مرکزی مینیو کھولیں

دہشت گردی کی کوئی ایسی تعریف کرنا کہ جو ہر لحاظ سے مکمل اور ہر موقع پر سو فیصد اتفاق رائے سے لاگو کی جا سکے، اگر ناممکن نہیں تو کم از کم انتہائی مشکل ضرور ہے۔ اگر ہر قسم کے پس منظر اور اس معاشرے کے حالات کو یکسر نظرانداز کر دیا جائے تو پھر اس لفظ کی لغوی تشریح یوں ہوسکتی ہے کہ “خوف اور ہراس پیدا کرکے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر ایسا نپا تلا طریقہ کار یا حکمت عملی اختیار کرنا جس سے قصوروار اور بے قصور کی تمیز کے بغیر، (عام شہریوں سمیت) ہر ممکنہ ہدف کو ملوث کرتے ہوئے، وسیع پیمانے پر دہشت و تکلیف اور رعب و اضطراب (جسمانی نہ سہی نفسیاتی) پھیلایا جائے۔“

تین بنیادی نظریوں کی مدد سے ہم اس کی زیادہ بامعنی تعریف کرسکتے ہیں-

  1. دہشت پسند ‘پاگل’ نہیں ہیں اور نہ ہی صرف وہی مجبور اور مظلوم ہیں-
  2. عموماً جنھیں نشانہ بنایا جاتا ہے وہ اصلی ہدف نہیں ہوتے، بلکہ اصلی ہدف تو بچے رہتے ہیں-
  3. دہشت پسند چاہتے ہیں کہ انھیں بہت سے لوگ دیکھیں نہ کہ بہت سے لوگ مر جائیں- یہ لوگ قابل نفرت ہیں -[1]

فہرست

دہشت گردی کی تعریفترميم

اپنے مکروہ مقاصد کے لیے خواہ وہ اغوابرائے تاوان صورت میں ہو،بیٹیوں، مائوں، بہنوں، بیویوں اور خواتین پر ظلم اور ہراس کی صورت میں ہو، قتل کی صورت میں ہو،دہشت پھیلا کر ناجائز طور پر مال کے حصول کی صورت میں ہو،بھتہ خوری کی صورت میں ہو، دہشت اور خوف ہراس پیدا کرکے کسی کی جائداد ہتھیانے کی صورت میں ہو، ریاست کا اپنے شہریوں پر ظلم کرنے اور انہیں قتل کرنے کی صورت میں ہو،ایک طاقت ور ریاست کا دوسری کمزور ریاست کے کمزور لوگوں پر ظلم و ستم کرنے اور انہیں قتل کرنے کی صورت میں ہو، سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے لوگوں کو قتل کرنے کرنے کی صورت میں ہو، پولیس کاماروائے عدالت جعلی پولیس مقابلے میں لوگوں کو مارنے کی صورت میں ہو،ایسا عمل جس سے کسی بھی معاشرے میں فساد پھیلے یا ایسا عمل جس سے کسی بھی معاشرے کے بے گناہ بے قصور اور پرامن لوگوں میں خوف و ہراس پھیلے دہشت گردی کہلاتا ہے۔ مختصر طور پر دہشت گردی کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ وہ عمل جس سے کسی بھی معاشرے، ملک، شہر، گائوں، قصبہ، گلی، محلہ، خاندان کے لوگوں اور کسی فرد میں خوف و ہراس اوردہشت پھیلے دہشت گردی کہلاتا ہے۔

دہشت گردی اور اسلامترميم

اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور وہ امن کا درس دیتا ہے اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو قرآن میں رحمت اللعالمین یعنی تمام جہانوں کے لیےرحمت قرار دیا گیا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جتنے بھی غزوات اور جنگیں لڑیں وہ سب اپنے دفاع میں لڑیں یا ان لوگوں کے خلاف لڑائیاں لڑیں جو اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے تھے اور جنگ کی تیاریاں کر رہے تھے اور حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور حملہ کے لیے پرتول رہے تھے۔ آپ نے اسلام کو پرامن طور پر تبلیغ کے ذریعے پھیلایا اور ہمیشہ امت کو امن کا درس دیا کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جنگیں مسلط کی جس کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دینا پڑا جس نے آپ کے خلاف تلوار اٹھائی اس کے خلاف آپ کو بھی تلوار اٹھانا پڑی ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دلیل اور تبلیغ کا ہمیشہ پرامن راستہ اپنایا یہی وجہ ہے کہ اسلام بہت تیزی سے پھیلا اور لوگ اسلام کی طرف مائل ہوئے۔

دہشت گردی قرآن کی روشنی میںترميم

ْقرآن مجید میں دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے سورۃ مائدہ کی آیت ہے

جس نے ایک انسان کو(ناحق) قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔[2]

اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی نظر میں ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے ذرا سوچیں وہ اسلام جو ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل سمجھے کتنا پرامن مذہب ہو گا باقی اچھے برے لوگ ہر معاشرے، قوم، مذہب اور ملت میں پائے جاتے ہیں۔ لوگوں کے انفرادی فعل کو کسی مذہب یا دین پر لاگو کرنا درست نہیں ہے۔ تقریباٰ دنیا کے تمام مذاہب اور انبیاء علیہ السلام نے انسانوں کو امن، پیار ، محبت، اخوت، برداشت اور بھائی چارے کی تعلیم دی ہے۔ اگر باریک بینی سے جائزہ لیں تو اسلام میں دہشت گردی اس نسل کے لوگ کر رہے ہیں جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ان کی مخالفت کرتے رہے تھے اور جنھوں نے آپ صلی علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگیں لڑیں یا وہ منافقین جو اسلام میں شامل تھے لیکن درپردہ اسلام کی مخالفت کرتے تھے اور اللہ تعالی نے جن کے لیے سورۃ منافقون[3] نازل فرمائی ان دونوں نسلوں کے لوگ آج بھی اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں اور دہشت گردی کا بازار گرم کر کے آج بھی اسلام کو بدنام کرنے اور اسلام کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں ذرا سوچیں کہ وہ کون لوگ تھے جنھوں نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے بہتر ساتھیوں کو بے دردی اور ظلم سے شہید کیا کیا آج بھی ان کی نسل کے لوگ موجود نہیں ہیں؟ اور ان کا عمل دہشت گردی، ظلم اور بربریت اس بات کو بات کو ثابت نہیں کرتا کہ یہ اسی نسل کے لوگ اور منافقین ہیں جو بظاہر خود کو مسلمان کہلاتے ہیں لیکن ان کا ہر عمل اسلام کے اصولوں کے منافی نظر آتا ہے۔یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بھی ان کے مخالف تھے اور آج بھی دہشت گردی کر کے اسلام دشمن رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ان ظالم لوگوں کے ہاتھوں لاکھوں مسلمان اب تک ان کی دہشت گردی، ظلم اور بربریت سے شہید ہوچکے ہیں۔ ورنہ مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت پرامن ہے اور امن، محبت، اخوت اور بھائی چارے کو پسند کرتی ہے۔

قرآن مجید سورۃ بقرہ کی آیت 11 اور 12 میں ارشاد خداوندی ہے

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ قَالُوْا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ (11)اَلَا اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ (12)[4]

ترجمہ: اور جب ان سے کہا جاتا ہے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں خبردار بے شک وہی لوگ فسادی ہیں لیکن شعور نہیں رکھتے۔

جہاں فساد ہوتا ہے وہاں دہشت گردی بھی ہوتی ہے کیونکہ دہشت گردی کرنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ تو جو عمل کر رہے ہیں وہ دنیا کی اصلاح کے لیے کر رہے ہیں لیکن ان دہشت گردی کرنے والوں کو یہ شعور بالکل بھی نہیں ہوتا کہ بے گناہ لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے مارنا بالکل بھی درست عمل نہیں ہے اور بہت ہی برا فعل اور بہت ہی بڑا گناہ ہے اور نہ ہی دہشت گردی کرنے والے یہ شعور اور سمجھ رکھتے ہیں کہ دہشت گردی سے کوئی بھلائی نہیں ہوتی صرف زمین پر فساد پیدا ہوتا کیونکہ فساد کی کوکھ سے ہی دہشت گردی جنم لیتی ہے۔ دہشت گردی کرنے والے نہ صرف بے قصور اور بے گناہ لوگوں کی موت کا سبب بنتے ہیں بلکہ وہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں نہ ہی دہشت گردی کرنے والوں کو یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردی کروانے والوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں کیونکہ دہشت گردی کروانے والے دہشت گردی کرنے والوں کو جنت کا خواب دکھاتے ہیں۔

بقول شاعر

کوئی خودکو بم سے پھاڑتا ہے

اور کہتا ہے میں جنت جاتا ہوں

معصوم انسانوں کے گلے کاٹتا ہے

اور کہتا ہے میں جنت جاتا ہوں

جبر سے شریعت نافذ کرتا ہے

اور کہتا ہے میں جنت جاتا ہوں

نفرت کا بازار سجاتا ہے

اور کہتا ہے میں جنت جاتا ہوں


دہشت گردی کروانے والے بھی یہ شعور نہیں رکھتے کہ ایک دن وہ بھی کسی اندھی گولی یا کسی بم یا کسی ڈرون حملے کا نشانہ بن کر موت کی وادی میں اتر جائیں گے کیونکہ مکافات عمل قدرت کا قانون ہے۔ اسی طرح دہشت گردی کرنے اور کروانے والے اپنی دنیا بھی خراب کرلیتے ہیں اور اپنی آخرت بھی خراب کرلیتے ہیں۔ اگر دہشت گردی کرنے اور کروانے شعور اور سمجھ رکھیں تو دہشت گردی جیسا برا فعل کبھی بھی نہ کریں اور زمین پر کبھی بھی فساد کا سبب نہ بنیں۔

وَاِذَا الْمَوْءُوْدَةُ سُئِلَتْ (8)بِاَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ (9)

ترجمہ: اور جب لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا۔ وہ کس جرم پر ماری گئی۔[5]

زمانہ جاہلیت میں عربوں میں یہ رواج تھا کہ ان کے ہاں اگر بیٹی پیدا ہوتی تو اسے منحوس اور ذلت تصور کر کے زمین میں زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ اور عرب کے لوگ اپنی اس دہشت گردی پر شرمندہ ہونے کی بجائے فخر کا اظہار کرتے تھے۔ جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی تو ان کے ہاں خوشی کی بجائے غم منایا جاتا تھا۔ قرآن نے عربوں کی اس کیفیت کو اس طرح بیان کیا ہے۔

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ (58) يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِن سُوءِ مَا بُشِّرَبِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ(59)

ترجمہ: جب ان میں سے کسی کی بیٹی کی خوشخبری دی جائے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ غمگین ہوتا ہے (58) اس خوشخبری کی برائی کے باعث لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے، آیا اسے ذلت قبول کر کے رہنے دے یا اس کو مٹی میں دفن کر دے، دیکھو کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں (59)[6]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عربوں کی اس جاہلیت، ظلم اور دہشت گردی کو سختی سے ختم کروایا کیونکہ بچیوں پر یہ خوف اور دہشت کی فضا ہر وقت طاری رہتی تھی کہ ان کی زندگی کسی وقت بھی ختم ہو سکتی ہے اسی طرح لڑکی پیدا کرنے والی ماں بھی اسی خوف اور دہشت کے عالم میں زندگی بسر کرتی تھی کے پیدا ہونے والی بیٹی کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں اور ماں اس خوف اور دہشت کہ عذاب میں علحیدہ گرفتار ہوتی تھی کہ اس نے بیٹی پیدا کی ہے تو سسرال والے اس کی زندگی کو عذاب بنائے رکھیں گے۔ آج بھی دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو بیٹی پیدا ہونے کو اپنے لیے ذلت تصور کرتے ہیں۔ جبکہ اسلام بیٹے کو اللہ کی نعمت اور بیٹی کو اللہ کی رحمت قرار دیتا ہے۔ آج بھی پاکستان میں لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کے واقعات ملتے ہیں۔ بلوچستان میں 2008 میں پانچ عورتوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جن کو زندہ دفن کر دیا گیا تھا۔ ان عورتوں کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی تھیں۔ اس واقعہ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینٹر اسرار اللہ زہری نے نے پانچ عورتوں کے زندہ دفن کرنے کے واقعہ کو قبائلی روایات کی پاسداری قرار دیا اور کہا کہ بلوچ قبیلے نے قبائلی روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے پانچ عورتوں کو زندہ دفن کیا ہے اس لیے اس معاملے کو اچھالا نہ جائے۔ سینٹر اسرار اللہ زہری کے بیان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ بلوچستان میں اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن خوف اور دیشت کی وجہ سے منظر عام پر نہیں آتے۔اس وقت کے سینٹ کے قائدایوان رضا ربانی نے یہ بات کہ کر اپنی جان چھڑائی کہ یہ ایک صوبائی معاملہ ہے اور حکومت نے صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی رپورٹ مکمل کر کے وفاقی حکومت کو بجھوائے۔اب سوچیں یہ کہ یہ کھلی دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے۔ایک طرف اسلام دہشت گردی سے روکتا ہے لیکن آج کے جدید اور تہذیب یافتہ دور میں اس قسم کے واقعات زمانہ جاہلیت کے دور کی یاد تازہ کرتے ہیں اور بڑے لوگ انہیں قبائلی روایات کی پاسداری قرار دیتے ہیں۔

دہشت گردی احادیث کی روشنی میںترميم

بخاری کی حدیث ہے جس میں حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔

لَا تَرْتَدُّوْا بَعْدِي کُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

ترجمہ: تم میرے بعد ایک دوسرے کو قتل کرنے کے سبب کفر کی طرف نہ لوٹ جانا۔[7]

اسی طرح خطبہ حجتہ الودع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانی جان و مال کو تلف کرنے اور قتل و غارت گری کی خرابی کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وأعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ، کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا، فِی شَهْرِکُمْ هَذَا، فِی بَلَدِکُمْ هَذَا، إِلَی يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ. أَلَا، هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ. قَالَ: اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعٰی مِنْ سَامِعٍ، فَلاَ تَرْجِعُوْا بَعْدِي کُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

ترجمہ: ’’بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اِسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اِس دن کی حرمت تمہارے اِس مہینے میں اور تمہارے اِس شہر میں مقرر کی گئی ہے اُس دن تک جب تم اپنے رب سے ملو گے۔ سنو! کیا میں نے تم تک اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا؟ لوگ عرض گزار ہوئے: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہنا۔ اب چاہیے کہ تم میں سے ہر موجود شخص اِسے غائب تک پہنچا دے کیونکہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ جن تک بات پہنچائی جائے تو وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھتے ہیں اور سنو! میرے بعد ایک دوسرے کو قتل کر کے کافر نہ ہو جانا.‘‘[8]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ و فساد کے ظہور، خون خرابا اور کثرت سے قتل و غارت گری سے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ العِلْمُ وَيُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَکْثُرُ الْهَرْجُ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اﷲِ، أَيُمَا هُوَ؟ قَالَ: الْقَتْلُ، الْقَتْلُ.

ترجمہ: ’’ زمانہ قریب ہوتا جائے گا، علم گھٹتا جائے گا، بخل پیدا ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کی کثرت ہو جائے گی۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے؟ فرمایا کہ قتل، قتل )یعنی ہرج سے مراد ہے: کثرت سے قتلِ عام۔‘‘[9]

ان احادیث کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور اسلام قتل و غارت گری یا کسی کو ناحق قتل کرنے جو ایک کھلی دہشت گردی ہے کو سختی سے روکتا ہے۔ ایک دوسرے کے مال کو ناجائز طور پر ہتھیانے جو خوف اور دہشت گردی کے ذریعے ہی ہتھیایا جاتا ہے کو لوگوں پر حرام قرار دیتا، اسی طرح اسلام فتنوں کے ظاہر ہونے اور فتنے پیدا کرنے کے سخت خلاف کیونکہ جہاں فتنہ اور فساد پیدا ہوتا ہے وہاں دہشت گردی بھی ضرور ہوتی ہے یا یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ فتنہ و فساد دہشت گردی کی جڑ ہیں اور فتنہ و فساد کی وجہ سے ہی دہشت گردی جنم لیتی ہے۔

دہشت گردی اور مسیحیتترميم

آج کی مسیحیت جس بنیاد پر کھڑی ہے وہ انجیل (بائبل) پر ہے جس میں تحریف یعنی بہت ساری تبدیلیاں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کر دی گئیں ہیں جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جو انجیل نازل کی وہ بھی سچی اور مقدس ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات بھی پر امن معاشرے کے لیے تھیں اور پرامن تھیں لیکن افسوس کچھ لوگوں نے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے اس مقدس انجیل (بائبل) میں بے شمار تبدیلیاں کر دیں جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ پورا مسیحی معاشرہ تبدیل ہوتا چلا گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اصل انجیل اور اصل تعلیمات مسیحی معاشرہ سے عنقا ہوگئیں ورنہ ہر نبی علیہ السلام نے امن کی بات کی محبت کی بات کی، بھائی چارے کی بات کی ہے۔ اگر موجودہ انجیل (بائبل) کا جو اب تبدیل ہوچکی ہے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تبدیل شدہ انجیل(بائبل) کیا تعلیم دیتی ہے تو افسوس ہوتا ہے یہ تبدیل شدہ انجیل (بائبل) متی باب نمبر 10 آیت 34: 36 میں کہتی ہے۔

″یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں، صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں کیونکہ میں اس لیے آیا ہوں کہ آدمی کو اس کے باپ سے اور بیٹی کو اس کی ماں سے اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کردوں اور آدمی کے دشمن اس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے″[10]

اب اس تبدیل شدہ انجیل کے الفاظ پر ذرا غور کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ الفاظ کھلی دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتے تو اور کیا کرتے ہیں؟ ان الفاظ پر غور کریں کہ میں صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں کیا یہ الفاظ دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتے؟ یا آپ آیات کے ان الفاظ پر غور کریں کیونکہ میں اس لیے آیا ہوں کہ آدمی کو اس کے باپ سے اور بیٹی کو اس کی ماں سے اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کردوں اور آدمی کے دشمن اس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔ کیا آدمی کو باپ سے جدا کرنا اور بیٹی کو ماں سے جدا کرنا یا بہو کو ساس سے جدا کرنا لوگوں میں خوف و ہراس اور دہشت گردی اور خوف پیدا نہیں کرتا۔ یہی وجہ کہ آج کا مسیحی اور یورپی معاشرہ تبدیل شدہ انجیل (بائبل) کی ان آیات کا مظہر نظر آتا ہے۔ کہ والدین اپنی اولاد کو جوان ہوتے ہی گھروں سے نکال دیتے ہیں، ان کی بیٹیاں رزق کی تلاش میں در در کے دھکے کھاتی ہیں، جسم فروشی کرنے پر مجبور ہوتی ہیں اور عزت و وقار سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ بیٹے اسلحہ اٹھاتے ہیں اور گینگسٹر بنتے ہیں اور جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں اور منشیات کا کاروبار کرتے ہیں اور خود بھی منشیات کے عادی بنتے ہیں اور لوگوں کے اندر بھی منشیات کا زہر اتارتے ہیں۔ یہ دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟ پورا مسیحی معاشرہ اور یورپ اس خوف اور دہشت کی فضا میں اپنی زندگی بسر کررہا ہے کہ ان کی نئی نسل کو منشیات کی لت نہ لگ جائے۔اسی طرح والدین کو اولاد اولڈ ہائوسز کی نذر کردیتی ہے جہاں والدین بے کیف زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں اور اولاد کبھی والدین کو اولڈ ہائوسز میں پوچھنے بھی نہیں آتی والدین ان اولڈ ہائوسز میں عالم خوف اور دہشت میں اپنی زندگی کا آخری سفر تمام کرتے ہیں۔

تبدیل اور تحریف شدہ انجیل (بائبلٌ کی کتاب استشناء: باب نمبر 20 آیت نمبر 10 میں پے

’’جب تو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اس کے نزدیک پہنچے تو پہلے اسے صلح کا پیغام دینا‘ اگر وہ تجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لیے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باجگزار بن کر تیری خدمت کریں ا ور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو اس کا محاصرہ کرنا اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضہ میں کر دے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار سے قتل کرڈالنا لیکن عورتوں اور بچوں اور چوپائے اور اس شہر کے سب مال لوٹ کر اپنے لیے رکھ لینا اور تو اپنے دشمنوں کی اس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھ کو دی ہو‘ کھانا اور ان سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے بہت دور ہیں اور ان قوموں کے شہر نہیں ہیں۔ ان قوموں کے شہروں جن کو خداوند تیرا خدا میراث کے طو رپر تجھے دیتا ہے‘ کسی ذی نفس کو زندہ نہ بچا رکھنابلکہ بالکل نیست و نابودکردینا۔‘‘[11]

باب نمبر 13 کی آیت نمبر پندرہ سولہ میں ہے

’’ تو تُو اس شہر کے باشندوں کو تلوار سے ضرور قتل کر ڈالنا اور وہاں کا سب کچھ اور چوپائے وغیرہ تلوار ہی سے نیست و نابود کردینا اور وہاں کی ساری لوٹ کو چوک کے بیچ جمع کرکے اس شہر کو اور وہاں کی لوٹ کو تنکا تنکا خداوند اپنے خدا کے حضور آگ سے جلا دینا اور وہ ہمیشہ کو ایک ڈھیر سا پڑا رہے او رپھر کبھی نہ ہٹایا جائے۔‘‘[12]

اگر اس تبدیل اور تحریف شدہ انجیل کا بغور مطالعہ کریں تو محسوس ہوتا کہ کتنے سخت اور دہشت گردانہ سوچ کے احکامات دیے گئے ہیں جیسا کہ مردوں کو قتل کردینا،عورتوں، بچوں، چوپائوں اور سب مال کو لوٹ کر اپنے لیے رکھ لینا، تلوار سے ضرور قتل کرنا، چوپائوں کو تلوار ہی سے نیست و نابود کردینا، لوٹ کے مال کو تنکا تنکا جلا دینا، صلح کی صورت میں شہر کے لوگوں کو اپنا باجگزار یعنی غلام اور خدمت گزار بنا لینا۔ سوچیے کیا یہ سب باتیں لوگوں میں خوف اور دیشت پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتیں۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس قسم کی تعلیم دے سکتے تھے یا اللہ تعالیٰ کی ہاک ذات اس قسم کے احکامات دے سکتی ہے؟ کسی بھی درد دل رکھنے والے انسان سے پوچھیں گے تو اس کا جواب نفی میں ہو گا کیونکہ اللہ کے کے تمام نبیوں، رسولوں اور پیغمبروں نے ہمیشہ لوگوں کو امن، محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بہت ہی رحیم (رحم کرنے والا ) اور بہت ہی کریم (کرم کرنے والا) ہے وہ کیسے اپنے بندوں کے جب تک ان کے گناہ بہت ہی حد سے نہ بڑھ جائیں ایسے احکامات دے سکتا ہے، کچھ مفاد پرست لوگوں نے اپنے برے مقاصد حاصل کرنے کے لیے انجیل(بائبل) کو تبدیل کیا اور اسی سوچ کا نتیجہ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی صورت میں نکلا جس میں لاکھوں بے گناہ لوگ مارے گئے، لاکھوں عورتیں بیوہ ہوئیں، لاکھوں بچے یتیم ہوئے، لاکھوں افراد زخمی اور اپاہج یا معذور ہوئے اور کھربوں ڈالر کی املاک کا نقصان ہوا۔ صرف جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرنے والے دو ایٹم بمبوں نے اتنی تباہی مچائی جس کی شاید ہی کوئی مثال اس دنیا میں پائی جائے۔ایک لاکھ کے قریب بے گناہ افراد مارے گئے کئی لاکھ افراد زخمی ہوئے اور ان ایٹم بمبوں کے اثرات یہ ہوئے کہ آج بھی ان شہروں میں معذور بچے پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن آج بھی لوگوں نے سبق نہیں سیکھا کبھی ویتنام کو جنگ کی بھٹی میں جھونکا جاتا ہے تو کبھی بوسنیا میں مسلمانوں کو ظلم، بربریت اور دہشت گردی سے قتل کیا جاتا ہے، کبھی عراق پر تیل پر قبضہ کے لیے کیمیکل ہھتیاروں (یہ کیمیکل ہتھیار آج تک نہیں ملے) کا بہانہ بنا کر حملہ کیا جاتا ہے اور ہزاروں افراد کا قتل عام کیا جاتا ہے۔ تو کبھی افغانستان پر حملہ کر کے موت کا بازار گرم کیا جاتا ہے تو کبھی طالبان اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں خود ہی پیدا کی جاتی ہیں اور دہشت گرد ہیدا کیے جاتے ہیں اور جب یہ تنظیمیں خود کے گلے پڑتی ہیں تو تمام مسلمانوں کو مورد الزام ٹہرایا جاتا ہے کہ سب مسلمان دہشت گرد ہیں۔ کبھی فلسطین میں بے گناہ لوگوں، بچوں اور عورتوں کا قتل عام کیا جاتا ہے تو کبھی کشمیر میں انڈیا بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتا ہے اور عورتوں کی عزتوں کو تار تار کرتا ہے تو کبھی برما میں مسلمانوں کو خون میں نہلایا جاتا ہے یہ سب دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ انسان کے لیے سوچنے کامقام ہے۔ کاش کوئی سوچے اور سمجھے۔

دہشت گردی اور آزادی کی تحریکوں میں فرقترميم

یہاں دہشت گردی اور آزادی کی تحریکوں میں فرق کو سمجھنا نہایت ہی ضرروی ہے جیسا کہ کشمیری عوام اپنے حقوق اور کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑ رہے اور بھارت کی کشمیر میں موجود سات لاکھ فوج کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اب تک ہزاروں کشمیری بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں، ہزاروں کشمیری مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں پامال ہوچکی ہیں اور ہزاروں کشمیری بھارتی فوجیوں کی پیلٹ گن کی گولیوں کا نشانہ بن کر معذور ہوچکے ہیں اور سب سے بڑھ کر کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں لیکن بھارت کشمیر میں رائے شماری کرانے پر کسی بھی صورت میں تیار نہیں ہورہا ہے اب کشمیری اپنے حقوق کے لیے ہھتیار اٹھاتے ہیں تو یہ دہشت گردی بالکل بھی نہیں کہلائے گی۔ اسی طرح فلسطین اور بیت المقدس پر اسرائیل نے غاضبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور اسرائیل آئے روز بمباری سے بے گناہ فلسطینی مردوں، عورتوں اور بچوں کو شہید کرتا رہتا ہے اور اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں بے گناہ فلسطینی شہید ہوتے رہتے ہیں اور فلسطینی اپنی آزادی اور حقوق کے لیے اسرائیل کے ریاستی جبر اور دہشت گردی کے خلاف جدو جہد کر رہے ہیں تو اسے دہشت گردی کسی بھی صورت میں نہیں کہا جاسکتا۔ نیلسن مینڈیلا نے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف طویل جد و جہد کی ان کی تنظیم کو دہشت گرد تنظیم کہا جاتا تھا لیکن آج وہی دنیا نیلسن مینڈیلا کی عزت کرتی ہے۔ یہاں اس باریک نکتے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور انسان اپنی آزادی کے لیے آخری حد تک جاتا ہے۔ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے اور اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا اور لڑنا بالکل جائز اور قانونی ہے۔ دہشت گردی کا مقصد انسانوں کو زک پہنچا کر اپنے برے مقاصد کی تکمیل ہوتا ہے۔ دہشت گرد کسی دوسری طاقت کی پراکسی ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کی صرف ایک صورت ہوتی ہے کہ وہ زیر زمین اور پوشیدہ رہ کر اپنا وجود منواتی ہے جبکہ آزادی کی جدو جہد کی کئی صورتیں اور کئی چہرے اور مہرے ہوتے ہیں۔جیسا کہ سیاسی، سفارتی اور عسکری وغیرہ۔ دہشت گرد جبر اور تشدد سے اپنے برے مقاصد اور اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ آزادی کے متوالے جبر و تشدد اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف لڑ کر اور ظلم کا مقابلہ کر کے اپنی آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی اور آزادی دونوں میں نیت کا فرق واضح ہے کہ دہشت گردی میں برے مقاصد کے حصول کے لیے بری نیت سے دہشت گردی کی جاتی ہے۔ جبکہ آزادی میں اچھی نیت سے اچھا مقصد اپنی آزادی حاصل کرنے کے لیے لڑنا اور جدوجہد کرنا ہے۔ اپنی آزادی اور حقوق کے لیے لڑنا اور جدوجہد کرنا کسی بھی صورت میں دہشت گردی نہیں ہے لیکن امریکا، بھارت اور اسرائیل نے کشمیراور فلسطین کی آزادی کی تحریکوں کو دبانے کے لیے دہشت گردی کہنا شروع کر دیا جو سراسر غلط ہے۔ ہاں یہ باریک سا نکتہ اور فرق ضرور ذہن نشین ہونا چاہئیے کہ آزادی کی ان تحریکوں میں بے گناہ لوگوں کو نہیں مارنا چاہئیے کیونکہ انسانی ضمیر بے گناہ لوگوں کے مارے جانے کو گوارا نہیں کرتا۔ اسے دہشت گردی ہی کہا جائے گا۔ اس طرح جنگ کی صورت میں بمباری، میزائیل یا کسی اور حملہ کی صورت میں بے گناہ لوگوں کو مار دینا کولیٹرل ڈیمج نہیں کھلی دہشت گردی کہلائے گا۔ جیسا کہ امریکا نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم برسائے اور ہزاروں بے گناہ لوگوں کو مار دیا یہ ایک کھلی دہشت گردی تھی۔ اب بھی امریکا کولیٹرل ڈیمج کے نام پر بے گناہ لوگوں کو مارتا رہتا ہے اور ریاستی دہشت گردی کرتا رہتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ جیسا کہ امریکا نے جاپان کے شہروں پر ایٹم بم برسائے اور ہزاروں بے گناہ افراد کو مار کر اپنی فتح کا جشن منایا اور کسی نے نہیں پوچھا کہ ہزاروں بے گناہ افراد کو کس جرم میں مارا گیا۔ دہشت گردی اور آزادی کی تحریکوں میں فرق کی مثالیں اس طرح بھی دی جاسکتی ہیں۔ آزادی کی تحریک میں استعمار کے ظلم اور جبر کے خلاف جدو جہد کر کے آزادی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ نیلسن مینڈیلا نے سفید فام استعمار کے خلاف جدو جہد کی اور سفید فاموں کے تسلط سے نجات حاصل کی دنیا نے نیلسن مینڈیلا اور اس کی تنظیم کو دہشت گرد کہا لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اسی دنیا نے نیلسن مینڈیلا کو امن کا نوبل انعام دیا۔ اسی طرح یاسر عرفات نے اسرائیلی استعمار کے خلاف جدو جہد کی اسی یاسر عرفات کو دنیا نے دہشت گرد کہا لیکن پھر دنیا کے لوگوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ اسی یاسر عرفات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کی بھی دعوت دی گئی۔ خود امریکا نے برطانوی استعمار کے خلاف جنگ آزادی لڑی اور آزادی حاصل کی کہنے کو تو برطانیہ اس وقت امریکا کو دہشت گرد کہہ سکتا تھا لیکن شاید اس وقت تحریک آزادی اور دہشت گردی میں فرق کو سمجھا جاتا تھا اسی وجہ سے امریکا کو دہشت گرد نہیں کہا گیا۔ ہندوستان پر برطانیہ کا راج تھا کانگرس اور مسلم لیگ دونوں نے برطانوی تسلط سے نجات کے لیے جد و جہد کی برطانیہ نے حریت پسند لیڈروں کو جیل میں ڈالا جلاوطن کیا، تشدد کا نشانہ بنایا ایک سکھ بھگت سنگھ نے معروف معنوں میں دہشت گردی کا ارتکاب کیا لیکن بھارت بھگت سنگھ کو جنگ آزادی کا ہیرو سمجھتا ہے اور بھارت میں اسے شہید کہا جاتا ہے۔ بھگت سنگھ کی یاد گار فیروز پور سیکٹر میں قصر ہند کے سامنے تعمیر کی گئی ہے۔ پاکستان میں بھی ایک طبقہ بھگت سنگھ کو قومی شہید کا درجہ دیتا ہے، افغانستان میں طالبان کھلے عام دہشت گردی کر رہے ہیں لیکن آج امریکا طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ اسی طرح اس دنیا میں اور بھی بہت سی مثالیں ہیں کہ جو کل کے دہشت گرد تھے وہ آج کے پر امن اور قابلِ عزت لوگ کیوں ہیں؟ یہ دنیا کے کرتا دھرتائوں کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ آزادی اور دہشت گردی کے فرق کو اپنے برے مقاصد کے حصول کے لے لیے ختم کر دیا گیا ہے اسی لیے دنیا کے ان کرتا دھرتائوں کو یو ٹرن لیتے ہوئے کل کے دہشت گردوں کو نوبل انعام دینے پڑتے ہیں اور ان کی عزت کرنی پڑتی ہے۔ مغرب امریکا، بھارت اور اسرائیل تحریک آزادی اور دہشت گردی کے فرق کو سمجھنے کی جان بوجھ کر کوشش نہیں کرتے کیونکہ وہ کشمیر اور فلسطین میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کو اپنے ظلم، بربریت، جبر اور طاقت کے زور پر دبانہ چاہتے ہیں۔

دہشت گردی کا مذہبترميم

لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تو بادی النظر میں یہ بات درست نظر آتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مذہب، قوم، ملک، شہر، قصبہ، گائوں اور محلہ، میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں اور ان کے اعمال بھی اچھے برے ہوتے ہیں۔ دنیا میں دہشت گردی ایک برائی اور بہت بڑا گناہ تسلیم کی جاتی ہے اور یہ کسی بھی مذہب، قوم، ملک، شہر، قصبہ، گائوں اور محلہ کا کوئی فرد یا لوگ انفرادی یا اجتماعی طور پر کرسکتے ہیں بلکہ کرتے نظر آتے ہیں اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اس لیے اسے کسی مذہب، قوم، ملک، شہر، قصبہ، گائوں،اور محلہ پر لاگو کرنا درست عمل نہیں ہے یا کہنا کہ اس مذہب، قوم، ملک، شہر، قصبہ، گائوں محلہ، کے تمام افراد دہشت گردی کرتے ہیں کو بالکل بھی درست نہیں کہا جاسکتا جیساکہ یورپی ممالک اور امریکا اسلام کو ایک دہشت گرد مذہب اور تمام مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا، رسول اور پیغمبر علیہ السلام لوگوں کی ہدایت اور انہیں سیدھا راستہ دکھانے کے لیے بھیجے اور ان سب انبیا رسول اور پیغمبر علیہ السلام نے لوگوں کو امن، محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان انبیا، رسولوں اور پیغمبروں(علیہ السلام) پر جو صحیفے اور چار آسمانی کتابیں توریت، زبور اور انجیل اور قرآن مجیدا نازل کیں ان سب میں دہشت گردی کا نہیں بلکہ امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا گیااور ان انبیا، رسولوں اور پیغمبروں (علیہ السلام) کے ذریعے جو مذاہب (یہودیت، عیسائیت اوراسلام) اس دنیا میں پھیلے ان میں بھی امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا گیا تاکہ لوگ سچائی، امن، محبت اور بھائی چارے اور ہدایت کا راستہ اپنائیں نہ کہ دہشت گردی، ظلم اور بربریت اور نفرت کا راستہ اپنائیں بھلا اللہ کیوں چاہے گا کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں، ایک دوسرے پر ظلم کریں دنیا میں فساد پیدا کریں، دہشت گردی کریں اور اس دنیا کو جہنم بنا دیں ہاں یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عمل کا اختیار دیا ہے اور اس میں انسان کو آزادی دی ہے کہ انسان چاہے تو اچھا عمل کرے جس کاصلہ اسے آخرت میں جنت کی صورت میں ملے گا اور چاہے تو برا عمل دہشت گردی، ظلم، قتل و غارت گری کرے جس کا صلہ اسے آخرت میں جہنم کی صورت میں ملے گا اور یہی انسان کا امتحان ہے جو انسان کو دینا ہے۔ اس کے علاوہ اور دیگر مذاہب میں بھی ان کے بانیان نے امن، محبت اور بھائی چارے کا ہی پیغام دیا ہے لیکن افسوس لوگوں نے توریت،زبور اور انجیل میں اپنے مفادات اور برے مقاصد کی خاطر بے شمار تبدیلیاں کیں اور اپنے مذاہب کو تبدیل کر کے رکھ دیا جس کی وجہ سے دہشت گردی، ظلم، قتل و غارت گری کا وہ بازار گرم پوا جس نے پوری دنیا کو جہنم بنا دیا۔ لوگوں نے اللہ کے چنے ہوئے بندوں کو چھوڑ کر اپنے جیسے بندے چنے شروع کردیے جس سے دنیا میں دہشت گردی، ظلم، بربریت، مفاد پرستی، جھوٹ، فساد، نفرت، منافقت جیسی برائیاں بہت تیزی سے پھیلیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ایک نفسا نفسی کا عالم ہے۔ دہشت گردی، قتل و غارت گری، جھوٹ، ظلم، نفرت عام ہے۔ آج اسلام میں جو دہشت گردی نظر آتی ہے اگر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے دہشت گردی اسی نسل کے لوگ پھیلا رہے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے سخت ترین مخالف تھے۔ جنھوں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے پیارے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے بہتر ساتھیوں کو ظلم اور دہشت گردی سے شہید کیا، اس نسل کے لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں اور دین اسلام کو اپنی مکروہ کارروائیوں سے بدنام کرنے کی سازش میں مصروف عمل ہیں۔ ہاں مذہب اسلام ایک پرامن مذہب ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمتہ اللعالمین یعنی تمام جہانوں کے لیے رحمت کہا ہے۔ یہ اللہ کے پاک نبی ہی کی تعلیمات ہیں کہ اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس کے ماننے والے مسلمان تمام انبیا علیہ السلام کا احترام کرتے ہیں اور اللہ کی طرف سے نازل کی گئی تمام آسمانی کتابوں توریت، زبور، انجیل اور قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں۔ قرآن مجید ہی وہ واحد آسمانی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ باقی جو کتابیں ہیں ان میں بے شمار تبدیلیاں کر دی گئیں ہیں۔ یہودیت، عسیائیت، ہندو مذہب، سکھ مذہب، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں بھی دہشت گردی عام ہے اور ان کی دہشت گردی نے بھی مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے لیکن اسلام سے خوف زدہ مغربی میڈیا اور اس کے حواری اسرائیل اور انڈیا صرف اسلام اور تمام مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے نہیں تکھتے۔ جبکہ دہشت گردی کا کوئی مذہب اور کوئی علاقہ نہیں ہوتا وہ ہر مذہب ملت، قوم اور قبیلے میں پائی جاتی ہے۔ بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام ہو یا فلسطین میں عورتوں، بچوں اور بے گناہ انسانوں کو ظلم و بے دردی سے قتل کیا جائے۔ یا عراق میں مسلمان قتل ہوں یا افغانستان میں مسلمان خون میں نہلائے جائیں یا کشمیر میں مسلمانوں کو قتل کیا جائے یا برما میں مسملمان قتل ہوں یا اسلامی لبادے میں چھپے ہوئے دہشت گر مسلمانوں کے خون ناحق سے ہاتھ رنگیں کریں، قتل تو ہر طرف مسلمان ہی ہو رہے ہیں اور الزام بھی مسلمانوں پر ہی لگایا جارہا ہے کہ وہ دہشت گرد ہیں۔ ابھی حالیہ نیوزی لینڈ میں کرائس چرچ کی مسجد میں 50 مسلمانوں کی شہادت اسلام فوبیا دہشت گردی کی بہت بڑی مثال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ شاید ظلم، انتقام، نفرت اور بربریت ہی دہشت گردی کا مذہب ہے۔

دہشت گردی کی وجوہاتترميم

کسی بھی برے عمل کو جاننے کے لیے کہ یہ عمل کیوں ہو رہا ہے اس کی وجوہات اور اسے کے اسباب کا جاننا بھی بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ اس کا سدِ باب کیا جاسکے۔ دہشت گردی بھی ایک ایسا قابل نفرت اور برا عمل ہے جو بہت تیزی سے اس دنیا میں پھیل رہی ہے اور اس کو جتنا زیادہ روکنے کی کوششش کی جا رہی وہ اتنا ہی تیزی سے پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ اس کا کوئی علاقہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مذہب۔ اس کی جڑیں ہر رنگ نسل اور ہر علاقہ، مذہب، قوم اور ملک میں موجود ہیں۔ بس جہاں پانی ملا اور کھاد ملی دہشت گردی کی جڑوں سے پتے، شاخیں اور تنا نکل آیا اور جلد ہی تناور درخت کی شکل اختیار کرگیا دنیا کے صاحبِ اختیار اور کرتا دھرتا لوگ دہشت گردی کے پتوں اور شاخوں کو تو کاٹنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں لیکن دہشت گردی کی جڑ کو ختم کرنے کی بالکل بھی کوشش نہیں کرتے یا کرنا نہیں چاہتے کیونکہ یہ صاحبِ اختیار اور کرتا دھرتا لوگ دہشت گردی کی آڑ لے کر مختلف ممالک پر اپنی طاقت کے بل پر حملہ کرتے ہیں اور ان کو تباہ و برباد کرتے ہیں ان کے وسائل پر قبضہ کرتے ہیں اور ان ممالک کو دوبارہ تعمیر کرنے کے نام پر ان ممالک سے اپنے ملک کی کمپنیوں کو بڑے بڑے ٹھیکے دلواتے ہیں اور خوب منافع کماتے ہیں اور اپنی معاشی حالت کو بہتر سے بہتر بناتے ہیں۔ اسی طرح دہشت گرد تنظیمیں پہلے خود قائم کرواتے ہیں اور انہیں اسلحہ فروخت کرتے ہیں اور خوب منافع کماتے ہیں اور پھر ان دہشت گرد تنظیموں کو خود ہی ختم کرنے کا ڈراما رچاتے ہیں اور اس طرح یہ ممالک امیر سے امیر تر ہوتے چلے جا رہے ہیں اور یہ صاحب اختیار اور کرتا دھرتا ممالک مسلمانوں کے ساتھ یہ کھیل کھیل رہے ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلمان خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں کاش مسلمان سوچیں اور سمجھیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کی جڑ سے پھر پتے اور شاخیں پھوٹ پڑتی ہیں اور پھر دہشت گردی کا پودا پھوٹ کر ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرجاتا ہے اسی لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کیوں پھیلتی ہے اس کے اسباب اور وجوہات کا علم حاصل کیا جائے اور ان اسباب اور وجوہات کا علم حاصل ہونے کے بعد دہشت گردی کو جڑ سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی پھیلنے کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔

غربتترميم

دہشت گردی پھیلنے کی وجوہات میں سے ایک بہت بڑی وجہ غربت ہے کیونکہ آج کل دنیا میں سرمایہ دارنہ نظام قائم ہے جس کی وجہ سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور اس وجہ سے دنیا کے معاشروں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ امیر آدمی کے لیے دنیا کی تمام نعمتیں موجود ہیں۔ لیکن غریب کے لیے دو وقت کی روٹی بھی بہت مشکل ہے۔ نہ ہی غریب کے بچوں کو صحت کی سہولیات میسر ہیں اور نہ ہی مناسب تعلیم۔ غریب کے بچوں کو اکثر بھوکا ہی سونا پڑتا ہے۔ اس لیے جن ممالک میں غربت ہے وہاں لوگ دولت کی اس غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن جب ان کی آواز کہیں نہیں سنی جاتی تو وہ اسلجہ اٹھاتے ہیں اور اس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہیں اور یہیں سے دہشت گردی شروع ہوتی ہے اور وہ عناصر ایسے غربت کے مارے لوگوں کو اپنے برے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جو دنیا میں طاقت اور جبر کے ذریعے اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عناصر اور بڑی طاقتیں چند ڈالروں اور روپوں کے عوض ان غربت کے مارے لوگوں کو خرید لیتی ہیں اور پھران سے دہشت گردی جیسا برا فعل کرواتی ہیں ان غریب لوگوں کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔ یہ مکروہ عناصر ان بھوکے ننگے لوگوں کو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں تم ہمارا ساتھ دو گے تو ہم تمہاری غربت کو ختم کریں گے اور تمہارے اندر خوشحالی لائیں گے۔ بھوک کیونکہ ان غریب لوگوں کو بہت ستاتی ہے تو یہ غریب لوگ بھی سوچتے ہیں کہ چلو پیٹ بھرنے کا ذریعہ تو پیدا ہورہا ہے۔ ہمارے گھر کی بھوک تو مٹتی ہے۔ اس وقت یہ بالکل بھی نہیں سوچتے کہ آخر کار ان کا انجام موت ہی ہو گا اگر سوچتے بھی ہوں گے تو شاید یہ سوچتے ہوں گے کہ دنیا میں ان کے اور ان کے گھر کے لوگوں کے کچھ دن تو اچھے گزر جائیں گے اور اگر موت آ بھی گئی تو اس بے درد دنیا سے ان کو نجات مل جائے گی کیونکہ دنیا انہیں بہت ستاتی ہے بہت رلاتی ہے بھوک نے ان کے وجود کو بہت ہلایا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ دہشت گردی جیسے برے فعل اور گناہ پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ کاش! وہ یہ سوچتے کہ اللہ انہیں آزما رہا ہے کیونکہ کسی کو وہ دولت دے کو آزماتا ہے اور کسی کو وہ غربت دے کر آزماتا ہے۔ دونوں ہی آزمائش کی صورتیں ہیں۔ اب یہ لوگوں پر ہے کہ وہ اس کی آزمائش پر کتنا پورا اترتے ہیں۔ دولتمند اپنی دولت غریبوں کی فلاح کے لیے استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی آزمائش پر پورا اترتے ہیں اور غریب اپنی غربت پر صبر کر کے اللہ تعالیٰ کی آزمائش پر پورا اترتے ہیں۔ بھوک اور غربت انسان کو کس طرح ستاتی اس نظم میں ملاحظہ کریں۔

بقول شاعر

کس سے کہیں؟

کس کو یہ اپنی فریاد سنائیں؟

کس کو یہ اپنا دکھڑا روئیں

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک تو نے کیوں؟

اس دنیا میں

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


جب بھوک ان کو ستائے

ان کے پیٹ میں چوہے دوڑائے

چوری کر کے روٹی کھائیں

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک تو نے کیوں؟

اس دنیا میں

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


اپنے خالی پیٹ کو لے کر

یہ کچرے کے ڈھیر پہ جائیں

اور وہاں سے پھر یہ چاول روٹی کھائیں

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک تو نے کیوں؟

اس دنیا میں

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


جس دن ان کے پاس

کھانے کو کچھ بھی نہ ہو

رات کو یہ بھوکے ہی سو جائیں

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک تو نے کیوں؟

اس دنیا میں

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


امیروں کے در پہ جائیں

ان کو اپنا ننگا بدن دکھائیں

وہاں سے پھر جوتے کھائیں

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک تو نے کیوں؟

اس دنیا میں

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


ہر کوئی ان کو شک سے دیکھے

ہر کوئی ان کو مجرم جانے

کس کو اپنا درد بتائیں

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک تو نے کیوں؟

اس دنیا میں

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


ایسی گلیوں میں

جہاں کوڑا کرکٹ اور گندگی ہو

یہ اپنی بستیاں بسائیں

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک تو نے کیوں؟

اس دنیا میں

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


جب اجلے یونیفارم میں

بچے اسکول کو جائیں

ان کے من درد سے کراہیں

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک تو نے کیوں؟

اس دنیا میں

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


میں یہ دکھ سے سوچتا ہوں

ان کا دل بھی اسکول جانے کو مچلتا ہوگا

پھر یہ اسکول کیوں نہ جائیں؟

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک تو نے کیوں؟

اس دنیا میں

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک میرا دل یہ کہتا ہے

امیروں کی آزمائش کو تو نے

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک تو نے کیوں؟

اس دنیا میں

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


قیامت والے دن

جب تو انصاف کے تخت پر ہوگا

اپنا اجر یہ پائیں

یہ بھوکے ننگے لوگ


مالک تو نے کیوں؟

اس دنیا میں

پیدا کر ڈالے

یہ بھوکے ننگے لوگ


اب ذرا انصاف سے سوچیں کہ غربت اور بھوک انسان کو کس طرح ستاتی اور رلاتی ہے تو پھر ذرا تصور کریں کہ آج کے اس معاشرے میں جہاں خود غرضی، بے حسی، لالچ اور حرص و ہوس نے ڈیرے ڈال رکھیں ہوں وہاں غریب انسان کے لیے اللہ کی آزمائش سے گزرنا کس قدر مشکل ترین کام ہے غربت اور بھوک و ننگ ایسی بڑی مصیبتیں ہیں جو ان کو ہر وہ کام کرنے پر مجبور کردیتی ہیں جس سے ان کے پیٹ کی آگ بھجھ سکے وہ اپنے پیٹ کی آگ بھرنے کے لیے۔ دہشت گردی پر بھی آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ دہشت گردی سے ان کے انتقام کی آگ کو بھی تسکین ملتی ہے۔ کیا دنیا کے کرتا دھرتا دنیا سے غربت کو ختم کرنے میں سنجیدہ نظر آتے ہیں؟ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دنیا سے غربت کے خاتمے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔ سپر طاقتیں کیوں نہیں اپنے خزانوں کے منہ کھولتیں کہ دنیا سے غربت ک خاتمہ ہو۔ دنیا میں بے شمار لوگ قحط اور بھوک سے مر جاتے ہیں لیکن دنیا کے ٹھیکیداروں کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ آج بھی پاکستان کے تھر کے علاقے میں معصوم بچے بھوک سے مر جاتے ہیں۔ لیکن کسی کو کوئی احساس نہیں ہوتا۔ ایتھوپیا، صومالیہ، کمبوڈیا،شمالی کوریا اور دیگر ممالک میں لاکھوں افراد بھوک اور قحط کے ہاتھوں مارے گئے لیکن دنیا نے غربت کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے تو انتہائی افسوس کے ساتھ عرض خدمت ہے کہ لالی پاپ کے علاوہ کوئی ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آئے تو پھر بھوکا انسان اپنی بھوک کو مٹانے کے لیے ہتھیار نہیں اٹھائے گا تو اور کیا کرے گا۔ انتہائی معذرت کے ساتھ وہ تو یہ چاہے گا کہ ہر اس فرد کو بھی دنیا سے مٹا دے جو اس کی بھوک کا سبب ہے اور جس نے اس کی بھوک اور ننگ کے لیے کچھ نہیں کیا اور اس کو بھوک سے مرنے کے لیے چھوڑ دیا اور جب بھوک اور غربت کے ستائے ہوئے لوگ دہشت گردی کروانے والوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر غلط راستے کا انتخاب کرتے ہوئے ہتھیار اتھاتے ہیں تو بھی موت ہی ان کا مقدر بنتی ہے۔ اور بھوک میں بھی موت ہی ان کا مقدر ہوتی ہے۔ کاش یہ بھوک مارے لوگ صبر کرنا سیکھیں اور اللہ کہ آزمائش میں پورا اتریں تو اللہ کے نزدیک ان کے درجات بھی بلند ہوں گے اور یہ دہشت گردی کروانے والوں کے ہاتھوں کا کھلونا نہیں بنیں گے۔ اسی طرح امیروں کی بھی یہ آزمائش ہے کہ وہ اپنی دولت کو اپنے آرام اور اپنی عیاشیوں شباب و کباب کی محفلوں کو سجانے کی بجائے غریبوں پر خرچ کریں ان کا خیال رکھیں ان کے لیے اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بنوائیں جہاں غریبوں کے بچے مفت تعلیم حاصل کر سکیں، ان کے لیے ہسپتال بنوائیں جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو سکے امیروں کا یہ فرض ہے کہ وہ لوگوں کو بھیک دے کر بھکاری نہ بنائیں اور ان کی عزت نفس کے ساتھ نہ کھیلیں بلکہ ان کی مدد اس طرح کریں کہ غریب اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں تو اللہ کے ہاں ان امیروں کے درجات بھی بلند ہوں گے اور جنت میں انہیں اعلیٰ مقام عطاء ہو گا اور وہ اللہ کی آزمائش میں بھی پورا اتریں گے۔ اللہ نے ایک طرف غریبوں کو صبر کی تلقین کی ہے تو دوسری طرف اللہ نے امیروں کو غریبوں پر اپنا مال خرچ کرنے کی تاکید کی ہے جو اللہ نے ہی انہیں عطاء کیا ہے۔ تاکہ معاشرے میں دہشت گردی اور فتنہ و فساد نہ پھیلے۔ غریب صبر کریں اور دہشت گردی کے غلط راستے کا انتخاب نہ کریں تو اللہ سے بہت بڑا اجر پائیں گے اور جنت میں اعلیٰ مقام پائیں گے۔ اسی طرح امیر غریبوں پر مال خرچ کریں جو اللہ نے انہیں عطا کیا ہے اور غریبوں کو اپنا غلام سمجھنے کی بجائے ان کا خیال رکھیں تو وہ بھی اللہ سے بہت بڑا اجر پائیں گے اور اگر امیر اور غریب اللہ کی اس آزمائش میں پورا اتر گئے تو دنیا سے دہشت گردی جڑ سے اکھڑ جائے گی اور فتنہ و فساد ختم ہوجائے گا۔ صرف اچھی نیت اور دل بڑا کرنے کی ضرورت ہے۔

بے روز گاریترميم

دنیا میں دہشت گردی پھیلنے کی ایک بڑی وجہ بے روزگای ہے۔ والدین اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلواتے تاکہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اچھا روزگار حاصل کرسکیں۔ مائٰیں اس مقصد کے لیے اپنا زیور گروی رکھ دیتی ہیں یا فروخت کر دیتی ہیں اور باپ اپنا مکان گروی رکھ دیتا ہے یا فروخت کر دیتا ہے۔ والدین کا خیال ہوتا ہے کہ ان کے بچے ڈاکٹر، انجینیئر، وکیل یا ایم بی اے کی ڈگری حاصل کر کے بہترین روزگار حاصل کریں گے یا فوج میں انہیں کمیشن مل جائے گا، بچے بھی خوب محنت کرتے ہیں اور میٹرک اور ایف ایس سی میں اچھے نمبر حاصل کر تے ہیں کہ انہیں داخلہ مل جائے لیکن افسوس نمبر حاصل کرنے کے بعد والدین اور بچوں کے سامنے یہ تلخ حقیقت آتی ہے کہ ابھی ہنوز دلی دور است کیونکہ والدین کی جمع پونجی انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے اکیڈمیوں کے پیٹ میں اتر جاتی ہے آخر خدا خدا کر کے انٹری ٹیسٹ کا مرحلہ آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ بازی تو اے اور او لیولز والے مار گئے ہیں۔ یا وہ بچے داخلہ کے اہل قرار پائے ہیں جن کی جیب میں پیسہ تھا کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ انٹری ٹیسٹ سے ایک دن پہلے انٹری ٹیسٹ کا پرچہ آئوٹ ہو کر ان بچوں تک پہنچ گیا جن کے پاس اس پرچے کو خریدنے کی طاقت تھی یا سفارش تھی اور جن کے پاس طاقت نہیں تھی اور سفارش نہیں تھی وہ بے چارے انٹری ٹیسٹ میں رہ جاتے ہیں اور اپنا سب کچھ لٹا کر پھر اور لٹتے ہیں اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں یا اپنا سب کچھ لٹاتے ہوئے چین اور روس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے رخت سفر باندھتے ہیں اور جن کے پاس پیسہ نہیں ہوتا وہ بچے اعلیٰ قابلیت رکھنے کے باوجود کچھ بھی نہیں کرسکتے اور نظام کو برا بھلا کہتے ہیں اور رو پیٹ کر چپ ہوجاتے ہیں اور ریڑھی لگانے پر مجبور ہوتے ہیں یا کسی دفتر یا فیکٹری میں چپڑاسی یا کلرکی جیسی چھوٹی موٹی نوکری کرلیتے ہیں یا پھر مزدوری کرتے ہیں اور اپنے پیٹ کا دوزخ بھرتے ہیں۔ یہ وہ ابتدا ہے جہاں بچوں کے ذہن میں اس بے انصافی کے خلاف بغاوت جنم لینا شروع کرتی ہے اور یہیں سے دہشت گردی کا وجود بچوں کے ذہنوں میں جڑ پکڑنا شروع کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ اپنا سب کچھ لٹا کر کسی نہ کسی طرح اعلیٰ تعلیم کی ڈگری حاصل کرلیتے ہیں اور والدین اور بچے خوش ہوتے ہیں کہ اب ابہیں بہترین روزگار مل جائیگا ان کے معاشی حالات اب درست ہو جائیں گے۔ ان کی بہنوں کے اب ہاتھ پیلے ہوجائیں گے اور وہ اپنے پیا کے گھر رخصت ہو جائیں گی۔ تو یہ تلخ اور خوفناک حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ روز گار کی تلاش میں ان کے ایک دفتر سے دوسرے دفتر اور ایک فیکٹری سے دوسری فیکٹری چکر لگنا شروع ہوتے ہیں یہاں بھی یہی مصیبت سامنے ہوتی ہے کہ جن کے پاس سفارش اور چمک ہوتی ہے ان کو تو باآسانی نوکری (جاب) مل جاتی ہے اور جن بے چاروں کے پاس سفارش اور چمک نہیں ہوتی ان کو کہا جاتا ہے کہ پانچ سال یا دس سال کا تجربہ لائو تو نوکری مل جائے گی۔ اب ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ نوکری دو گے تو تجربہ حاصل ہو گا جب نوکری ہی نہیں دو گے تو تجربہ کہاں سے آئے گا۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جب بچوں میں بغاوت اپنے پورے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ کیونکہ ان کے والدین اپنا سب کچھ اپنے ان بچوں کی تعلیم پر لٹا چکے ہوتے ہیں لیکن اتنی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود یہ بچے روز گار سے محروم ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی بغاوت کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے کہ اپنی ڈگری کو جلا دیا جاتا ہے کہ ایسی ڈگری حاصل کرنے کا کیا فائدہ جس کو حاصل کرنے کے باوجود بے روزگاری ان کا منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ اور پھر عالم مایوسی میں گھر میں فاقہ مستی شروع ہوجاتی ہے۔ اب ظاہر ہے پیٹ تو کھانے کو مانگتا ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ ان بے روزگار بچوں میں مجرمانہ اور دہشت گردانہ سوچ جنم لیتی ہے اور جڑ پکڑتی ہے۔ اور دہشت گردی کروانے والے عناصر جو ایسے نوجوانوں کی تاک میں پہلے ہی ہوتے ہیں ان بے روز گار نوجوانوں کے آنسو پوچھنے آجاتے ہیں اور ان کا سہارا بننے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے انتقام کی آگ کو اور ہوا دیتے ہوئے انہیں سماجی ناانصافی کے خلاف بھڑکاتے ہیں اور اور کہتے ہیں ہم ہی اصلاح کرنے والے ہیں ہم ہی انصاف لائیں گے تم ہمارے ساتھ شامل ہو جائو اس طرح ان نوجوانوں کا دہشت گردی اور موت کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے دہشت گرد اعلیٰ تعلیم یافتہ نظر آتے ہیں۔ وہ ممالک اور معاشرے جہاں میرٹ کا نظام قائم ہے اور نوکری آسانی سے مل جاتی ہے وہاں دہشت گردی کم ہوتی ہے لیکن وہ ممالک اور معاشرے جہاں میرٹ اور انصاف کا کوئی نظام قائم نہیں ہے اور نوکری کا ملنا بہت ہی مشکل ہے۔ جن ممالک میں جعلی ڈگریوں پر اعلیٰ عہدے مل جاتے ہیں وہاں دہشت گردی بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ان ممالک اور معاشروں پر پیسہ پھینک تماشا دیکھ والی مثال فٹ بیٹھتی ہے۔ جن کی جیب میں پیسہ ہوتا ہے وہ ہر عہدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ نوکری آسانی سے حاصل کر لیتے ہیں اور ظاہر ہے جن کی جیب خالی ہوتی ہے وہ یا تو رو پیٹ کر چپ ہوجاتے ہیں یا پھر غلط راستے کا انتخاب کرتے ہیں اور مجرم بن جاتے ہیں یا پھر دیشت گردی کروانے والوں کا کھلونا بن کر دہشت گردی کرتے ہیں اور معاشرے سے انتقام لیتے ہیں۔ اگر ان ممالک اور معاشروں میں میرٹ کا نظام قائم کر دیا جائے اور سفارش اور جعلی ڈگریوں پر نوکریاں اور اعلیٰ عہدوں کی بندر بانٹ نہ کی جائے تو دہشت گردی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

مذہب کااستعمال اور فرقہ واریتترميم

دہشت گردی پھیلنے کی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ مذہب کا غلط استعمال اور ان کا آپس میں ٹکرائو اور فرقہ واریت ہے۔ اس وقت دنیا میں جو بڑے مذاہب ہیں ان میں اسلام، عیسائیت اور یہودیت ہیں۔ اس کے علاوہ ہندو مذہب، بدھ مت، جین مت، سکھ مذہب، پارسی مذہب اور دیگر بہت سے مذاہب ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام مذاہب کے بانیوں نے دنیا کے لوگوں کو امن و آشتی کی تعلیم دی لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑتی ہے کے ان مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے مفادات کی خاطر اور برے مقاصد اور اپنے اقتدار اور عام لوگوں پر اپنی حاکمیت قائم کرنے اور انہیں اپنا غلام بنانے اور انہیں کیڑے مکوڑے سمجھنے کی خاطر، اپنی طاقت اور دولت کے بل بوتے پر ان مذاہب کے بانیان کی تعلیمات کو جان بوجھ کر یا تو بھلا دیا یا ان میں تبدیلیاں کر دیں اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک صورت حال یہ پیدا ہوئی کی ہر مذہب کے لوگوں نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنا لی اس طرح ہر مذہب میں فرقوں نے جنم لیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر مذہب اور فرقے نے خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط کہنا شروع کر دیا اور سوچے سمجھے بغیر اپنی بات پر شدت اور ہٹ دھرمی سے قائم ہو گئے۔ مذہب کے اس غلط استعمال اور ٹکرائو کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا میں انتہا پسندی اور شدت پسندی نے جنم لیا اور اس انتہا پسندی اور شدت پسندی کی کوکھ سے دہشت گردی نے جنم لیا۔ ان مذاہب اور فرقوں کے رہنماؤں اور علماء نے اپنے پیٹ اور اقتدار اور حاکمیت کی خاطر نفرت کا وہ بازار گرم کیا کہ ہر انسان کا اعتبار ایک دوسرے پر سے ختم ہو گیا عقل اور دلیل کی کوئی بات نہیں سنی گئی اور کسی نے عقل اور دلیل کی بات کرنے کی کوشش بھی کی تو واجب القتل قرار پایا اور اس طرح کروڑوں انسان مذہب کے غلط استعمال اور فرقہ واریت سے پھوٹنے والی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ کر موت کی ابدی نیند سو گئے۔ کسی نے کافر کافر کا راگ الاپا تو کسی نے لعنت لعنت کی گردان کی اور اس وقت ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اور لوگ ایک دوسرے کو اس طرح دہشت گردی سے مار رہے ہیں کہ مرنے والے کو علم نہیں کہ اسے کیوں مارا گیا اور نہ ہی مارنے والا جانتا ہے کہ اس نے کیوں مارا اور سب سے زیادہ افسوس کا عالم تو یہ ہے کہ لوگ مذہب کا لبادہ اوڑھ کو ایک دوسرے کو بے دردی اور دہشت گردی سے قتل کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کہتا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو فسادی ہیں۔

دنیا میں مذہب کا اور فرقہ واریت کا غلط استعمال ہرجگہ اور ہر معاشرے میں ہوتا ہے ہاں یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ اس کا استعمال کہیں کم ہوتا ہے اور کہیں زیادہ۔ عیسائی، یہودی اور ہندو معاشرہ اسلامو فوبیا میں مبتلا ہے اور ان معاشروں میں بسنے والے مسلمان خوف اور دہشت کے عالم میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں اور عیسائی، یہودی اور ہندو انتہا پسندوں اور اور شدت پسندوں کی دہشست گردی کا نشانہ بننتے رہتے ہیں۔ ان معاشروں کے انتہا پسندوں نے بھی اپنے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور اس کی آڑ میں دہشت گردی کرتے ہیں اور اپنے مذاہب کو بدنام کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسلام میں موجود مذہبی انتہا پسندوں نے بھی اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور یہ بھی اپنے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہوئے نہ صرف عیسائیوں، یہودیوں، ہندوئوں کو اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ اپنے مذہب کے دوسرے فرقوں کے لوگوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان سب مذاہب کے انتہا پسندوں میں جو بات مشترک پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے سے شدید نفرت کرتے ہیں اور اس شدید نفرت کی وجہ یہ ہے کہ یہ خود کو بالکل پاک صاف اور سچا سمجھتے ہیں لیکن دوسروں کو غلط اور جھوٹا سمجھتے ہیں ایک دوسرے کے مذہب پر لعن طعن کرتے ہیں جبکہ مذہب کا کوئی قصور نہیں ہوتا مذاہب اور ان کے بانیان نے تو ہمیشہ امن، محبت اور رواداری کا سبق دیا ہے لیکن انسانوں کا غلط عمل اقتدار، دولت اور حاکمیت کا نشہ انہیں دہشت گردی، قتل و غارت گری اور فساد پر اکساتا رہتا ہے، ایک دوسرے کے خلاف اندر کی نفرت ان مذاہب کی آڑ میں چھپے ہوئے انتہا پسندوں کو غلط راستے پر لے جاتی ہے۔ پیٹ میں بھڑکتی ہوئی آگ سے مجبور انتہا پسند مذپبی رہنما دماغ سے نہیں پیٹ سے سوچتے ہیں۔ نفرت کی آگ بھڑکاتے ہیں اور اپنی چرب زبانی سے جھوٹ کو اس طرح سچ بنا کر پیش کرتے ہیں کہ عام لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں اور ان کے غلط راستے پر چل پڑتے ہیں۔ یہ انتہا پسند مذہبی رہنما خود تو اپنے عیش کدوں میں آرام اور سکون کی زندگی گزارتے ہیں لیکن پوری دنیا کو فساد اور دہشت گردی کی نذر کردیتے ہیں۔ دراصل یہی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں ہی فرماتا ہے کہ یہی لوگ ہیں جو فسادی ہیں پوری دنیا میں اس کی سب سے بڑی مثال حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے بہتر ساتھیوں کی شہادت ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو شہید کرنے والے بھی مذپب کی آڑ میں چھپے ہوئے تھے وہ بھی قرآن کی تلاوت کرتے تھے ان کے ماتھوں پر بھی سجدوں کے نشان تھے۔ لیکن بے رحم اتنے تھے کہ امام حسین علیہ السلام کو ایک قطرہ بھی پانی کا نہ پہنچنے دیا یہاں تک کے جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے چھ ماہ کے بیٹے حضرت علی اصغر علیہ السلام کے لیے پانی طلب کیا تو ان انتہا پسند دہشت گردوں نے جو حافظ قران تھے جن کے ماتھوں پر سجدے کے نشان تھے حضرت علی اصغر علیہ السلام کو شہید کر دیا یہ مذہب کا غلط استعمال نہیں تو اور کیا تھا؟ یہ ظلم کی انتہا نہیں تھی تو اور کیا تھا؟ یہ دہشت گردی کی انتہا نہیں تھی تو اور کیا تھا؟ یہ پوری دنیا کے سوچنے کے لیے سب سے بڑی مثال ہے کہ مذہب کا دہشت گردی کے لیے کس طرح غلط استعال کیا جاتا ہے اور مذہب کی آڑ میں چھپ کر کس طرح دہشت گردی کی جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے لیے مذہب کے غلط استعمال کو ختم کیا جائے اور دہشت گردی کے لیے مذہب کی آڑ میں نہ چھپا جائے تاکہ مذہب بدنام نہ ہو کیونکہ مذہب کا کوئی قصور نہیں ہے۔ قصور تو غلط انسانوں کے غلط اعمال کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ مذہب سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں کیونکہ مغربی میڈیا مذہب کو غلط کہتا ہے اور یہ پروپیگنڈا بہت زور و شور سے کرتا ہے۔ اللہ سب انسانوں کو ہدایت دے اور انسانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ہدایت کا راستہ اپنائیں اور اپنے چنے ہوئے انسانوں کی بجائے اللہ کے چنے ہوئے اور منتخب بندوں کی پیروی کریں تو یہ دنیا خود ہی جنت بن جائے گی۔

دنیا کا اندھا قانونترميم

دہشت گردی پھیلنے کی وجہ میں سے ایک وجہ دنیا کا اندھا قانون بھی ہے۔ دنیا کا قانون جرم پر تو سزا دیتا ہے لیکن وہ یہ بالکل نہیں دیکھتا کہ جرم کیوں ہوا ہے ذرا سوچیے کہ اگر کسی کی ماں، بیٹی یا بہن کی عزت لٹ رہی ہو تو وہ کیا کرے گا؟ کیا وہ بے شرمی، بے حیائی اور بے غیرتی کا راستہ اپناتے ہوئے خاموشی اختیار کرے گا یا پھر اس عزت لوٹنے والے کا مقابلہ کرے گااور اسے موت کے گھاٹ اتار دے گا۔ لیکن افسوس اس دنیا کا اندھا قانون یہ بالکل نہیں دیکھتا کی قتل کرنے والے شخص نے اپنی ماں، بیٹی یا بہن کی عزت بچاتے ہوئے قتل کیا ہے۔ دنیا کے اس اندھے قانون کی نظر میں تو قتل ہوا ہے جس کی سزا اسے قتل کے جرم میں دے دی جاتی ہے۔ اس بے انصافی کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں بغاوت کے جراثیم پھیلتے ہیں اور انسانوں کو انجام کار دہشت گردی کی طرف لے جاتے ہیں، دہشت گردی کروانے والے اندھے قانون کے ستائے ہوئے لوگوں کو با آسانی اپنے غلط راستے پر ڈالتے ہوئے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی شخص کئی دن سے بھوکا ہو اور وہ بھوک سے تنگ آکر اپنے پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لیے کسی پھل والے کی دکان سے پھل چوری کرلے یا کسی تندور پر سے روٹی چوری کرلے تو ہماری دنیا کا اندھا قانون اسے چوری کے جرم میں سزا سنا دیتا ہے۔ وہ بالکل یہ نہیں دیکھتا کہ اس شخص نے چوری کیوں کی ہے؟، قانون کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ چوری عالم مجبوری میں بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر کی گئی ہے۔ دنیا کا اندھا قانون صرف یہ دیکھتا ہے کہ چوری کا جرم ہوا ہے اور وہ چوری کے جرم کی سزا سنا دیتا ہے۔ اندھے قانون کو کسی شخص کی مجبوری، بے بسی اور بھوک سے کوئی غرض نہیں ہوتی اب سوچیں کہ کیا اس قسم کے واقعات بغاوت کو جنم نہیں دیتے۔ اور کیا لوگ انجام کار دہشت گردی کرنے پر مجبور نہیں ہوجاتے کیونکہ ریاست ایسے مجبور لوگوں کو بالکل بھی سہارا نہیں دیتی،

اسی طرح کوئی شخص اپنے ہاتھ میں اعلیٰ ڈگری لے کر ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا چکر کاٹے۔ یا ایک کارخانے سے دوسرے کارخانے میں نوکری کے لیے انٹرویو دے یا ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں نوکری کی بھیک مانگے لیکن کوئی اسے نوکری نہ دے اور اس کے گھر میں قافوں کی نوبت آجائے تو پھر وہ کیا کرے؟ کیا وہ کسی دریا یا سمندر میں چھلانگ لگا کر ڈوب مرے یا کیا وہ کسی پہاڑ یا کسی اونچے مینار سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دے؟ یا پھر دہشت گردی کروانے والوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر دہشت گردی کرے اور کسی اندھی گولی کا نشانہ بن کو موت کی آغوش میں چلا جائے اور دنیا کے غموں سے نجات پا جائے یا پھر وہ گرفتار ہو اور دنیا کے اندھے قانون کے ذریعے اپنے جرم کی سزا پائے کیونکہ اندھا قانون تو یہ نہیں دیکھتا کہ وہ دہشت گرد کیوں بنا۔ اسے کس مجبوری نے دہشت گرد بننے پر مجبور کیا۔ کاش دنیا کا قانون اندھا نہ ہو اور وہ جرم پر نہیں جرم کی وجہ پر سزا دے تو مجرم اور دیشت گرد پیدا نہیں ہوں گے۔

انصاف کا نہ ملناترميم

انصاف کا نہ ملنا بھیدہشت گردی پھیلنے کی ایک وجہ ہے۔ دنیا میں بہت سے ممالک اور معاشرے ایسے ہیں جہاں لوگوں کو انصاف نہیں ملتا اور افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایک تو انصاف نہیں ملتا اور اس پر سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اگر انصاف ملتا بھی ہے تو مقدمات سالوں چلتے رہتے ہیں اسی لیے یہ مثال مشہور ہے کہ اگر دادا اپنی جائداد کے حصول کے لیے مقدمہ کرتا ہے تو اس مقدمے کا فیصلہ پوتے کے دور میں جاکر ہوتا ہے۔ انتہائی معذرت کے ساتھ وکیل ان مقدمات کو اپنی زیادہ سے زیادہ فیس کے لالچ میں یا مخالف پارٹی کی خواہش کے پیش نظر مقدمات کو لمبا کھینچتے ہیں اور اتنے تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں کہ یہ مقدمات سالوں چلتے رہتے ہیں اور تاریخ پر تاریخ ملتی رہتی ہے۔ لوگ جن کی آخری امید عدالت ہوتی ہے اور وہ انصاف کی امید لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں لیکن انہیں فوری اور سستا انصاف نہیں ملتا لوگ مقدمات کے فیصلے کے انتظار میں سوکھ جاتے ہیں اور اپنی ساری جمع پونچی وکیلوں کے پیٹ میں اتار دیتے ہیں اور دوسرے عدالتی اخراجات علحیدہ ان کے سر پر تلوار کی طرح لٹکتے ہیں۔ جتنی بڑی عدالت ہوتی ہے اتنے ہی زیادہ اخراجات ہوتے ہیں اپنا سب کچھ لٹا دینے کے باوجود انصاف کی دیوی عام آدمی سے روٹھی ہی رہتی ہے۔ طاقت ور اور قاتل، عدالتوں سے صاف بچ نکلتے ہیں اور دندناتے پھرتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے لوگ خود ہی اپنا انصاف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور دیشت گردی کا رخ اخیتار کرتے ہیں۔

سانحہ ماڈل ٹائون 17 جون 2014 کو ہوا جس میں لاہور میں دن دہاڑے ریاستی دہشت گردی کے نتیجہ میں 14 افراد کو پولیس نے گولیوں سے بھون کو شہید کر دیا گیا اور سو افراد کو زخمی کر دیا گیا۔ احتجاج ہوئے، دھرنے ہوئے عوام نے ریاست کا تشدد برداشت کیا تب کہیں جاکر تو آرمی چیف کی مداخلت سے ایف آئی آر کٹی۔ میڈیا کی پولیس کی گولیاں چلاتے ہوئے ویڈیوز موجود ہیں لیکن افسوس قاتل آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں کئی سال بیت چکے ہیں لیکن انصاف کہیں نظر نہیں آتا اور آج بھی اس واقع کے مقتولین کے لواحقین انصاف کی تلاش میں عدالتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن انصاف کی یہ کیفیت ہے کہ ہنوز دلی دور است اب سوچیں جب لوگوں کو انصاف نہیں ملے کا تو کیا ان میں بغاوت جنم نہیں لے گی؟ لوگ اپنا انصاف خود کرنا شروع نہیں کر دیں گے اور دہشت گردی کا راستہ نہیں اپنائیں گے وہ پھر اسلحہ نہیں اٹھائیں گے تو اور کیا کریں گے؟ پوری دنیا اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ لوگوں کو انصاف نہیں ملتا اور پھر وہ اپنا انصاف خود کرنے بیٹھ جاتے ہیں اب ہر شخص میں صبر نہیں ہوتا ہر شخص میں تو برداشت کی اتنی قوت نہیں ہوتی جتنی کہ سانحہ ماڈل تائون کے مقتولین کے لواحیقن نے دکھائی ہے آج بھی وہ عدالتوں سے انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں لیکن انصاف ان سے کوسوں دور نظر آتا ہے کیونکہ دنیا کے بہت سے ممالک اور معاشروں میں ظاقت ور کے لیے قانون اور ہے اور کمزور کے لیے قانون اور ہے۔

طاقتور شخص کے لیے جیل گھر جیسی ہی ہوتی ہے اسے وہاں ہر قسم کی سہولیات میسر ہوتی ہیں ۔ بیمار پڑ جائے تو فوری علاج ہوتا ہے۔ پھر طاقت ور شخص کے نخرے علحیدہ ہوتے ہیں کہ اس ہسپتال سے علاج نہیں کروانا اس جیل میں نہیں رہنا، یہ نہیں کھانا وہ نہیں کھانا۔ طاقتور شخص کی ضمانت قبل از گرفتاری یا حفاظتی ضمانت کی درخواست فوری طور پر ایمرجنسی میں سنی جاتی ہے اور منظور بھی فوری طور پر ہوجاتی ہے جبکہ کہ کمزور شخص جیل میں ہی سڑتا رہتا ہے اور مچھروں سے ہی مقابلہ کرتا رہتا ہے۔ علاج کی سہولت واجبی ہوتی جیل اس کے لیے خوف اور دہشت کی علامت ہوتی ہے۔ کمزور شخص اگر ضمانت قبل از گرفتاری یا حفاظتی ضمانت کروانا چاہے تو اسے لمبی تاریخ مل جاتی ہے۔ انصاف کا یہ دوہرا معیار عام آدمی میں بغاوت پیدا کرتا ہے جو اسے رفتہ رفتہ دہشت گردی کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر طاقت ور اور کمزور دونوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو اور لوگوں کو وقت پر انصاف ملے تو لوگوں کا عدالتوں پر اعتماد بڑھے گا اور لوگ جرم اور دہشت گردی کی طرف جانے کی بجائے امن اور قانون کا راستہ اپنائیں گے اور معاشرہ بھی فتنہ و فساد اور دہشت گردی سے محفوظ رہے گا۔

تعلیم کی کمی اور جنت کا خوابترميم

دنیا میں دہشت گردی پھیلنے کی ایک بڑی وجہ تعلیم کی کمی بھی ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں غربت کی وجہ سے یا سیاسی وجوہات کی وجہ سے تعلیم کی بہت زیادہ کمی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی سوچ میں بھی کمی پائی جاتی ہے لوگ ذہنی پسماندگی کی وجہ سے دہشت گردی کروانے والوں کا آسان ٹارگٹ ہوتے ہیں وہ باآسانی دہشت گردی کروانے والوں کا شکار بن کر دہشت گردی کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ تعلیم کی کمی اور جہالت انسان میں بے رحمی اور شقی القلبی پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے لوگ جلد مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے لوگوں میں براداشت اور صبر کی قوت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ ذرا سی بے انصافی پر ہتھیار اٹھالیتے ہیں اور اسی چیز کا فائدہ دہشت گردی کروانے والے اٹھاتے ہیں اور کم تعلیم یافتہ لوگوں سے باآسانی دہشت گردی کرواتے ہیں۔ وہ کم تعلیم یافتہ لوگوں کو جنت کا خواب دکھاتے ہیں کہ موت کے بعد وہ فوراً جنت میں جائیں گے اور حوریں ان کی بغل میں ہوں گی یہی وہ نکتہ ہے جس کی وجہ سے جاہل لوگ جنت کا خواب دیکھتے ہوئے دہشت گردی کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور وہ بے گناہ لوگوں کو مارتے ہیں اور خود کو بھی جنت کا خواب دیکھتے دیکھتے موت کے حوالے کر دیتے ہیں۔ وہ بالکل یہ نہیں سوچتے کے کسی بے گناہ کو مارنا کتنا بڑا جرم اور گناہ ہے جس کی انہیں سزا ملے گی۔ نہ ہی وہ دہشت گردی کرنے والوں سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ آپ خود کیوں نہیں دہشت گردی کر کے اور خود کو موت کے حوالے کر کے جنت چلے جاتے؟ نام نہاد مذہبی رہنما اور علماء سُو اپنی تقاریر کے ذریعے کم تعلیم یافتہ لوگوں کو جنت کے بڑے بڑے خواب دکھاتے ہیں اور انہیں دہشت گردی کرنے ہر ابھارتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کہتا ہے کہ دراصل یہی لوگ فسادی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے مذہبی رہنماؤں اور علما سُو سے لوگوں کو محفوظ رکھے کیونکہ امریکا اور روس کی جنگ جو افغانستان میں ہوئی اس میں یہی دہشت گرد ان مذہبی رہنماؤں اور علما سُو کی وجہ سے جہادی کہلائے لیکن جیسے ہی افغانستان میں روس کو شکست ہوئی یہی جہادی کچھ عرصہ بعد دہشت گرد کیسے بن گئے اس سوال کا جواب کبھی نہ امریکا نے دیا نہ دنیا میں کسی اور نے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے ان لوگوں کو جب روس کے خلاف یہ لوگ لڑ ہے تھے جہادی کہا لیکن جب اس کا مطلب پورا ہو گیا تو اس نے ان لوگوں کو جو پہلے اس کی نظر میں جہادی تھے دہشت گرد کہنا شروع کر دیا یعنی امریکا نے ان کی تعلیم کی کمی وجہ سے فائدہ اٹھایا اور انہیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا اور فائدہ صرف ان مذہبی رہنماؤں اور علما سُو کو ہوا جن پر ڈالروں کی بارش ہوئی۔

فلمیںترميم

دنیا میں اس قسم کی فلمیں بنائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے دہشت گردی کو دنیا میں فروغ ملتا ہے ان فلموں کے مناظر اتنے خوفناک ہوتے ہیں کہ عام انسان پر خوف اور دہشت طاری ہو جاتی ہے۔ قتل و غارت گری اور تباہی اور بربادی کے مناظر ان فلموں میں اتنے تسلسل سے دکھائے جاتے ہیں کہ انسانی جسم میں سنسنی دوڑتی رہتی ہے، جرائم، منشیات، دہشت گردی، جنگ و جدل، جہازوں، ہیلی کاپٹروں، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تباہی، اسلحہ کے بے دریغ استعمال کو فلموں میں بہت ہی خوفناک اور دل ہلا دینے والے انداز میں پیش کیا جاتا جس کا اثر نہ صرف بڑی عمر کے لوگوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے بلکہ چھوٹی عمر کے کچے ذہن فلموں کے ان موضوعات اور مناظر کا انتہائی منفی اثر لیتے ہیں اور خود بھی ان فلموں کے کرداروں کی طرح دنیا میں اسلحہ اٹھا کر دہشت گردی کرتے ہیں۔ بات موبائل اسلحہ کے زور چھیننے، پرس چھینے سے شروع ہوتی ہے اور بڑھتے بڑھتے موٹر سائیکل چوری کرنے، بینک ڈکیتی کرنے سے ہوتی ہوئی منشیات فروشی کی طرف بڑھتی ہے اور پھر بم دھماکا کرنے، بس اغوا کرنے، اغوا برائے تاوان، جہاز اغوا کرنے اور خود کش حملہ کرنے پر ختم ہوتی ہے۔ اب سوچیے کیا ان سب اعمال سے خوف و ہراس اور دہشت پیدا نہیں ہوتی؟ کیا یہ سب اعمال دہشت گردی کے اعمال نہیں ہیں؟ کیا یہ سب جرائم اور دہشت گردی کے اعمال دنیا میں بننے والی فلموں میں نظر نہیں آتے؟ کیا لوگ دہشت گردی کے ان اعمال کو ان فلموں سے نہیں سیکھتے؟ ہے کسی کے پاس اس سوال کا جواب۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے۔ پیسہ کمانے کی ہوس انسانوں کو ایسی فلمیں بنانے پر مجبور کرتی ہے جس میں صرف نفرت اور دہشت گردی دکھائی جاتی ہے ان فلموں کو دیکھ کر انسان خود بھی ایک دوسرے کے مذہب سے نفرت، ایک دوسرے کی تہذیب سے نفرت اور ایک دوسرے کی روایات سے نفرت کرنا سیکھتا ہے۔ ان فلموں کو دیکھ کر انسان میں صبر اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی قوت ختم ہو جاتی ہے اور دنیا کا معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہوجاتا ہے اور انسان ان فلموں کو دیکھ کر دہشت گردی کرتا ہے۔ جو کچھ ہم دنیا کو فلموں کے ذریعے دکھا رہے ہیں وہی کچھ آج کے نوجوان ہمیں واپس کر رہے ہیں۔ وہ گینگسٹر بن رہے ہیں، منشیات کے عادی بن رہے ہیں، موبائل وہ چھینتے ہیں، کاریں وہ چوری کرتے ہیں۔ اغوا وہ کرتے ہیں، جہاز وہ اغوا کرتے ہیِں، بم دھماکے وہ کرتے ہیں، خود کش حملے وہ کرتے ہیں، ہر قسم کی دہشت گردی کا عمل وہ کرتے ہیں پھر شکوہ کس بات کا کہ دہشت گردی دنیا میں پھیل رہی ہے۔ بنانے رہیں نفرت اور دہشت گردی پر مبنیٰ فلمیں اور دھکیلتے رہیں اس دنیا کو دہشت گردی اور نفرت کے جہنم میں۔ کوئی ہے جو سوچے اور سمجھے کیونکہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت تو ہم نے ختم ہی کر رکھی ہے۔

آبادی میں اضافہترميم

آبادی میں اضافہ بھی دنیا میں دہشت گردی کے پھیلنے کا سبب بن رہا ہے۔ گذشتہ ایک صدی میں دنیا کی آبادی میں بہت تیزی سےاضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی 7 اب 40 کروڑ 33 لاکھ افراد تک پہنچ چکی ہے۔ آبادی میں اس تیزی سے اضافہ کی وجہ سے جہاں دنیا میں بے شمار مسائل نے جنم لیا ہے ان میں ایک مسئلہ دنیا میں تیز رفتاری سے دہشت گردی پھیلنے کا بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے دنیا میں ترقی یافتہ ممالک نے تو وقت کی نزاکت کوبھانپتے ہوئے اپنی آبادی کو کنٹرول میں رکھا لیکن ترقی پزیر اور خاص طور پر مسلمان ممالک میں آبادی کو کنٹرول نہ کیا جاسکا ان ممالک میں آبادی بہت تیزی سے بڑھی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان ممالک میں تعلیم کی کمی اور جہالت کی وجہ سے کوالٹی پر نہیں کوانٹٹی پر زور دیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کی وہ ممالک جن میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا وسائل کی کمی کا شکار ہو گئے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے غربت اور بے روز گاری کا شکار ہو گئے اور ان ممالک میں کرپشن، لاقانونیت، جرائم اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی نے ڈیرے ڈال لیے۔ ظاہر ہے انسان کا پیٹ کھانے کو تو مانگتا ہے۔ انسان کتنا عرصہ بھوکا رہ کر اپنی زندگی بچا سکتا ہے۔ اسے اپنے پیٹ کی آگ کو بجھانے لے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا ہے اور انسان کو سب سے آسان راستہ جرائم کا ہی نظر آتا ہے۔ جس کے پاس کچھ ذرا سی بھی طاقت اور دولت ہوتی ہے اس کی ہوس بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اور وہ وسائل پر اپنی طاقت اور دولت کے زور پر قبضہ کرتا چلا جاتا ہے اور اس طرح امیر امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے اور غریب غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے اور جب ان ممالک میں جہاں آبادی میں بہت زیادہ تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ وہاں وسائل اور دولت کی تقسیم کا توازن شدت سے بگڑ جاتا ہے۔ طاقت ور لوگ ہر ادارے میں اپنے وفادار لوگ بٹھا دیتے ہیں اور یہ وفادار لوگ ان طاقت ور لوگوں کے لیے ہر قسم کا کام کرنے اور عام انسانوں پر ظلم ستم کے پہاڑ توڑنے پر تیار ہوتے ہیں۔ یہ طاقت ور لوگوں کے لیے قتل کرتے ہیں، اغوا کرتے ہیں اور خوف و دہشت کا وہ بازارگرم کرتے ہیں کہ ہر طرف ظلم اور زیادتی اور بے انصافی کا دور دورہ نظر آتا ہے۔ لیکن طاقت ور لوگ ہر لمحے اپنی جیت کا جشن مناتے نظر آتے ہیں۔ اس صورت حال میں شریف لوگ انصاف کے لیے عدالتوں کی طرف دیکھتے ہیں لیکن انصاف اس قدر مہنگا ہوتا ہے کہ انصاف کو حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے، وکیلوں کی بھاری فیسیں کہاں سے ادا کی جائیں مقدمات کے خرچے کیسے برداشت ہوں مقدمات جتنے زیادہ لمبے ہوتے ہیں ان کے اخراجات بھی اتنے ہی زیادہ بڑھتے چلے جاتے ہیں لیکن انصاف پھر بھی نہیں ملتا جیت ہمیشہ طاقت ور کی ہی ہوتی ہے ایسے عالم میں انسان یہ سوچتا ہے کہ وہ اس دنیا میں آیا ہی کیوں نہ آتا تو بہتر تھا کم از کم دنیا پر بوجھ تو نہ بنتا یا اس کا دل یہ سوچتا ہے کہ وہ خودکشی کرلے اور اس درد بھری دنیا سے نجات حاصل کرلے اور لوگ جو بالکل مایوس ہوجاتے ہیں وہ خودکشی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اب ہر کسی میں تو صبر اور برداشت کی قوت نہیں ہوتی ایسے عالم میں بہت سے لوگ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ہتھیار اٹھاتے ہیں اور دہشت گردی کا راستہ اپناتے ہیں اور وہ یہ سوچتے ہوئے خودکش حملے کرتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی سے ہمارا بوجھ تو کم ہو گا اور کم از کم ہمیں تو اس دنیا سے نجات مل جائے گی اور خودکش حملے کے نتیجے میں طاقتور لوگوں سے کی طرف سے ملنے والی رقم سے کچھ عرصہ تو ہمارے وارثوں کا پیٹ بھر سکے گا انہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں ان کا مارا جانا لازمی ہے اور اگر بچ گئے تو پھانسی کا پھندا ان کا مقدر ہے لیکن اب اس کے لیے زندگی اور موت بے معنی ہو جاتی ہے وہ ہر صورت میں اس بے انصاف دنیا سے چٹھکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر روز انصاف کا قتل ہوتا ہو وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کی زندگی بھی تو موت سے بدتر ہے وہ ہر روز کہاں سے اپنے بچوں کا پیٹ بھریں انہیں کہاں سے عید کے کپڑے لا کر دیں، جب ان کا بچہ کھیلنے کے لیے کسی کھلونے یا گیند کی فرمائش کرتا ہے یا ان کی بیٹی گڑیا کی فرمائش کرتی ہے تو ان کی جیب خالی ہوتی ہے اور ان کے سینے سے ایک کرب بھری آہ نکلتی ہے۔ یہ دنیا ان کے لیے بے مقصد اور بے معنی ہوجاتی ہے۔ شاید کبھی کبھی وہ یہ سوچتے ہوں کہ اللہ نے ان کے ماں باپ کے ذریعے انہیں اس دنیا میں کیوں پیدا کیا؟ نہ پیدا کرتا تو اچھا تھا یا شاید یہ سوچتے ہوں کہ ان کے ماں باپ دس بارہ نہیں صرف دو بچے ہی پیدا کرتے تو بہتر ہوتا وہ بھی پڑھ سکتے انہیں بھی اچھا روزگار مل جاتا اور وہ دہشت گرد بن کر معاشرے کا ناسور نہ بنتے اور انہیں خودکش حملے میں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گولی کا نشانہ نہ بننا پڑتا یا پھانسی کے پھندے پر جھولنا نہ پڑتا لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ کاش دنیا کے کرتا دھرتا سوچیں کہ آبادی اور وسائل میں ایک توازن پیدا ہو اور دولت کی تقسیم منصفانہ ہو تو دیشت گرد تو پیدا نہ ہوں اور دنیا میں دہشت گردی نہ ہو۔

دہشت گردی کی اقسامترميم

دنیا میں دہشت گردی مختلف طریقوں سے ہوتی اور اس کو مندرجہ ذیل اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

  • انفرادی دہشت گردی
  • اجتماعی دہشت گردی
  • مذہبی دہشت گردی
  • نظریاتی دہشت گردی
  • ریاستی دہشت گردی
  • معاشی دہشت گردی

انفرادی دہشت گردیترميم

انفرادی دہشت گردی انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔ اس سے لوگوں میں بہت ہی زیادہ خوف و ہراس اور دہشت پھیلتی ہے۔ انفرادی دہشت گردی میں ایک شخص ملوث ہوتا ہے اور وہ دہشت گردی کرتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی دہشت گرد تنظیم سے متاثر ہوتا ہے یا کسی مذہبی دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیم سے متاثر ہو کر خود ہی دہشت گردی کا فیصلہ کرتا ہے اور کسی طریقہ سے اسلحہ حاصل کرتا ہے اور کسی ہجوم میں گھس کر فائرنگ شروع کردیتا ہے اور بے گناہ افراد کو ہلاک کرتا ہے یا ایسا شخص کسی عبادت گاہ (مسجد، امام بارگاہ، مندر اور گرجا گھر) میں گھس کر گولیوں کی بوچھاڑ کردیتا ہے جس کے نتیجہ میں بہت سے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں یا ایسا شخص کسی ہوٹل یا بار (شراب خانے) یا کسی جوئے کے اڈے میں گھسنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اسلحہ کی مدد سے لوگوں کو ہلاک کرتا ہے یا ایسا شخص کسی تعلیمی ادارے، (یونیورسٹی، کالج، اسکول) میں داخل ہو کر فائرنگ کرتا ہے اور طلبہ کو ہلاک کرتا ہے یا ایسا شخص کسی مذہبی، سیاسی یا کسی اور شخصیت کو نشانہ بناتا ہے اور ہلاک کردیتا ہے۔ یا ایسا شخص کسی جہاز کو اغوا کرلیتا ہے اور اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری صورت میں دہشت گرد کسی دہشت گرد تنظیم کا فعال ممبر ہوتا ہے۔ اس کو دہشت گردی کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور دہشت گرد تنظیمیں اس دہشت گرد کو جنت کا خواب دکھا کر یا مال و دولت کا لالچ دے کر یا اس کے مذہبی جذبات کو ابھار کر اسے دہشت گردی کا مشن سونپتی ہیں اور اس سے دہشت گردی کرواتی ہیں یہ دہشت گردی خود کش حملہ کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے، جہاز اغوا کرنے کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے، کسی عبادت گاہ (مسجد، امام بارگاہ، مندر، گرجا گھر) پر حملہ کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے، کسی تعلیمی ادارہ پر حملہ کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے، سیکورٹی اداروں اور سیکورٹی ایجنسیوں کے دفاتر یا ان کے اہلکاروں پر حملہ کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے، پولیس کے دفاتر یا پولیس کے اہلکاروں پر حملہ کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے، کسی مذہبی رہنما، سیاسی شخصیت یا کسی اہم شخصیت کی ٹارگٹ کلنگ کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے۔ انفرادی دہشت گردی بہت ہی زیادہ نقصان پہنچانے والی ہوتی اس دہشت گردی بعض اوقات ایک شخص کی وجہ سے بہت سی ہلاکتیں اور بہت بی بڑی تباہی ہوجاتی ہے۔ اس دہشت گردی میں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ حملہ آور کدھر سے نمودار ہوگا۔ حملہ آور اچانک ہی نمودار پوتا ہے خون کی ہولی کھیلتا ہے اور اکثر خود بھی خودکش حملہ کی صورت میں موت کا شکار ہوجاتا ہے یا سیکورٹی اداروں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے شاذ و ناظر ہی ایسا ہوتا ہے کہ حملہ آور گرفتار ہو جائے یا فرار ہونے میں کامیاب ہوجائے۔ یورپ اور امریکا میں اگر کو ئی سفید فام مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کرے تو اسے نفسیاتی مریض قرار دے کر بات کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے اور مغربی میڈیا اس کو کم سے کم دکھاتا اور بتاتا ہے۔ اور اگر کوئی اسلام کا لبادہ اوڑھے شخص دہشت گردی کرے تو میڈیا سمیت ہر طرف ایک طوفان برپا ہوجاتا ہے۔ اور ہر زاویے سے اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کہ پوری دنیا میں قیامت آگئی ہو۔ حالانکہ دہشت گردی خواہ سفید فام مذہبی جنونی کرے یا اسلام کے پردے میں چھپا ہوا شخص کرے دہشت گرد تو دونوں ہی ہیں پھر مغرب اور امریکا کا یہ دوہرا معیار کیوں ہے؟ اپنا کوئی مذہبی جنونی دہشت گردی کرے تو اس کو نفسیاتی مریض قرار دے کر چھپائو اور بات کو ختم کر دو اور اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے کوئی دہشت گردی کرے تو اس کو خوب اچھالو اور اتنا پروپیگنڈہ کوو جیسے کہ قیامت آگئی ہو۔

اجتماعی دہشت گردیترميم

اجتماعی دہشت گردی میں کچھ لوگ یا کوئی گروہ مل کر دہشت گردی کرتے ہیں۔ اجتماعی دہشت گردی میں دہشت گرد تنظیمیں کچھ افراد کو دہشت گردی کا مشن سونپتی ہیں۔ ان افراد کو اس مشن کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور دہشت گردی کے مشن کی تکمیل کے لیے ایک سربراہ نامزد کیا جاتا ہے جس کی سربراہی میں مشن کی تکمیل کی کوشش کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے لیے ایک مکمل منصوبہ بندی کی جاتی۔ دہشت گردی کے مقام کا پہلے سے جائزہ لیا جاتا ہے اور مشن کا سربراہ تمام افراد کو ذمہ داری دیتا ہے اور پھر مقررہ وقت پر دہشت گردی کی جاتی ہے امریکا میں نو گیارہ کا واقعہ اس دہشت گردی کی بہت بڑی مثال ہے۔ اس دہشت گردی کے واقعات کچھ اس طرح ہیں، پہلے صبح 8 بج کر 46 منٹ پر سب سے پہلے 5 دہشت گردوں نے امریکن ہوابازی کا مسافر طیارہ فلائٹ -11 ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور -1 سے ٹکرا دیا ۔ اور اس کے کچھ دیر بعد 9 بج کر 30 منٹ پر ایک دوسرا طیارہ یونائٹڈ ایئر لائن فلائٹ 175 کو بھی جنوبی ٹاور -2 سے ٹکرا دیا ۔ اور اسی وقت 9 بج کر 37 منٹ پر پینٹاگان کی عمارت سے بھی پانچ ہائی جیکروں کے ہاتھوں اغوا شدہ طیارہ امریکیایئرلائنز پرواز 77 گرایا گیا ۔ مزید تھوڑی دیر بعد ایک اور طیارہ جو یونائٹڈ ایئر لائن فلائٹ 93 تھا اس کو 4 ہائی جیکروں نے وائٹ ہاؤس کی طرف لے جانے کی کوشش کی ۔ مگر شانکس ولی ، پنسلوانیا کے قریب لڑاکا طیاروں کے ذریعے اسے مار گرایا گیا ۔ یہ وقت تھا 10 بج کر 30 منٹ ۔ ان تمام حملوں میں جہازوں میں موجود تمام مسافر مارے گئے ۔ ختم ہونے سے پہلے کئی مسافروں نے اپنے اپنے موبائل سیل کے ذریعے مختلف جگہوں پر فون کر کے اطلاعات دیں ۔ ان تمام اطلاعات کو بعد میں منظم کیا گیا تا کہ اس حادثے میں ہونے والے اندرونی واقعات کو تفصیل سے جوڑا جا سکے ۔ دہشت گردی کے اس واقعہ میں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ دہشت گردی کے اس واقعہ کا ماسٹر مائنڈ خالد شیخ تھا جسے بعد میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا۔ اجتماعی دہشت گردی کے اس واقعہ کے بعد پوری دنیا میں ایک بھونچال آگیا جس کے اثرات آج بھی پوری دنیا پر قائم ہیں۔

اجتماعی دہشت گردی کا دوسرا بڑا واقعہ آرمی پبلک اسکول پشاور کا ہے۔ 16 دسمبر 2014ء کو تحریک طالبان پاکستان کے 7 دہشت گرد ایف سی (فرنٹیئر کور) کے لباس میں ملبوس پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں پچھلی طرف سے داخل ہو گئے اور ہال میں جا کر اندھا دھند فائرنگ کی اس کے بعد کمروں کا رخ کیا اور وہاں پر بچوں کو گولیاں ماریں، سربراہ ادارہ کو آگ لگائی۔ 9 اساتذہ، 3 فوجی جوانوں کو ملا کر کل 144 شہید اور 113 سے زائد زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والے 132 بچوں کی عمریں 9 سے 18 سال کے درمیان تھیں۔ پاکستانی آرمی نے 950 بچوں و اساتذہ کو اسکول سے باحفاظت نکالا۔ ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ 6 مارے گئے۔ یہ پاکستانی تاریخ کا مہلک ترین دہشت گردانہ حملہ تھا، جس نے 2007 کراچی بم دھماکا کے واقعہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ مختلف خبر رساں اداروں اور مبصرین کے مطابق، عسکریت پسندوں کی یہ کارروائی 2004 میں روس میں ہونے والے بیسلان اسکول پر حملے سے ملتی جلتی ہے۔ اس واقع نے دہشت گردی کے متعلق پاکستانی عوام کی سوچ کو ہی بدل کر رکھ دیا اور پوری پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف اکھٹی ہو گئی اور پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف مکمل جنگ کا آغاز ہو گیا جو آج بھی پاکستان میں جاری ہے اور اس جنگ میں بے شمار پاکستان کے فوجی جوان سیکورٹی اداروں کے اہلکار اور پولیس کے اہلکار اور پاکستانی عوام اور خاص طور پر ہزارہ کے لوگ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ پاکستان نے بہت حد تک دہشت گردی پر قابو پا لیا ہے لیکن اب بھی دہشت گردی کے اِکا دُکا واقعات ہوتے ہیں جن پو قابو پانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔

اجتماعی ریاستی دہشت گردی کی مثال ماڈل ٹائون کا سانحہ ہے جہاں 17 جون 2014 کو پولیس نے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سیکرٹریٹ کے باہر رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر آپریشن کیا اور علامہ طاہر القادری کے کارکنوں کو رکاوٹیں ہٹانے کو کہا علامہ طاہرالقادری کے کارکنوں نے پولیس کو ہائی کورٹ کا حکم دکھایا لیکن پولیس نے علامہ طاہر القادری کے کارکنوں کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور پولیس کی بھاری نفری نے آپریشن کا آغاز کر دیا جس کے نتیجے میں پولیس اور علامہ ظاہر القادری کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا پولیس نے علامہ طاہرالقادری کے کارکنوں پر سیدھی گولیاں چلائیں۔ اس فائرنگ سے دو خواتین سمیت چودہ افراد شہید اور سو کے قریب افراد زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کو تقریباً پانچ سال ہونے کو آئے ہیں اور سانحہ ماڈل ٹائون کے لواحقین انصاف کی تلاش میں آج بھی مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن انصاف اور عدل کا کہیں دور دور تک نہیں پتا اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس اجتماعی ریاستی دہشت گردی قتل عام کے پیچھے بہت ہی طاقت ور لوگوں کا ہاتھ ہے۔

اجتماعی ریاستی دہشت گردی کی ایک بہت بڑی مثال کشمیر ہے جہاں بھارت کی سات لاکھ فوج مل کر دہشت گردی کر رہی ہے اب تک ہزاروں کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔ ہزاروں مائوں کے بچے ان سے چھین لیے گئے ہیں، ہزاروں عورتیں بیوہ ہو چکی ہیں اور ہزاروں بچے یتیم ہو چکے ہیں، سینکڑوں کشمیری بھارتی فوجیوں کی پیلٹ گنز کی گولیوں کا نشانہ بن کر معذور ہوچکے ہیں اور معلوم نہیں کتنی کشمیری خواتین اپنی عزتیں لٹا چکی ہیں لیکن بھارت کی سات لاکھ فوج کی یہ اجتماعی ریاستی دہشت گردی کسی طرح بھی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور خود کو سپرپاورز کہلانے والے ممالک نے بھارت کی اس اجتماعی ریاستی دہشت گردی پر چپ کا روزہ رکھ لیا ہے اور کشمیریوں پر ہونے والے اس ظلم ستم اور اجتماعی دہشت گردی پر زبانوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں اور بھارت کے اس ظلم ستم پر کوئی آواز نہیں اٹھاتا ہے اور کشمیری بھارت کی اس اجتماعی دہشت گردی اور ظلم و ستم کا عرصہ دراز سے مقابلہ کر رہے ہیں۔

اجتماعی دہشت گردی کی ایک اور صورت یہ ہوتی ہے کہ کچھ لوگ یا ایک بڑا ہجوم یا گروہ اپنی اکثریت اور طاقت کے بل بوتے پر کسی فرد یا کچھ لوگوں کو جو اقلیت میں ہوتے ہیں اور کمزور ہوتے ہیں پر حملہ کرتا انہیں قتل کرتا ہے، ان کے مال کو لوٹ لیتا ہے، ان کے مکانات، ان کی جائداد اور ان کے کھیتوں کو آگ لگا دیتا ہے اور اس طرح لوٹ مار، قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور ہر طرف فسادات پھوٹ پڑتے ہیں۔ اس قسم کی دہشت گردی پوری دنیا میں ہوتی ہے لیکن بھارت میں اس قسم کی دہشت گردی بہت ہی عام ہے۔اور بھارت میں کوئی اقلیت خواہ وہ سکھ ہوں، مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا ان کی اپنی ہندو برادری کے شودر ہوں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہیں۔اس قسم کی دہشت گردی عموما کسی بھی واقعہ یا سانحہ کے نتیجہ میں ہونے والے فسادات کی وجہ سے ہوتی ہے دنیا میں جہاں کہیں بھی فسادات اور دنگے ہوتے ہیں وہاں اس قسم کی دہشت گردی ہوتی ہے۔ مسلمانوں میں اکثر شیعہ طبقہ اس قسم کی دہشت گردی کا شکار بنتا ہے۔

بھارت میں 1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دو سکھ محافظوں کے قتل کے بعد فسادات پھوٹ پڑے اور ہر طرف ہجوم اور گروہ سیاسی اور پولیس کی پشت پناہی کے ساتھ سکھوں کو تلاش کر رہے تھے، انہیں قتل کر رہے تھے، انہیں لوٹ رہے تھے اور ان کی جائداد اور املاک کو آگ لگا رہے تھے ہر طرف آہوں، سسکیوں اور چیخوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، ننھے بچوں کے رونے اور بلکنے کی آوازوں سے دل دہل رہے تھے لیکن ہر طرف قتل و غارت گری اور دہشت گردی کا بازار گرم تھا ان فسادات میں تین ہزار کے قریب بے گناہ افراد دہشت گردی سے قتل ہو گئے لیکن ایک طرف انسان مرتے رہے اور دوسری طرف انسانیت سوتی رہی یہ بے حسی اور نفرت کی انتہا تھی۔

بھاگل پور میں ہندو مسلم فسادات ہوئے، لال کرشن اڈوانی کی رام جنم بھومی تحریک اور بابری مسجد کے انہدام کے بعد فسادات ہوئے جن میں ہزاروں مسلمان مارے گئے، ممبئی میں 1992 اور 1993 کے فسادات میں ایک ہزار مسلمانوں کا قتل ہوا اور 2002 میں گجرات میں فسادات میں ایک ہزار مسلمان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے اور آج کے بھارت کے وزیر اعظم مودی ان فسادات میں ملوث تھے اس وقت کی گجرات کی مودی سرکار نے ہندوئوں کی بھرپور مدد کی اور اس طرح تفتیش کرائی کے قاتل قانون سے بچ نکلے اور ان کو سزا نہ ہوئی۔

جھنگ میں 22 فروری 1990 کو مولانا حق نواز جھنگوی کا قتل ہوا جس کے بعد جھنگ میں فسادات پھوٹ پڑے اور سپاہ صحابہ کے کارکنوں نے جھنگ میں شیعہ برادری کا قتل عام کیا ان کے گھروں کو لوٹ لیا گیا، ان کی املاک کو آگ لگائی گئی۔ جھنگ کے فسادات کے اثرات پورے پاکستان میں پھیلے اور چن چن کر شیعہ علما اور شیعوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی آج بھی شیعہ پاکستان میں محفوظ نہیں ہیں ان کو حضرت علی علیہ السلام اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے جرم میں قتل کیا جاتا ہے۔ شیعوں کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں۔ شیعوں کی محبت ہی ان کا جرم ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں شیعوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ اور شیعہ ہزارہ برادری سب سے زیادہ اس کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔

مذہبی دہشت گردیترميم

دنیا میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ اگر دنیا کے مذاہب کا مطالعہ کیا جائے تو کوئی مذہب بھی دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا دنیا کے تمام مذاہب نے امن، محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دی ہے۔ اس لیے دہشت گردی کو کسی مذہب سے منسوب کرنا بالکل غلط بات ہے۔ کیونکہ اگر کوئی عیسائی مسلمانوں کی مسجد میں گھس کر 50 مسلمانوں کو شہید کر دے (جیسا کہ نیوزی لینڈ میں کرائس چرچ کی مسجد میں ہوا) تو کیا اس کو عیسائی دہشت گردی کہا جائے گا؟ نہیں بالکل بھی نہیں اسی طرح جرمن کے ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کیا تو کیا یہ عیسائی دہشت گردی ہو گی؟ بالکل نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی یہودی یا یہودی ریاست مسلمانوں یا عیسائیوں کو قتل کرے جیسا کہ اسرائیل فلسطین میں بے گناہ مسلمانوں کو جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں قتل کررہا ہے تو کیا یہ یہودی دہشت گردی ہو گی؟ نہیں بالکل بھی نہیں یہ یہودی دہشت گردی نہیں ہوگی۔ اسی طرح ہندو مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں کو اور دیگر اقلیتوں کو قتل کریں جیساکہ بھارت کی سات لاکھ فوج کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہے یا گائو ماتا کے نام پر مسلمانوں کو قتل کر دیا جاتا ہے یا سکھوں کا قتل عام ہوا، غرض بھارت میں کوئی اقلیت محفوظ نہیں ہے) تو کیا یہ ہندو دہشت گردی کہلائے گی؟ نہیں بالکل بھی نہیں اسی طرح جب بدھ مت کے ماننے والے برما میں مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں تو کیا یہ بدھشت دہشت گردی کہلائے گی؟ نہیں بالکل نہیں، اسی طرح جب کوئی مسلمان عیسائیوں، یہودیوں یا ہندوئوں کو قتل کرتا ہے تو پھر اسے اسلامی دہشت گردی کیوں کہا جاتا ہے؟ اور مغربی میڈیا اور امریکی میڈیا کیوں زور و شور سے اسلامی دہشت گردی کا پروپیگنڈہ کرتا ہےِ؟ اسی طرح جب عیسائی، یہودی، یندو اور بدھ مت کے ماننے والے دہشت گردی سے ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں تو اسے بھی عیسائی، یہودی، ہندو اور بدھشت دہشت گردی کہنا چاہیے، لیکن ایسا نہیں کہا جاتا۔

اسلام سے خوفزدہ مغربی میڈیا کے اس دوہرے معیار پر صرف ماتم کرنے کا ہی جی کرتا ہے۔ دنیا میں جو لوگ دہشت گردی کرتے ہیں ان کا تعلق کسی بھی مذہب، کسی بھی قوم، کسی بھی معاشرے سے ہو سکتا ہے اور ہر مذہب، قوم اور معاشرے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کا عمل کسی بھی مذہب سے جوڑ دینا انتہائی غلط ہے۔ ہر مذہب کے برے لوگ خود کو مذہب کی آڑ یا مذہب کے پردے میں چھپا کر دہشت گردی کرتے ہیں اور مذہب خوامخواہ میں بدنام ہوتا ہے۔ مذہب جس کا کوئی قصور نہیں ہوتا اس کو دہشت گردی کے لیے انتہائی غلط طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے پردے میں دہشت گردی کی جاتی ہے۔ اسلام میں برے لوگوں نے جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے نے اسلام کے نام پر اتنا عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوئوں کو نہیں مارا جتنا کہ پر امن مسلمانوں کو مارا ہے تو انصاف سے بتائیں ان مسلمانوں کا جو اسلام کے پردے میں چھپے ہوئے ہیں کا پرامن اور بے گناہ مسلمانوں کو مارنا اسلامی دہشت گردی کہلائے گا؟ وہ دہشت گرد جنہیں خود مغرب اور امریکا نے پیدا کیا کیسے اسلامی دہشت گرد ہوسکتے ہیں؟۔ سوچیے کیا طالبان کو امریکا نے پیدا نہیں کیا؟ کیا داعش امریکا کی پیداوار نہیں ہےِ؟ طالبان اور داعش کو ہتھیار کہاں سے ملے؟ اور انہیں کس نے مضبوط کیا؟ یہ بھی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے؟ یہاں ہنری کلنٹن کا بیان بہت ہی اہمیت کا حامل ہے کہ طالبان کو ہم نے سپورٹ کیا۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ کیا اسامہ بن لادن کا تعلق امریکی سی آئی اے سے نہیں تھا۔ کیا امریکا طالبان اور داعش کی پشت پناہی نہیں کرتا رہا ہے جو پرامن اور بے گناہ مسلمانوں کا ہی قتل عام کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں یقیناْ پرامن مسلمانوں کو مارے والوں کا تعلق نسل یزید، اس کے حواریوں کی نسل اور ان منافیقین کی نسل سے ہے جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں بھی اسلام کی مخالفت کرتے تھے۔ اور اسلام کی جڑیں کاٹتے تھے۔ جن کا مقابلہ حضرت علی علیہ السلام نے کیا اور جن کے خلاف حضرت امام حسین علیہ السلام نے قیام کیا اور جنہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو ظلم، جبر اور دہشت گردی سے شہید کر دیا۔ جو آج بھی پرامن اور بے گناہ مسلمانوں کو دہشت گردی سے قتل کر رہے ہیں اب اگر سب باتوں کے تانے بانے بُنیں جائیں اور باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ اسلام کے خلاف ایک گہری عالمی سازش نظر آتی ہے یہ مسلمانوں کے لیے سوچنے کا مقام اور لمحہ فکر ہے۔

بقول شاعر

ہے منتظرین مہدی(ع) سے گزارش

کردار کی طاقت سے زمانے کو ہلا دو

تم چودہ معصومین(ع) کے کردار کے امیں ہو

خوابیدہ لوگوں کے ذہنوں کو جگا دو

سمجھو کی یزید اب بھی طلبگارِ بیعت یے

تم انکارِ بیعت سے سر اس کا جھکا دو

موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر

ہر عزا خانے کو ماتمِ حسین(ع) سے سجا دو


جب تک انسانوں کے ذہن میں ظلم، جبر اور دہشت گردی کے خلاف حضرت امام حسین علیہ السلام اور چودہ معصومین علیہ السلام والا کردار پیدا نہیں ہو گا دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ ناممکن ہے کیونکہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور چودہ معصومین علیہ السلام کا ہی وہ اعلیٰ اور ارفع کردار دنیا میں موجود ہے جسے یزیدی دہشت گردوں کے خوف سے چھپایا جاتا ہے کہ یہ پاک اور مقدس ہستیاں ہمیشہ ظلم، جبر اور دہشت گردی کے خلاف ڈٹ گئیں اور کبھی بھی ظلم جبر اور دہشت گردی کے آگے سر نہیں جھکایا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنا سر تو کٹا دیا لیکن ظلم، جبر اور دہشت گردی کے سامنے اپنے سر کو کبھی نہیں جھکایا اور میدان کربلا میں وہ اعلیٰ اور مثالی کردار پیش کیا اور پوری دنیا کو بتایا کی اصل اسلام یہ ہے کہ ظلم، جبر اور دہشت گردی کے خلاف ڈٹ جائو کربلا کا ایک ایک شیہد اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ آواز بلند کر رہا ہے کہ اسلام ایک پر امن اور محبت کرنے والا دین ہے مغربی میڈیا اور امریکا کو اگر اسلام کا صحیح چہرہ دیکھنا ہے تو انہیں میدان کربلا کے ایک ایک شیہد کے کردار کا جائزہ لینا ہو گا۔ انہیں وفا سیکھنی ہے تو حضرت عباس علیہ السلام کا کردار دیکھنا ہو گا جنہوں نے اپنے شانے کٹا کر اور اپنی جان قربان کر کے وفا نبھائی، ظلم اور دہشت گردی کے خلاف جان قربان کرتے دیکھنا ہے تو حضرت علی اکبر علیہ کو سینے پر برچھی کھا کر اپنی جان قربان کرتے ددیکھنا ہو گا، اگر کسی کو اسلام اور چچا پر جان نچھاور کرتے دیکھنا ہے تو انہیں حضرت قاسم علیہ السلام کے بدن کے ٹکڑوں دیکھنا ہو گا کہ جن کا بدن ظلم اور دہشت گردی سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا،۔ اگر دوستی نبھاتے دیکھنا ہے تو حضرت حبیب ابن مظاہرؒ کی شہادت کو دیکھنا ہوگا، اگر کالے اور گورے کے فرق کو ختم ہوتے دیکھنا ہے تو حضرت جون کی شہادت کو دیکھنا ہوگا، اگر ظلم اور دہشت گردی کی شکست کو دیکھنا ہے تو تین دن کے بھوکے پیاسے خشک گلے والے چھ ماہ کے حضرت علی اصغر علیہ السلام کے ظالم دہشت گرد حرملہ کے تین نوکیلے پھل والے تیر کو کھا کر مسکراتے ہوئے اپنی جان کو قربان کرتے دیکھنا ہوگا،(حضرت علی اصغر علیہ السلام کی مسکراہٹ نے ہی یزیدی دہشت گردوں کو شکست دے دی تھی)، اگر ظلم، جبر اور دہشت گردی کے سامنے صبر کی انتہا کو دیکھنا ہے تو تین دن کے بھوکے پیاسے، اپنے پیاروں، اپنے شہیدوں کے لاشوں کو سارا دن اٹھا کر لانے والے حضرت امام حسین علیہ السلام کی یزیدی ظالموں اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو دیکھنا ہو گا، جنہوں نے سینکڑوں، تیر، نیزوں اور بھالوں کے زخم سہے اور ظالم شمر کی چھری اپنے گلے پر چلتے دیکھتے رہے لیکن دہشت گردوں کے سامنے اپنا سر نہیں جھکایا۔ کربلا کا ایک ایک شہید کردار کی وہ اعلیٰ مثال ہے جس نے ظلم اور دہشت گردی کا مقابلہ گمراہ اکثریت سے کیا یہ دہشت گرد ہزاروں کی تعداد میں تھے اور ریاستی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے صرف بہتر شہید تھے اور بچ جانے والے بیمار حضرت زین العابدین، بھائی کی نبض شناس بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہ، خواتین اور بچے شامل تھے، اسی طرح چودہ معصومین کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے ہر ایک کردار کے اس اعلیٰ مقام پر فائز نظر آتا ہے جس میں لوگ کوشش کے باوجود کوئی کمی تلاش نہیں کرسکے، یہ ہے اسلام کا وہ اعلیٰ کردار والا پرامن چہرہ اس چہرے کو مغرب، امریکا اور مغربی میڈیا سامنے کیوں نہیں لاتا۔ وہ نسل یزید اس کے حواریوں کی نسل اور منافقین کی نسل کے لوگوں کو اسلام کہتا ہے جن کا اسلام اور اسلام کی تعلیمات سے دور کا بھی تعلق نہیں دنیا کو معلوم ہونا چاہیے۔ یہ کل بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن تھے اور آج بھی ان کے اور ان کی آل کے دشمن ہیں۔ یہ ظالم لوگ کل بھی دہشت گرد تھے اور آج بھی دہشت گرد ہیں۔ یہ کل بھی بے رحم تھے اور آج بھی بے رحم ہیں۔ یہ اسلام کے اندر گھس کر اسلام کی جڑیں کل بھی کاٹتے تھے اور آج بھی کاٹ رہے ہیں ان کی وجہ سے اسلام کا اصلی، پرامن، سچا محبت کرنے والا اور اعلیٰ کردار والا چہرہ دنیا کو نظر نہیں آتا۔ افسوس کہ مسلمانوں کو بھی یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اسلام کے ان اعلیٰ کردار والے لوگوں کو دنیا کے سامنے پیش کریں کیونکہ مسلمان کل بھی یزید اور اس کے دہشت گردوں کے خوف سے گھروں میں چھپ کر بیٹھ گئے تھے اور امام حسین علیہ السلام کا ساتھ نہیں دیا تھا اور آج بھی نسل یزید کے دہشت گردوں کے خوف اور دہشت کی وجہ سے اسلام کی سچائی اور حقیقت کو بیان کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ لیکن کوئی بھی آل محمد صلیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بے داغ کردار کو پیش نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ اسلام اور مسلمان چاروں طرف سے طاغوت اور طاغوتی قوتوں کے نرغے میں ہیں اور اسلام کے مخالف اور دشمن ہر طرف سے اسلام پر وار کر رہے ہیں اور مسلمان کچھ بھی نہیں کر سکتے اس کی اس وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے آل محمد کو چھوڑ دیا اور اپنے جیسوں کی پیروی میں لگ گئے۔اور اسلام کے زوال کا سب سے بڑا سبب یہی ہے۔ تمام مسلمان جس مقدس اور پاک شخصیت کی خلافت پر متفق ہیں وہ حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ دنیا کے تمام مسلمان حضرت علی علیہ السلام کو متفقہ طور پر خلیفہ مانتے ہیں جبکہ یہ ایک حقیقت ہے اور یہی سچ ہے کے دوسرے ناموں پر اختلاف پایا جاتا ہے تو مسلمانوں تم حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کو سچے دل سے تسلیم کر لو تم دیکھو گے کہ تم پر آسمان سے اللہ کی رحمتیں نازل ہوں گی اور زمین کے خزانے ابل پڑیں گے اور دہشت گردی کا دجود دنیا سے مٹ جائے گا کیونکہ حضرت علی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے ہیں تمہارے چنے ہوئے تمہارے جیسے نہیں ہیں۔ ولایت حضرت علی علیہ السلام کو سچے دل سے تسلیم کرنے سے مسلمانوں تم میں اتحاد قائم ہوجائے گا اور منافیقین بھی بے نقاب ہو جائیں گے۔ کیونکہ دور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی مسلمان منافیقین کی پہچان حضرت علی علیہ السلام کے ذریعے ہی کرتے تھے۔

نظریاتی دہشت گردیترميم

جب کسی انسان کی سوچ اور نظریہ میں تشدد، انتہا پسندی، جبر یا کسی ہتھیار کے زور پر اپنی بات اور اپنے نظریہ کو منوانے کا عنصر پیدا ہوجائے تو اس کو نظریاتی دہشت گردی کہا جائے گا۔ انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے دنیا میں بے شمار نظریات نے جنم لیا ہے۔ مذہبی نظریات میں اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندو، سکھ، بدھ مت، جین مت اور دیگر کئی مذہبی نظریات شامل اسی طرح بت پرست، شرک، ستارا پرستی، دہریت، آگ کی پوجا، دیوتائوں کی پوجا، گائے کی پوجا، سورج کی پوجا، سانپ کی پوجا، بندر کی پوجا، اللہ کی واحدانیت سے انکار، اللہ کے وجود سے انکار اور دیگر کئی نظریات شامل ہیں۔ اسی طرح دنیاوی نظریات جن میں آمریت، جمہوریت، کیمونسٹ،شوشلسٹ سیکولر، لبرل ازم اور دیگر کئی نظریات شامل ہیں ان سب نظریات میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جب تک لوگ اپنے اپنے نظریات کو دلیل کے ساتھ پر امن طریقے سے تبلیغ کے ذریعے اور ایک دوسرے کے اختلاف کو برداشت کرتے ہوئے پھیلاتے ہیں تو مسائل جنم نہیں لیتے لیکن جب لوگ اپنے نظریات کو پھیلانے کے لیے اور اپنی بات کو منوانے کے لیے جبر، تشدد، ظلم اور اسلحہ کو راستہ استعمال کرنے کا راستہ اپناتے ہیں تو دہشت گردی کا راستہ کھل جاتا ہے اور نظریاتی دہشت گردی شروع ہوجاتی ہے۔

قرآن مجید میں سورۃ بقرہ کی آیت 256 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ:

ترجمہ: دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔[13]

اسی طرح سورۃ کافرون میں ارشاد خدا وندی ہے۔

بِسْمِ اللهِ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

قُلْ یَاأَیُّھَاالْکَافِرُونَ ﴿1﴾ لاَ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿2﴾ وَلاَ أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿3﴾

(اے رسول)کہہ دو کافرو سے میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرتے ہوجسکی میں عبادت کرتا ہوں اور نہ میں اس کی عبادت

وَلاَأَنَا عَابِدٌ مَاعَبَدْتُمْ ﴿4﴾ وَلاَأَنْتُمْ عَابِدُونَ مَاأَعْبُدُ ﴿5﴾ لَکُمْ دِینُکُمْ وَلِیَ دِینِ ﴿6﴾

کرنے والا ہوں جس کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں تمہارے لیے تمہارادین اور میرے لیے میرا دین ہے[14]


قرآن مجید کی سورۃ بقرہ کی آیت نمبر256 سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جبر سے کسی کو بھی کسی دین میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں امتحان اور آزمائش کے لیے بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو راستے بتائے ہیں ایک ہدایت کا راستہ جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جاتا ہے اور اللہ کے قریب کرتا ہے اور دوسرا راستہ گمراہی کا راستہ ہے جو انسان کو شیطان کی طرف لے جاتا ہے اور شیطان کے قریب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ان راستوں کی نشان دہی انبیاء علیہ السلام، امام علیہ السلام، ولیوں اور اپنے نیک بندوں کے ذریعے کی ہے۔ اور فیصلہ انسان کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ کون سا راستہ اپناتا ہے ہدایت کا راستہ یا گمراہی کا راستہ یہی انسان کی آزمائش اور امتحان ہے اگر انسان اس امتحاں میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے انعام میں جنت ملے گی اور اگر انسان اس امتحان میں ناکام ہوجاتا ہے تو اسے سزا میں جہنم ملے گی۔ اب یہ انسان کے اوپر ہے کہ وہ سچائی، ایمانداری، صبر، برداشت، محبت، امن، بھائی چارے کا راستہ اپنائے اور اس کے صلہ میں جنت پائے یا تشدد، جبر، ظلم، بربریت، ناانصافی، عدم برداشت، قتل و غارت گری، فساد، شر اور دہشت گردی کا راستہ اپنائے اور جہنم کی سزا کا مستحق ٹہرے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ سورۃ الکافرون میں ارشاد فرماتا ہے (اے رسول) کہہ دو کافروں سے میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کافروں سے کہہ دو میں تمہارے ان بتوں کو نہیں پوجتا ہوں جن کو تم پوجتے ہو اور نہ ہی تم اس کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں یعنی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو لیکن تم اس اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ ہی میں اس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم عبادت کرتے ہو یعنی نہ ہی میں تہمارے کہنے سے جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو عبادت کرنے والا ہوں۔ اور نہ ہی تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں یعنی تم میرے کہنے سے اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نہیں ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔ یعنی تمہیں اختیار ہے کہ تم جو مرضی دین اور راستہ اختیار کرو اور مجھے یہ اختیار ہے کہ میں جو مرضی دین راستہ اختیار کروں۔

سورۃ الکافرون میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کافروں کے دین کی وضاحت کی گئی کہ کافروں کا کیا دین تھا اور رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کس دین کو اپنائے ہوئے تھے اور اپنی مرضی اور اختیار سے اپنے دین پر چل رہے تھے یعنی سورۃ الکافرون یہ پکار پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے یعنی لوگوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ جو مرضی چاہے دین اختیار کریں انہیں مکمل آزادی ہے لیکن دوسری طرف کافر رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وصلم کو لالچ دے ہے تھے کہ انہیں جائداد کی ضرورت ہے تو وہ انہیں جائداد فراہم کر دیں گے یا مال کی ضرورت ہے تو انہیں مال فراہم کر دیں گے یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی خوبصورت عورت سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو وہ (کافر) ان کی شادی کروا دیں گے پس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا دین چھوڑ دیں اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو انجام کے ذمہ دار ہوں گے یعنی کافر لالچ، دھونس دھمکی اور جبر سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا دین چھوڑنے پر مجبور کر رہے تھے اب انصاف سے سوچیں کہ یہ کھلی نظریاتی دہشت گردی نہیں تو اور کیا تھا بالکل یہ ایک کھلی ہوئی دہشت گردی تھی جو کافروں کی طرف سے کی جارہی تھی لیکن اللہ کے رسول ان سب باتوں کو انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کر رہے تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو طاقت بخشی تو یہی کافر مقابلے کی سکت نہ پا کر اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوئے اللہ کے رسول نے انہیں جبر سے اسلام قبول کرنے اور ان کا نظریہ اور دین بدلنے پر بالکل بھی مجبور نہیں کیا۔ یہی کافر اور منافق انتقام کی آگ میں جلتے رہے اور وقت کا انتظار کرتے رہے کہ اسلام کی جڑوں کو اسلام کے اندر رہ کر کیسے کمزور کیا جائے اور اسلام کی پر امن، محبت اور بھائی چارے والی تعلیمات کو کیسے تبدیل کیا جائے اور دوبارہ جبر و تشدد اور دہشت کیسے مسلط کی جائے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافروں، مشرکین، یہودیوں اور عیسائیوں سے جو جنگیں لڑنا پڑیں وہ ان پر مسلط کی گئیں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام جنگیں اپنے دفاع میں لڑیں اور اسلام کو دنیا میں تبلیغ سے پھیلایا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا سے بظاہر رخصت ہوتے ہی اسلام کی پر امن تعلیمات میں آہستہ آہستہ تبدیلی کا عمل شروع ہوا اور جنگیں اپنے دفاع میں لڑنے کی بجائے ملکوں کو فتح کرنے کی طرف مڑ گئیں اور تبلیغ کا عمل سست روی کا شکار ہو گیا اور وہ کافر جنہوں نے فتح مکہ کے وقت مجبوراْ اسلام قبول کیا تھا۔ (کیونکہ کافروں کے پاس اسلام قبول کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا۔) اب اسلام میں موجود منافیقن نے موقع غنیمت جان کر اسلام کی پر امن، محبت اور بھائی چارے والی تعلیمات پر کاری ضرب لگانا شروع کر دی اور اسلام کی تعلیمات کو مسخ کرنا شروع کر دیا۔ حضرت علی علیہ السلام کو اسلام کے لبادے میں چھپے ہوئے ان لوگوں اور منافیقن کے خلاف سخت ترین جد و جہد کرنا پڑی اور یہاں تک کہ حضرت علی علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا اور پھر وہ بدترین وقت آ گیا کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو میدان کربلا مین ظلم جبر اور دہشت گردی سے شہید کر دیا گیااور مسلمان اور امت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یزید کی دہشت اور خوف سے گھروں میں چھپ کر بیٹھ گئے اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی مدد نہ کی۔ یہ ان ہی دہشت گردوں کی اولادیں ہیں جو آج بھی دہشت گردی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں اور نہ صرف دنیا کے مذاہب کے دیگر لوگوں کو دہشت گردی سے قتل کر رہی ہیں بلکہ بے گناہ مسلمانوں کو دہشت گردی سے قتل کر رہی ہیں اور مسلمان ان دہشت گردوں کے خوف اور دہشت سے زبانیں نہیں کھولتے ان کی زبانوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں مسلمانوں کو سب علم ہے کہ اسلام اور اس کی پر امن تعلیمات کے ساتھ کیا کھیل کھیلا گیا۔ مسلمانوں کو سب علم ہے کہ رسول کے بعد آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ آل محمد کو کس کس طرح ستایا گیا۔ یہ سب کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سنا ہے۔ مسلمان ان دہشت گردوں کے خوف اور دہشت کی وجہ سے اپنی زبانیں نہیں کھولتے اور دنیا کو سچ نہیں بتاتے۔ مسلمانوں نے اپنی آنکھوں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہونے والے ظلم کو دیکھا ہے لیکن انہوں نے ان یزیدی دہشت گردوں کے خوف اور دہشت سے اپنی آنکھیں بند کر لیں ہیں، مسلمانوں نے آل محمد پر ہونے والے ظلم و ستم کو اپنے کانوں سے سنا ہے لیکن انہوں ان دہشت گردوں کے خوف اور دہشت سے اپنے کان بند کر رکھے ہیں گویا کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہیں یہ نظریاتی دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے کہ سچائی پر خوف و دہشت کی وجہ سے پردہ ڈالا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو سامنے نہیں لایا جاتا جنہوں نے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چٹان کی طرح ان ظالموں کے خلاف ڈٹے رہے اور ان کے ظلم و ستم برداشت اور صبر کی انتہا تک سہتے رہے تاکہ اسلام کی کشتی کو جس نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے ڈوبنے سے بچایا جا سکے۔ آج بھی پوری دنیا میں آل محمد کے ماننے والوں کو دنیا میں ہر جگہ اور ہر مقام پر قتل کیا جاتا ہے لیکن انسانیت کے لب خاموش ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہ کی تپتی دھوپ میں قبر کا نشان چیخ چیخ کر آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہونے والے ظلم و ستم کی کہانی سنا رہاہے۔ لیکن کوئی اس نظریاتی دہشت گردی کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا۔

ریاستی دہشت گردیترميم

کسی ریاست کا اپنے زیر قبضہ علاقہ میں پر امن لوگوں پر ظلم، تشدد، کرنا ان پر لاٹھی چارج کرنا، مارنا پیٹنا اور انہیں ہلاک کردینا ریاستی دہشت گردی کہلاتا ہے۔ پوری دنیا میں عوام کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے اور لوگ دھرنا کی صورت میں، جلسے، جلوسوں کی صورت میں احتجاج کرتے ہے۔ جب تک یہ احتجاج پرامن رہے ریاست کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ ان پر امن لوگوں پر جبر و تشدد کرے، ان پر لاٹھی چارج کرے، ان پر آنسو گیس کے شیل پھینکے اور ان پر گولیاں چلائے لیکن اگر یہ احتجاج تشدد، جلائو گھیرائو، پتھرائو، سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ مار پیٹ کی صورت اختیار کر لے تو پھر ریاست کو اپنی رٹ قائم کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور اس صورت میں ریاست طاقت کا استعمال کر سکتی ہے۔

ریاستی دہشت گردی کئی طرح سے ہوسکتی ہے حکمران جماعت یا حکومت اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے مخالفین اور اپوزیشن کو دبانے کے لیے انہیں ناجائز طور پر گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیتی ہے ان پر تشدد کرتی ہے اور سیاسی رہنماؤں کو قتل کروا دیتی ہے ان کے دھرنوں، جلسے، جلوسوں، ریلیوں کو طاقت کے بل پر روکتی ہے اور ان کو جلسے، جلوسوں اور ریلیوں میں شرکت کرنے سے روکتی ہے اور رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے تو یہ ریاستی دہشت گردی ہوتی ہے۔ ماڈل ٹائون لاہور کا سانحہ اس دہشت گردی کی بہت بڑی مثال ہے جہاں دو خواتین سمیت چودہ افراد کو دن دہاڑے پنجاب حکومت کے بڑوں کے اشارے پر پولیس نے ہلاک کر دیا اس سانحہ میں 100 کے قریب افراد ذخمی بھی ہوئے لیکن ماڈل ٹائوں سانحہ کے لواحیقین کو اب تک انصاف نہ مل سکا اور قاتل اب بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔

سرکاری ملازمین، کسان یا عوام الناس کا کوئی اور طبقہ اپنے جائز مطالبات کے لیے پر امن احتجاج کرتا ہے اور لوگ اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے دھرنا دیتے ہیں یا ریلی نکالتے ہیں تو اس صورت حال میں حکومت عدم برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے اور پر امن لوگوں کے احتجاج کو ختم کروانے کے لیے پر امن لوگوں پر لاٹھی چارج کرتی ہے، واٹر کینن کا استعمال کرتی ہے، ربڑ کی گولیاں استعمال کرتی ہے، آنسو گیس کے شیل پھینکتی ہے اور پر امن لوگوں پر پر گولیاں چلاتی ہے تو یہ ریاستی دہشت گردی کہلاتی ہے۔

دنیا میں بہت سے ممالک ہیں جنہوں آزادی حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ جد و جہد کی لیکن ان ممالک کی عوام کو اس جد و جہد کے نتیجہ میں ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا اور دنیا میں بے شمار لوگ آزادی کی جدوجہد میں ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گئے۔

