سالم مولی ابی حذیفہ

سالم مولیٰ ابی حذیفہ مسجد قباء کے امام تھے، مہاجرین اولین اکثر ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے انہیں سالم بن معقل بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا شمار فضلاء الموالی،اخیار الصحابہ اور کبار الاصحابہ میں کیا جاتا ہے۔[1]

سالم مولی ابی حذیفہ
معلومات شخصیت
تاریخ وفات 630ء کی دہائی  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ فاطمہ بنت الولید بن عتبہ
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں تمام غزوات
جنگ یمامہ

نام،نسبترميم

سالم نام، ابوعبداللہ کنیت، والد کے نام میں اختلاف ہے، بعض عبید بن ربیعہ اوربعض مغفل لکھتے ہیں، یہ ایرانی الاصل ہیں، اصطخران کا آبائی مسکن تھا، ثبیہ بنت تعارانصاریہ کی غلامی میں مدینہ پہنچے، انہوں نے آزاد کر دیا، تو ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ نے ان کو اپنا متبنیٰ کر لیا، اس لحاظ سے ان میں انصار ومہاجر کی دونوں حیثیتیں مجتمع ہیں۔[2] وہ عموما ًسالم بن حذیفہ کے نام سے مشہور تھے، ابوحذیفہ بھی ان کو اپنے لڑکے کی طرح سمجھتے تھے اوراپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید سے بیاہ دیا تھا،لیکن جب قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی " ادعوھم لابائھم" یعنی لوگوں کو اپنے نسبی آباء کے انتساب سے پکارا کرو تو سالم بھی ابن کی بجائے مولی ابی حذیفہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔[3]حضرت سالمؓ جوان ہوئے اورقرآن نے خود ساختہ ابوت(باپ) ونبوت(نبی) کے تعلق کو کالعدم کردیا تو حضرت ابوحذیفہؓ کو ان کا زنان خانہ میں آنا جانا ناگوار گذرنے لگا ،چنانچہ ان کی بیوی حضرت سہلہ بنت سہیلؓ نے بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوکر عرض کیا‘ یارسول اللہ! سالم کو ہم اپنا لڑکا سمجھتے تھے، اوروہ ہمیشہ گھرمیں آتا جاتا تھا،لیکن اب ابوحذیفہؓ کو ناگورا گذرتا ہے، ارشاد ہوا کہ اس کو دودھ پلادو تو وہ تمہارا محرم ہوجائے گا، غرض اس طرح وہ حضرت ابوحذیفہؓ کے رضاعی فرزند ہوگئے لیکن ام المومنین حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ یہ سالمؓ کے لیے مخصوص اجازت تھی، ورنہ جوانی کی حالت میں رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [4]

اسلام وہجرتترميم

سالم مکہ میں ابوحذیفہ کے ساتھ مسکن گزین تھے، دعوت اسلام کا غلغلہ بلند ہوا تو انہوں نے ابتداہی میں لبیک کہا، آنحضرت ﷺ نے ابو عبید ہ بن الجراح سے مواخات کرادی۔[5] ہجرت کے موقع میں ابو حذیفہ کے ہمراہ تھے، مدینہ پہنچ کر عباد بن بشرکے مہمان ہوئے اور معاذ بن ماعض انصاری سے مواخات ہوئی۔(ابوداؤد کتاب انکاح باب فی من حرم)

غزواتترميم

غزوۂ بدر، احد، خندق اور عہدِ نبوی ﷺ کی تمام جنگوں میں معرکہ آرا تھے، عہد صدیقی میں یمامہ کہ مہم پر بھیجے گئے، مہاجرین کا علم ان کے ہاتھ میں تھا، ایک شخص نے اس پر نکتہ چینی کی اور کہا "ہم کو تمہاری طرف سے اندیشہ ہے، اس لیے ہم کسی دوسرے کو علمبردار بنائیں گے، بولے، اگر میں بزدلی دکھاؤں تو میں سب سے زیادہ بدبخت حاملِ قرآن ہوں، یہ کہہ کر نہایت جوش کے ساتھ حملہ آور ہوئے اوردرحقیقت انہوں نے اپنے کو بہترین حاملِ قرآن ثابت کیا، اثنائے جنگ میں داہنا ہاتھ قلم ہوا تو بائیں ہاتھ نے قائم مقامی کی، وہ بھی شہید ہوا تو دونوں بازوؤں نے حلقہ میں لے کر لوائے توحید کو سینہ سے چمٹا دیا، زبان پر یہ فقرہ جاری تھا "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ ،":[2]محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں اور کتنے انبیاء ایسے ہیں جن کے ساتھ بہت سے اللہ والوں نے جہاد کیا ہے۔

