اعوان

برصغیر میں آباد ایک قوم

اعوان ایک قبیلہ ہے جو زیادہ تر شمالی، وسطی اور پاکستانی پنجاب کے مغربی حصوں میں رہتا ہے، جس کی خاص تعداد خیبر، آزاد کشمیر میں بھی موجود ہے اور سندھ اور بلوچستان میں کم تعداد میں ہے۔


اعوان قبیلہ

محمد حنفیہ بن علی ابن ابی طالب، کے فرزند علی عبد المنان تھے ان کے فرزند عون عرف قطب غازی لقب بطل غازی تھے ان کی اولاد قطب شاہی علوی اعوان کہلاتی ہے۔

نسبی و خطابی نام

قطب شاہی علوی اعوان نسبی نام بھی ہے اور خطابی۔ نسبی یوں کے اس قبیلہ کے جدامجدکانام "عون  قطب شاہ غازی" ہے اور خطابی اس لیے کہ سبکتگین یا سلطان محمودغزنوی نے بھی"اعوان" کاخطاب دیا۔ دوسری صدی ہجری کی عربی کتاب نسب قریش کے ص 77پر عون قطب شاہ غازی کانام عون لکھتے ہوئے ان  کی اولاد کو "بنی عون" تحریرکیاہے۔ جوعرب میں بنی عون کہلائی اور ہندمیں اعوان۔

قطب شاہی اعوان

قوم اعوان قطب شاہی، جو علی بن ابی طالب کے بیٹے محمد بن حنفیہ کی نسل سے ہے۔ محمدبن حنفیہ کی اولاد اعوان کے نام سے پہچانی جاتی ہے اور گذشتہ تاریخ اسلام میں سرگرم عمل رہی ہے۔ سلطان محمودغزنوی  کے ہمراہ بغرض جہاد و تبلیغ اسلام وارد ہند ہوئی۔ جھام مادر زاد ولی، سلطان باہو، سلطان العارفین انب شریف، حاجی احمد، سخی محمد خوشخال، سلطان مہدی  اور بے شمار دوسرے صالحین صرف پندرہ بیس میل کے اس رقبے میں جسے وادی سون سکیسر کہا جاتا ہے۔ پیدا ہوئے اور سبھی اسی اعوان قبیلے کے چشم و چراغ تھے اور سب کا شمار صاحب کرامت اولیا میں ہوتا ہے۔

گھلّی اعوان

۔[1]گھلّی اعوان اعوان قوم کی گوت ہے۔قطب شاہی علوی اعوان گوت (گھلّی) سمّی پور جالندھر ۔۔۔۔حضرت گوہر علی المعروف عبداللّہ گولڑہ رحمااللّہ کے بیٹے زمان علی عرف صدرالدین رحمااللّہ ان کی اولاد ہیں ان کی اولاد میں گوہر علی (ثانی) ہیں گوہر کا گ اور علی کا ل اور ی (گھلّی) بنا اور آپ کی اولاد گھلّی اعوان مشہور ھوئی اور یہ گوت جالندھر کے اعوانوں کی مشہور ھوئی ان کی اولاد میں میر عرب اور پہلوان خان بھی مشہور تھے۔ ان کی اولاد خوشاب سے ہجرت کر کے جالندھر آباد ھوئی اور ان کی اولاد میں دو شخصیات حضرت سماں علوی اور ان کے بھائی مدار علوی تھےان دونوں بھائیوں میں سے حضرت سماں نے سمی پور آباد کیا اس علاقے کا نام انہی بزرگ کی وجہ سے سماں سے سمی پور پڑا اور آج بھی آپ کا مزار سمّی پور میں مرجع خلائق ہے آپ کے دوسرے بھائی حضرت مدار کچھ آگے آباد ھوئے اور جالندھر میں سمّی پور سے 18 20 کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک گاؤں مدار آباد ہے وہ آپ کے نام پر ہی ہے اور اور آج بھی یہ گاؤں موجود ہے۔ سمّی پور میں غیر مسلم تو دور کوئی غیر اعوان بھی آباد نہیں تھا 100 فیصد قطب شاہی علوی اعوان آباد تھے 1947 میں ہجرت کی اور پاکستان آگئے اور اس شان سے آئے کہ کسی غیر قوم کی جرت نہیں ھوئی کہ وہ ان کو نقصان پہنچاتا۔اب گھلّی قطب شاہی علوی اعوان فیصل آباد ،لاہور شیخوپورہ لیّہ اور کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں آباد ہیں۔لیّہ میں یہ 1950 کے بعد کچھ خاندان آباد ھوئے اور لیّہ میں سمّی پور نام کا گاؤں انہی جالندھر کے علوی اعوانوں نے آباد کیا۔جالندھر کے اعوانوں کی اکثریت اپنے نام کے ساتھ علوی لکھتے ہیں مگر جب تعرف کرواتے ہیں تو قطب شاہی علوی اعوان  بتاتے ہیں۔