برطانیہ کی ریاستی دہشت گردیترميم

امریکا نے برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے لیے 7 جون 1776 کو رچرڈ ہنری نے براعظمی کانگریس میں کہا کہ ” متحدہ نو آبادیات کو آزاد اور خود مختار رہنے کا حق حاصل ہے“ 2 جولائی کو یہ قرارداد منظور کرلی گئی اور 4 جولائی اعلانِ خود مختاری (Declaration of Independence) پر دستخط کر دیے گئے۔ 4 جولائی 1776 کو جن 56 افراد نے اعلان آزادی پر دستخط کیے ان حریت پسند وں کو نو آبادیات پر پر قابض برطانیہ کی طرف سے بد ترین ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ دستخط کرنے والے پانچ افراد کو برطانوی قابض افواج نے گرفتار کر کے غداری کے الزام میں اتنے ظالمانہ تشدد نشانہ بنایا کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، بارہ انقلابیوں کے گھر تباہ و برباد کر کے نذر آتش کردیے گئے، ایک انقلابی کے دو بیٹے گرفتار کر کے غائب کردیے گئے،ان 56 انقلابیوں میں سے 9 نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور انقلاب کی اذیت ناک تکالیف اور زخموں سے ہلاک ہو گئے، ورجینیا کے ایک خوشحال اور مال دار تاجر کے بحری جہاز کو برطانوی بحریہ قبضہ کر کے لے گئی اس تاجر نے اپنا گھر اور جائداد بیچ کر اپنے قرضے ادا کیے اور انتہائی مفلسی کی موت قبول کی، ایک اور انقلابی تھامس میک کین (Mckean) کا برطانوی فوج نے اس قدر پیچھا کیا کہ اسے بار بار اپنی سکونت تبدیل کرنی پڑی اور اپنے خاندان کو ادھر ادھر منتقل کرنا پڑا۔ وہ کانگریس میں بغیر تنخواہ کام کرتا رہا۔ اس کی فیملی مسلسل روپوشی کے عالم میں رہی۔ اس کا سارا اسباب خانہ لوٹ لیا گیا۔ اور اس کو بقیہ عمر ناداری کے عالم میں گزارنی پڑی، برطانوی فوج کے سپاہیوں اور لٹیرے رضاکاروں نے ولیم ایلری (Welliam Ellery) لائمن ہال (Lyman Hall) جارج کلائمر (George Clymer) جارج والٹن (George Walton) بٹن گوئینٹ (Button Gwinnet)تھامس ہیورڈ جونیئر (Thomas Heyward Jr.) ایڈورڈ رٹلیج (Edward Rutledge) اور آرتھر مڈلٹن (Arthur Middleton) کی تمام جائیدادیں لوٹ کر تباہ و برباد کر دیں، یارک ٹائون کے معرکہ میں تھامس نیلسن (Thomas Nelson) نے نوٹ کیا کہ برطانوی جنرل کارنوالس نے نیلسن کے گھر پر قبضہ کر کے اسے اپنا ہیڈکوارٹر بنا لیا ہے۔ اس نے خاموشی سے انقلاب کے جنرل واشنگٹن کو مشورہ دیا کہ اس کا گھر گولہ باری سے اڑا دیا جائے۔ گھر تباہ ہو گیا اور نیلسن قلاش ہو کر مرا، فرانسیس لیوس (Fracis Lewis) کا گھر تباہ کر دیا گیا اور اس کی بیوی کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ جہاں وہ چند ماہ بعد خالق حقیقی سے جا ملی۔ جان ہارٹ (John Hart) کو اس کی بیوی کے بستر مرگ سے جدا کر دیا گیا۔ اس کے 13 بچے اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ گئے، جان ہارٹ کے کھیت اور اس کی آٹا پیسنے کی مل تباہ و برباد کر دی گئی۔ ایک سال تک وہ جنگلوں اور غاروں میں چھپا پھرتا رہا اور جب وہ گھر واپس آیا تو اس کی بیوی مرچکی تھی اور بچے نہ معلوم کہاں چلے گئے تھے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد وہ خود بھی نہایت دل شکستگی کے عالم میں فوت ہو گیا، رابرٹ مورس (Robert Moriss) اور فلپ لیونگ سٹون (Philip Levingstone) کو بھی اسی نوع کے حالات سے گزرنا پڑا، 22 ستمبر 1776ء کو برطانوی افواج نے تحریک آزادی کے ایک رہنما ناتھن ھیل (Nathan Hale)کو جاسوسی کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مرنے سے پہلے اس کی زبان سے یہ تاریخی الفاظ ادا ہوئے:”مجھے افسوس ہے کہ وطن کو دینے کے لیے میرے پاس صرف ایک زندگی ہے۔“ اب امریکا کو خود سوچنا چاہئیے کہ آزادی کے لیے لڑنے والے لوگ دہشت گرد نہیں ہوتے بلکہ انہیں ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکا آزادی کے لیے لڑنے والوں کو دہشت گرد کہہ کر سنگین غلطی کر رہا ہے اور کشمیر اور فلسطین کی آزادی کی تحریکوں کو دبانہ چاہتا ہے۔اسی طرح برطانیہ نے ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی نام کی تجارتی کمپنی بنائی جس نے سارے ہندوستان پر آہستہ آہستہ قبضہ کر لیا اور یہاں ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم گردیا ہندوستان میں برطانوی تسلط سے آزادی کے لیے آزادی کی تحریک چلی اور برطانیہ ہندوستانی عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتا رہا ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا بے شمار افراد کو آزادی کی تحریک میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا برطانیہ آزادی کی اس تحریک کو ریاستی دہشت گردی سے دبانے کی کوشش کرتا رہا لیکن آخر اسے آزادی کی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اسے ہندوستان کو پاکستان اور بھارت کی صورت میں آزاد کرنا پڑا۔اب یہاں سب سے عجیب صورت حال یہ ہے کہ وہی بھارت جس نے برطانیہ سے آزادی کی تحریک کے ذریعے آزادی حاصل کی اور برطانیہ کی ریاستی دہشت گردی کا سامنا کیا کشمیر میں چلنے والی آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے اپنی سات لاکھ فوج کے ذریعے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور امریکہ کی آشیرباد سے کشمیر میں آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گرد کہتا ہے سوچیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں تو او کیا ہے؟

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانیہ نے کئی ممالک پر قبضہ کر لیا تھا اور ان ممالک میں برطانیہ کے تسلط سے آزادی کے لیے تحاریک چلائی گئیں برطانیہ نے ان تحاریک کو ختم کرنے کے لیے ہر قسم کی ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا ان ممالک کے عوام کو جیلوں میں ڈالا گیا بہت سے افراد ان آزادی کی تحریکوں میں برطانیہ کی ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے ہلاک کر دیے گئے اور لیکن آخرکار ان ممالک کے عوام کی جدوجہد رنگ لائی اور یہ ممالک برطانیہ کے تسلط سے آزاد ہو گئے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی اور آزادی کی تحریکوں میں فرق کیا جائے۔آزادی کی تحریکوں کو دہشت گردی کہنا بالکل غلط نظریہ اور تصور ہے۔

بھارت کی ریاستی دہشت گردیترميم

اس وقت بھارت وہ ملک ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ رکھنے کے باوجو سب سے زیادہ ریاستی دہشت گردی کرنے والا ملک ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہے اور یہ فوج کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سے کشمیریوں کو شہید کررہی ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی کشمیری بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ وہاں بھارتی فوج کشمیری خواتین کی عزت لوٹ لیتی ہے، کشمیروں کو پیلٹ گنوں کی گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں کشمیری معذور ہوچکے ہیں اب تک ہراروں کشمیری بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔ کشمیری اپنی آزادی کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد موجود ہے کہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی رائے دیں کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں لیکن بھارت اقوام متحدہ کی قرارداد کو نظر انداز کر کے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے اور کشمیری عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ آزادی کی تحریک اور دہشت گردی میں بہت بڑا فرق ہے۔

اسی طرح بھارتی پنجاب میں سکھوں کی ٓزادی کی تحریک خالصتان چل رہی ہے لیکن بھارت سکھوں کی آزادی کی تحریک کو ریاستی دہشت گردی سے دبانے کی کوشش کر رہا ہے گولڈن ٹیمپل کا واقعہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی بہت بڑی مثال ہے جس میں بے شمار سکھ ہلاک کر دیے گئے۔ بھارت کے کئی اور صوبوں ناگالینڈ، آسام اور بہار وغیرہ میں آزادی کی تحریکیں اٹھ رہی ہیں لیکن بھارت ریاستی دہشت گردی سے ان علاقوں کے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے لیکن دنیا بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی پر خاموش ہے اور بھارت کو ریاستی دہشت گردی کرنے کی کھلی چھوٹ ہے۔

بھارت کی مودی سرکار انتہا پسند ہندوئوں کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور یہ انتہا پسند بھارت میں موجود اقلیتوں مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور شودروں کو جنہیں بھارت میں کم ذات ہندو سمجھا جاتا ہے کو بھارتی حکومت کی آشیر باد اور ہشت پناہی سے دہشت گردی کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اس طرح اگر دیکھا جائے تو بھارت میں کوئی اقلیت بھی محفوظ نہیں ہے اور بھارتی حکومت کے انتہا پسند ہندو غنڈوں کی دہشت گردی کا شکار ہوتی رہتی ہے اور بھارتی حکومت ان انتہا پسند غنڈوں کو عدالتوں سے بچانے میں مدد کرتی ہے اور ان انتہا پسندوں کو اپنا سرمایہ سمجھتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ بھارتی حکومت اپنے انتہا پسند غنڈوں کے ہاتھوں ریاستی دہشت گردی کروا رہی ہے اور دنیا خاموشی سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا نظارہ کر رہی ہے۔

اسرائیل کی ریاستی دہشت گردیترميم

لبنان اور مصر کے درمیان واقع علاقہ دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ہے اس کا نام فلسطین ہے۔ یہ علاقہ خلافت عثمانیہ تک رہا قائم رہا خلافت عثمانیہ کے بعد فلسطین پر انگریزوں اور فرانسیسیوں نے قبضہ کر لیا 1948 میں ایک بہت بڑی سازش کے تحت فلسطین پر اسرائیلی ریاست قائم کی گئی اور دنیا بھر سے یہودی یہاں لا کر بسائے گئے اور یہاں یہودیوں کی بستیاں تعمیر کی گئیں 1967 میں اسرائیل نے امریکی مدد اور امریکی اسلحہ کے زور پر بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔ فلسطین کی آزادی کی تحریک بہت پرانی ہے لیکن اس آزادی کی تحریک میں شدت اسرائیل کے بیت المقدس پر قبضہ کے بعد آئی جوں جوں فلسطین میں آزادی کی تحریک زور پکڑتی گئی توں توں اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی میں بھی شدت آتی گئی۔ اسرائیل فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتا ریا فلسطینی عوام اپنی اور بیت المدس کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے رہے ہزاروں فلسطینی آازدی کی اس جدوجہد میں اسرائیلی بمباری اور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے۔ اسرائیل نے عورتوں اور بچوں پر بھی رحم نہ کیا اور انہیں بھی شہید کر دیا۔ ہزاووں فلسطینی اسرائیلی فوج کی بمباری اور اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر زخمی ہو گئے یا معذور ہو گئے۔ آزادی کی اس تحریک کے روح رواں یاسر عرافات تھے۔ امریکا، یورپ اور اسرائیل یاسر عرافات کو دہشت گرد کہتے تھے لیکن پھر دنیا نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ انہی یاسر عرافات کو جنہیں یہ دنیا دہشت گرد کہتی تھی اقوام متحدہ نے انہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کی دعوت دی واہ ری دنیا تیرے رنگ ہی نرالے ہیں جتنا ہی سوچتے جائو اتنا ہی حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے جائو اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ دنیا کے لوگ جس یاسر عرافات کو دہشت گرد کہتے نہیں تھکتے تھے۔ اسی یاسر عرافات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کی دعوت دے ڈالی اب لوگ یہ سوچیں کہ کون سی بات صحیح ہے یاسر عرافات کو دہشت گرد کہنا یا یاسر عرافات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کی دعوت دینا لوگ سوچتے رہیں اور اس گھتی کو سلجھاتے رہیں اور دنیا کی منافقت پر ہنستے رہیں۔

آج بھی فلسطین اور بیت المقدس کی مکمل آزادی کی جدوجہد جاری ہے اور اسرائیل کی وحشیانہ ریاستی دہشت گردی بھی جاری ہے اب بھی فلسطین میں اسرائیلی بستیاں تعمیر کی جارہی ہیں اور دنیا سے یہودیوں کو یہاں لا کر بسایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کا جب جی چاہتا ہے فلسطینی عوام کو گولیوں سے بھون دیتے ہیں۔ ان پر بمباری کر کے انہیں شہید کر دیتے ہیں عورتیں اور بچے بھی اسرائیلی فوج کی وحشت اور بربریت اور ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں۔ فلسطینی ہسپتالوں اور سکوں تک کو بمباری کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن افسوس کہ اقوام متحدہ اور تہذیب یافتہ اور ترقی یافتہ کہلانے والی اس دنیا کے لب اسرائیل کی اس وحشت و بربریت اور ریاستی دہشت گردی پر سلے ہوئے ہیں ان امن کے دعوے داروں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے اور کوئی اسرائیل کی اس ریاستی دہشت گردی کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا کیونکہ امریکا اور یورپ اسرائیل کے پشت پناہ ہیں اور یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون لاگو ہے یا طاقت کے زور پر ہی کمزوروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ کو توڑنا ہی اس دنیا کا قانون کے۔

امریکا کی ریاستی دہشت گردیترميم

دنیا میں ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال امریکا نے قائم کی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں چھ اگست 1945 کو امریکا نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکا نے ایٹم بم گرایا اور پل بھر میں جاپان کا یہ شہر راکھ کا ڈھیر بن گیا اس ایٹم بم کے حملے کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق کم از کم ایک لاکھ چالیس ہزار بے گناہ افراد ہلاک ہو گئے۔ امریکا نے اپنی اس بد ترین ریاستی دہشت گردی پر صبر نہیں کیا اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے کے ٹھیک تین روز بعد جاپان کے ایک اور شہر ناگا ساکی پر ایٹم بم گرایا اور امریکا کے اس ریاستی دہشت گردانہ حملے میں کم از کم 74 ہزار بے گناہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جاپان کے ان دو شہروں پر ایٹمی حملے کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد بے گناہ افراد ہلاک ہو گئے اور لاکھوں افراد معذور اور زخمی ہو گئے اس ایٹمی حملے کے اثرات آج بھی جاپان کے ان شہروں پر قائم ہیں اور آج بھی جاپان کے ان شہروں میں معذور بچے پیدا ہوتے۔ یہ ایک ریاست کی دوسری ریاست پر ریاستی دہشت گردی کی ایسی مثال ہے جو دنیا قیامت تک نہیں بھول سکتی جب بھی دنیا میں کسی بھی جگہ امریکا کی اس ریاستی دہشت گردی کا ذکر ہوتا ہے آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں امریکا نے دوسری جنگ عظیم تو جیت لی لیکن اپنے ماتھے پر ریاستی دہشت گردی کا ایسا داغ چھوڑ گیا جو کبھی بھی نہیں مٹ سکتا۔

ویت نام جسے ہند چینی کی جنگ بھی کہا جاتا ہے شمالی ویت نام اور جنوبی ویت نام کے درمیان ایک عسکری تنازع تھا جو 1959 سے 30 اپریل 1975 تک جاری ریا امریکا اپنے اتحادیوں جنوبی کوریا، آسٹریلیا تھائی لینڈ،اور نیوزی لینڈ کے ہمراہ اس جنگ میں کود پڑا جبکہ شمالی ویت نام کو قومی محاذ برائے آزادی جنوبی ویت نام(المعروف ویت کانگ) سویت اتحاد اور عوامی جمہوریہ چین کی حمایت حاصل تھی۔ امریکا نے 1965 میں اپنی تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب افواج (اس پرائی جنگ میں) ویت نام میں اتار دی اور یہیں سے امریکی ریاستی دہشت گردی کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو امریکی افواج کے ویت نام چھوڑنے تک جاری رہا امریکی افواج نے 1973 میں اپنی شکست دیکھ کر ویت نام چھوڑا۔

امریکا کی اس جنگ میں ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے ویت نام اور ویت کانگ کے ایک اندازے کے مطابق ہلاکتوں اور کمشدگیوں کی تعداد گیارہ لاکھ 76 ہزار تھی [15] جبکہ ان کے چھ لاکھ سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ویت نام اور ویت کانگ کے اتحادیوں عوامی جمہوریہ چین کے 1446 فوجی ہلاک اور اور چار ہزار دو سو فوجی زخمی ہوئے، سویت یونین کے بھی سولہ فوجی ہلاک ہوئے[16] اس طرح شمالی ویت نام اور اس کے کل اتحادیوں کا جانی نقصان 11 لاکھ 77 ہزار 446 رہا جبکہ زخمیوں کی کل تعداد چھ لاکھ چار ہزار رہی۔ یہ سارا جانی نقصان امریکا کی ویت نام کی جنگ میں مداخلت اور ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے ہوا تھا۔ جبکہ دوسری جانب جنوبی ویت نام کا جانی نقصان 2 لاکھ 20 ہزار 357 تھا اور زخمیوں کی تعداد گیارہ لاکھ ستر ہزار سے زائد تھی۔ امریکا کے 58 ہزار ایک سو 59، [17] جنوبی کوریا کے 4 ہزار 960 فوجی، لائوس کے تیس ہزار، آسٹریلیا کے 520، نیوزی لینڈ کے 37 اور تھائی لینڈ کے 351 فوجی مارے گئے۔ اس طرح جنوبی ویت نام اور اس کے اتحادیوں کا کل جانی نقصان 3 لاکھ 15 ہزار 831 رہا اور ایک اندازے کے مطابق زخمیوں کی کل تعداد 14 لاکھ 90 ہزار تھی۔اس جنگ میں دونوں طرف کا اتنا بڑا جانی نقصان صرف امریکا کی بے جا مداخلت اور ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے ہوا، شمالی ویت نام اور جنوبی ویت نام تباہ برباد علحیدہ ہو گئے امریکا اپنی ساری ریاستی دہشت گردی کے باوجود یہ جنگ ہار گیا اس کا سارا غرور و تکبر زمیں بوس ہو گیا۔






۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. دہشت گردی کیا ہے؟ - Opinions - Dawn News
  2. سورۃ مائدہ آیت 32
  3. سورۃ منافقون سورۃ نمبر 63 پارہ نمبر 28
  4. سورۃ بقرۃ آیات نمبر 11؛12
  5. سورۃ تکویر آیت نمبر8، آیت نمبر9
  6. سورۃ النحل آیات نمبر 58: 59
  7. بخاري، الصحيح، کتاب الفتن، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : لا ترجعوا بعدي کفارا يضرب بعضکم رقاب بعض، 6: 2594، رقم: 6668
  8. بخاري، الصحيح، کتاب الحج، باب الخطبة أيام مني، 2: 620، رقم: 1654، بخاري، کتاب العلم، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : رب مبلغ أوعی من سامع، 1: 37، رقم: 67، مسلم، الصحيح، کتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات، باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض والأموال، 3: 1305, 1306، رقم: 1679
  9. بخاری، الصحيح، کتاب الفتن، باب ظهور الفتن، 6: 2590، الرقم: 6652
  10. متی باب نمبر 10 آیت 34: 36
  11. کتاب استشناء: باب نمبر 20 آیت نمبر 10
  12. باب نمبر 13 کی آیت نمبر پندرہ سولہ
  13. سورۃ بقرہ آیت 256
  14. سورۃ کافرون
  15. Aaron Ulrich (Editor); Edward FeuerHerd (Producer & Director). (2005 & 2006) (Box set, Color, Dolby, DVD-Video, Full Screen, NTSC). Heart of Darkness: The Vietnam War Chronicles 1945-1975. [Documentary]. Koch Vision. Event occurs at 321 minutes. ISBN 1-4172-2920-9.
  16. Dunnigan, James & Nofi, Albert: Dirty Little Secrets of the Vietnam War: Military Information You're Not Supposed to Know. St. Martin's Press, 2000, page 284. ISBN 0-312-25282-X
  17. ب پ ت Aaron Ulrich (Editor); Edward FeuerHerd (Producer & Director). (2005 & 2006) (Box set, Color, Dolby, DVD-Video, Full Screen, NTSC). Heart of Darkness: The Vietnam War Chronicles 1945-1975. [Documentary]. Koch Vision. Event occurs at 321 minutes. ISBN 1-4172-2920-9.
  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