مرکزی مینیو کھولیں
ابو حذیفہ
عربی:أبو حذيفة بن عتبة
ابو حذيفہ بن عتبہ بن ربيعہ
أبي حذيفة بن عتبة.png 

معلومات شخصیت
مقام پیدائش مكہ
وفات سنہ 633  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
جنگ یمامہ
زوجہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو
اولاد محمد بن ابی حذیفہ
والد عتبہ بن ربیعہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
رشتے دار والد: عتبہ بن ربيعہ
والدہ: فاطمہ بنت صفوان بن امیہ
بھائی: الوليد بن عتبہ بن ربيعہ، ہند بن عتبہ
عملی زندگی
پیشہ سائنس دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ابو حذیفہ غزوہ بدر میں شریک صحابی تھے۔ ابو حذیفہ کنیت ہے۔

نام ونسبترميم

ہشیم نام، ابوحذیفہ کنیت،والد کانام عتبہ اوروالدہ کا نام ام صفوان تھا، پورا سلسلہ نسب یہ ہے : ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی القرشی۔ سردار قریش عتبہ بن ربیعہ کے فرزند تھے۔ جو غزوہ بدر میں قریش کا سپہ سالار تھا اور اسی جنگ میں مارا گیا۔

اسلامترميم

ابوحذیفہ کے والد عتبہ ان ذی اثر رؤسائے قریش میں تھے جنہوں نے اسلام کی مخالفت میں اپنی پوری طاقت صرف کردی تھی، لیکن خود عتبہ کے لختِ جگر ابوحذیفہ نے اسلام قبول کیا۔ آنحضرت ﷺ اس وقت تک ارقم بن ابی الارقم کے مکان میں پناہ گزین نہیں ہوئے تھے۔

ہجرتترميم

ابوحذیفہ سرزمین حبش کی دونوں ہجرتوں میں شریک تھے، ان کی بیوی سہلہ بنت سہیل بھی رفیقِ سفر تھیں، چنانچہ محمد بن ابی حذیفہ حبش ہی میں پیدا ہوئے تھے۔[1]حبش سے مکہ واپس آئے، یہاں ہجرت کی تیاریاں ہو رہی تھیں، اس بنا پر اپنے غلام سالم کو ساتھ لے کر مدینہ پہنچے اورعباد بن بشرکے مہمان ہوئے، آنحضرت ﷺ نے ان دونوں میں باہم مواخات کرادی۔[2]

غزواتترميم

عہدِ نبوی ﷺ کے تمام اہم مشہور معرکوں میں جوش وپامردی کے ساتھ سرگرم کارزار تھے،خصوصاً غزوۂ بدر میں کیسا عبرت انگیز منظر تھا، جب کہ ایک طرف سے ان کے والد اور دوسری طرف سے یہ جوہر شجاعت دکھا رہے تھے، انہوں نے اپنے والد کو مقابلہ کے لیے للکارا ان کا والد مقتول ہوا تو ابو حذیفہ کا چہرہ نہایت اداس دیکھ کر رسول اللہ نے پوچھا، ابوحذیفہ شاید تم کو اپنے باپ کا کچھ افسوس ہے، عرض کیا خدا کی قسم نہیں، مجھے اس کے مقتول ہونے کا صدمہ نہیں ہے ؛لیکن میرا خیال تھا کہ وہ ایک ذی عقل پختہ کار و صاحب رائے شخص تھا اس بنا پر امید تھی کہ وہ دولتِ ایمان سے فائدہ اٹھائے گا؛ لیکن جب کہ حضورﷺ نے حالت کفر پر اس کے مرنے کا یقین دلادیا تو مجھے اپنے غلط توقع پر افسوس ہوا۔[3]

شہادتترميم

ابوبکر صدیق کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور اسی جنگ میں بعمر 54 سال شہادت پائی۔ [4]

حوالہ جاتترميم

  1. اسد الغابہ:5/170
  2. استیعاب تذکرہ ابوحذیفہ
  3. سیرت ابن ہشام :1/369
  4. الطبقات الكبرى المؤلف: أبو عبد الله محمد بن سعد المعروف بابن سعد الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت