کمل ولکو

ڈاکٹر کمل وِلْکُو ایک بھارت کی خاتون ڈاکٹر ہیں۔ وہ پہلی بھارتی خاتون ہے جس نے انٹارکٹک کی مہم میں حصہ لیا۔ وہ وہاں سولہ مہینے 23 مرد حضرات کی ٹیم میں واحد خاتون کے طور پر رہی۔ مہم کے وقت وہ 51 سال کی عمر کی تھی۔

ڈاکٹر کمل وِلْکُو (انگریزی: Dr. Kamal Vilku) ایک بھارت کی خاتون ڈاکٹر ہیں۔ وہ پہلی بھارتی خاتون ہے جس نے انٹارکٹک کی مہم میں حصہ لیا۔ وہ وہاں سولہ مہینے 23 مرد حضرات کی ٹیم میں واحد خاتون کے طور پر رہی۔ مہم کے وقت وہ 51 سال کی عمر کی تھی۔[1]

تعلیمی پس منظرترميم

ڈاکٹر کمل ولکو پیشے سے طبیب ہے۔ اس کے علاوہ وہ فنون لطیفہ کا چار سالہ ڈپلوما کورس فنون لطیفہ میں کر چکی ہے اور مصوری سے دلچسپی رکھتی ہے۔[2]

پیشہ ورانہ سرگرمیاںترميم

چونکہ کمل کے شوہر کرنل کے ایس ولکو فوجی خدمت میں رہے، اس وجہ سے آسام، لداخ، ہماچل پردیش اور میزورم میں رہ چکی ہے۔ یہ علاقے اونچائی پر واقع ہیں۔ ان علاقوں میں سے وہ شمال مشرقی بھارت کے علاقوں میں قیام کے دوران آسام رائفلز کے لیے ڈاکٹر کا کام بھی کر چکی ہے۔[2]

انٹارکٹک کی مہم میں شرکتترميم

1999ء میں کمل نے بھارت کے اوشین ڈیولپمنٹ کے محکمے کے ایک اشتہار کے جواب میں اپنی درخواست پیش کی۔ یہ اشتہار انٹارکٹک روانہ ہونے والے بھارتی قافلے کے لیے ایک ٹیم ڈاکٹر کے لیے تھا۔ کمل نے اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا حوالہ دیا (جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) اور اس وجہ سے تمام امیدواروں میں وہ اصح و اہل پائی گئی۔[2]

مہم پر روانگیترميم

مہم کے ارکان ممبئی سے کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقا کے لیے 6 دسمبر، 1999ء کو روانہ ہوئے۔ یہاں سے آگے کی مہم کا سفر ایک جرمن کشتی میں سوار ہو کر پورا کیا گیا۔[2]

انٹارکٹک میں بھارت کا اسٹیشنترميم

انٹارکٹک میں بھارت کے اسٹیشن کو مَییتری (دوستی) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ ایک وسیع رقبے پر محیط ہے اور آہنی پلیٹوں سے بنی لڑکیوں کو استعمال کر کے بنایا گیا ہے۔ یہاں انفرادی کمرے، وسیع کھانے کا کمرہ، کتب خانہ اور مشترکہ علاقہ موجود ہے۔ طاقتور جنریٹر سے چلنے والے ہیٹر گرمی پہنچاتے ہیں اور پانی نزدیکی تالاب پریہ درشنی سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ تالاب سابقہ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے نام کے ایک حصے سے موسوم ہے۔ میتری بھارت کا دوسرا اسٹیشن ہے۔ پہلا، دکشِن گنگوتری، جس کی تعمیر 1983ء میں ہوئی تھی، 1989ء میں برف میں بہ گیا تھا۔[2]

بھارت کے علاوہ 27 ممالک سائنسی تجربوں کے لیے 44 اسٹیشن انٹارکٹک میں قائم کر چکے ہیں۔ روس کے 5، ریاستہائے متحدہ امریکابھارت، جاپان اور جنوبی کوریا ایک اسٹیشن یہاں رکھتے ہیں۔[2]

کام اور تجربہترميم

ٹیم کی صحت کا معائنہ کرنے کے علاوہ کمل نے کچھ ہنگامی معاملوں کو نپٹایا۔ ان میں آئیل ٹینکر سے گرکر ایک مشتبہ ریڑھ کی ہڈی کا زخمی ہونا، ایک کنٹینر کے دروازے سے پھنس کر مرجھا جانے والا ہاتھ، کئی جلنے سے ہونے والے زخم اور سینے میں رونما ہونے والا غیر معمولی ابھرنا، شامل تھے۔[2]

کمل جرمن کشتی سے ایک دفعہ تصویر لے رہی تھی، تبھی ایک 180 بحری میلوں کی رفتار سے تباہ کن ہوا اچانک اُڑنے لگی۔ یہ اتنی تیز تھی کہ کمل شاید جان ہی گنواں دیتی۔ مگر ریڈیو آفیسر نے تیزی سے جھپٹ کر اسے کمرے میں کھینچ لیا اور اس طرح اس کی جان بچ گئی۔[2]

انٹارکٹک کے یادگار مناظرترميم

حالانکہ انٹارکٹک انسانی آبادی سے خالی ہے، تاہم کمل کے مطابق وہاں کا دلچسپ پہلو برف کا تیزی سے رنگ بدلنا ہے۔ پينگوئنوں کی موجودگی اور ہجرت پزیر پرندے، جن کی دو اقسام اسکوآ (skua) اور ٹیرن (tern) کا وہ بغور مشاہدہ کر چکی ہے۔ وہ ان مناظر کو اپنے مصوری کے کینوس پر بھارت لوٹنے کے بعد اتارتی بھی ہے۔[2]

آلودگی سے پاک خطہترميم

انٹارکٹک دنیا میں آلودگی سے پاک ہونے کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ بین الممالک معاہدے کی رو سے سبھی ٹیموں پر لازم ہے کہ وہ اپنے علاقوں کو آلودگی سے پاک رکھیں۔ کمل کے مطابق بھارتی ٹیم کو اپنا کچرا جلاکر اس کی راکھ ملک میں لانا پڑا۔ ماحولیاتی نفاذ کسی بھی زیر دوران مہم کشوں کو 24 گھنٹوں کی نوٹس دے کر کیا جا سکتا ہے۔ کمل کے قیام کے دوران بھارتی اسٹیشن کو مکمل طور پر ایک نارویجین ٹیم کی جانب سے جانچا گیا تھا۔[2]

حوالہ جاتترميم

بیرونی روابطترميم