واقعہ حرہ کے شرم ناک واقعے میں صحابہ و تابعین جن میں حفاظ قرآن و حدیث بھی تھے نہایت مظلومانہ انداز میں مدینۃ النبی میں مجبور اور ناچار کر کے شہید کیے گئے۔ تمام کتب نے صحابہ کرام اور تابعین عظام شہداء کی بڑی تعداد نقل کی ہے

مدنی شہدائے حرہ

ترمیم

حرہ کے دن عبداللہ بن حنظلہ کی آل میں سے آٹھ افراد بھی شامیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے۔ اور عبد اللہ بن زمعہ کے سات بیٹے یا پوتے شہید ہوئے۔[1]

حرہ کی کہانی میں نہ صرف انصار بلکہ متعدد مہاجر خاندانوں پر بھی امویوں نے حملہ کر کے انھیں قتل کیا تھا۔

سانحہ حرہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف رپورٹس بیان کی گئی ہیں۔ جیسے:

  • ۔ سات سو (700) شخصیات اور بزرگ۔
  • ۔ اسی (80) صحابہ۔
  • ۔ دس ہزار (10000) دوسرے لوگ۔

سانحہ حرہ کے بعد میں ایک بھی بدری صحابی باقی نہیں بچا تھا![2]

کتاب "وقعہ حرہ" کے مصنف نے چند ہلاک ہونے والوں کے ناموں کے ساتھ ساتھ ان کے قبائل کے ناموں پر بھی ایک دلچسپ تحقیق کی ہے۔ صرف قبیلے کے نام اور ان میں 439 ہلاک ہونے والوں کی ترتیب مندرجہ ذیل ہے:

1- مہاجرین: قریش: 145 افراد،

2- انصار: اوس قبیلہ: 66 افراد،

3- انصار: قبیلہ خزرج: 137 افراد،

4- عدنانی قبائل: 25 افراد،

5- قحطانی قبائل: 22 افراد،

6- قریش کے اتحادی: 16 افراد،

7- انصار کے اتحادی: 10 افراد،

8- غلام: 8 افراد۔[3]

تابعی مورخ خلیفہ بن خیاط نے اپنی کتاب تاریخ خلیفہ بن خیاط میں صرف مدنی صحابہ اور تابعین کی فہرست بیان کی ہے۔[4]

شہدائے قریش

ترمیم

بنو ہاشم

ترمیم

بنو سلیم بن منصور

ترمیم

بنو مطلب بن عبد مناف

ترمیم

بنو نوفل بن عبد مناف

ترمیم

بنو مازن بن منصور

ترمیم

بنو امیہ بن عبد شمس

ترمیم

بنو اسد بن عبد العزى

ترمیم

بنو عبد الدار بن قصی

ترمیم

بنو زہرہ

ترمیم

بنو تیم بن مرہ

ترمیم

بنو مخزوم

ترمیم

بنو عدی بن كعب

ترمیم

بنو سهم بن عمرو

ترمیم

بنو جمح بن عمرو

ترمیم

بنو عامر بن لؤی

ترمیم

بنو حجیر بن معیص

ترمیم

بنو حارث بن فهر

ترمیم

بنو قیس بن حارث بن فهر

ترمیم

بنو محارب بن فهر

ترمیم

شہدائے انصار

ترمیم
بنو عوف
ترمیم
بنو حنش بن عوف بن عمرو
ترمیم
بنو ثعلبہ
ترمیم
بنو جحجبا بن كلفہ
ترمیم
بنو عجلان
ترمیم
بنو معاویہ بن مالك
ترمیم
بنو عبد الاشهل
ترمیم
بنو زعوراء
ترمیم
بنو نبیت عمرو بن مالك
ترمیم
بنو حارثہ بن حارث
ترمیم
بنو ظفر
ترمیم

خزرج

ترمیم
بنو مالك بن نجار
ترمیم
بنو عدی بن نجار
ترمیم
بنو دینار بن نجار
ترمیم
بنو مازن بن نجار
ترمیم
بنو حرث بن خزرج
ترمیم
بنو عوف بن خزرج
ترمیم
بنو سالم بن عوف
ترمیم
بنو سلمہ
ترمیم
بنو بیاضہ
ترمیم
بنو زریق
ترمیم
آل المعلى
ترمیم

دیگر شہدائے حرہ

ترمیم

ہزاروں کی تعداد میں دیگر مسلمان (جن میں بہت سے حافظ قرآن، راویان حدیث صحابہ کرام اور تابعین عظام تھے) بھی اس واقعہ میں شہید ہوئے جن کی تعداد 11000 تک بیان کی گئی ہے۔ ان کے نام تاریخ کے صفحات میں گم کر دیے گئے۔ تاکہ بنی امیہ کے مظالم چھپ جائیں۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. اسد الغابه ، ج1 ، ص600
  2. الإمامة والسیاسه، ج1 ، ص 243 ؛ البدایة والنهایه ، ج8 ، ص221
  3. فاضل عبد الجلیل الزاکی، وقعة الحرة، ص 446 ـ 355
  4. كتاب تاریخ خلیفہ بن خیاط، الصفحات 240-250 آرکائیو شدہ 2017-05-13 بذریعہ وے بیک مشین
  5. حسب كتاب تاریخ خلیفہ بن خیاط بن ابی ہبیرہ۔ واضح نہیں ہے کہ کیا یہ وہی مشہور سعید بن جبیر ہیں یا کوئی اورشخص ہیں۔