زینب بنت محمد

پیغمبر محمد کی سب سے بڑی بیٹی

سیدہ زینب بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (پیدائش: 600ء— وفات:مئی/ جون 629ء) پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی صاحبزادی اور دوسری اولاد تھیں۔ وہ قاسم بن محمد کے بعد پیدا ہوئیں تھیں۔ حضرت زینب آنحضرت کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپ بعثتِ نبوی سے دس برس پہلے پیدا ہوئیں۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر 30 برس تھی۔ آپ اوّلین مسلمان ہونے والوں میں سے تھیں۔ مشرکین مکہ کی جانب سے حضور اور آپ کے اہل و عیال کو جو تکلیفیں پہنچیں، ان سب میں آپ اور آپ کی بہنیں شریک رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا بالخصوص تکالیف کے دور میں حضوؐر کو معاونت اور مدد بہم پہنچاتیں۔ مکہ کے مشکل ترین دور میں کہ جب حضوؐر اور آپ رضی اللہ عنہا کے اہل خانہ پر روزانہ مصائب کے پہاڑ توڑے جاتے، آپؐ اپنی اس ہونہار صاحبزادی کو تسلی دیتے کہ: ’’دین حق کی حمایت میں کھڑے ہونے پر اللہ تعالیٰ تمھارے والد کا حامی و ناصر ہے۔ تم اپنے ابا پر مت خوف کھاؤ‘‘۔ سنہ 7 نبوی میں آں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں کو شَعبِ بن ابی طالب میں قید کیا گیا۔ وہاں آپؐ تین برس تک قیدر ہے اور فاقوں پر فاقے گذرے۔ ان سب مصائب میں حضرت خدیجہؓ اور آپؐ کی سب ہی اولاد شریک رہی۔ حضرت زینبؓ کو جو تکلیف پہنچی، اس کے بارے میں حضوؐر نے فرمایا: ’’وہ میری سب سے اچھی بیٹی تھی، جو میری محبت میں ستائی گئی‘‘۔ حضرت زینبؓ کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا، جو حضرت زینبؓ کے خالہ زاد تھے۔ وہ تجارت میں امانت داری کے حوالے سے مشہور تھے۔ نبوت کے تیرہویں سال جب آنحضرتؐ نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو آپؐ کے اہل و عیال مکہ میں رہ گئے تھے۔ آپؐ نے اپنی اہلیہ حضرت سودہؓ اور اپنی صاحبزادیوں حضرت فاطمہؓ اور حضرت اُم کلثومؓ کو مدینہ منورہ بلا لیا، لیکن حضرت زینبؓ اپنے شوہر کے پاس ہی رہیں۔ یہاں تک کہ غزوۂ بدر ہوا اور اس میں آپؓ کے شوہر ابوالعاص کفار کی طرف سے شریک ہوئے اور گرفتار ہو گئے۔ انھیں اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ مکہ جا کر حضرت زینبؓ کو مدینہ منورہ بھیج دیں گے۔ اس طرح آپؓ نے اپنے شوہر کو حالتِ شرک ہی میں چھوڑ کر سنہ 2 ہجری میں غزوۂ بدر کے بعد مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ [2] اس کے بعد ایک موقع پر پھر آپؓ کے شوہر ابوالعاص گرفتار ہو کر مدینہ لائے گئے تو حضرت زینبؓ نے ان کو پناہ دی۔ ابوالعاص بن الربیع نے مکہ جاکر لوگوں کی امانتیں حوالہ کیں اور اسلام لائے اور ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئے۔ حضرت زینبؓ نے ان کو حالتِ شرک میں چھوڑا تھا، اس لیے دونوں میں باہم تفریق ہو گئی تھی۔ وہ مدینہ آئے تو زینب دوبارہ ان کے نکاح میں آگئیں۔ اس کے بعد آپؓ بہت کم وقت زندہ رہیں اور 8 ہجری میں وفات پاگئیں۔ سیّدہ زینبؓ بلند اَخلاق و عادات کی مالک تھیں۔ خود آپؓ کے شوہر اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ جب سردارانِ مکہ نے دباؤ ڈالا کہ محمد کی بیٹی کو طلاق دو، جس عورت سے کہوگے ہم تمھاری شادی کر دیں گے تو ابوالعاص بن الربیع جو حال آنکہ مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے __نے کہا کوئی عورت زینب رضی اللہ عنہا کے برابر نہیں ہو سکتی۔ حضرت زینبؓ کا کردار آج کی مسلم خواتین کے لیے قابلِ رشک، لائق ترین اور بلند اسوہ ہے۔ [3]

زينب بنت محمد
زينب بنت محمد

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 599ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
المکہ علاقہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 629ء (29–30 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع، مدینہ منورہ
لقب ہار والی (صاحبة القلادة)
شوہر ابو العاص بن الربیع
اولاد علی بن ابی عاص بن ربيع (مات صغيرًا)
امامہ بنت ابی العاص
والد محمد بن عبداللہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ خدیجہ بنت خویلد[1]  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
رشتے دار والد: محمد بن عبد اللہ
والدہ: خديجہ بنت خويلد
بھائی: قاسم، عبد اللہ، ابراہيم
بہنیں:رقيہ، ام كلثوم، فاطمہ الزهراء
عملی زندگی
نسب زینب بنت محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب
تاریخ قبول اسلام سابقین
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِ محمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین _ محسن

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم


نام و نسب

آنحضرت کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں، بعثت سے دس برس پہلے جب آنحضرت کی عمر مبارک 30 سال کی تھی، پیدا ہوئیں۔[4]

نکاح

ابو العاص لقیط بن ربیع سے جو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خالہ زاد بھائی تھے، نکاح ہوا۔[5]

عام حالات

نبوّت کے تیرہویں سال جب آنحضرت نے مکہ معظمہ سے ہجرت فرمائی تو اہل و عیال مکہ میں رہ گئے تھے، حضرت زینبؓ بھی اپنے سسرال میں تھیں۔ غزوہ بدر میں ابو العاص بن الربیع کفار کی طرف سے شریک ہوئے تھے، عبداللہ بن جبیر انصاری ؓ نے ان کو گرفتار کیا اور اس شرط پر رہا کیے گئے کہ مکہ جاکر حضرت زینبؓ کو بھیج دیں گے۔ [6]
ابوالعاص نے مکہ جاکر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اپنے چھوٹے بھائی کنانہ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ کیا، چونکہ کفار کے تعرض کا خوف تھا کنانہ نے ہتھیار ساتھ لے لیے تھے۔ مقامِ ذی طویٰ میں پہنچے تو قریش کے چند آدمیوں نے تعاقب کیا، ہبار بن اسود نے حضرت زینبؓ کو نیزہ سے زمین پر گرا دیا وہ حاملہ تھیں، حمل ساقط ہو گیا۔ کنانہ نے ترکش سے تیر نکالے اور کہا کہ ’’اب اگر کوئی قریب آیا تو ان تیروں کا نشانہ ہوگا۔‘‘ لوگ ہٹ گئے تو ابو سفیان سردارانِ قریش کے ساتھ آیا اور کہا: ’’ تیر روک لو ہم کو کچھ گفتگو کرنی ہے۔‘‘ انھوں نے تیر ترکش میں ڈال دیے۔ ابوسفیان نے کہا: ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے جو مصیبتیں پہنچی ہیں تم کو معلوم ہیں، اب اگر تم علانیہ ان کی لڑکی کو ہمارے قبضہ سے نکال لے گئے تو لوگ کہیں گے کہ ہماری کمزوری ہے، ہم کو زینبؓ کے روکنے کی ضرورت نہیں جب شور و ہنگامہ کم ہو جائے اس وقت چھپے چوری لے جانا۔‘‘ کنانہ نے یہ رائے تسلیم کی اور حضرت زینبؓ کو لے کر مکہ واپس آئے۔حضور اکرم کے قلب کو اس واقعہ سے بڑی چوٹ لگی چنانچہ آپ نے ان کے فضائل میں یہ ارشاد فرمایا کہ :

