--مزمل الدین (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:13، 29 اکتوبر 2019ء (م ع و)

جی جی ضرور مزمل بھائی!--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:40، 29 اکتوبر 2019ء (م ع و)
بہترین اور جامع بلاگ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سینئر ساتھی محترم امین اکبر صاحب کی ویکیپیڈیا کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ بلاگ بھی بہت ہی خوبصورتی سے تحریر کیا گیا ہے، جس کے لیے ہمارے پیارے ساتھی محترم مزمل الدین سید صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ امید ہے کہ بلاگ کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری و ساری رہے گا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اردو ویکیپیڈیا اسی طرح ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے بڑی ویکیز میں شامل ہو جائے۔--محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 06:26، 30 اکتوبر 2019ء (م ع و)
بہت بہت شکریہ مزمل بھائی۔ معذرت خواہ بھی ہوں کہ اس قطعے کو اب دیکھا ہے۔ دیگر دوستوں کی محبتوں کا بھی بہت ممنون ہوں۔--امین اکبر (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:22، 21 نومبر 2019ء (م ع و)

آخر ہم دیکھ کیا رہے ہیں ۔ترميم

آخرہم دیکھ کیا رہے ہیں۔

یہ بات ہر کس و ناکس پر عیاں ہے کہ ہمارا سانس لینا ، کھا نا پینا اک جمہوری ملک میں ہورہا ہے جو بسنے والے جملہ مذاہب کی آزادی کے ساتھ ہر اک عمل ملکی سیکولیزم سے جوڑا ہوا ہے ۔ اور یہی چیز برسوں سے ملکی اساس میں شامل ہو کر زمین وطن پر بسنے والے جملہ افراد کو اک الگ طرز کی محیر العقول تہذیب و ثقافت دے بیٹھی ہے --- جو جہاں فشاں سے الگ تھلک تو ہے لیکن کثیر المذاہب کے متبعین اصولوں کے بر خلاف نہیں _ ______ اس کا بھی اک اصول تو ہے لیکن کسی بھی قوانین مذاہب کا توڑ نہیں -------- بلکہ جوڑ ہے جو اتنے مذاہب کے لوگوں کے بسنے کے ساتھ بھی مذہبی آزادی کا قلب لے کر اہل جہاں کو اپنی قوانین ندرت پر حیرت زدہ کردیا ----- ہم تہنیت پیش کرتے ہیں اپنے پرجوں پر بالخصوص ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر بابا صاحب پر جس نے پوری دنیا کے وفاقی وحدانی قوانین کو سامنے رکھ اک ایسی اصولوں کے موجد بنے جس سے صدیوں کی ہماری یکتا ، امن و شانتی ، اور مذہبی آذادی میں اک انوکھی سی روح پھونک دی ہے جس سے ہمارا تہذیبی عمل اوروں سے دوبالا ہوگیا _____ لیکن پھر اسی بیچ کچھ ایسے افراد کا وجود ہوتا رہا ہے جن پر وطن کا یہ نقشہ دلخراش رہا ------------'اورکیوں نہ ہو جب غلامی، آمریت ، فتنہ پرستی اور قوم پرستی کی جڑوں کو اکھاڑ پھینک کر سب کے ساتھ مساوات کرنے کی بیج ڈال دی گئیں _ ایسے افراد ظاہرا #خاموش تو رہے لیکن باطنا ملک کے سارے میدانوں میں ان کے محرکات جراثیم پنپتے رہیں جس کا نتیجہ آج برسوں بعد ملک کی #موجودہ صورت میں نظر آیا _ اب ہمارا اور آپ کا یہ حال ہوگیا کہ

زبان #کھولے کیسے جب #کولھاڑی آگری سر پہ ----!

اب خاموشی ہمارا نشیمن بن بیٹھا ، بولنا ملک کو دوسرے رخ کی طرف ڈھکیلنے کے مثل ہوگیا ، ہمارے آراء و افکار اک غلاظت سے بھی بد تر گردانے جانے لگے ، اور ہمارے مذہبی معاملات پر دھاراوں کے زریعے طرح طرح کی پابندیاں لگنے لگیں ___ یعنی ہر وہ حربے اپنائے جانے لگیں ہیں جس سے پھر سے ارض وطن پر غلامی ، آمریت ، فرقہ پرستی ، اور نسل پرستی کو جنم دیا جا سکے _________ یہ آج کے وطن کی صورتحال ہے جس کے عمل کا اثر جنتا ، عام پبلک کے ذریعہ نہیں ، بلکہ پرائم منسٹر کی دوغلا تقریروں ، سی ایم کی تعصب بھری کارناموں ، اور عدالت عدلیہ کی عدم منصفانہ چالوں ، اور وزراء اور حفاظتی پوشاک میں ملبوس انسانوں کے نا روا معاملات کے ذریعہ دکھنے کو مل رہا ہے ------- قارئین! ہر اک کی مثال آپ کے سامنے ہے ------------- یقینا یہ وطن بدل رہا ہے یہ زمین بدل رہی ہے یہ سماں بدل رہا ہے یہ فضا بدل رہی ہے ------------ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے آنے والے حالات بہتر ہوسکتے ہیں! اور غیروں کی کسوٹیاں آپ کی بہتر ،اور روشن مستقبل کی ضمانت لے سکتی ہیں! کیا یہ ستر سالوں کی آزمودہ چالیں ہمارے اور آپ کے خلاف کی گئی سر زشیں ہماری فطرت کی بدلاو کے لیے کافی نہیں! لیکن صد حیف! باطل کے منصوبوں میں ہم مصلحت جو ں ہیں خیر خالد کیا کریں گے یہ انصاف پسند جب ہمارے ہی مصلحت کے عادی ہیں ۔

