قرون وسطیٰ کی مسلم دنیا میں علم فلکیات

قرون وسطی میں مسلمانوں کے اقتدار پھیلنے کے ساتھ ساتھ یہ مذہب کے حکام اور رعایا اچھے سیکھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ثابت ہوئے۔ مسلم حکام نے مفتوحہ علاقوں کی ترقی یافتہ تہذیب کے مقابلے میں اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے مقامی اداروں، خیالات، نظریات اور ثقافت کو اسلامی سانچے میں ڈھال لیا۔ انھوں نے اپنے زیادہ ترقی یافتہ مفتوحین سے سیکھنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کی۔ عظیم لائبریریاں اور دار التراجم قائم ہوئے۔ سائنس، طب اور فلسفہ کی بڑی بڑی کتابوں کو مشرق و مغرب سے اکٹھا کر کے ان کے ترجمے کیے گئے۔ یونانی، لاطینی، فارسی، شامی اور سنسکرت زبانوں سے ترجمہ کرنے کا کام عام طور پر یہودی اور مسیحی مفتوحین نے سر انجام دیا۔ اس طرح ادب، سائنس اور طب کی دنیا بھر کی بہترین کتابیں عوام الناس کے لیے میسر ہو گئیں۔ ترجمے کے دور کے بعد تخلیقی کام کا دور شروع ہوا۔[1]

ہادی اصفہانی کا بنایا ہوا تانبے کا گول کرہ سماوی جس میں منازل فلکی کی تصاویر اور نقشے دکھائی دیتے ہیں۔ زمانہ: 1197ھ/ 1782ء
تیرہویں صدی عیسوی کے مشہور ماہر فلکیات قطب الدین شیرازی کی شبیہ جس میں نظامِ شمسی کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔

قرونِ وسطیٰ یعنی 500ء سے 1500ء تک کے زمانہ میں دنیا کے دو تہائی حصہ پر مسلم حکومت قائم تھی۔ مسلمانوں نے علوم دُنیوی کا کوئی شعبہ بغیر تحقیق کے نہیں چھوڑا، حتیٰ کہ اپنی دسترس میں لے کر اُسے مزید نئے حقائق کی بنیاد پر روشناس کروایا۔ قرونِ وسطیٰ کی اسلامی دنیا میں سائنسی مضامین میں سب سے زیادہ اہمیت اور توجہ علم ہیئت کو دی گئی کیونکہ اِس علم کے ذریعہ سے مسلمان کسی بھی مقام سے سمتِ قبلہ معلوم کرسکتے تھے۔

اوقات صلوٰۃ، مذہبی تہواروں جیسے کہ نئے چاند کے طلوع اور رؤیتِ ہلال اور ماہِ صیام کے تعین کے لیے خاص رؤیتِ ہلال کا تعین اور حج جیسے عظیم فریضہ کی ادائیگی کے لیے ایام کا تعین کرنا بھی ضروری تھا۔

علم فلکیات میں مسلمانوں نے اصطرلاب کے علاوہ تمام اسلامی ممالک میں رصدگاہیں تعمیر کیں، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ باقاعدہ رصدگاہوں کا قیام خاص مسلمانوں کی ہی ایجاد ہے۔ انھوں نے آفتاب و ماہتاب کی روشنی، زمین کی حرکت، روشنی کی رفتار جیسے دقیق و پیچیدہ مسائل پر تحقیقات کیں۔ ماہ و سال کی مقداروں کی صحیح پیمائش دریافت کی۔ سورج اور چاند گرہن کے اسباب اور استخراج کے طریقے معلوم کیے۔ اندلس کے فاضل ہیئت دان اور ماہر آلات ابو اسحاق ابراہیم الزرقالی (1029ء – 1087ء) نے پہلی بار یہ دعویٰ کیا تھا کہ ستاروں کے مدار بیضوی ہوتے ہیں نہ کہ گول، کیونکہ وہ سفر کرتے ہوئے انڈے کی شکل نما دائروں میں سورج کے گرد گردش کرتے ہیں۔ گیارہویں صدی عیسوی میں پیش کیا جانے والا یہ نظریہ جس کی تصدیق کئی صدیوں بعد نیکولس کوپرنیکس نے کی۔ یہ بات یاد دہانی کے قابل ہے کہ دسویں صدی عیسوی کے مایہ نار مشہور ماہر فلکیات و مؤرخ ابوریحان البیرونی (973ء- 1048ء) نے یقین کامل سے کہا تھا کہ زمین اپنے مدار پر گھومتی ہے۔ اندلس کے ماہر فلکیات ابن رشد نے اپنے قیامِ مراکش کے دوران سورج کی سطح پر پائے جانے والے سیاہ دھبے دریافت کیے۔