ھِیَ اَفْضَلُ بَنَاتِیْ اُصِیْبَتْ فِیَّ

یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے بہت فضیلت والی ہے کہ میری طرف ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔ چند روز کے بعد ان کو رات کے وقت لے کر روانہ ہوئے زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آنحضرت نے پہلے سے بھیج دیا تھا وہ بطنِ یا جج میں تھے کنانہ نے زینبؓ کو ان کے حوالہ کیا وہ ان کو لے کر روانہ ہو گئے۔ [7]
حضرت زینبؓ مدینہ میں آئیں اور اپنے شوہر ابو العاص کو حالت شرک میں چھوڑا۔ جمادی الاولیٰ ہجری میں ابوالعاص بن الربیع قریش کے ایک قافلہ کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے۔ آنحضرت نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو 170 سواروں کے ساتھ بھیجا، مقامِ عیص میں قافلہ ملا۔ کچھ لوگ گرفتار کیے گئے اور مال و اسباب لوٹ میں آیا ان ہی میں ابو العاص بھی تھے، ابوالعاص آئے تو حضرت زینبؓ نے ان کو پناہ دی اور ان کی سفارش سے آنحضرت نے ان کا مال بھی واپس کرادیا۔ ابو العاص بن الربیع نے مکہ جاکر لوگوں کی امانتیں حوالہ کیں اور اسلام لائے۔ اسلام لانے کے بعد ہجرت کرکے مدینہ میں آئے۔ حضرت زینبؓ نے ان کو حالت شرک میں چھوڑا تھا اس لیے دونوں میں باہم تفریق ہو گئی تھی۔ وہ مدینہ منورہ آئے تو حضرت زینبؓ دوبارہ ان کے نکاح میں آئیں۔ ترمذی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ کوئی جدید نکاح نہیں ہوا، لیکن دوسری روایت میں تجدیدِ نکاح کی تصریح ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت کو اگرچہ اسناد کے لحاظ سے دوسری روایت پر ترجیح ہے لیکن فقہا نے دوسری صورت پر عمل کیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت کی یہ تاویل کی ہے کہ نکاحِ جدید کے مہر اور شرائط وغیرہ میں کسی قسم کا تغیر نہ ہوا ہوگا، اسی لیے حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اس کو نکاحِ اوّل سے تعبیر کیا ورنہ بعدِ تفریق نکاحِ ثانی ضروری ہے۔ابوالعاصؓ نے حضرت زینبؓ کے ساتھ نہایت شریفانہ برتاؤ کیا اور آنحضرت نے ان کے شریفانہ تعلقات کی تعریف کی۔ [8][9][10][11]:313–314[12]:21[13]:162 .[12]:22 .[12]:21[13]:162[14]

وفات

نکاحِ جدید کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا بہت کم زندہ رہیں اور میں انھوں نے انتقال کیا۔ حضرت اُمّ ایمن رضی اللہ عنہا، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اُمّ سلمہ رضی اللّٰہ عنہا اور اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہ نے غسل دیا جس کا طریقہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی، خود قبر میں اُترے اور اپنے نورِ دیدہ کو خاک کے سپرد کیا، اس وقت چہرۂ مبارک پر حزن و ملال کے آثار نمایاں تھے۔ میں زینب کا انتقال ہو گیا اور حضور نے تبرک کے طور پر اپنا تہبند شریف ان کے کفن میں دے دیا اور نماز جنازہ پڑھا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کو قبر میں اتارا ان کی قبر شریف بھی جنت البقیع مدینہ منورہ میں ہے۔ [15] [16] [17][18][19]

اولاد

حضرت زینب بنت محمد رضی اللہ عنہ نے دو اولاد چھوڑی، علی رضی اللہ عنہ اور امامہ رضی اللہ عنہا۔ علی کی نسبت ایک روایت ہے کہ بچپن میں وفات پائی لیکن عام روایت یہ ہے کہ سن رشد کو پہنچے، ابن عساکر نے لکھا ہے کہ یرموک کے معرکہ میں شہادت پائی۔ فتح مکہ میں یہی آنحضرت کے ردیف تھے۔ امامہ رضی اللہ عنہا عرصہ تک زندہ رہیں اور ان کا حال تفصیلاً یہ ہے :
ان کی اولاد میں ایک لڑکا جن کا نام علی رضی اللہ عنہ تھا اور ایک لڑکی جن کا نام امامہ رضی اللہ عنہا تھا زندہ رہے ابن عسا کر کا قول ہے کہ علی جنگ یرموک میں شہید ہو گئے امامہ رضی اللہ عنہا سے حضور ﷺ کو بے حد محبت تھی بادشاہ حبشہ نے تحفہ میں ایک جوڑا اور ایک قیمتی انگوٹھی دربار نبوت میں بھیجی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ انگوٹھی اپنی نواسی امامہ رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائی اس طرح کسی نے ایک مرتبہ بہت ہی بیش قیمت اور انتہائی خوبصورت ایک ہار نذر کیا تو سب بیبیاں یہ سمجھتی تھیں کہ حضور یہ ہار عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گلے میں ڈالیں گے مگر آپ نے یہ فرمایا کہ میں یہ ہار اس کو پہناؤں گا جو میرے گھر والوں میں مجھ کو سب سے زیادہ پیاری ہے یہ فرما کر آنحضرت نے یہ قیمتی ہار اپنی نواسی امامہ رضی اللہ عنہا کے گلے میں ڈال دی۔ [20]

اخلاق و عادات

آنحضرت اور اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان کو ریشمی چادر اوڑھے دیکھا تھا جس پر زرد دھاریاں پڑی ہوئی تھی۔ [21]

فضل و کمال

  • اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی ابوالعاص بن ربیع کا رویہ کافر ھونے کے باوجود بہت اچھا تھا۔ شعب ابی طالب میں گذرے کٹھن وقت میں کسی جانور پر کھانے پینے کا سامان لاد کر اسے گھاٹی کی طرف ھانک دیا کرتے تھے۔ کفار مکہ نے یہ کوشش بھی بہت کی کہ دیگر قریشی عورتوں کے بدلے ابوالعاص سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو طلاق دے دیں مگر انھوں نے قسم اٹھا کر کہا کہ میں زینب کو اپنی زوجیت سے کسی بھی قیمت پر علاحدہ نہیں کرسکتا۔
  • غزوہ بدر میں کفار کی طرف سے ابوالعاص بن ربیع بھی شریک ھوئے مگر گرفتار کرلئے گئے۔ ان کی رھائی کے لیے سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے فدیہ کے طور پر وہ ھار بھیجا جو انھیں ان کی والدہ سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا نے عطاء فرمایا تھا۔ جب وہ ھار حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو سیدہ خدیجۃ رضی اللہ تعالی عنہا کی یاد تازہ ھوگئی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ھو گئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشاورت کے بعد ابو العاص کو وہ ھار واپس کرتے ھوئے بلا معاوضہ رھا کر دیا گیا البتہ ان سے یہ وعدہ لیا گیا کہ وہ مکہ پہنچ کر سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو مدینہ روانہ کر دیں گے چنانچہ انھوں نے وعدہ وفا کرتے ھوئے مکہ پہنچ کر سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو اپنے بھائی کنانہ کے ساتھ مدینہ روانہ کر دیا۔ دریں اثنا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھ ایک شخص کو بھی سیدہ زینب کو لانے کے لیے مکہ کی طرف روانہ فرما دیا۔
  • کفار کو جب معلوم ھوا کہ سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا مدینہ کی طرف ھجرت کررھی ہیں تو انھوں نے ان کا تعاقب کیا ھبار بن اسود (بعد میں مسلمان ھو گئے تھے) نے آگے بڑھ کر سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا پر نیزے سے حملہ کیا شہزادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری سے چٹان پر گرا دیا گیا جس سے وہ کافی زخمی ھو گئیں اس پر ان کا دیور کنانہ آگے بڑھا اور تیر و ترکش کا بھرپور استعمال کرنے لگا تو کفار پسپائی اختیار کرنے لگے اس سخت مقابلے کی وجہ سے سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو واپس جانا پڑا پھر کچھ عرصے کے بعد جب یہ معاملہ ٹھنڈا ھوا تو سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا رات کے وقت اپنے دیور کے ساتھ مکہ مکرمہ سے باھر تشریف لے آئیں جہاں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ ان کے منتظر تھے پھر ان حضرات نے تمام آداب کو بجا لاتے ھوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت آپ کی خدمت میں پیش کردی۔ آپ کی خدمت میں پہنچ کر سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے کفار کی طرف سے پہنچنے والے مظالم کا ذکر فرمایا تو سن کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بھر آیا پھر ارشاد فرمایا:
"زینب میری سب سے بہترین بیٹی ہے جسے میری وجہ سے تکالیف سے دوچار کیا گیا"

[22]

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. ^ ا ب عنوان : Зайнаб бинт Мухаммад
  2. (طبقات ابن سعد: 8/20)
  3. شهاب الدين القسطلاني۔ المواهب اللدنية بالمنح المحمدية۔ مصر: المكتبة التوفيقية۔ صفحہ: 479، جزء 1۔ 31 مئی 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 مايو 2015 
  4. ابن هشام (1955)۔ السيرة النبوية (الثانية ایڈیشن)۔ مصر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي وأولاده۔ صفحہ: 651-657، جزء 1۔ 02 اکتوبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 مايو 2015 
  5. السهيلي (2000)۔ الروض الأنف في شرح السيرة النبوية لابن هشام (الأولى ایڈیشن)۔ لبنان: دار إحياء التراث العربي۔ صفحہ: 127-136، جزء 5۔ 04 مئی 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مايو 2015 
  6. طبقات ابن سعد جلد 8 صفحہ 20
  7. زرقانی جلد 3 صفحہ 223
  8. طبقات ابن سعد جلد 8 صفحہ 21
  9. ابن كثير (1988)۔ البداية والنهاية (الأولى ایڈیشن)۔ مصر: دار إحياء التراث العربي۔ صفحہ: 379-380، جزء 3۔ 02 مئی 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 مايو 2015 
  10. أبو نعيم الأصبهاني (1998)۔ معرفة الصحابة۔ السادس (الأولى ایڈیشن)۔ دار الوطن۔ صفحہ: 3194-3195 
  11. Muhammad صلى الله عليه وسلم Ibn Ishaq (1955)۔ Ibn Ishaq's Sirat Rasul Allah – The Life of Muhammad صلى الله عليه وسلم۔ ترجمہ بقلم Alfred Guillaume۔ Oxford: Oxford University Press۔ صفحہ: 88–589۔ ISBN 978-0-1963-6033-1 
  12. ^ ا ب پ Muhammad ibn Sa'd Al-Basri Al-Hashimi (1995)۔ Kitab al-Tabaqat al-Kabir (The Women of Madina) (بزبان عربی)۔ 8۔ ترجمہ بقلم Aisha Bewley۔ London: Ta-Ha Publishers 
  13. ^ ا ب Muhammad ibn Jarir Al-Tabari (1998)۔ The history of al-Tabari: Biographies of the Prophet's Companions and Their Successors (بزبان عربی)۔ 39۔ ترجمہ بقلم Ella Landau-Tasseron۔ Albany: State University of New York Press 
  14. "Mohammad Hilal Ibn Ali"۔ www.helal.ir۔ 20 جولا‎ئی 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  15. طبقات ابن سعد ج 8 ص 25
  16. صحیح بخاری ج 1 ص ١٦٧ و مسلم ج ١ ص ٣٤٦
  17. اسد الغابه ج ٥ ص ٤٦٨ و طبقات ج 8 ص ٢٢
  18. ابن عبد البر (1992)۔ الاستيعاب في معرفة الأصحاب (الأولى ایڈیشن)۔ لبنان: دار الجيل۔ صفحہ: 1853-1854، جزء 4۔ 02 مئی 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مايو 2015 
  19. محمد أمين نجف۔ "زينب بنت رسول الله"۔ مركز آل البيت العالمي للمعلومات۔ 27 فروری 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  20. https://islamansiklopedisi.org.tr/zeyneb  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  21. طبقات ج 8 ص 22
  22. قام باصداره مركز الملك فيصل۔ خزانة التراث - فهرس مخطوطات (بزبان عربی)۔ الجُزء 43۔ صفحہ: 41۔ 12 مئی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