6307678955۔

Mohdkhalidmisbahi786@gmail.com

موجودہ صورت حال اور کالا بازاری ، تعجب ہے !ترميم

موجودہ صورت حال اور کالا بازاری ، تعجب ہے ! آج تقریبا اک مہینے سے پورا عالم جس وبا اور بیماری سے حیران و پریشان ہے اس کے حدود انتہا تک کی رسائی اک عقل انسانی سے ماوراء ہے ____ پورے اقوام جہاں میں ہا ہا کار مچ گیا ، جب موت کا حیات پر قبضہ ہونے لگا ، اٹلی ، چین ، کے امواتیں سعودی عربیہ اور ہند وستان کو احتیاطی تدابیر اپنانے پر مجبور کردیا جس کا عمل در آمد کچھ اس طرز پر ہوا کہ بڑی بڑی معاشی کمپنیاں، فکٹریاں بند کرادی گئیں ، مارکیٹیوں پر تالا لٹکا دیا گیا ، اجتماعتی مراکز بند کر دیے گیے حتی کہ تجارتی معاملات پر سننا ٹا چھاتا گیا ، عوامی رابطے منقطع ہوتے گیے اور یہاں تک ہر کوئی اپنی جان کی بقا کے خاطر stay at home and protect your self " کا عادی بنا دیا گیا __ اور میں اس معاملے میں گورنمنٹ کا تہ دل سے شکر گزار ہوں کہ لوگوں کی تحفظ کے خاطر ان کے انڈیویجول (individuals)طور پر ، رہنے ، کھانے ، پینے اور لوک ڈاون جیسے اقدامات کیے لیکن کف افسوس ! ہمارے ہی بیچ کچھ ایسے تجارتی افراد ہیں جنکا معاشرتی دوری کی عدم معاشی کی بنا پر چاندی سے سونا بن بیٹھا ، اور لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اک روپیے میں خریدی جانے چیزیں دس روپیے میں بیچنے لگیں __ کیا اسے انسانیت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ! کیا کوئی انسان اپنے سامنے بلبلاتی ہوئی ہم نما قوموں کے ساتھ بر ایں طرز سودمندانہ ریوں کو اپنا سکتا ہے کہ وہی سامان جیسے "ماسک " جو دس روپیے میں مارکیٹ میں دستیاب تھا آج وہی سو روپیے میں بیچا جا رہا ہے - حتی کہ حکومت کی جانب سے اسپتالوں میں مہیا کردہ ماسک، ٹیچو اور ہینڈ واس کے میٹیریلس کو بھی جو فری میں بانٹنے کا اعلان ہے اس کو بھی دم خور انسان اصل قیمت سے کہی زیادہ رو پیے میں بیچ رہے ہیں ____جو انسانیت سے گرا ہوا قابل شرمناک عمل ہے __ میں منتظمہ اور محکمۂ افسران سے گزارش کرتا ہوں کہ ضرور ایسی دکانوں کو سیل کیا جا ئے جو اس موجودہ حالت میں بھی قوم کی دہکتی حا لت پر غربت کی لکیر کھینچ رہے ہیں __ اور ہمیں ضرور اک لمحہ رک کر سوچنا پڑےگا ملک کی تقریبا %45 درمیانہ طبقہ کے تعلق سے جن کی شب و روز کی کمائی ہی ان کے کھانے پینے، رہنے کا انتظام کرتی ہے۔ میں حکومت اور ملک کے صاحب ثروت افراد سے مودبانہ معروض ہوں کہ کھانے سے پہلے ضرور اپنے پڑوسیوں پر اک نظر دوڑا لیں ورنہ مہاماری سے زیادہ بد تر نتیجہ بھوک مری کی شکل میں ہمیں اور آپ کو دیکھنے کو ملے گا _ بس ! حوادث کے زمانے میں تاجر کی ریل پیل ایسا نہ ہوکہ خالد کمر مہنگائی توڑ دے ۔ شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگری

خیرہ نگاہیں کیا بول رہیں ہیں!!ترميم

  1. خیرہ نگاہیں کیا بول رہی ہیں __"""""""""'"""!!!!!!! ( الوداع یا اشرفیہ الوداع) __/// تحریر: شاہ خالد مصاحی سدھارتھ نگری

جہاں زندگی کے بیشتر لمحات اک ہی جگہ پر گزر چکے ہوں ----- تو دل میں محبت و مودت کی سوغات کا پیدا ہوجانا یہ اک فطری عمل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن جہاں مٹی کو بھی سنوارا جاتا ہو____ پتھر سے ہیرا بنایا جاتا ہوں ، نا قدری سے بلند مرتبت تک پہونچایا جاتا ہوں ،

