ابو قتادہ انصاری

صحابی رسولﷺ

ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ (وفات: 55ھ) آپ کا نام حارث بن ربعی یا ابن نعمان ہے،کنیت سے زیادہ مشہور ہیں ان کا لقب’’ فارس رسول اللہ‘‘ ہے۔ آپ ایک دراز قد اور وجیہ نوجوان تھے۔آپ کے بال خوبصورت ،لمبے ،اور گنگھریالے تھے اور اکثر آپ کے بال مبارک آپ کی گردن تک رہتے۔کبھی کبھی کنگھی فرماتے۔ایک دفعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے بالوں کو پراگندہ دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ اپنے بالوں کو سنوار کر رکھا کرو۔ اخلاق و عادات: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اخلاق و عادات میں اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کامل طریقے سے عمل کرنے والے تھے۔آپ خاتم النبین آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کو حرز جاں رکھتے کہ ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔اور مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو سارا جسم تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔آپ کی اخوت اسلامی کا یہ عالم تھا ایک مرتبہ ایک انصاری صحابی کا جنازہ خاتم النبین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا خاتم النبین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس میت کے ذمہ قرض ہے ؟ تو اپکو عرض کیا گیا کہ اس کے ذمہ دو دینار قرض ہے۔خاتم النبین آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا جنازہ نہ پڑھایا اس موقع پر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عرض کی۔ یا رسول اللہ اگر میں قرض ادا کردوں تو آپ اس کا نماز جنازہ پڑھا دیں گے ؟خاتم النبین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس صورت میں اس کا جنازہ پڑھا دوں گا اسی وقت حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے میت کی طرف سے قرض ادا کیا اورخاتم النبین سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھایا۔[2] خاتم النبین آقاے دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصی دعا: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اکثر بارگاہ رسالت میں حاضر رہتے اور خاتم النبین آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بجا لاتے۔آپ کی ذاتی خدمات آپ نے اپنے ذمے لے رکھی تھی۔ایک سفر میں خاتم النبین حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے قافلے نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔خاتم النبین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانی کی خبر لو یعنی پانی تلاش کرو۔ایسا نہ ہو کہ پانی نہ ملے اور صبح سویرے پیاسے اٹھو۔۔تمام لوگ پانی کی تلاش میں نکل گئے۔لیکن حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ خاتم النبین آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچاوے کے ہمراہ رہے۔خاتم النبین سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار تھے۔جب آپ کا کچاوا ایک طرف جھکنے لگتا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اُس کو سہارا دیتے ایک بار آپ کا موکب گرنے کے قریب تھا کہ حضرت ابو قتادہ نے آگے بڑھ کر ٹیک لگا لی۔خاتم النبین آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ موکب کے ساتھ کون ہے ؟آپ نے اپنا نام عرض کیا۔سرکار نے پوچھا کہ کب سے میرے ساتھ ہو۔آپ نے عرض کی شام سے۔یہ سن کر خاتم النبین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا دی کہ ابو قتادہ۔