مرکزی مینیو کھولیں

حسینہ واجد

وزیر اعظم بنگلہ دیش
حسینہ واجد
(بنگالی میں: শেখ হাসিনা خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Sheikh Hasina in London cropped.jpg 

مناصب
قائد حزب اختلاف، بنگلہ دیش   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
7 مئی 1986  – 3 مارچ 1988 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png اسد الزمان خان 
اے ایس ایم عبد الرب  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
قائد حزب اختلاف، بنگلہ دیش   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
20 مارچ 1991  – 30 مارچ 1996 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png اے ایس ایم عبد الرب 
خالدہ ضیاء  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Standard of the Prime Minister of Bangladesh.png وزیر اعظم بنگلہ دیش   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
23 جون 1996  – 15 جولا‎ئی 2001 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد حبیب الرحمٰن 
لطیف الرحمٰن  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
قائد حزب اختلاف، بنگلہ دیش   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
10 اکتوبر 2001  – 29 اکتوبر 2006 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png خالدہ ضیاء 
خالدہ ضیاء  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن نویں جاتیہ سنسد   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
2008 
Standard of the Prime Minister of Bangladesh.png وزیر اعظم بنگلہ دیش   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
6 جنوری 2009 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png فخر الدین احمد 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن دسویں جاتیہ سنسد[1][2]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
رکنیت سنہ
5 جنوری 2014 
پارلیمانی مدت دسویں جاتیہ سنسد 
معلومات شخصیت
پیدائش 28 ستمبر 1947 (72 سال)[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تنگی پورہ ذیلی ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان (1947–1971)
Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت بنگلہ دیش عوامی لیگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
شوہر ایم اے واجد میاں (1967–2009)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد سجیب واجد،  صائمہ واجد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد شیخ مجیب الرحمٰن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ شیخ فضیلت النساء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
شیخ کمال،  شیخ رسول،  شیخ ریحانہ،  شیخ جمال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بہن/بھائی (P3373) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی ایڈن گرلز کالج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
چمپیئنز آف دی ارتھ (2015)
اندرا گاندھی انعام (2009)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Sheikh hasina signature.png 
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

شیخ حسینہ واجد (بنگالی: শেখ হাসিনা ওয়াজেদ) بنگلہ دیش کی موجودہ اور دسویں وزیر اعظم ہیں۔

حسینہ بنگلہ دیش کے پہلے صدر کی صاحبزادی ہیں اور ان کا شمار بنگلہ دیش کے منجھے ہوئے سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ پہلے وہ 1986ء سے 1988ء تک، 1991ء سے 1996ء تک اور 2001ء سے 2006ء تک قائد حزب اختلاف رہیں۔ وہ 1996ء سے 2001ء تک اور 2009ء سے 2014ء تک وزیر اعظم بنگلہ دیش بھی رہ چکی ہیں۔ وہ سنہ 1981ء سے بنگلہ دیش عوامی لیگ کی قیادت کر رہی ہیں۔[4][5][6][7] 2014ء کے عام انتخابات میں وہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہو گئیں۔

حسینہ کا شمار دنیا کی طاقت ور ترین خواتین میں ہوتا ہے، فوربس جریدے نے 2017ء کی طاقت ور ترین خواتین کی فہرست میں ان کو 30واں نمبر دیا تھا۔[8]

کافی عرصے سے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قائد خالدہ ضیاء کو ان کی سب سے بڑی سیاسی حریف سمجھا جاتا ہے اور ان کی سیاسی دشمنی ”بیگمات کی جنگ“ کے نام سے مشہور ہے۔[9][10][11]

حوالہ جاتترميم

  1. http://www.parliament.gov.bd/index.php/en/mps/members-of-parliament/current-mp-s/list-of-10th-parliament-members-english — اخذ شدہ بتاریخ: 16 دسمبر 2018
  2. http://www.parliament.gov.bd/index.php/bn/mps-bangla/members-of-parliament-bangla/current-mps-bangla/2014-03-23-11-44-22 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 دسمبر 2018
  3. بنام: Sheikh Hasina — FemBio ID: http://www.fembio.org/biographie.php/frau/frauendatenbank?fem_id=12747 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. "AL hold 20 th council with Sheikh Hasina"۔ بی ایس ایس۔ مورخہ 7 نومبر 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 نومبر 2016۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  5. "Hasina re-elected AL president, Obaidul Quader general secretary"۔ ڈھاکہ ٹریبیون۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "Legacy of Bangladeshi Politics"۔ ایشین ٹریبیون۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. "Sheikh Hasina Wazed"۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 فروری 2015۔
  8. "The World's 100 Most Powerful Women"۔ فوربس۔ فوربس۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 نومبر 2017۔
  9. "'Battle of the Begums' brings Bangladesh to a standstill"۔ دی انڈی پینڈنٹ (برطانوی انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 فروری 2017۔
  10. "The Sheikh Hasina-Khaleda Zia fight: High soap opera in Bangladesh"۔ فرسٹ پوسٹ (امریکی انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 فروری 2017۔
  11. سید زی المحمود۔ "Bitter Political Rivalry Plunges Bangladesh Into Chaos"۔ وال اسٹریٹ جرنل۔ ISSN 0099-9660۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 فروری 2017۔