اور جہالت سے علمیت کے لبادہ میں اتارا جاتا ہوں  _____ 

غرض کہ اک تاج پہناکر سماج و معاشرے کا با عزت فرد بنادیا جاتا ہوں ___ ------ کہ اب ہر کوئی دیوانہ ہوکے کہے کہ : ہزاروں تاج سے افضل ہے ہمارا تاج مصباحی ___ ضرور ایسے جگہ سے جدا ہونے پر آنکھیں بہ جائیں گی __----- دل تڑپ جائےگا ، روح جھلملا جائے گی ----------- جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی تعطیل کلاں ہو چکی ہے --------- طلبہ کرام کے گھر جانے کا سلسلہ جاری ہے ____ لیکن ---------- میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے احباب کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں ____ آنکھیں بھیگی ہوئی ہیں ___ جسم پر کپکپی چھائی ہوئی ہے --------- چہرے پر فرقت کے آثار جھلک رہے ہیں ____--- ____ زبانیں خاموش ہیں لیکن دل میں درد و الم کا اک پہاڑ قرار پایا ہوا احباب دبے قدموں سے آتے ہیں ------ پھر مصافحہ کرکے اک لمبی سی جدائی دے جاتے ہیں ---------- یہ آج کا سماں ہے کہ جامعہ کے ہر ذرے کو دل سے لگا نے کا دل کر رہا ہے -------------- ہر ذرے میں اپنا مکان دکھا رہا ہے ----- گزرنے والا ہر لمحہ یہی کہہ رہا ہےکہ اے وقت تھوڑا اور ٹھہر جا _______ لیکن وقت جا چکا ہے _____! میعاد پوری ہو چکی ہے ___ ہر کوئی اسی غم میں مزار ابو الفیض کے اردگرد چکر لگا رہا ہے ___ احباب کی آنکھیں نم ہیں --- زبان پر قرآن کی تلاوت جاری ہے ---- مناجات کی اک لمبی سی فہرست ہیں _____ ہاتھ کانپ رہے ہیں __ کو ن کون سی غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافیاں مانگوں -- جب سر سے لے کر پیر تک نا فرمانیوں سے لبریز ہیں ___ لیکن اک باپ کے سایہ ہی ایسا ہے کہ بیٹے کے ہر کوتاہیاں معاف کرتا ہوا نظر آتا ہے --------- اسی امیدوں پر احباب کو ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھ رہا ہوں --- سامنے مرقد محبوب ہے ---- یعنی ابو الفیض ہیں ___----- فیض کا چشمہ جاری ہے ،،،،، تشنگانوں کا ہجوم آتے جا رہا ہے _____ اور فیض مخدوم سے سیراب ہوکر گڑگڑاتے اور کھنکھناتے دانتوں سے ہمیشگی کے سایے میں رکھنے کی درخواست کر تے جا رہے ہیں ___ --------- لیکن اک بیٹا عالم کے کسی بھی گوشے میں ہوں باپ کے سایے سے کبھی جدا نہیں ہو سکتا --! اس کا سایہ ہمیشہ اس کے سر پر بادل بن کر منڈلاتا رہے گا _------ ہم کتنے بھی دور ہوجائیں لیکن باپ کی روحانیت ہمیشہ قریب تر رہے گی ------ میرے احباب ! آپ ظاہرا اس عمی چمن سے دور ہو رہے ہوں -------- اسی چمن سے پائی ہوئے درس ہدایت ، تعلیم و تربیت اور کلام الہی اور حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے فروغ میں آپ کے تمام اساتذہ کی شب و روز کی محنتیں ، شفقتیں ، اور دعائیں شامل ہیں _____ جو آپ کو ہر لمحہ باطنا رہ نمائی کرتی رہیں گیں ____ اللہ فیض حافظ ملت جہاں میں عام کردے ____ یہی اک سہارا ہے جس سے زندگی میں آنے والی ہر باطل ٹکراو کو چکھنا چور کیا جاتا ہے ، ،،،، ------ اللہ ہمارے اساتذہ کرام کو لمبی عمریں عطا فرما اور فیضان حافظ ملت سے ہم سبھی کو مالا مال کر دے __------------ اور راستے کے خطرات اور حوادث زمانہ اور سفری تھکان سے ہمارے سارے احباب کی حفاظت فرما ___ آمین بس کیسے بیان کروں میں عالم جدائی ! اب تو نکل چکا ہوں در محبوب سے خالد پھر ملیں گے اگر خدا لایا ------- اللہ چمن حافظ ملت کی حفاظت فرما _______ آمین شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگری ________6307678955

این آر سی کی لہر چال میں ملک کساد بازاری کی طرف چل پڑی ۔ترميم

این آر سی کی لہر چال میں  ملک کساد بازاری  کی طرف چل پڑی۔     آج صرف  تین مہینے کے اندر  بیتے ہوئے شب وروز کی دھندھلیوں کا مربع  جو ہندوستانیوں کے سامنے پیش کیا جاتا رہا ہے  ۔ اگر از روئے ترقی  صرف طائرانہ نظر ہی  ڈالی جائے تو یہ ساری کی ساری باتیں دھری کی دھری  رہ جا ئیں گی  اور ترقی کی اک جھلک بھی دکھنے کو تر س جائیگے  ! 

                  اور دھیرے دھیرے یہ لفظ" ترقی" بھی غرابت کا شکل اختیار کر رہا ہے  جس کی انمول عجوبے کی شکل میں آئے دن اک نہ اک فرد  پیشاب و گوبر کا سہارا لے کر ترقی کی راہیں ہموار کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ 

      محترم  قارئین معذرت خواں ہوں ! 

 مگر ہمیں آپ کی قدرمندی پر بھر پور اعتماد ہے کہ آپ کا ذہن و دماغ  اقبال مندی کے منصوبے سے لبریز ہے 

  لیکن آپ کے منتخب کردہ ایم ، ایل ، سیم ، پیم  کے اندر  جذبہ پیشاب نوشی ہی میں ساری ترقیاں مضمر ہیں ! (جیسا کہ دہلی کی سرزمین پر  با قاعدگی سے متر جام کا پنڈال بھی لگا آپ دیکھ رہے ہیں  )

          ہاں ضرور ہم اسے ہندوستان   کی تاریخ میں ترقی کی نئی مثال دیں گے ! 

    کہ جہاں  پاک پوتر گنگا جمنا جیسی بارہ ندیاں بہتی ہوں  _ 

مگر اس قدر انسان مار جانور بچاو کی تدا بیر نے انسانی عقلوں کو مسخور کیا کہ ہر ہندی اب ملکی سیکولیزم،  جمہوریت  کے بچاؤ میں ایں قدر رسائی ہوئی کہ : سوا ارب فسردہ ، گلے سڑے ڈھانچے ، نظام زر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں ،

 خموش ہونٹوں سے ، دم توڑتی نگاہوں سے  بشر بشر کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ 

                       ملک کی ظاہری صورت پر نظر ڈالنے کا مقصد نہیں ۔ 

اب  وقتی ضرورت ہے کہ یلغاروں کے اہلکاروں کی باطنی کارنامے کو عیاں کیا جائے   تاکہ ا ن کے ظاہر الصورت ننگا ناچ اسٹیجوں کے پیچھے چھپی ہوئی غلاظت بھی ابھر کر ہر ہندی  کے سامنے  آجائے  ۔ 

  محترم قارئین  ! یاد رکھیں 

سکندر اعظم کا کروفر ہو یا چندر گپت کا طاقت ور عہد، سلاطین دہلی کی سطوت ہو یا پھر مغلوں کی عظمت رفتہ، انگریزوں کا دور یا پھر جدید ہندوستان کے سیاسی اقدار، 

اچھلتے تاج اور لرزتے تخت کو اس خاک وطن نے دیکھی ہے ۔ 

اور  اب وہ دن بھی دور نہیں ہے کہ اب ان فساد و حساد  کو بھی ملیا میٹ کر دے  جو  ملک کی جہموریت   کو مٹا کر اک سیکولر ڈیموکریسی ملک کا رشتہ مذہب واحد کے ساتھ جوڑنے کی اک اچھی خاصی سیاست کھیل رہے ہیں_

         قارئین پہچانیں انہیں !  آج انہی کی وجہ سے جہاں ملک کی امن و سلامتی پر داغ و دھبا آیا  وہی پر آج سونے کی چڑیا جیسی سنواری ملک کو اپنے  حواریوں، جواریوں کے ہاتھ بیچ کر  عوا م ہند کے اندر چوکیدار بننے کا لہر چال چل گیا  ۔ 

اور  جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس شوق بند نے ملک کو کساد بازاری کی طرف ہانک دیا ۔ 

ائیے کساد عظیم کے بارے میں معلومات  اور واقع شدہ تباہی کو ذہن میں رکھتے چلیں 

    جو 1929ء سے لے کر 1930ء کی دہائی کے اواخر یا 1940ءکی دہائی کے اوائل تک رہا۔  واضح رہے یہ 20 کہ ویں صدی کا سب سے بڑا، سب سے بڑے علاقے پر محیط اور سب سے گہرا بحران تھا اور آج 21 ویں صدی میں بھی عالمی معیشت کے زوال کے حوالے سے اس بحران کی مثال  بھی دی جاتی ہے۔ 

  اس بحران کا آغاز ریاست ہائے متحدہ امریکامیں 29 اکتوبر 1929ء کو بازار حصص کے ٹوٹنے سے ہوا تھا (جسےسیاہ منگل کہا جاتا ہے)، لیکن انتہائی تیزی سے یہ بحران دنیا کے ہر ملک تک پھیل گیا۔

    اور کساد عظیم کی  بشکل افسوس منصفانہ چال یہ رہی کہ  دنیا کے تقریباً ہر ملک، غریب و امیر دونوں، پر تباہ کن اثرات مرتب کیے۔ ذاتی آمدنی، محصول کی آمدنی، نفع و قیمتوں میں کمی اور بین الاقوامی تجارت نصف سے دو تہائی رہ گئی۔ امریکا میں بے روزگاری کی شرح 25 فیصد ہو گئی اور چند ممالک میں تو یہ شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی۔ دنیا بھر کے شہر بہت زیادہ متاثر ہوئے، خصوصاً وہ جو بھاری صنعت پر انحصار کرتے تھے۔ کئی ممالک میں تعمیرات کا کام تقریباً ختم ہو گیا۔ فصلوں کی قیمتیں تقریباً 60 فیصد تک گرنے کی وجہ سے کھیتی باڑی اور دیہی علاقے بھی متاثر ہوئے۔

اس بحران کے بعد 1930ء کی دہائی کے وسط سے صورت حال بہتر ہونا شروع ہوئی، لیکن کئی ممالک میں کساد عظیم کے اثرات نے دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک معیشت کو جکڑے رکھا۔

 واضح رہے لیکن چین پر کساد عظیم کا کوئی ذیادہ  اثر نہیں ہوا کیونکہ اس وقت تک وہ ہارڈ کرنسی (چاندی کے سکوں) پر ہی قائم تھا۔ گریٹ ڈپریشن سے ان ملکوں میں زیادہ تباہ کن اثرات ہوئے جہاں کاغذی کرنسی بڑی حد تک استعمال ہونے لگی تھی۔ جس میں ہندوستان سر فہرست رہا ۔ 

   مگر افسوس آج اس کے پھر  بھر پور  اثرات وطن عزیز میں نظر آنے لگے  ہیں۔  جس کے تباہی کے اثرات کے  شیڈول کو سوسائٹی آف بھارتیہ آٹوموبائل مینوفیکچرس نے اعداد و شمار کے مطابق  ڈیکلیئر  کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ 

 گھریلو بازار میں مسافر گاڑیوں کی فروخت میں سال در سال بنیاد پر مارچ میں 2.96 فیصد کی گراوٹ رہی اور یہ 291806 گاڑیوں کی رہی۔ مسافر گاڑیوں کی گھریلو فروخت 2018 میں 300722 گاڑیوں کی رہی۔ حالانکہ مالی سال 19-2018 کے دوران مسافر گاڑیوں کی فروخت میں 2.7 فیصد کا اضافہ ہوا۔کمرشیل اور انڈسٹری وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق ڈائریکٹ فورن انویسٹمنٹ (ایف ڈی آئی) میں بھی موجودہ مالی سال کے اپریل-دسمبر مدت کے دوران سات فیصد کی گراوٹ آئی جو 33.49 ارب ڈالر رہی۔ جب کہ ایف ڈی آئی 35-94 ارب ڈالر رہا تھا۔ ان اہم معاشی محاذ میں بحران کی بنیاد پر ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر معیشت بہت اچھی حالت میں نہیں ہے۔معاشی معاملوں کے ماہر پرنب سین نے اس حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’دراصل نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد غیر کارپوریٹ سیکٹر متاثر ہوا اور وہ اب ظاہر ہو رہا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ معاشی اشاروں میں آگے مزید گراوٹ آئے گی، کیونکہ غیر کارپوریٹ سیکٹر ہی ہندوستان میں زیادہ تر روزگار پیدا کرتا ہے اور یہی سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ گھریلو بچت میں گراوٹ پر انھوں نے کہا کہ ’’حقیقی معنوں میں گھریلو بچت ہی حکومت کی اُدھاری ضرورتوں اور کارپوریٹ آکی اُدھاری ضرورتوں کے لیے پیسے مہیا کراتا ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر گھریلو بچت میں گراوٹ آتی ہے تو اس سے یا تو سرمایہ کاری میں گراوٹ آئے گی یا پھر کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بڑھے گا___ 

مگر  تعجب خیز ! یہ کہ لمحات افسوس درد و الم کی گیت گانے کی عادی ہوتی جا رہی ہیں   ،  کیوں کہ اس کا  مکمل خمیازہ خصوصا قوم مسلم کو بھگتنا پڑے گا    اور وہ دن بھی دور نہیں کہ اسی  وطن کی مٹی پر ہمیں اک روٹی کا ٹکرا بھی نصیب نہ ہوا ۔  جس کے اسباب پر غور کرتے ہوئے  اک 

      امریکی جریدے "The economist"نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا  ہے کہ  کشمیر میں بڑے پیمانہ پر گرفتاریاں ، آسام میں ہزاروں مسلمانوں کی شہریت ختم کرنا،ہندوستانی  تاریخ میں مسلمانوں کی بدترین نسل کشی ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی ہندوستان  کی جمہوریت اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں،تفصیلات کے مطابق امریکی جریدے "The economist "نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان  میں ٹیکس دینے والوں کی شرح بھی خطرناک حد تک کم ہوئی ہے اور یہاں کاروں، موٹرسائیکلوں کی خرید میں بھی 20 فیصد تک کمی ہوئی ہے جبکہ ستمبر کے آخر تک کاروبار میں سرمایہ کاری میں 88 فیصد تک کمی ہوئی،دی اکانومسٹ نے مودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں کچھ بینک اور دیگر قرض دینے والے ادارے بحران کا شکار ہیں،معیشت نااہل اور برے طریقے سے چلائی جارہی ہے، ایسی صورتحال کے باوجود مغربی ممالک کا اکثر تجارتی طبقہ مودی کی حمایت کر رہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے!

ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی جمہوریت اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں،ہندوستان  میں اس وقت نہ صرف جمہوریت بلکہ معیشت بھی بد سے بدتر ہو رہی ہے۔       یہ بھی ذہن میں رہے،  اور جس سے اس بات کی تصدیق میں مزید اضافہ ہوتا ہے کہ چند روز قبل ہندوستان کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا   ہے کہ نریندر مودی حکومت کی متعصب پالیسیوں اور نااہلی کی وجہ سے ملک معاشی بحران میں پھنس گیا ہے اور اس کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سےمعاشی مندی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اوراس کا اثرعام لوگوں، کسانوں اور مزدوروں پر پڑا ہے،انہوں نے انکشاف کیا کہ کسانوں کی خودکشی میں مہاراشٹر جیسا شہر  اوّل نمبر پر ہے ۔ جو ہر ہندی کے لیے قابل شرمناک ہے ۔

 مگر  سب کے  امیدوں پر اور  کئے گئے وعدوں پر اس وقت  کھرا اترنے کی کوشش کر رہے تھے جب  "2018"میں ہندوستان کا شمار دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بن کر اُبھرنے والے ملک میں ہونے لگا تھا ۔  اور حد تر دلچسپ بات یہ ہے کہ  ملک کی سالانہ آمدنی 2.70 کے لگ بھگ اور فی کس سالانہ آمدنی آٹھ ہزار سے زائد تھی۔    اس لیے کہ  آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہےلہذا ایک ارب بتیس کروڑ افراد پر مشتمل یہ ملک مختلف زبانوں، علاقوں، مذاہب اور نسلوں میں بٹا ہوا ہے۔ ملک کی آبادی میں 45فیصد درمیانہ طبقہ ہے جبکہ نچلا اوسط طبقہ اور چالیس فیصد کے لگ بھگ افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہندوستان کو سالانہ پچھتر ارب ڈالر سے زائد رقم تارکین وطن جو امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں ان سے موصول ہوتا ہے۔ ایک سو چودہ ارب پتی خاندان صنعتی، زرعی، بیمہ کاری اور سرمایہ کاری کے شعبوں پر قابض ہیں۔دعویٰ ہے کہ تعلیم اور صحت عامہ کے شعبوں پر حکومت خاطر خواہ توجہ دے رہی ہے لیکن ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ہم اپنی فوج اور اسلحہ پر 75ارب ڈالر سالانہ خرچ کرر ہے ہیں جس سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ جاری ہوگئی ہے اور عوام کے بیشتر بنیادی مسائل حل نہیں ہورہے ہیں! 

