زید بن ثابت انصاری صحابی بڑے فقیہ ہیں، کاتب وحی ہیں۔

زید بن ثابت
(عربی میں: زيد بن ثابت ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 611  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 665 (53–54 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
نمایاں شاگرد محمد بن سیرین  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ حافظ قرآن،  مفسر قرآن،  قاضی،  فوجی،  کاتب  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی،  عبرانی،  سریانی زبان  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ خندق  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسب اور ابتدائی حالاتترميم

زید نام،ابو سعید، ابوخارجہ،ابو عبد الرحمن کنیت، مقری، فرضی کاتب الوحی، جرالامت القاب،قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے زید بن ثابت بن ضحاک بن زید بن لوذان بن عمرو بن عبد بن عوف بن غنم بن مالک بن نجار، والدہ کا نام نوار بنت مالک بن معاویہ بن عدی تھا، جوانس بن مالک کے خاندان سے تھیں۔ انصار میں اسلام سے پہلے جو لڑائیاں ہوئی تھیں ان میں یوم بعاث سب سے زیادہ مشہور ہے،زید کے والد اسی لڑائی میں قتل ہوئے،یہ واقعہ ہجرت سے 5 سال قبل کا ہے اس وقت ان کی عمر کل6 برس کی تھی۔

اسلامترميم

اسلام مدینہ میں مسافر کی حیثیت سے تھا مصعب بن عمیر مبلغ اسلام، توحید ورسالت کا وعظ کہہ رہے تھے،زیدنے اسی صغر سنی میں اسلام قبول کیا، کسی انسان کا اگر بلوغ سے قبل ایمان لانا باعث فخر و مباہات ہو سکتا ہے، توزیدنے گیارہ سال کی عمر میں یہ فخر حاصل کیا اور ابتدا ہی سے ان کا دامن شرک کے داغ سے پاک رہا۔

غزوات میں شرکتترميم

زیدؓ کا سن 13سال کا تھا کہ غزوہ بدر پیش آیا، انصار ومہاجرین کا مجمع جب میدان جنگ کو روانہ ہوا تو 13برس کے اس بچہ نے بھی لڑائی کا عزم بالجزم کیا اور رسول اللہﷺ کے روبروبچوں کی ایک جماعت کے ساتھ پیش ہوئے،آپﷺ نے ان کی کم سنی پر نظر فرماکر واپس کر دیا۔ غزوۂ احد کی شرکت کے متعلق بھی اختلاف ہے بعض کا خیال ہے کہ غزوۂ خندق جو 5ھ میں واقع ہوا تھا، زیدؓ کا پہلا غزوہ تھا، اس وقت ان کا سن 16 سال کا تھا اور وہ شرکت جہاد کی عمر کے مطابق ہوچکے تھے۔ غزوۂ خندق میں وہ آنحضرتﷺ کے ہمراہ معرکہ کارزار میں موجود تھے اورخندق کھودنے والی جماعت میں شامل تھے اورمٹی نکال کر باہر لاتے تھے آنحضرتﷺ کی نظر پڑی تو فرمایا کیسا اچھا لڑکا ہے؟ اتفاق سے ان کو نیند آگئی،عمارہ بن حزم نے دیکھا تو مذاق سے ان کے ہتھیار اتار لیے،زید کو خبر نہ ہوئی، آنحضرتﷺ پاس تھے مزاحاً فرمایا"یا ابارقاد"یعنی اے نیند کے باپ اٹھ اور لوگوں کو منع فرمایا کہ اس قسم کا مذاق نہ کیا کریں۔ غزوۂ تبوک میں ان کے قبیلہ مالک بن نجارہ کا علم عمارہ بن حزم کے ہاتھ میں تھا، بعد میں آنحضرت ﷺ نے ان سے لے کر زیدکو عطا فرمایا، عمارہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھ سے کون سی خطا ہوئی ،فرمایا کچھ نہیں مجھے قرآن کا لحاظ مد نظر ہے،زید تم سے زیادہ قرآن پڑھ چکے ہیں۔ جنگ یمامہ میں جو ابوبکرکے عہدِ مبارک میں مسیلمہ کذاب سے ہوئی تھی زید شامل تھے اس میں ان کو ایک تیر لگا، لیکن جس کا کوئی صدمہ نہیں پہنچا۔