جس طرح تم نے میری نگہبانی کی اسی طرح اللہ تمھاری حفاظت کرے ۔[3]۔ غزوات میں شرکت: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ایک دلیر اور جنگجو صحابی تھے۔آپ صرف غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے۔اس کے علاوہ تمام غزوات میں نمایاں خدمات سر انجام دیں۔احد اور خندق میں خاتم النبین آقا دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ رہے ۔صحیح مسلم جلد دوم میں ایک حدیث مبارکہ میں خاتم النبین آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے حضرت قتادہ کی بے پناہ تعریف کا ذکر ہے۔خاتم النبین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنیاں زی قرد نامی گاؤں میں چرا کرتی تھیں۔آپ کا غلام جن کا نام رباح تھا وہ ان کے نگران تھے۔چند غطفانی لٹیرے چرواہوں کو قتل کرکے اونٹنیوں کو ہانک کر لے گئے ۔۔سلمہ بن اکوع نے عرب دستور کے مطابق مدینہ منورہ میں اس واقعہ کی اطلاع بھیجی۔خاتم النبین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ان غطفانیوں کے تعاقب میں تین سوار روانہ فرمائے۔ان میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نمایاں تھےاس دستے نے غطفانیوں کو جا پکڑا اس موقع پر جنگ میں حضرت ابو قتادہ نے نیزہ زنی خوب کا مظاہرہ کیا جب حضور کی اونٹنیوں کو لے کر یہ دستہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے حضرت قتادہ کا قصہ سن کر فرمایا۔کہ آج کے دن میں قتادہ بہترین سوار تھے ۔[4] فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین پیش آیا۔اس جنگ میں لڑائی اتنی سخت تھی کے بڑے بڑے جانبازوں کے قدم اکھڑ گئے۔اس جنگ میں حضرت قتادہ نے شجاعت کا بہترین مظاہرہ کیا۔آپ نے کفار کے ایک مال دار شخص کو اپنی شجاعت کا نشانہ بنایا۔اور اس کے علاوہ بھی کئی کفار کو واصل جہنم کیا۔لشکر میں سراسیمگی اور افراتفری کا عالم تھا۔عرب دستور کے مطابق جو شخص جس کو قتل کرتا اس کے مال کا مالک وہی ہوتا۔حضرت ابو قتادہ نے جس شخص کو قتل کیا تھا اس کا مال ایک اور شخص نے اٹھا لیا۔لیکن خاتم النبین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس غزوہ کے سارے واقعات ملاحظہ فرمانے کے بعد حضرت ابو قتادہ کو عطا فرمایا۔آپ نے وہ مال فروخت کرکے بنو سلمہ ایک بہت بڑا باغ خریدا۔قبول اسلام کے بعد یہ پہلی جائداد خریدنے کی کوشش تھی۔یوں حضرت ابو قتادہ وہ پہلے صحابی بن گئے جنھوں نے قبول اسلام کے بعد جائداد خریدی اور اس سے کاروبار کا آغاز فرمایا۔آپ تمام خلفائے راشدین کے ساتھ رہے۔اس دور میں درپیش ہونے والی تمام جنگوں کی صف اول میں رہے۔سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے زمانہ مبارک میں مکہ مکرمہ کے امیر نامزد ہوئے ۔جنگ جمل اور جنگ صفین میں آپ شریک ہوئے ۔ 38ھ میں جب خوارج نے سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف بغاوت کی تو آپ امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی فوج کے ہمراہ تھے۔سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے جو پیادہ دست ترتیب دیا تھا آپ اس کے امیر تھے۔آپ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔اور آپ کی قریبی مجلس مشاورت میں شامل تھے۔سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے ہمراہ کوفہ میں تشریف لے گئے اور وہیں انتقال فرمایا۔سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ کا نماز جنازہ پڑھایا۔آپ کے انتقال کی تاریخ میں اختلاف ہے۔تمام مورخین کے اقوال کے مطالعہ کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے آپ نے 50ھ اور 60ھ کے درمیان وفات پائی ۔

ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ
أبو قتادة بن ربيع الأنصاري الخزرجي
 

معلومات شخصیت
پیدائش 38 B.H / 584 AD
یثرب
وفات 34 AH / 656 AD
مدینہ, خلافت راشدہ
والد ربعی بن بلدمہ بن خناس ابن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ بن زید بن جشم بن خزرج (رِبْعِي بن بَلْدَمة بن خُنَاس بن سِنَان بن عُبَيْد)[1]
والدہ کبشہ بنت مظہر بن حرام (كبشة بنت مطهر بن حرام بن سواد)[1]
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت

نام ونسب ترمیم

حارث نام ، ابو قتادہ کنیت ، فارس رسول اللہ لقب،قبیلہ خزرج کے خاندان سلمہ سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے، حارث بن ربعی بن بلدمہ بن خناس ابن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ بن زید بن جشم بن خزرج ، ابو قتادة انصاری خزرجی، ثم من بنی سلمہ، ہے۔ والدہ کا نام کبشہ بنت مظہر بن حرام تھا اور بنو سلمہ میں سواد بن غنم کے خاندان سے تھیں۔[5][6]

ولادت ترمیم

حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت سے تقریبا 10سال پیشتر مدینہ میں پیدا ہوئے۔ [7]

غزوات ترمیم

غزوہ بدر میں شریک نہ تھے،احد اور غزوہ خندق اور تمام غزوات میں شرکت کی ، ربیع الاول میں غزوہ ذی قردیا غابہ پیش آیا، اس میں ان کی شرکت نمایاں تھی،آنحضرتﷺ کی اونٹنیاں ذی قردنامی ایک گاؤں میں چرا کرتی تھیں ،آپ کے غلام جن کا نام رباح تھا، ان کے نگران تھے، چند غطفانی چرواہوں کو قتل کرکے اونٹنیوں کو ہانک لے گئے، سلمہ بن ؓ اکوع ایک مشہور صحابی تھے انھوں نے سنا تو عرب کے عام قائدہ کے موافق مدینہ کی سمت رخ کرکے "یا صباحاہ" کے تین نعرے لگائے اور رباح کو آنحضرت کے پاس دوڑایا اور خود غطفانیوں کے تعاقب میں رہے،آنحضرت نے مدد کے لیے 3 سوار بھیجے اور پیچھے خود بھی روانہ ہوئے ، سلمہ منتظر تھے، نظر اٹھی توا حرم اسدی، ان کے پیچھے ابوقتادہؓ انصاری اوران کے پیچھے مقدا وکندی گھوڑا اڑاتے چلے آ رہے تھے ، غطفانی سواروں کو دیکھ کر فرار ہو گئے،لیکن احرم کو شوق شہادت دامنگیر تھا، غفطانیوں کے پیچھے ہولیے،آگے بڑھ کر ان میں عبد الرحمن غطفانی میں مقابلہ ہو گیا اور احرم شہید ہو گئے، عبد الرحمن ان کا گھوڑا لے جانا چاہتا تھا کہ ابوقتادہ ؓ پہنچ گئے اور بڑھ کر نیزہ کا وار کیا اور عبد الرحمن کا قصہ بھی پاک ہو گیا یہاں سے لوٹے تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی آپ نے قصہ سن کر فرمایا (کان خیر فرساننا الیوم ابو قتادہ) یعنی آج ابوقتادہ بہترین سوار تھے۔ [8]

شعبان میں آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجد کے ایک مقام خضرہ کی جانب 15 آدمیوں کو روانہ فرمایا، حضرت ابوقتادہؓ ان کے امیر تھے ،چھاپہ مارنا مقصود تھا اس لیے رات بھر چلتے اور دن کو کہیں چھپ رہتے تھے، مقام خضرہ میں قبیلہ غطفان آباد تھا ، جو غارت گر امن و امان اور مسلمانوں کا قدیم دشمن تھا، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ موقع پاکر اچانک پہنچ گئے ،قبیلہ طاقتور تھا ،بہت سے آدمی جمع ہو گئے اور میدان کار زار گرم ہو گیا؛ لیکن ابو قتادہ نے لوگوں سے کہہ دیا کہ جو تم سے لڑے اس کو مارنا، ہر شخص سے تعرض کی ضرورت نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ کا جلد خاتمہ ہو گیا اور 15 دن کے بعد مالِ غنیمت لے کر صحیح و سالم مدینہ منورہ واپس آئے، مال غنیمت میں اونٹ 200 ،بکریاں 200 اور بہت سے قیدی تھے ۔ اس کا خمس نکال کر باقی وہیں تقسیم کر لیا گیا، حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک حسین لڑکی بھی آئی تھی، آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے لیے مانگ کر محمیہ بن ضرہ کو دیدی۔ [9]

اس کے کچھ ہی دنوں کے بعد رمضان کے مہینہ میں 8 آدمیوں کا ایک سریہ بطن اخم کی طرف بھیجا، حضرت ابو قتادہؓ اس کے بھی سرگروہ تھے، بطن اخم ذی خشب اور ذی مروہ کے درمیان مدینہ سے 3 منزل کے فاصلہ پر مکہ کی جانب واقع ہے، آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ پر فوج کشی کا ارادہ کر چکے تھے، ان لوگوں کے بھیجنے کا مدعا یہ تھا کہ لوگوں کو مکہ کا خیال نہ آئے اور لڑائی سے پہلے یہ راز کسی طرح فاش نہ ہو ذی خشب پہنچ کر معلوم ہوا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ روانہ ہو گئے ،اس لیے یہ لوگ وہاں سے چل کر سقیار میں آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر کے ساتھ شریک ہو گئے۔ [10]

فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین واقع ہوا، لڑائی اتنی سخت تھی کہ بڑے بڑے جانبازوں کے قدم اکھڑ گئے تھے؛ لیکن حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے اس میں نہایت شجاعت دکھائی ایک مسلمان اور مشرک میں لڑائی ہورہی تھی،دوسرا مشرک پیچھے سے حملہ کی فکر میں تھا، حضرت ابو قتادہؓ نے مسلمان کو تنہا دیکھ کر اس مشرک پر پیچھے سے حملہ کیا،تلوار کندھے پر پڑی جو ذرہ کاٹتی ہوئی اچٹ کا ہاتھ تک پہنچی اورہاتھ صاف ہو گیا، وہ دوسرے ہاتھ سے دست وگریبان ہو گیا، آدمی تنومند تھا،اس زور سے دبایا کہ حضرت ابو قتادہؓ گھبرا گئے ؛ لیکن خون زیادہ نکل چکا تھا، اس لیے ابو قتادہؓ نے موقع پاکر قتل کر دیا، خود کہتے ہیں کہ مجھے جان کے لالے پڑ گئے تھے ؛لیکن قضا اس کی آئی تھی۔

مکہ کا آدمی ادھر سے گذر رہا تھا اس نے مقتول کا سارا سامان اتار لیا اس وقت لشکر اسلام میں عجیب سر اسمیگی طاری تھی ،لوگ میدان سے ہٹ رہے تھے، یہ بھی اسی طرف چلے ایک مقام پر حضرت عمرؓ کچھ آدمیوں کے ساتھ کھڑے تھے ان سے پوچھا کیا بات ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جو خدا کی مرضی ،اتنے میں لوگ پلٹ پڑے اور میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا ۔ لڑائی کے بعد آنحضرتﷺ نے اعلان کیا جس نے جس کافر کو مارا ہو اس کا مال و متاع ثبوت کے بعد اس کو دلایا جائے گا، حضرت ابوقتادہؓ نے اٹھ کر کہا میری نسبت کون شہادت دیتا ہے کسی طرف سے آواز نہ آئی 30 مرتبہ ایسا ہی ہوا تو آنحضرت نے فرمایا ابوقتادہؓ ! کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے سار قصہ گوش گزار کیا، ایک شخص بولا سچ کہتے ہیں ان کا سامان میرے پاس ہے، لیکن ان کو راضی کرکے مجھے دلوا دیجئے، حضرت ابوبکرؓ نے کہا یہ بے انصافی ہے کہ خدا کا شیر امارت اورمال سے محروم رہے اور قریش کی ایک چڑیا مفت میں مزے اڑائے ،آنحضرت نے فرمایا حقیقت یہی ہے بہتر ہے کہ ان کا مال انہی کو دے دو۔ حضرت ابوقتادہؓ انصاری نے اس کو فروخت کرکے بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا،قبول اسلام کے بعد جائداد خرید نے کی یہ پہلی بسم اللہ تھی۔ [11]

عام حالات ترمیم

اپنے وقت کے بہترین شہسوار اور تیز انداز تھے۔ یہ پہلے شخص تھے جنھوں نے مال غنیمت بیچ کر اپنے لیے ایک باغ خریدا اور اسلامی تاریخ میں جائداد بنانے کی مثال قائم کی۔ تقریبا 150 احادیث آپ سے مروی ہیں۔ مدینہ میں انتقال فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ عہد نبوت کے بعد علی المرتضیٰ کے زمانہ مبارک میں امارت مکہ پر نامزد ہوئے تھے،لیکن پھر کسی وجہ سے قثم بن عباس امیر بنائے گئے، یہ 36ھ کا واقعہ ہے، اسی سنہ میں جنگ جمل اور دوسرے سال صفین کا معرکہ ہوا، ابو قتادہ انصاری دونوں میں شریک ہوئے 38ھ میں خوارج نے علم بغاوت بلند کیا، جناب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس فوج کے ساتھ فوج کشی کی تھی، ابو قتادہ اس کے پیادوں کے افسر تھے۔ [12]