      یقینا    آج ہندوستان کی موجودہ معاشی  صورتحال کو دیکھ کر آنکھ سے آنسوں  جاری ہورہے ہیں  ۔ کہ اس زرخیز زمین کی شادابیاں کو برباد کیا جارہا ہے  ۔  

کل غیروں نے اس  سونے بھر وطن کو مٹی سے بھر نے پر تلے ہوئے ! 

اور آج ہمارے ہی رنگ میں رنگے ہوئے افراد ، ہندی پرچم اٹھانے والے ۔ یقینا  آج ویلنگڈن، کا لٹیرا پن ، اور وطن عزیز کے سارے سرمایے کو لندن بھیجنے کا سارے منصوبے موجودہ  صورت حال دیکھ یاد آرہا ہے۔ جو گریٹ ڈپریشن کے زمانے میں ہندوستان کا وائسرائے تھا ۔ وہ خود لکھتا ہے کہ 

"From October 1, 1931 to December 1932 gold exports  amounted to Rs .107 .08 Crores or £ 80. 125 million. "

 یکم اکتوبر 1931 سے دسمبر 1932 تک 8 کروڑ پاونڈ کی مالیت کا سونا  ہندوستان سے لندن بھیجا گیا ۔ 

آج یقینا ملک پھر اسی روش پر چل پڑا ہے ۔ اگر آج ان کے خلاف آوازیں نہ اٹھائی گئیں تو اپ کے ہی نوالے سے غیروں کا پیٹ بھر دیا جائے گا  اور آپ ،  اپنے ہی آپ  بھوک مری کے شکار ہو جائیگے  اور   اپ ہی کے  پیشانی  پر غریبی کا ٹائٹل لگا گر یتیم وطن کے نام سے دھکا مار دیا جائے گا __ اور آپ کو ذرہ برابر احساس بھی نہیں ہوگا ! 

     اس لیے اب  قوم کے مخدومان عظام و پیران کرام اور  علما ذوی الاحترام پر یہ فرض بنتا  ہے  کہ موجودہ صورتحال کے خلاف کھلم کھلا  آ کھڑے ہوکر علامہ فضل حق خیر آبادی کی صورت میں قوم کی قیادت کریں ۔ اور بارگاہ خداوندی میں التجا  ہے کہ : 

خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پہ اُترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

       یہاں جو پھول کھِلے، وہ کھِلا رہے صدیوں

یہاں خِزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اِک بھی ہم وطن کے لئے

حیات جُرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو​

۔

شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگری 

Mohdkhalidmisbahi786@gmail.com 

جامعہ اشرفیہ سے ہمارا روحانی رشتہ ہے ۔ ( سفرنامہ)ترميم

" جامعہ اشرفیہ سے ہمارا روحانی رشتہ ہے " ( مرکزی ادارہ دارالعلوم اہل سنت بحرالعلوم، انصار ٹولہ شہر خلیل آباد پر اک نظر ) کل جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے سفر جاری رکھتے ہوئے __ ___ " دو ھڑی گھاٹ "پہونچتے ہی مولانا تفسیر القادری صاحب سنت کبیر نگری سے موبائل پر گفتگو ہوئی _ ___ حالات کی نازکی کو سمجھتے ہوئے عزیز موصوف نے مدرسہ بحر العلوم میں قیام کرنے کا مشورہ دیا ۔ جو ہم درس عزیزم مولانا سلمان صاحب رضوی گورکھپوری سے ملاقات کا سبب بھی بنی _ __ _ یقینا مادر علمی مدرسہ بحر العلوم میں قدم رکھتے ہی اس کے اپنی رحمتوں سے نوازنے ، اور اساتذہ کی شفقتوں اور فیضوں سے ڈھانپنے کی بے بہا اثرات احساس دل پر مزین ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کا تذکرہ خوش اسلوبی سے اک باپ ہی کر سکتا ہے جس نے عرصہ دراز کے بعد اپنے بیٹے سے ملاقات کی ہو ں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے دیدار سے لطف اندوزی کا تذکرہ بیانی میں اک بیٹے کا اپنے والد سے ملاقات کی اک جھلک ہی کافی ہے _۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں پائے جانے والے احساس سرور و شعور کو احاطہ تحریر نہیں لایا جا سکتا ہے ___۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ رات مضطرب الحال تھی _ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن آرام و آشایش ، چین و سکون کا اندازہ ہر وہ شخص کرسکتا ہے جس کو اپنی ماں کی گود میں سونے کا شرف حاصل ہو ں ۔ ____ بحمد اللہ مادر علمی میں بہت ساری تبدیلیاں دیکھنے کو ملا ------ جس میں اخص الذکر " دارالقضا و القضاة " ہے جو استاذ العلما استاذی حضرت علامہ مولانا مفتی انوارا احمد مصباحی مد ظله العالي کے علمی شعاوں سے روز افزوں ہے _____ اور جن کے نوک قلم سے خلیل آباد و اطراف کے سارے مسائل حل یاب ہو رہے ہیں __ ساتھ ہی استاذ العلما حضرت علامہ مولانا استاذی حشم اللہ تدریسی شیخ الحدیث ادارہ ہذا کی بارگاہ میں تہننیت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس مجلس کو قایم فرما کر عوام و علما اہل سنت دونوں پر احسان عظیم فرمایا ______ اور آج برسوں سے اس علمی چمن" بحرالعلوم " کی سر پرستی اور مجلس کی نگرانی بھی حضور والا ہی کے ذمہ کرم پر ہے -----------_____ اور ان ساری ترقیوں یعنی عمارتی حسن منظرات ، تعلیمی گوشوں کا اوج ثریا پر پہونچانے کا سہرا حضور والا ہی کے سر پر سجتا اور زیب دیتا ہے _____ اللہ استاذ مکرم کی خدمات کو قبول فرما ئے ۔۔ _______ بفضل الله اہل سنت کے اس لعل و جوہر نما حامل اساتذہ اور شہر خلیل آباد و اطراف میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی علمستان میں اس ناچیز کو بھی اعدادیہ سے لے کر ثانیہ تک کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے علمی خزانوں کو لٹاکر قلم پکڑنے کا سلیقہ عطا کر دیا -------------- الحمد لله و واثني عليه _________آخر الزکر یہ ہے کہ دارالعلوم کے کیمپس میں ادارہ کی شان و شوکت رکھنے والے طلبہ کرام اور انتہائی نرم خو ، نرم مزاج ، زہد و ورع کی متحمل شخیصیت یعنی ادارہ ہذا کے شیخ الادب استاذ العلما استاذی حضرت علامہ مولانا راشد علی نظامی مد ظلہ العالی کی امامت میں نماز فجر باجماعت ادا کی گئی ___ _______ ------- بعد سلام و دعا حضور والا سے دست بوسی کا موقع بھیملا ------ تھوڑی دیر گفتگو جاری رہی جو ارشادات و فرمودات ، اور دعاوں پر مشتمل رہی ______ اور جس میں انتہائی سرور بخش یہ رہا-----' جب حضور والا نے اپنے امسال عرس عزیزی میں شرکت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ : اشرفیہ سے ہمارا روحانی رشتہ ہے ---------- اور اس دل لگی کا اظہار کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے "" ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے ۔۔۔ ۔۔_____

اللہ ادارہ ہذا کے جملہ اساتذہ مکرم کو عنادین کی پر فریب چالوں سے حفاظت فرما ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ آمین آپ کا دست بوس : شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگری ۔ (سفر جاری ہے دعا کی درخواست )

معذرت نامہترميم

یقینا اس ندرتی تمغہ کے سرفرازی پر اک انسان کے لیے اس دن سے پیارا کون سا دن ، اور حیات کے اس پر فیض لمحے سے ذیادہ یادگار کون سا وقت ہو سکتا ہے ____ جس میں تخیلات انسانی کو روحانی ذرائع سے فضل و علم کی شکل میں عملی زیبائش سے ہمکنار کرایا گیا ہو ___ والدین ، دوستوں و احبا کی آرزوئیں بر آئی ہو ____ دیرینہ خواہشوں کی تکمیل ہوئی ہو ____ یقینا یہ ساری آرزوئیں آج مختلف صورتوں میں نظر آرہی ہوں گیں __ دوست و احباب کی آمد ہو رہی ہوگی ، ضیافت آن بان شان کے ساتھ چل رہی ہوگی ____ والدین کے چہرے آپ کی مسکراہٹوں کو دیکھ کر کھل رہے ہوں گے___ خوبصورت کرنیں عزیزم "مرزا یوسف بیگ" کے رخ سے نکل پر اپنی پاکیزگی کا اظہار عزیزم "مرزا اطہر بیگ "کے چہرے پر کرکے عزیزم "الطاف رضا برکاتی " کے ذریعے آنے والے مہمانوں میں خوشیاں ، شفقتیں، مہربانیاں بانٹ رہی ہوں گی ____ ___ بھائیوں و بہنوں اور اہل خاندان کے رخسار پر آج اک الگ طرز کی ہنسی ہوں گی ___ مبارک بادیاں پیش کر کے گلے لگایا جاتا ہوگا ___ مگر افسوس میرے دوست ، میری جان سے بھی ذیادہ عزیز ! میں اپنی بد نصیبی کی وجہ سے آپ کے گلے میں ہار نہ ڈال سکا ، گل وسیم سے آپ کو معطر نہ کر سکا ______ اور آپ کی مسکراہٹوں کو نہ دیکھ سکا __ اور ہاتھوں میں ہاتھوں کو ڈال کر آپ کو گلے نہ لگا سکا ، اور آپ کی محبت بھری ضیافت کے دستر خواں کی میٹھائیاں نہ خود کھا سکا نہ آپ کو کھلا سکا ____ میں بتا نہیں سکتا کہ آج میرا دل آپ کے جدائی سے کتنا لرز رہا ہے __ اور آنکھیں پرانیں یادیں اور آپ کے ساتھ بیتے ہوئے پل کو سوچ سوچ کر اشک محبت بہا رہی ہیں اور اک الگ کیفیت سے ا فسوس ، صد افسوس کی آواز دل کے دریجے سے صادر ہورہی ہے ______ میرے دوست ! میں نہیں رہا یہ سچ ہے ! لیکن ہماری محبت کا بادل آپ کے سر پر سایہ بن کر منڈلا رہا ہے ___ جو رحمت و انوار کی بوندوں کی شکل میں آپ کو مبارک بادیاں پیش کر رہی ہیں اور حیات کے ہر گوشے میں خوشحالی ، ترقی کی بارشیں برسا رہی ہیں____________

      شریک خوشی :        شاہخالد مصباحی ۔

Help with translationترميم

(I apologize for posting in English ): Dear colleagues, We are organizing a project called WPWP that focus on the use of images collected as part of various contest and photowalks on Wikipedia articles across all languages and our team needs your help with translations into the language of this community. Here is the translation link: https://meta.wikimedia.org/w/index.php?title=Special:Translate&group=page-Wikipedia+Pages+Wanting+Photos&language=en&action=page&filter= I am sorry if I post in the won't venue. Thanks in anticipation. T Cells (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:23، 13 اپریل 2020ء (م ع و)

کیا ہر صفے پر انگریزی لکھنا ضروری ہے؟ترميم

تقریباً ہر صفہ جو میں نے پڑھا ہے اُن میں بلاوجہ انگریزی لکھی ہوئی ہے۔ جب میں نے کوشش کی ہٹانے، تو تقریباً ہر ترمیم میری رد کی گئی تھی۔ کیا اس کی کوئی وجہ ہے؟ — سابقہ غیر دستخط شدہ تبصرہ بدست Taimoorahmed11 (تبادلۂ خیالشراکتیں)

@Taimoorahmed11: بھائی، اردو زبان اور اردو ویکیپیڈیا کے لیے آپ کے مثبت جذبے کی میں تہ دل سے داد دیتا ہوں۔ اس سلسلے میں صحیح جواب تو آپ کی ترامیم کے رد کرنے والے صارف اور اس ویکیپیڈیا کے منتظمین دے سکتے ہیں۔ تاہم چونکہ اردو ویکیپیڈیا کا بھی ایک ادنٰی خدمت کنندہ ہوں اور یہاں کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ مضامین میں سے میں نے بھی کوئی 2300+ مضامین لکھے ہیں، جو اگر چیکہ تناسب کوئی خاص درجہ نہیں رکھتے، تاہم مجھے یہاں کے ماحول کا شناسا بناتے ہیں۔ اس بنیاد پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ انگریزی لکھنا ویسے تو کچھ ضروری نہیں ہے، اس وجہ سے کئی صفحات جیسے کہ فاطمہ لطیف کی خود کشی کے مضمون میں آپ کو شاید یہ شکایت نہیں ملے گی۔ تاہم عام طور سے اصطلاحات والے مضامین یا ایسے مضامین جن کا متبادل انگریزی عنوان موجود ہے، یہ محض قاریئین کی رہنمائی، تقابل و مطالعہ کے درج کیے جاتے ہیں۔ امید کہ آپ اس ضرورت سے اتفاق کریں گے۔ یہ امید ہے کہ کئی اہم ترمیمی کاموں میں آپ کا ساتھ ہمیں مستقبل میں حاصل رہے گا۔ --مزمل الدین (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:15، 1 اگست 2020ء (م ع و)


@Hindustanilanguage: آپ کے جواب کے لئے میں بہوت شکر گزار ہوں۔ جن جن مضامین کی میں بات کر رہا ہوں نا ہی وہ کوئی اصطلاحات والے مضامین یا ایسے مضامین جن کا متبادل انگریزی عنوان موجود ہے۔ میرا مسئلہ لاہور والے مضمونوں سے ہے جن میں میں سمجھتا ہوں کہ کوئی ضرورت نہیں ہے انگریزی لکھنے لیکن نہ تو صرف انگریزی میں "لاہور" نام لکھا گیا ہے بلکہ گرمکھی، فارسی و عربی میں بھی۔ کیا آپ کو لگتا ہے کے یہ ترمیم درست ہے؟ جب میں نے اس بات کی شکایت کی (میری ترمیم رد ہونے کہ بعد) تو جس صارف نے رد کی تھی میری ترمیم انہوں نے تو مجھے سیدھا بلاک کردیا ترمیم کرنے سے۔ Taimoorahmed11 (تبادلۂ خیالشراکتیں) 21:18، 1 اگست 2020ء (م ع و)

Requests for comment/Concerned about Urdu Wikipedia articles' truthiness and neutrality (اردو ویکیپیڈیا کے مضامین کی سچائی اور غیرجانبداری کے بارے میں تبصرہ / متعلقہ درخواستیں)ترميم

I posted my concern on Meta-Wiki. Please have a look at it. Requests for comment/Concerned about Urdu Wikipedia articles' truthiness and neutrality(میں نے اپنی تشویش میٹا وکی پر پوسٹ کی۔ براہ کرم اس پر ایک نظر) --Pravega (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:10، 16 ستمبر 2020ء (م ع و)

Improving the translation support for the Urdu Wikipediaترميم

Hi!

Content translation has been successful in supporting the translation process on many Wikipedia communities, and we want to help additional wikis with potential to grow using translation as part of a new initiative.

Content translation facilitates the creation of Wikipedia articles by translating content from other languages. It has been used already to create more than half a million articles. In addition, the tool provides mechanisms to encourage the creation of good quality content, preventing the publication of lightly edited machine translations. In general, our analysis shows that the translations produced are less likely to be deleted than the articles started from scratch.

Urdu Wikipedia editors have used Content translation to create more than 2,500 articles. Given the size of the editing community, we think that there is potential to use translation to create more articles, expand existing ones, and attract new editors that learn how to make productive edits. Translation can help the community to reduce the language gap with other languages and grow the number of editors in a sustainable way. In order to achieve this goal, we want to collaborate with you to make Content translation more visible in the Urdu Wikipedia and support new ways to translate.

As a first step, during the next weeks we plan to enable Content translation by default on the Urdu Wikipedia. That will make it easy for users to discover the tool through several entry points. However, users not interested in translation will still be able to disable it from their preferences.

Please feel free to share any comment in this conversation thread.

Thanks! --Amir E. Aharoni امیر ا. اھرونی (تبادلۂ خیال) 20:01، 17 ستمبر 2020ء (م ع و)