سلسلہ نسب:


گھلّی اعوانوں کا شجرہ نسب حضرت محمّد الاکبر المعروف محمّد الحنفیہ ابن علی علیہ سلام سے ہے۔آپ کے بیٹے علی (عبدالمنان) کے ایک بیٹے عون (قطب شاہ) جن کی اولاد عرب میں بنی عون اور ہند میں قطب شاہی علوی اعوان مشہور ہے آپ کی نسل میں مشہور شخصیت حضرت قطب حیدر علوی غازی رحمااللّہ ہیں انہی کے بیٹے حضرت گوہر علی المعروف عبداللّہ گولڑہ رحمااللّہ ہیں ان کے بیٹوں میں حضرت زمان علی رحمااللّہ کی اولاد خوشاب سے ہجرت کر کے جالندھر آباد ھو گئے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب ظہیر الدین بابر سن 1519 عیسوی میں دریائے سندھ کے راستے خوشاب پہنچا تو اس کے لشکر میں شامل ھوئے اور اور فتوحات میں اس کے مدد گار بنے بابر  تیمور کی اولاد سے تھا اور خاندان اہل بیت سے یہ لوگ محبت اور عقیدت رکھتے تھے تو اس لیے بھی اعوانوں کے ساتھ اس نے بہت احترام اور اکرام والا معاملہ رکھا اور مشرقی پنجاب میں جالندھر اور کپورتھلہ کے علاقے عطا کیے اور یوں قطب شاہی علوی اعوان جالندھر میں آباد ھوئے اور صدیوں بعد ایک بارپھر جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو پھر ہجرت کی اور بڑی شان سے واپس اس خطے کا رخ کیا مگر اس بار مختلف علاقوں میں بکھر گئے اور سکونت اختیار کی۔جالندھر میں اعوان کاری کافی وسیع تھی مگر اس میں سمّی پور کافی بڑا اور مشہور گاؤں ہے اور اعوانوں کی ہر لڑی میں ایک بزرگ ولی ضرور ھوتے ہیں حضرت سماں علوی رحمااللّہ اللّہ کے ولی گذرے ہیں آپ کا مزار آج بھی مرجع خلائق ہے اور سمّی پور آپ نے ہی آباد کیاتھا اور اس سے کچھ فاصلے پر ایک گاؤں آپ کے بھائی حضرت مدار رحمااللّہ نے آباد کیا یہ دونوں گاؤں  سمّی پور اور مدار آج بھی جالندھر میں موجود ہیں۔ان کی اولاد میں سمّی پور کی مشہور شخصیات حضرت قاہی،ماہی ،رحمٰن،احمد ھوئے۔یہ چاروں بھائی تھے ۔۔


یہ پہلوان علی بن فتح علی بن میرعرب بن  گوھر علی (ثانی ) بن سوکھ علی بن زمان علی(صدرالدین)بن گوھر علی المعروف عبداللّہ گولڑہ بن حضرت قطب حیدر علوی غازی رحمااللّہ کی اولاد ہیں۔ان میں اکثر سالار (مجاہد) تھے۔

پاکستان میں یہ زیادہ تر لاہور ،فیصل آباد،لیّہ،اور کراچی میں آباد ہیں اس کے علاوہ  مختصر تعداد میں پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی آباد ہیں۔

"عبدالستار  علوی جو شام میں اسرائیل کے جہاز گرانے کی وجہ سے مشہور  ہیں آپ بھی جالندھر کی اعوان فیملی سے ہیں۔


گنگال اعوان

گنگال اعوان اعوان قوم کی گوت ہے جن کے جد اعلیٰ حضرت حسن گہگا ہیں آپکا مزار مبارک ضلع جہلم موضوع سرگڈھن میں مرجع خلائق ہے آپ بابا قطب شاہ کے بیٹے عبد اللہ گولڑا کی نسل میں سے تھے اور موضوع انگہ کے رہنے والے تھے آپ شیر شاہ سوری کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے اور جنگ کے دوران موضوع سرگڈھن میں شہید ہوئے اور وہی پر آپ کی قبر مبارک ہے آپ کی اولاد میں سے بابا نزر محمد اور بابا اللّٰہ شیر رحمۃ اللّٰہ علیہ کا مزار مبارک تحصیل گوجر خان موضوع نڑالی جبیر میں واقع ہے اور آپ کی اولاد وہاں کثیر تعداد میں آج بھی آباد ہے اس کے علاو بھیر گنگال،مک،موڑہ گنگال،ڈھوک گنگال اڈیالہ روڈ بیول،سموٹ،بھارہ کہو،ایبٹآباد میں ان کی آبادیاں موجود ہیں

لغوی تحقیق

عون کی جمع "اعوان" ہے۔ اعوان (اع-وان) (ع۔ ا۔ مذ)عون کی جمع۔ بہت سے حامی و مددگار۔ قطب کے معنی سردارقوم۔ اعلیٰ وبرگزیدہ کے ہیں۔ بطل کے معنی نامور،ہیرو،بہادر، غازی کے ہیں۔ علوی۔ حضرت علی کی غیر فاطمی اولاد ہونے کی نسبت سے "علوی" بھی کہلاتے ہیں۔ محکمہ مال میں درج آوان یااعوان دونوں کا مطلب "اعوان" ہی ہے۔

نسب

سالار(محمود)شاہوغازی (قطب شاہی علوی اعوان) وسالار سیف الدین غازی (قطب شاہی علوی اعوان) و  سالارقطب حیدرالمعروف قطب شاہ (قطب شاہی علوی اعوان) ابنان (پسران) عطااللہ بن طاہرغازی بن طیب غازی بن شاہ محمدغازی بن شاہ علی غازی بن محمداصف غازی (محمداسھل) بن عون قطب شاہ غازی (جدامجدقطب شاہی علوی اعوان) بن علی عبد المنان بن حضرت محمدالاکبر (محمدحنفیہ) بن علی بن ابی طالب۔

