شفیع بہرائچی

شفیع ؔ بہرائچی حمد نعت اور غزل پر حاکمانہ قدرت رکھتے تھے۔آپ کا کلام ماہنامہ شاعر آگرہ روزنامہ انقلاب اور ماہنامہ چودھویں صدی بہرائچ کے علاوہ

حاجی شفیع اللہ شفیع ؔ بہرائچی کی پیدائش 1902ء میں شہر بہرائچ کے محلہ براھمنی پورہ چوک بازار میں حاجی براتی میاں نقشبندی چونا والے کے گھر میں ہوئی تھی۔ آپ کی تعلیم گھر پر ہوئی۔ آپ شہر بہرائچ کے نامور تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کی دُکان ادبی محفل کا مقام تھی۔ حاجی شفیعؔ صاحب نے 1963ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ 6 جولائی 1973ء کو ان کا انتقال ہوا۔ درگاہ ریلوے کراسنگ سے متصل احاطہ حیرت شاہؒ میں اپنے والد کے پہلو میں ان کی آخری آرام گاہ ہے۔

شفیع ؔ بہرائچی
حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی
پیدائششفیع اللہ
1902
محلہ براہمنی پورہ چوک بازار بہرائچ صوبہ متحدہ برطانوی ہند
وفات06 جولائی 1973ء
چاندپورہ نزد آستانہ امیرماہ بہرائچ،اتر پردیش بھارت
آخری آرام گاہاحاتہ حیرت شاہ نزد درگاہ ریلوے کراسنگبہرائچ،اتر پردیش بھارت
پیشہ،شاعری ،ادب سے وابستگی، تجارت
زباناردو
قومیتبھارتی
نسلبھارتی
شہریتبرطانوی ہند (1947–1902)بھارتی(1973-1947)
تعلیمدینی تعلیم
موضوعنعت ،غزل
شریک حیاتمریم خاتون
اولادمحمدنعیم اللہ ۔ محمدشمیم اللہ۔ستارہ بیگم۔انوری بیگم۔بلکیس بیگم۔محمدنسیم اللہ۔حاجی محمد علیم اللہ۔ محمد سفیق اللہ
رشتہ دارفیض بہرائچی،جنید احمد نور
ویب سائٹ
http://faranjunedahmad.blogspot.in/2014/05/haji-shafiullah-shafi-bahraichi.html

ادبی سفر

ترمیم

شفیع ؔ بہرائچی حضرت جگر بسوانی کے شاگرد تھے۔ شوق بہرائچی اور رافتؔ بہرائچی سے صلاح مشورہ کرتے تھے۔ حضرت جگر ؔ بسوانی سے خط کتابت کے ذریعہ اپنے کلام کی اصلاح کرواتے تھے۔ آپ کی دکان پر بہرائچ کے تمام نامور شخصیات کا آنا جانا رہتا تھا۔ شفیعؔ صاحب بہرائچ سے شائع ہونے والے ادبی رسالے چودھویں صدی کے سرپرست تھے۔

اہم شخصیات سے رابطہ

ترمیم

شفیع بہرائچی شوق بہرائچی اور رافت بہرائچی کے دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ کیفیؔ اعظمی جب بھی بہرائچ[1] تشریف لاتے تو شفیعؔ صاحب سے ضرورملنے جاتے تھے۔عبدالرحمن وصفیؔ بہرائچی ،ڈاکٹر نعیم اللہ خاں خیالی، بابا جمال بہرائچی، محسن زیدی، واصل بہرائچیساغرمہدی،ایمن چغتائی نانپاروی،واصف القادری، اظہار وارثی، بابو لاڈلی پرشاد حیرتؔ ،نجم خیرآبادی سے آپ کی گہری دوستی تھی۔ آپ کی تجارت کا مرکز شہر بہرائچ کی ادبی محفل کا ایک اہم مرکزتھا جہاں پر روز شام کو شعر و سخن کی محفل جمتی تھی۔

ادبی خدمات

ترمیم

شفیع ؔ بہرائچی حمد نعت اور غزل پر حاکمانہ قدرت رکھتے تھے۔ آپ کے 2 مجموعہ کلام کا ذکر محمد نعیم اللہ خیالی کی ایک غیر مطبوعہ کتاب [2] میں ملتا ہے جس کا نام (1) مجموعہ آئینہ سخن مطبوعہ غزل اور (2)نعت و منقبت جلوئے غازی ہیں۔[2] آپ کا کلام ماہنامہ شاعر آگرہ ,روزنامہ انقلاب اور ماہنامہ چودھویں صدی بہرائچ کے علاوہ مختلف رسالوں میں شائع ہو تا رہا ہے۔ شفیع صاحب کا کلام قلمی نسخوں کی شکل میں محفوظ ہے۔ نعمتؔ بہرائچی اپنی کتاب تذکرہ شعرائے ضلع بہرائچ میں شفیع بہرائچی کے بارے میں لکھتے ہے کہ

جناب شفیع صاحب کہنہ مشق اور زودگو شاعر تھے، بڑی مخیر اور دیندار ہستی تھی۔ ایک فنکار ہونے کی حیثیت سے آپ میں ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ اپنے کلام میں ایک ساتھ نفی و اثبات کو اس فن کارانہ طریقہ سے سمو دیتے تھے کہ سامعین کا ذہن حیرانی و امتیاز ہی میں کھو جاتا تھا۔ بسا اوقات سامع اپنی غلط فہمی پر خود ماتم کرتا تھا۔ مختصر یہ کہ آپ کی ذات گرامی بہت ہی خصوصیات کی حامل تھی۔

[3]

نمونہ کلام

ترمیم
قسم خدا کی نہ پایا کہیں شفیعؔ اب تک

جو کیف دے گئی مجھ کوسحر مدینے کی

غزل جناب الحاج شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی

ارے توبہ عذر جفا کروں کبھی ظرف ایسا میرا نہیںوہ مٹادیں چاہے ابھی مجھے کوئی شکوہ کوئی گلا نہیں
میں سمجھ گیا ہوں کلیم کو ذرا کام عقل سے لیجئےوہ تمیز جلوہ کریگا کیا جسے ہوش اپنا رہا نہیں
میرا دست آز اٹھا سہی میں سزا کا واقعی مستحقتو کرم نواز ازل سے تھا مجھے صبر پھر بھی دیا نہیں
تو اٹھا دے پردہ تو دیکھ لوں کسے ہوش ہے تجھے دیکھ کرابھی ہر نگاہ ہے مدعی کوئی پردہ جبکہ اٹھا نہیں
میں سمجھ گیا جو ہے کعبہ میں مجھے اتفاق ہے دیر سےمیں فریب جلوہ نہ کھاؤں گا کوئی اور تیرے سوا نہیں
مجھے ذوق عذر ستم سہی مگر اسکا اتنا ملال کیوںجو گلہ بھی ہے وہ ہے آپ سے کسی غیرسے تو گلا نہیں
وہ بری کٹے میری زندگی مجھے فکر اسکی نہیں شفیعؔوہ بگڑ کے میراکرینگے کیا کوئی بت میرا خدا نہیں

[4]

یہ غزل ماہنامہ چودہویں صدی بہرائچ کے شمارہ فروری 1953ء میں شائع ہو چکی ہے۔

حال تیرے جگر فگاروں کاجیسے نقشہ مٹی بہاروں کا
ہمکو تو برق سے امید نہیں ساتھ کچھ دے جو بےقراروں کا
آپ کیا بے نقاب آئے ہیں نور کیوں اڑ گیا ستاروں کا
اجب قفس تک ہے زندگی محدودتذکرہ کیوں سنیں بہاروں کا
ہم نہ کہتے تھے آپ روئیں گے چھوڑئے ذکر بے قراروں کا
امیرے چھالوں کی کمپسری پر دل بھر آیا خود آج خاروں کا
امیں اسی در کا ہوں غلام شفیعؔ سر جہاں خم ہے تاجداروں کا

[3]

حوالہ جات

ترمیم
  1. احساسات فیض مطبوعہ 2015
  2. ^ ا ب سخن وران بہرائچ
  3. ^ ا ب https://rekhta.org/ebooks/tazkira-e-shora-e-zila-bahraich-ebooks#
  4. ماہنامہ چودہویں صدی بہرائچ کے شمارہ فروری 1953ء

بیرونی روابط

ترمیم