شہادتترميم

زخموں سے چور ہوکر گرے تو پوچھا، ابوحذیفہؓ نے کیا کیا؟ لوگوں نے کہا "شہید ہوئے" بولے ،اس شخص نے کیا کیا جس نے مجھ سے اندیشہ ظاہر کیا تھا؟ جواب دیا گیا کہ وہ بھی شہید ہوئے، فرمایا، مجھے ان دونوں کے درمیان دفن کرنا۔ [6] ابن سعد کی روایت ہے کہ جنگ یمامہ 12ھ کے موقع پر جب مسلمانوں کے پاؤں پیچھے پڑنے لگے تو سالم نے کہا افسوس! رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تو ہمارا یہ حال نہ تھا، وہ اپنے لیے ایک گڑھا کھود کر اس میں کھڑے ہو گئے اور علم سنبھالے ہوئے آخر لمحہ حیات تک جانبازانہ شجاعت کے جوہر دکھاتے رہے، اختتام جنگ کے بعد دیکھا گیا تو اس شہید ملت کا سراپنے منہ بولے باپ ابوحذیفہ کے پاؤں پر تھا۔[7] روایت ہے عبد اللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ جب پہلے مہاجر مدینہ میں آئے تو ان کی امامت ابو حذیفہ کے غلام سالم کرتے تھے حالانکہ ان میں عمر اور ابو سلمہ بن عبد الاسد ہوتے (بخاری) حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن چار شخصوں سے سیکھو، ابن مسعود،ابی ابن کعب،معاذ ابن جبل، سالم مولیٰ ابی حذیفہ(جامع صغیر سیوطی)

فضل وکمالترميم

حضرت سالمؓ ان بزرگوں میں تھے جو طبقہ صحابہ ؓ میں فنِ قرأت کے امام سمجھے جاتے تھے، آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ قرآن چارآدمیوں سے حاصل کرو یعنی ابن مسعودؓ ،سالم ؓمولی ابی حذیفہؓ ،ابی بن کعبؓ اورمعاذؓ بن جبل سے (بخاری) خدائے پاک نے خوش گلو اس قدر بنایا تھا کہ جب آیاتِ قرآنی تلاوت فرماتے تو لوگوں پرایک عام محویت طاری ہوجاتی اور راہ گیر ٹھٹک کر سننے لگتے ،ایک دفعہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے میں دیر ہوئی، آپ نے توقف کی وجہ پوچھی تو بولیں کہ ایک قاری تلاوت کررہا تھا اس کے سننے میں دیر ہوگئی اورخوش الحانی کی اس قدر تعریف کی کہ آنحضرت ﷺ خود چادر سنبھالے ہوئے باہر تشریف لے آئے، دیکھا تو سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ ہیں، آپ نے خوش ہوکر فرمایا خدا کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے جیسے شخص کو میری امت میں بنایا۔ [8] حضرت سالم ؓ اپنی خوش الحانی وحفظِ قرآن کے باعث صحابہ کرام ؓ میں نہایت عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے، حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے جس قدر مہاجرین مدینہ پہنچے تھے، حضرت سالمؓ مسجد قبا میں ان کی امامت کرتے تھے۔ [9] وہ مسجد قباء کے امام تھے، مہاجرین اولین جن میں حضرت ابوبکرؓ وحضرت عمرؓ بھی شامل تھے، اکثر ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے، (بخاری کتاب الاحکام) غرض قرآنِ کریم کی برکت اور علم وفضل نے ان کو غیر معمولی عظمت وشرف کا مالک بنادیا تھا۔ حضرت عمر فاروقؓ ان کی بے حد تعریف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب دمِ واپسیں کے وقت انہوں نے منصب خلافت کے متعلق وصیت فرمائی تو کہا، اگر سالم موجود ہوتے تو میں اس مسئلہ کو مجلس شوریٰ میں پیش ہونے نہ دیتا، یعنی وہ ان کو اپنا جانشین بناتے۔ [10]

اخلاقترميم

حضرت سالمؓ کے قبائے فضل پر محاسنِ اخلاق کا طغرا نہایت خوشنما ہے، گذشتہ واقعات سے ان کی استقامت ،وفاشعاری وپارسائی کا اندازہ ہوا ہوگا، اہلِ حاجت کے لیے دستِ کرم کشادہ تھا ؛چونکہ کوئی اولاد نہ تھی اس لیے انہوں نے اپنے متروکہ مال اسباب میں سے ایک ایک ثلث مختلف اسلامی ضروریات اورغلاموں کی گلوخلاصی کے لیے اورایک ثلث اپنے سابق آقاؤں کے لیے وصیت فرمائی تھی، حضرت ابوبکرؓ نے ان کی سابق مالکہ حضرت ثبیتہ بنت یعارؓ کے پاس ان کا حصہ بھیجا تو انہوں نے لینے سے انکار کیا اور بولیں کہ میں نے بغیر امید صلہ آزاد کیا تھا، اس لیے حضرت عمرؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں اس حصہ کو بیت المال میں داخل فرمادیا۔ [11]

حوالہ جاتترميم

  1. اصحاب بدر،صفحہ 90،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور
  2. ^ ا ب اسد الغابہ: 2/245
  3. ابوداؤ کتاب النکاح اب فی سن حرم
  4. (ابوداؤد کتاب النکاح باب فی من حرم)
  5. طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :61
  6. (اسعد الغابہ جلد ۲)
  7. طبقات ابن سعد قسم اول جز 2 :61
  8. (اصابہ تذکرہ سالم)
  9. (بخاری کتاب الصلوٰۃ باب امامۃ العبد والمولی)
  10. (اسدالغابہ :۲/۲۴۶)
  11. (استیعاب تذکرہ سالم ؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ)