ابراہیم بن محمد (عربی:ابراہیم بن محمد) حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ماریہ القبطیہ کے بیٹے تھے۔ اُن کا نام حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد امجد حضرت ابراہیم کے نام پر رکھا گیا تھا۔ عرب کی روایات کے مطابق بچپن میں آپ پرورش و نگہداشت کے لیے اُم سیف نامی دائی کے سپرد کر دیا گیا، جن کو حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ بکریاں بھی دیں۔

ابراہیم ابن محمد
إبراهيم بن محمد.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 مارچ 630  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 27 جنوری 632 (2 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمد بن عبداللہ  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ماریہ قبطیہ  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِ محمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم


ولادتترميم

آپ کی ولادت باسعادت27/ذوالقعدہ 8ھ،مطابق 17/مارچ 630ء بروز بدھ، مدینہ منورہ کے قریب مقام ’’عالیہ‘‘ کے اندر ماریہ قبطیہ کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے۔ اس لیے مقام عالیہ کادوسرا نام مشربۂ ابراہیم بھی ہے۔ ان کی ولادت کی خبر حضورِ اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام ابو رافع نے مقام عالیہ سے مدینہ آ کر بارگاہِ اقدس میں سنائی۔ یہ خو ش خبری سن کر حضورِ اکرم ﷺنے انعام کے طور پر حضرت ابو رافع کو ایک غلام عطا فرمایا۔ اس کے بعد فوراً ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ ﷺ کو’’یااباابراہیم‘‘کہہ کر پکارا۔ حضور ﷺ بے حد خوش ہوئے اور ان کے عقیقہ میں دو مینڈھے آپ نے ذبح فرمائے اور ان کے سر کے بال کے وزن کے برابر چاندی خیرات فرمائی اور ان کے بالوں کو دفن کرادیا اور ’’ابراہیم‘‘ نام رکھا۔ انس بن مالک سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اہل و عیال پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر کسی کو شفیق نہیں پایا، حضرت ابراہیم عوالی مدینہ میں دودھ پیتے بچے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں ملنے جایا کرتے تھے، ہم بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس گھر میں داخل ہوتے تو وہ دھوئیں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ خاتونِ خانہ کا شوہر لوہار تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں پکڑ کر پیار کرتے اور کچھ دیر بعد واپس آجاتے، جب حضرت ابراہیم (رض) کی وفات ہو گئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابراہیم میرا بیٹا تھا، جو بچپن میں ہی فوت ہو گیا، اس کے لیے دو دائیاں مقرر کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی مدت رضاعت کی تکمیل کریں گی۔ [1]

بیماری اور وفاتترميم

غزوہ تبوک کے کچھ عرصے کے بعد ابراہیم بیمار ہو گئے، اُس وقت اُن کی عمر سولہ یا اٹھارہ ماہ تھی۔

 
جنت البقیع، مدینہ میں ابراہیم کی قبر

حضرت ابراہیم کےوصال کےدن عرب میں سورج گرہن لگا۔جدید ریاضی حساب کے مطابق وہ دن 7/جنوری 632ء کو 8:30 لگا تھا۔اس حساب سے قمری تاریخ 9/شوال المکرم 10ھ۔تو بحساب ِ شمسی ان کی عمر ایک سال 9ماہ،20دن،اور بحساب قمری ایک سال،10 ماہ اور چھ دن ہوتی ہے۔ ۔ روایت ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابراہیم کوجنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون کی قبر کے پاس دفن فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے ان کی قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 1099
  2. مدارج النبوۃ جلد2 ص 453

مزید دیکھیےترميم