وفات ترمیم

حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کے سنہ وفات میں سخت اختلاف ہے بعض کے نزدیک 40ھ ہے ،ان لوگوں کے نزدیک کوفہ میں انتقال کیا تھا اور جناب علی نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں 6 یا 7 تکبیریں کہیں،لیکن صحیح یہ ہے کہ 50ھ اور 60ھ کے درمیان انتقال کیا، امام بخاری نے اوسط میں یہی لکھا ہے اوراس پر دلائل قائم کیے ہیں۔ [13]

حلیہ ترمیم

حلیہ مفصل مذکور نہیں،اتنا معلوم ہے کہ گردن تک بال رکھتے تھے جس کو جمہ کہتے ہیں کبھی کبھی کنگھی کرتے، آنحضرت نے ایک مرتبہ پراگندہ مو دیکھا تو فرمایا ذرا ان کو تو درست کرو، آدمی بال رکھے تو ان کی خبر گیری بھی کرے، ورنہ رکھنے سے کیا فائدہ اس سے تو گھٹا ہوا سر اچھا ہے۔ [14]

اولاد ترمیم

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار بیٹے تھے،عبد اللہ معبد،عبد الرحمن ثابت، موخرالذکرام ولد سے تولد ہوئے تھے بیوی کا نام سلافہ بنت براء بن معرور بن صخر تھا[15]، خاندان بنو سلمہ کے نہایت ممتاز گھرانے سے تھیں ،جو خود صحابیہ اور جلیل القدر صحابی کی لڑکی تھیں۔ [13]

اخلاق و عادات ترمیم

اخوت اسلامی کا یہ حال تھا کہ ایک انصاری کا جنازہ آنحضرت کے پاس نماز کے لیے لایا گیا آپ نے پوچھا اس پر قرض تو نہیں،لوگوں نے کہا دو دینار (1روپے) ہیں، فرمایا کچھ چھوڑا بھی ہے؟ جواب ملا کچھ نہیں، ارشاد ہوا کہ تم لوگ نماز پڑھ لو، ابو قتادہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں قرض ادا کر دوں تو آپ نماز پڑھائیں گے، فرمایا ہاں ،چنانچہ انھوں نے قرض ادا کرکے آنحضرت کو خبر کی، اس وقت آپ نے جنازہ منگا کر نماز پڑھی۔[16] ایک مسلمان پر ان کا کچھ قرض تھا، جب یہ تقاضا کرنے جاتے تو وہ چھپ رہتا، ایک روز گئے تو اس شخص کے لڑکے سے معلوم ہوا کہ گھر میں بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں، پکار کر کہا، نکلو مجھے معلوم ہو گیا ہے اب چھپنا بیکار ہے، جب وہ آیا تو چھپ رہنے کی وجہ پوچھی ،اس نے کہا بات یہ ہے کہ میں تنگ دست ہوں، میرے پاس کچھ نہیں ہے اس کے ساتھ عیال دار بھی ہوں، پوچھا واقعی تمھارا حال خدا کی قسم ایسا ہی ہے، بولا ہاں، ابوقتادہ آبدیدہ ہو گئے اور اس کا قرض معاف کر دیا۔[17] حضرت ابوبکرؓ نے جب مرتدین کے مقابلہ کے لیے لشکر بھیجا تھا تو حضرت خالدؓ کو لکھا کہ وہ مالک بن نویرہ یربوعی کی طرف جائیں، انھوں نے کسی وجہ سے مالک کو جس نے اسلام قبول کر لیا تھا، قتل کر ڈالا، حضرت ابوقتادہؓ کو اتنی ناگواری ہوئی کہ انھوں نے بارگاہ خلافت میں عرض کیا کہ میں ان کی ماتحتی میں نہ رہوں گا انھوں نے ایک مسلمان کا خون کیا ہے۔[18]

وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں امر بالمعروف کا خیال رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ چھت پر کھڑے تھے کہ ستارہ ٹوٹا، لوگ دیکھنے لگے فرمایا اس کا زیادہ دیکھنا منع ہے۔ [19] اکثر خدمت رسول اللہ کی سعادت بھی حاصل ہوتی تھی، ایک سفر میں آنحضرت کے ساتھ تھے ،آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا کہ پانی کی خبر لو ورنہ سویرے پیاسے اٹھوگے، لوگ پانی ڈھونڈنے نکل گئے،لیکن حضرت ابو قتادہؓ موکب نبوی کے ساتھ رہے، آنحضرت اونٹ پر سوار تھے، جب آپ اونگھ میں کسی طرف جھکتے تو یہ بڑھ کر ٹیک لگا دیتے ، ایک دفعہ گرنے کے قریب تھے۔ انھوں نے ٹیک لگائی،آپ کی آنکھ کھل گئی ،فرمایا کون؟عرض کیا ابوقتادہ فرمایا کب سے میرے ساتھ ہو کہا شام سے،آنحضرت نے دعا دی حفظک اللہ کما حفظت رسولہ! جس طرح تم نے میرے نگہبانی کی خدا تمھارا نگہبان رہے۔ [20] فطرۃ نہایت رحیم تھے، جانورں تک پر رحم کرتے تھے،ایک مرتبہ اپنے بیٹے کے گھر گئے بہو نے وضو کے لیے پانی رکھا، بلی آئی اور منہ ڈال کر پانی پینے لگی، حضرت ابو قتادہؓ انصاری نے بھگانے کی بجائے برتن اس کی طرف جھکا دیا کہ خوب اچھی طرح پی لے، بہو کھڑی ہوئی یہ تماشا دیکھ رہی تھی، کہا بیٹی اس میں تعجب کی کیا بات ہے، آنحضرت نے فرمایا ہے کہ وہ نجس نہیں، وہ تو گھروں کی آنے جانے والی ہے۔ [21] شکار کا بے حد شوق تھا ،ایک مرتبہ آنحضرت کے ہمراہ مکہ جا رہے تھے راستہ سے کچھ ساتھیوں کو لے کر نکل گئے، علاقہ پہاڑی تھا، ان کو پہاڑ پر تیزی سے چڑھنے کی مشق تھی، دوستوں کو لے کر پہاڑ پر تفریحاً چڑھے کہ ایک جانور نظر آیا، انھوں نے بڑھ کر دیکھا اور پوچھا بتاؤ کون جانور ہے؟ لوگوں نے کہا ہم ٹھیک نہیں بتا سکتے،بولے گور خر ہے، پہاڑ چڑہتے وقت کوڑا بھول آئے تھے، ساتھیوں سے کہا میرا کوڑا لاؤ، یہ لوگ احرام باندھ چکے تھے، اس بنا پر شکار میں شریک نہیں ہو سکتے تھے، اس لیے خود نیزہ لے کر گورخر کے تعاقب میں روانہ ہوئے اوراس کو شکار کرکے ساتھیوں کو آوازدی کہ اس کے اٹھانے میں ہاتھ بٹاؤ، لیکن اس میں بھی کسی نے مدد نہ کی، آخر خود اٹھا کر لائے اور گوشت پکایا لوگوں کو کھانے میں بھی تامل ہوا۔ بعضوں نے کھایا اور بعض محترز رہے، حضرت ابو قتادہؓ نے کہا اچھا ! تھوڑی دیر میں بتاؤں گا،رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چل کر پوچھتا ہوں،چنانچہ جب آپ سے ملاقات ہوئی تو اس واقعہ کا تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا اس کے کھانے میں کیا مضائقہ ہے، خدا نے تمھارے لیے بھیجا تھا، اگر کچھ باقی ہو تو میرے لیے لاؤ، لوگوں نے پیش کیا، آپ نے صحابہ سے فرمایا :اس کو کھاؤ۔ [22] نہایت ملنسار تھے، اس لیے احباب کا ایک حلقہ تھا، صلح حدیبیہ میں جب آنحضرت کے ساتھ مکہ جا رہے تھے تو راستہ میں دوست احباب ہنستے اور مذاق کرتے جاتے تھے، [23] ابو محمد بھی ان کی مجلس کے ایک رکن تھے۔ [24][25]