مختصرتاریخ قطب شاہی علوی اعوان قبیلہ

عون قطب شاہ کی اولادکتاب نسب قریش عربی میں "بنی عون" درج ہے۔ ۔ عون قطب شاہ غازی  اپنے بھتیجے یحییٰ بن زیدشہیدبن امام زین العابدین کے ہمراہ  126ھ میں خراسان و غزنی کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ آپ کی قبر آذربایئجان ،تبریز،گیلان وغیرہ  میں ہونا بیان کی جاتی ہے۔ آپ کی اولاد غزنی وغیرہ میں آبادہوئی  اور بعدمیں سبکتگین اور سلطان محمودغزنوی کے ساتھ جہاد ہندمیں شامل ہوئے۔ قدیم عربی کتب تہذیب الانساب اور منتقلۃ الطالبیہ  اور المعقبون وغیرہ میں اس شاخ کا ہندآنے کا ذکرموجودہے۔ قدیم عربی کتب نسب قریش،المعقبون، تہذیب الانساب،منتقلۃ الطالبیہ، لباب الانساب،بحرالانساب، سفرنامہ ابن بطو طہ،قدیم فارسی کتب مہاجران آل ابی طالب، منبع الانساب فارسی ،تاریخ فیروز شاہی فارسی ،تاریخ بہقی فارسی، مرات مسعودی اور مرات الاسراروغیرہ میں بھی عون قطب شاہ غازی (جدامجدقطب شاہی علوی اعوان) کی اولاد کاذکرموجودہے اور ان کتب میں عون قطب شاہ کی اولاد کے شجرات،ان کاورودہند،اور سلطان محمودغزنوی کے ساتھ جہاد ہندمیں شرکت وغیرہ کاذکرموجودہے جن میں عون قطب شاہ غازی کے سات پڑپوتے عیسیٰ ،حسین،علی،محمدغازی،احمدغازی، موسیٰ وحسن ابنان علی بن محمد(اسھل/اصف) بن عون قطب شاہ  غازی لقب بطل غازی بن علی عبد المنان بن محمدحنفیہ بن علی بن ابی طالب قابل ذک رہیں۔ نیز"تاریخ قطب شاہی علوی اعوان " جو محمدکریم خان اعوان ساکن سنگولہ آزادکشمیراور ملک مشتاق الٰہی اعوان ساکن مردوآل وادی سون سکیسر کی مشترکہ کوششوں اورقدیم  ماخذاورحوالہ جات کی روشنی میں مرتب ہوئی ہے اور متعلقہ حوالہ جات کی   عکسی نقول  بھی تاریخ ہذامیں دستیاب ہیں تاریخ قطب شاہی علوی اعوان اور دیگر تمام قدیم عربی اور فارسی ماخذکتب پہلی بارادارہ تحقیق الاعوان پاکستان کی ویب سائٹ  پردستیاب ہیں جووہاں سے ڈانلوڈ کی جاسکتی ہیں۔ اور ہندآنے کاثبوت بھی مندرجہ بالافارسی اور عربی کتب میں موجود ہے۔ تہذیب الانساب کے مطابق عیسیٰ،حسین،محمدغازی،احمدغازی وعلی کی اولاد ہندمیں آئی ہے۔ اور علی،موسیٰ اور حسن کی اولادمصروروم وغیرہ میں آبادہوئی۔ گمان غالب ہے کہ جہادہند کے وقت علی، موسیٰ و حسن کی اولادبھی اپنے دیگربھائیوں کی اولاد کے پاس غزنی وغیرہ میں برائے جہادآئے ہوں اور بعدمیں جہادہندمیں شرکت کی ہو۔

