ابراہیم ابن محمد

حضور پاکﷺ اور حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا کے بیٹے
(ابراہيم بن محمد سے رجوع مکرر)

ابراہیم بن محمد (عربی:ابراہیم بن محمد) حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ماریہ القبطیہ کے بیٹے تھے۔ اُن کا نام حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد امجد حضرت ابراہیم کے نام پر رکھا گیا تھا۔ عرب کی روایات کے مطابق بچپن میں آپ پرورش و نگہداشت کے لیے اُم سیف نامی دائی کے سپرد کر دیا گیا، جن کو حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ بکریاں بھی دیں۔

ابراہیم بن محمد
ابراہیم بن محمد
إِبْرَاهِيم ٱبْن مُحَمَّد
معلومات شخصیت
پیدائش ذوالحجۃ  ; ت مارچ 630 عیسوی
مدینہ منورہ, حجاز, سعودی عرب
وفات شوال 30, 10ھ ; ت جنوری, 632 عیسوی
مدینہ منورہ, حجاز, سعودی عرب
مدفن جنت البقیع   ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمد صلی اللہ علیہ وسلم
والدہ ماریہ قبطیہ
بہن/بھائی
خاندان اہل بیت

نام و نسب

سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت ابراہیم رضی اللّٰه عنہ بن سید المرسلین خاتم النبین حضرت محمدﷺ بن عبد اللّٰه بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک۔ (رضی اللّٰه عنہم اجمعین) یہ حضورِ اکرمﷺ کی اولاد مبارکہ میں سب سے آخری فرزند ہیں۔

ولادت اور دیگر حالات

آپ کی ولادت باسعادت27/ذو القعدہ ، مطابق 17/مارچ 630ء بروز بدھ، مدینہ منورہ کے قریب مقام ’’عالیہ‘‘ کے اندر ماریہ قبطیہ کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے۔ اس لیے مقام عالیہ کادوسرا نام مشربۂ ابراہیم بھی ہے۔ ان کی ولادت کی خبر حضورِ اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام ابو رافع نے مقام عالیہ سے مدینہ آ کر بارگاہِ اقدس میں سنائی۔ یہ خو ش خبری سن کر حضورِ اکرم ﷺنے انعام کے طور پر حضرت ابو رافع کو ایک غلام عطا فرمایا۔ اس کے بعد فوراً ہی حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ ﷺ کو’’یااباابراہیم‘‘کہہ کر پکارا۔ حضور ﷺ بے حد خوش ہوئے اور ان کے عقیقہ میں دو مینڈھے آپ نے ذبح فرمائے اور ان کے سر کے بال کے وزن کے برابر چاندی خیرات فرمائی اور ان کے بالوں کو دفن کرادیا اور ’’ابراہیم‘‘ نام رکھا۔ انس بن مالک سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اہل و عیال پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر کسی کو شفیق نہیں پایا، حضرت ابراہیم عوالی مدینہ میں دودھ پیتے بچے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں ملنے جایا کرتے تھے، ہم بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس گھر میں داخل ہوتے تو وہ دھوئیں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ خاتونِ خانہ کا شوہر لوہار تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں پکڑ کر پیار کرتے اور کچھ دیر بعد واپس آجاتے، جب حضرت ابراہیم (رضی اللہ عنہ) کی وفات ہو گئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابراہیم میرا بیٹا تھا، جو بچپن میں ہی فوت ہو گیا، اس کے لیے دو دائیاں مقرر کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی مدت رضاعت کی تکمیل کریں گی۔ [1] حضرت انس رضی ﷲ عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول ﷲﷺ کے ساتھ حضرت ابوسیف رضی اللّٰه عنہ کے مکان پر گئے تو یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم جان کنی کے عالم میں تھے۔ یہ منظر دیکھ کر رحمتِ عالمﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اس وقت عبد الرحمن بن عوف رضی اللّٰه عنہ نے عرض کیا کہ یارسول ﷲ!ﷺ کیا آپ بھی روتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عوف کے بیٹے! یہ میرا رونا ایک شفقت کا رونا ہے۔ اس کے بعد پھر دوبارہ جب چشمان مبارک سے آنسو بہنے لگے تو آپ کی زبان مبارک پر یہ کلمات جاری ہو گئے: ’’اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ‘‘ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب خوش ہو جائے اور بلاشبہ اے ابراہیم! ہم تمھاری جدائی سے بہت زیادہ غمگین ہیں۔ جس دن حضرت ابراہیم رضی اللّٰه عنہ کا انتقال ہوا اتفاق سے اسی دن سورج گرہن لگا۔ عربوں کے دلوں میں زمانہ جاہلیت کا یہ عقیدہ جما ہوا تھا کہ کسی بڑے آدمی کی موت سے چاند اور سورج میں گرہن لگتا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم رضی اللّٰه عنہ کی وفات کی وجہ سے ہوا ہے۔

حضورِ اقدسﷺ نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا جس میں جاہلیت کے اس عقیدہ کا رد فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ اْلشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اٰیَتَانِ مِنْ اٰیٰاتِ اﷲِ لَایَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہٖ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْھَا فَادْعُوا اللہَ وَصَلُّوْا حَتّٰی یَنْجَلِیْ‘‘۔ [2] یقیناً چاند اور سورج ﷲ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ کسی کے مرنے یا جینے سے ان دونوں میں گرہن نہیں لگتا جب تم لوگ گرہن دیکھو تو دعائیں مانگو اور نماز کسوف پڑھو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔ [3]

بیماری اور وفات

غزوہ تبوک کے کچھ عرصے کے بعد ابراہیم بیمار ہو گئے، اُس وقت اُن کی عمر سولہ یا اٹھارہ ماہ تھی۔

 
جنت البقیع، مدینہ میں ابراہیم کی قبر

حضرت ابراہیم کے وصال کے دن عرب میں سورج گرہن لگا۔جدید ریاضی حساب کے مطابق وہ دن 7/جنوری 632ء کو 8:30 لگا تھا۔اس حساب سے قمری تاریخ 9/شوال المکرم 10ھ۔تو بحساب ِ شمسی ان کی عمر ایک سال 9 ماہ ،20دن اور بحساب قمری ایک سال،10 ماہ اور چھ دن ہوتی ہے۔ ۔ روایت ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابراہیم کو جنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون کی قبر کے پاس دفن فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے ان کی قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا۔[4]

حوالہ جات

  1. مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 1099
  2. (بخاری جلد 1 ص 145 باب الدعاء فی الکسوف)
  3. (مدارج النبوۃ جلد 2 ص 254)
  4. مدارج النبوۃ جلد2 ص 453

مزید دیکھیے