فضل و کمال ترمیم

گو حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ قرآن مجید اور احادیث نبوی کی اشاعت کے فرض سے غافل نہ رہے ، لیکن روایت حدیث میں نہایت محتاط تھے،ایک مرتبہ انھوں نے آنحضرتﷺ سے کذب علی الرسول کی حدیث سنی تھی اس وقت سے وہ حدیث کے باب میں نہایت محتاط ہو گئے تھے۔ [26]

تابعین کی ایک مجلس میں حدیث کا چرچا تھا، ہر شخص قال اللہ کذا، قال اللہ کذا کہہ رہا تھا، حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سن کر فرمایا، بدبختو!منہ سے کیا نکال رہے ہو؟ آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹی حدیث بیان کرنے والوں کو جہنم کی وعید سنائی ہے۔ [27] لیکن اس احتیاط کے باوجود ان کے مرویات کی تعداد 170 ہے ، راویوں میں صحابہ کبار اور تابعین عظام داخل ہیں، حضرت انس بن مالکؓ ،حضرت جابر بنؓ عبداللہ،ابو محمد نافع بن اقرع (ان کے آزاد کردہ تھے) سعید بن کعب بن مالک (بہو کے بھائی تھے)کبشہ بنت کعب بن مالک (بہو تھیں) عبد اللہ بن رباح، عطار بن یسار، ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، عمر بن سلیم زرقی عبد اللہ بن معبد زمانی،محمد بن سیرین، بنہان مولی اثوامہ،سعید بن مسیب، محمد ابن منکدر کہ سپہر حدیث کے آفتاب و ماہتاب ہیں،ان کے لمعاتِ فضل سے مستغنی نہیں۔ [28]

حوالہ جات ترمیم

  1. ^ ا ب Ali 'Izz al-Din Ibn al-Athir al-Jazari (2012)۔ أسد الغابة في معرفة الصحابة - الفهارس- Usd al Ghabat fi ma'rifat alsahhabat۔ Beirut, Lebanon: Dar al Ibn Hazm۔ ISBN 978-9953-81-621-0۔ 04 مئی 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 فروری 2020 
  2. (مسند امام احمد بن حنبل جلد 3 حدیٹ نمبر 295۔۔۔203)
  3. (مسند امام احمد بن حنبل جلد 5 حدیث نمبر 297)
  4. (مسلم جلد 2حدیث نمبر 101۔)
  5. اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الاثير الناشر: دار الفكر بيروت
  6. الإصابة في تمييز الصحابة - أبو قتادة بن ربعي الأنصاري (1) آرکائیو شدہ 2017-12-21 بذریعہ وے بیک مشین
  7. الخطيب البغدادي۔ تاريخ بغداد۔ الأول۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 159 
  8. (مسلم:2/101)
  9. (طبقات حصہ مغازی)
  10. (طبقات حصہ مغازی:96)
  11. أسد الغابة في معرفة الصحابة - أبو قتادة الأنصاري آرکائیو شدہ 2017-12-21 بذریعہ وے بیک مشین
  12. سير أعلام النبلاء» الصحابة رضوان الله عليهم» أبو قتادة الأنصاري السلمي آرکائیو شدہ 2017-12-03 بذریعہ وے بیک مشین
  13. ^ ا ب تهذيب الكمال للمزي» أَبُو قتادة الأنصاري آرکائیو شدہ 2017-04-24 بذریعہ وے بیک مشین
  14. صحيح مسلم» كتاب الجهاد والسير» باب غزوة ذي قرد وغيرها آرکائیو شدہ 2017-04-24 بذریعہ وے بیک مشین
  15. (طبقات ابن سعد:/203)
  16. مسند:5/295
  17. مسند:5/318
  18. تاریخ یعقوبی:2/148
  19. (مسند:5/299)
  20. (مسند:5/297)
  21. (مسند:5/303)
  22. (بخاری:9/528، 26 فتح الباری)
  23. (مسند:5/301)
  24. (مسند:5/295)
  25. الطبقات الكبرى لابن سعد - أبو قتادة بن ربعي آرکائیو شدہ 2017-12-21 بذریعہ وے بیک مشین
  26. (مسند ابن حنبل:792)
  27. (مسند ابن حنبل:310)
  28. الإصابة في تمييز الصحابة - أبو قتادة بن ربعي الأنصاري (2) آرکائیو شدہ 2017-04-24 بذریعہ وے بیک مشین