منبع الانساب فارسی  (830ہجری)تالیف سید معین الحق جھونسوی  اردوترجمہ علامہ ڈاکٹرساحل شاہسرامی علی گڑھ انڈیاکے مطابق شاہ محمدغازی وشاہ احمدغازی پسران شاہ علی غازی بن اصف غازی بن عون عرف قطب شاہ غازی بن علی عبد المنان بن ابوالقاسم امام محمدحنیف بن علی بن ابی طالب تھے۔ شاہ احمدغازی کی اولاد سے سیدحامدخان سبزواری جن کی قبر قلعہ مانک پورمیں ہے۔ اور سیدسعیدالدین سالارمسعودغازی بن سالارشاہو غازی بن عطااللہ غازی بن طاہرغازی بن طیب غازی بن شاہ محمدغازی بن شاہ علی غازی بن اصف غازی بن عون قطب شاہ غازی (جدامجدقطب شاہی علوی اعوان) بن علی عبد المنان بن محمدالاکبر(محمدحنفیہ) بن علی بن ابی طالب تھے۔ سالارمسعودغازی ،سلطان محمودغزنوی کے بھانجے تھے اور انہوں نے سلطان محمودغزنوی کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا اور اکثرسادات اشراف سالارمسعودغازی کے ہمراہ ہندوستان تشریف لائے۔ اور مرات مسعودی فارسی داستان دوم ص73کے مطابق سلطان محمودغزنوی کے امرا میں سپہ سالارلشکر سالارشاہو(قطب شاہی علوی اعوان) تھے اور بہت سے بڑے بڑے امیران و ترکان بہادر رشتہ داران سالار شاہو تھے۔ جس جانب بھی سلطان محمودغزنی کا لشکرجاتاملک گیرفتح حاصل ہوتی یہ سب سالارشاہو غازی اور ان کے قریبی رشتہ داروں کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ ابن بطوطہ نے بھی یہ لکھاہے کہ سالارمسعودغازی نے اس نواح کے اکثرملک فتح کیے ہیں "۔ تاریخ فیروزشاہی فارسی جو780 ہجری سے پہلے لکھی گئی میں لکھاہے کہ"سالارمسعودغازی راکہ از غزاۃ سلطان محمودسبکتگین بود"منبع الانساب فارسی تالف 830ہجری میں لکھاہے " سیدشاھوغازی اوندہمشیرہ(سترمعلیٰ) سلطان محمود غزنوی کتخدابودندازیک پسربودحضرت سیدسعیدالدین سالارمسعودغازی وایشان سادات علوی اندواز سادات وشرطاتی درہندہمراہ ایشان اآمدہ اند"۔ طبقات اکبری فارسی جو1014ہجری سے قبل لکھی گئی میں لکھاہے سالارمسعودشہید کی قبرکی زیارت کی جو سلطان محمودغزنوی کے قرابت دار تھے۔ حاشیہ 3 میں درج ہے سالارمسعودغازی برصغیرکے اولین غازی و شہیدہیں "۔ تاریخ فرشتہ تالیف1611عیسوی ترجمہ عبد الحی خواجہ ص 441پردرج ہے "حضرت مسعودغازی ،سلطان محمودغزنوی کے بھانجے تھے اور آل محمودکے عہدحکومت میں غیر مسلموں کے ہاتھوں جام شہادت پیا"۔ مخزن افغانی فارسی 1021ہجری لکھی گئی سلطان محمودغزنوی کے سرداروں کے نام درج ہیں جن میں ملک سالارشاہو(  قطب شاہی علوی اعوان)کاذکر بھی ہے۔ پشتوڈکشنری ریاض المحبت (1805عیسوی) میں درج ہے "سالارساہوزابل کے سردارتھے اور ان کا ایک ہی لڑکا(سالارمسعودغازی)پیداہواجس کی قبربہڑائچ میں ہے "۔ سیفنۃ اولیا فارسی تالیف 1067ہجری میں درج ہے "سالارمسعودغازی از سرداران وغازیان لشکرسلطان محمودغزنوی انددراوائل اسنام در ھندوستان فتوحات بسیار نموددہ اندودرجہ شھادت رسیدہ شہادت ایشان در چھارصدنوزدہ ھجری بودہ"۔ تاریخ بہقی 470ہجری جلداول ص57پرعلویان کے حوالہ سے درج ہے "قاضی رئیس و خطیب ونقب علویان وسالارعلویان وسالارغازیان راخلتھا راست کندہم"۔  قبیلہ کا شجرہ نسب منبع الانساب فارسی اور مرات مسعودی فارسی میں یوں درج ہے :۔ سالارمسعودغازی(قطب شاہی علوی اعوان) بن سالارشاہو غازی بن عطااللہ غازی بن طاہرغازی بن طیب غازی بن شاہ محمدغازی شاہ علی غازی بن محمداصف غازی بن عون قطب شاہ غازی(جدامجدقطب شاہی علوی اعوان) بن علی عبد المنان بن محمدالاکبر(محمدالحنفیہ) بن علی بن ابی طالب بن ابی طالب۔ مرات مسعودی فارسی 1037ہجری کے مطابق سالارمسعودغازی (قطب شاہی علوی اعوان ) کی شہادت14رجب المرجب 424ہجری کوبہڑائچ ہندوستان میں ہوئی آپ کا مزارمبارک بہڑائچ میں مرجع خلائق عام ہے۔ برصغیرپاک وہندمیں یہ قبیلہ پنجاب کے علاقے کالاباغ،خوشاب،وادی سون سکیسر،نوشہرہ،چکوال،سرگودھا وغیرہ،خیبرپختون خواہ میں ہزارہ کشمیرکے علاقے سنگولہ،پونچھ،اوڑی،مظفرآباد وغیرہ اور سندھ اور بلوچستان کے علاوہ جالندھر،امرت سر اورہندوستان میں آبادہے۔ ہندوستان کے اکثرعلاقوں میں یہ قبیلہ علوی کہلاتاہے۔