خلافت عباسیہ کے زمانہ میں علم ہیئت و فلکیات اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ عباسی خلیفہ ابوجعفر المنصور (عہد حکومت: 10 جون 754ء- 6 اکتوبر775ء) نے جب بغداد کی بنیاد رکھنا چاہی تو ماہرین فلکیات اور منجمین سے مشورہ کیا گیا۔ اِس معاملہ میں نوبخت اہوازی بھی شامل تھا جو غالباً آٹھویں نویں صدی عیسوی میں زندہ تھا۔ نوبخت نے زائچہ کے مطابق بنیادِ بغداد کی تاریخ 30 جولائی 762ء منتخب کی تھی اور اِسی کے مشورہ پربغداد کا نقشہ بھی بنایا گیا تھا۔ نوبخت مذہباً زرتشتی تھا مگر اُس نے ابوجعفر المنصور کے عہد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید (813ء- 833ء) اپنے باپ ہارون الرشید (786ء- 809ء) سے بڑھ کر سائنسدانوں کا سرپرست تھا۔ مامون الرشید نے یونانی زبان کے علوم کی ترویج کی خاطر تمام کتب ہائے یونانی کو حاصل کیا اور اُن کتب کو عربی میں ترجمہ کروایا۔ یونانی کتب کو حاصل کرنے کے لیے بازنطینی قیصرِ روم لیو پنجم آرمینی (عہد حکومت: 22 جون 813ء تا 25 دسمبر 820ء) کے پاس سفارت کار بھیجے تھے۔ مامون کے حکم سے متعدد یونانی کتب کا عربی ترجمہ کیا گیا اور اِس کی ہدایت پر تدمر شہر میں ایک رصدگاہ تعمیر کی گئی۔ مامون نے ماہرین ہیئت کو زمین کے محیط کی پیمائش کرنے کے لیے 70 سے زائد ماہرین جغرافیہ و ہیئت دانوں کو مامور کیا۔ اِن ماہرین جغرافیہ و ہیئت کا صدر الفرغانی تھا، اِس تحقیق کے نتیجہ میں زمین کا محیط 25,009 میل نکلا جبکہ موجودہ پیمائش 24,858 میل ہے جبکہ قدیم پیمائش اور موجودہ جدید پیمائش کے مابین فرق صرف 151 میل ہے جسے آلات یا مقام کی غلطی سمجھا گیا ہے۔ مامون کے حکم پر دنیا کا ایک بڑا مفصل اورجامع نقشہ بھی تیار کیا گیا جو بڑی حد تک موجودہ دنیا کے خطہ سے مشابہ ہے۔ دسویں صدی ہجری کے آخر تک سینکڑوں علمائے فلکیات نے اِس موضوع پر ہزاروں کتب اور جداولات تیار کیں، اِن میں سے کم و بیش 100 کتب ایسی تھیں جنہیں فلکیات کی تاریخ میں قیمتی اضافہ و اساس سمجھا جاتا ہے۔ مغرب میں اِنہی کتب کی وجہ سے اہل مغرب روشناس ہوئے۔ ابتدائی مصنفین فلکیات میں الفرغانی (جو 861ء تک بقیدِ حیات تھا) کی کتاب ” المدخل الی علم الہیئیۃ الافلاک” ہے۔ منجم ابن عباس الجوہری نے مامون الرشید کے عہد خلافت میں بغداد (829ء/830ء) اور دمشق میں (832ء/833ء) میں کیے جانے والی فلکی مشاہدات میں شرکت کی تھی۔ اُس نے اقلیدس کی ہندسہ کی کتاب العناصر پر شروح لکھیں۔ حجاج ابن یوسف (متوفی 833ء) پہلا مسلمان مترجم تھا جس نے اُقلیدس کی کتاب العناصر اور بطلیموس کی المجسطی جیسی دقیقی کتب ہائے فلکیات کا یونانی سے عربی میں ترجمہ کیا۔ فارس کے مسلم ماہر فلکیات و جغرافیہ دان/ریاضی دان احمد بن عبد اللہ حبش الحاسب المروزی (پیدائش: 796ء/ وفات: 874ء) نے دس سال تک بغداد میں اجرام فلکی کے مشاہدات کے بعد تین مفصل زیجیں تیار کیں۔ 829ء میں جب سورج گرہن واقع ہوا تو اُس نے عین وقتِ گرہن سورج کی بلندی سے وقت کا تعین کیا۔ مزید یہ کہ اُس نے سایہ کے جداوالات تیار کیے۔

علی ابن عیسی اصطرلابی (متوفی 836ء) کے تو نام کا حصہ اصطرلاب کی وجہ سے تھا کیونکہ وہ اُصطرلاب بنانے کا ماہر تھا۔ اُس نے اُصطرلاب بنانے پر متعدد مقالہ جات لکھے۔ یحیی ابن ابی منصور (متوفی 831ء) نے بغداد میں فلکی مشاہدات کیے اور کئی کتب ہائے فلکیات لکھیں، اُس نے زیج ممتحن بھی تیار کی۔ یحییٰ ابن ابی منصور کا پوتا ہارون ابن علی (متوفی 901ء) بھی آلاتِ رصد بنانے کا ماہر تھا۔

حبش الحاسب نے زمین اور چاند کی جو پیمائش کی وہ یہ ہیں

ترمیم
  • زمین کا محیط: 20,160 میل/ 32,444 کلومیٹر۔
  • زمین کا قطر: 6414.54 میل/ 10323.201 کلومیٹر۔
  • زمین کا رداس: 3207.275 میل/ 5161.609 کلومیٹر۔
  • سورج کا قطر: 35280.02503 میل/ 56,777.6966 کلومیٹر
  • سورج کا محیط: 110880.078466 میل/ 178,444.189 کلومیٹر۔
  • چاند کا قطر: 1886.8 میل/ 3036.5 کلومیٹر۔
  • چاند کا محیط: 5927.025 میل/ 9538.622 کلومیٹر۔

اصطرلاب

ترمیم

ابن عیسیٰ اُصطرلابی (متوفی 836ء) کے تو نام کا حصہ اُصطرلاب کی وجہ سے تھا کیونکہ وہ اُصطرلاب بنانے کا ماہر تھا۔ اُس نے اُصطرلاب بنانے پر متعدد مقالہ جات لکھے۔ یحییٰ ابن ابی منصور (متوفی 831ء) نے بغداد میں فلکی مشاہدات کیے اور کئی کتب ہائے فلکیات لکھیں، اُس نے زیج ممتحن بھی تیار کی۔ یحییٰ ابن ابی منصور کا پوتا ہارون ابن علی (متوفی 901ء) بھی آلاتِ رصد بنانے کا ماہر تھا۔ بغداد کے موسی برادران تین ممتاز ماہرین فلکیات بھائی تھے جنہیں عباسی خلیفہ مامون الرشید نے ایک سائنسی پراجیکٹ یعنی عرض بلد کی درجات نکالنے کا کام سونپا۔ اِس کے لیے انھوں نے شمالی عراقی ریگستان میں جاکر اِسی واسطے کام کیا۔ موسیٰ برادران نے چاند، سورج اور سیاروں ستاروں کے مشاہداتِ فلکی کا جائزہ لیا۔ ایک ثابت ستارہ ریگولس یعنی قلب الاسد کا مشاہدہ بغداد میں واقع اپنے مکان سے دس سال تک یعنی 840ء سے 851ء تک کیا، یہ مکان ایک بلند پل پر واقع تھا۔ دو ماہرین فلکیات بھائی محمد (متوفی 872ء) اور احمد نے سالِ شمسی کی پیمائش کی جو 365 دن 6 گھنٹے تھی۔

وسطی ایشیائی ریاستوں کا عظیم مسلم ماہر فلکیات ابو العباس احمد کثیر فرغانی (800ء- 870ء) تھا جو عباسی دربارِ بغداد سے وابستہ تھا۔ الفرغانی عباسی خلیفہ مامون الرشید کا منجم اور عالی مرتبہ ہیئت دان تھا۔ اُس نے ہیئت پر جامع کتب قلمبند کیں جیسے کہ اُصول علم النجوم، المدخل اِلی علم الہیئت افلاک، کتاب الحرکات السماویہ، الجوامع علم النجوم۔ الفرغانی کی کتاب الجوامع علم النجوم کا لاطینی ترجمہ پہلی بار جیرارڈ آف کریمونا Gerard of Cremona نے 1135ء میں کیا تھا اور اِس کتاب کا جرمن ترجمہ 1537ء میں نورمبرگ جرمنی سے اور فرانسیسی ترجمہ 1546ء میں پیرس سے اور دوبارہ 1590ء میں فرینکفرٹ جرمنی سے شائع ہوا تھا۔ ہسپانوی زبان میں الجوامع علم النجوم کا ترجمہ 1590ء میں فرینکفرٹ جرمنی سے شائع ہوا۔ انگریزی ترجمہ کمپینڈئیم آف آسٹرانومی کے نام سے تقریباً سولہویں صدی عیسوی میں یورپ میں مقبولِ عام تھا۔ الفرغانی نے دریا کی طغیانی ناپنے کا آلہ اور دھوپ گھڑی بھی ایجاد کی۔ عباسی عہد زریں کا ایک اور نام یعقوب ابن اسحاق الکندی (801ء- 873ء) اپنی ذات میں منفرد ماہر فلکیات تھا۔ الکندی نے باقاعدہ رصدگاہی نظام میں پیش رفت کی۔ اِسی نظام کی ترویج میں اہم خدمات سر انجام دینے کے لحاظ سے مغربی مستشرقین نے اُسے اپنے عہد کا بطلیموس کہا ہے۔ الکندی نے چاند کی 28 منازل قمری کی تشریح اور وضاحت کی۔ الکندی نے بتلایا کہ چاند 26 دنوں میں کتنی مسافت طے کرتا ہے اور زمین پر اِس کا طلوع و غروب کیسے واقع ہوتا ہے؟۔ علم فلکیات پر الکندی کی مشہور تصانیف یہ ہیں: کتاب فی المناظر الفلکیہ، الرسالہ فی کیفیات نجوالمیہ، کتاب فی امتناع المساحۃ الفلک الاقصی، الرسالہ فی رجوع الکواکب، الرسالہ فی الحرکات الکواکب، الرسالہ فی علم الشعاع، الرسالہ فی النجوم، الرسالہ فی الہالات للشمس والقمر الاضوا النیرہ (یہ رسالہ سورج اور چاند کے گرد ہالوں کے بیان پر ہے)، الرسالہ فی مطرح الشعاع، الرسالہ فی رویۃ الہلال ۔

آٹھویں صدی عیسوی کے اختتامی عشروں میں بلخ، خراسان میں پیدا ہونے والا مسلم منجم و ماہر فلکیات جعفر بن محمد ابوالمعشر البلخی (10 اگست 787ء- 9 مارچ 886ء) عباسی خلیفہ معتمد باللہ (عہد حکومت: 870ء تا 892ء) کے بھائی المُوَفق کا منجم تھا۔ ابومعشر نے علم فلکیات پر 24 کتب تصنیف کیں جیسے کہ ہیئت الفلک، اثبات النجوم، الزیج الکبیر، الزیج الصغیر۔ اِن کتابوں کو لاطینی زبان میں جیرارڈ آف کریمونا (پیدائش: 1114ء، اٹلی/ وفات: 1187ء، ہسپانیہ) نے منتقل کیا۔ مسلم مؤرخ ابن خلکان کردی (1211ء- 1282ء) نے ابومعشر کی تین کتابوں کا ذکر کیا ہے: المدخل الکبیر، کتاب الالوف ] (یعنی ایک ہزار) اور الزیج۔ کتاب المدخل الکبیر غالباً 848ء میں مکمل ہو چکی تھی، اِس کا لاطینی ترجمہ یوحنا الاشبیلی نے 1133ء میں کیا۔ ابومعشر براہِ راست ارسطو اور الکندی سے متاثر تھا۔ ابومعشر نے پیشگوئی کی تھی کہ وہ 98 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگا اور اِسی پیشگوئی کے اعتبار سے ابومعشر 98 سال کی عمر میں 9 مارچ 886ء کو واسط، عراق میں فوت ہوا۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. "الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات - مبشر نذیر - بزم اردو لائبریریبزم اردو لائبریری"۔ 21 اپریل 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 نومبر 2016