اعوان شخصیات

مآخذ

  • کتاب نسب قریش عربی تالیف لابی عبد اللہ المصعب بن عبد اللہ بن المصعب الزبیری (236-156ہجری) صفحہ77،
  • تہذیب الانساب ونہایۃ الاعقاب عربی تالیف ابی الحسن محمدبنی ابی جعفر(449ہجری) صفحات273-274،
  • منتقلۃ الطالبیہ عربی تالیف الشریف النسابہ ابی اسماعیل ابراہیم بن ناصرابن طباطبا(471ہجری)صفحات 303،331،352،
  • مہاجران آل ابی طالب فارسی تالیف الشریف النسابہ ابی اسماعیل ابراہیم بن ناصرابن طباطبا(471ہجری)صفحات 246،255،332،
  • لباب الانساب والالقاب والاعقاب عربی (565ہجری) تالیف ابی الحسن بن ابی القاسم صفحہ 727،
  • منبع الانساب فارسی تالیف السیدمعین الحق جھونسوی (830ہجری) صفحات103-104،
  • مرات مسعودی فارسی تالیف عبد الرحمن چشتی (1014ہجری تا1037)ص 7،
  • مرات الاسرار فارسی تالیف عبد الرحمن چشتی (1045-1065ہجری) ص142،
  • تاریخ بحرالجمان تالیف سیدمحبوب شاہ داتا (1332ہجری)،
  • تحقیق الاعوان تالیف ایم خواص خان گولڑہ اعوان (1966) ص 156،
  • تاریخ الاعوان تالیف ملک شیرمحمداعوان آف کالاباغ،
  • تذکرۃ الاعوان تالیف ملک شیرمحمداعوان آف کالاباغ ،
  • تاریخ علوی اعوان تالیف محبت حسین اعوان ایڈیشن 1999ص 347و752،
  • حقیقت الاعوان تالیف صوبیدارمحمدرفیق اعوان چکوال،
  • تحقیق الانساب جلداول تالیف محمدکریم خان اعوان،
  • تحقیق الانساب جلد دوم ص 224،
  • تاریخ قطب شاہی علوی اعوان تالیف محمدکریم خان اعوان سنگولہ راولاکوٹ آزادکشمیروملک مشتاق الہی اعوان مردوآل وادی سون سکیسر ص 6،
  • مختصرتاریخ علوی اعوان معہ ڈائریکٹری ص 4
  • ،144) Glossery of Tribe vol.2, page 26,
  • The Punjab Chiefs Revised Edition by W.L.Conran & H.D.Craik vol.-2,page 292,
  • Punjab Cast by Sir Denzil Ibbetson ch-iv,page 389
  • اعوان قبیلہ تعارف یوسف جبریل
  • حقیقت الاعوان جلد اول صوبیدار(ر) محمد رفیق علوی ص2

بیرونی روابط

  • Qadeer، Mohammad (22 November 2006). Pakistan - Social and Cultural Transformations in a Muslim Nation. Taylor & Francis. صفحہ 71. ISBN 1134186177. 

حوالہ جات