قرآن کا علمترميم

زید نے مسلمان ہوتے ہی قرآن پڑھنا شروع کیا،اس بنا پر لوگ ان کو نہایت عزت کی نظر سے دیکھتے تھے،جب آنحضرتﷺ مدینہ تشریف لائے،تویہ 17سورتوں کے حافظ ہوچکے تھے،لوگ ان کو آپ کی خدمت میں لے گئے اورکہا کہ یہ بنی نجار سے ہیں اور 17 سورتیں پڑھ چکے ہیں،آنحضرتﷺ سن کر بہت خوش ہوئے ،زیدؓ نے قرآن سنایا تو آپ کو بڑا تعجب ہوا۔ ، علم میراث کے امام ہیں، قرآن مجید جمع کرنے والی جماعت کے امیر ہیں کہ آپ نے اپنی جماعت کے ساتھ خلافت صدیقی میں قرآن مجید جمع کیا اور عہد عثمانی میں اسے مصاحف میں نقل فرمایا، آپ سے بڑی مخلوق نے احادیث روایت کیں، پچپن سال عمر پائی 45ہجری میں وفات ہوئی۔[3]

امارت مدینہ منورہترميم

زیدمیں علمی و دینی کمالات کے ساتھ انتظامی قابلیت بھی تھی اوران پر اتنا اعتماد تھا کہ عمر نے جب مدینہ سے سفر کیا تو اپنا جانشین انہی کو مقرر کیا،حضرت عثمانؓ کا بھی یہی طرز عمل رہا، وہ جب حج کو مکہ معظمہ روانہ ہوتے تو زیدؓ کو کاروبار خلافت سپرد کرجاتے تھے۔ خلافت فاروقی میں زید کو تین مرتبہ عمر کی ہم نشینی کا فخر حاصل ہوا۔ 16 ھ اور 17ھ میں دو مرتبہ عمرکے حج کے موقع پر تیسری مرتبہ ان کے شام کے سفر کے زمانہ میں شام پہنچ کر زیدکو آپ نے جب خط لکھا تو اس میں زید کا نام اپنے نام سے پہلے تحریر کیا یعنی "الی زید بن ثابت من عمر بن الخطاب" ہر دفعہ زید نے خلافت کی ذمہ داریوں کو نہایت ہوشیاری اور مستعدی سے انجام دیا، عمران کے انتظام سے بہت خوش ہوتے اور واپس آکر ان کو کچھ جاگیر دیاکرتے تھے۔

اصلاح امتترميم

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے ساتھ ہی انصار میں خلافت کا مسئلہ پیش ہو گیا،سقیفہ بنی ساعدہ میں تمام انصار جمع تھے اور رئیس انصار سعد بن عبادہ مجلس کے صدر نشین تھے، انہی کے انتخاب پر لوگوں کی تقریریں ہورہی تھیں، انصار کی بڑی جماعت ان کی تائید میں تھی، حضرت زید بن ثابتؓ بھی جلسہ میں موجود تھے،مگر رجحان عام کے خلاف آواز بلند کرنا اس وقت کوئی آسان کام نہ تھا،اس لیے خاموش تھے۔ اس کے بعد جب حضرت ابوبکرؓ،حضرت عمرؓ، حضرت ابو عبیدہؓ، سقیفہ میں پہنچے اور مہاجرین کی طرف سے حضرت عمرؓ نے خلافت کی بحث شروع کی تو سب سے پہلے جس انصاری نے ان کی تائید کی وہ حضرت زید بن ثابتؓ تھے، انصار کی تقریریں ختم ہونے کے بعد انہوں نے ایک مختصر مگر پر معنی تقریر کی جس کا ایک فقرہ یہ تھا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّمَا الْإِمَامُ يَكُونُ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَنَحْنُ أَنْصَارُهُ كَمَا كُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [4] یعنی رسول اللہ ﷺ مہاجرین میں سے تھے اس لیے امام کا بھی مہاجرین میں سے انتخاب ہونا چاہیے اورہم اس کے انصار رہیں گے جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ کے انصار تھے۔ ان کی یہ صدا ان کی قوم کے خلاف تھی،تاہم کوئی اس کو دبانہ سکتا تھا، حضرت زیدؓ کی تقریر ختم ہوئی تو حضرت ابوبکرؓ نے کھڑے ہوکر تحسین کی اورکہا خدا تم کو جزائے خیر دے اگر اس کے علاوہ کوئی بات پیش کی جاتی تو غالباً ہم لوگ ماننے کے لیے تیار نہ ہوتے۔ [5] حضرت زیدؓ نے حضرت ابوبکرؓ کا ہاتھ پکڑا اور انصار سے کہا کہ ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آنحضرتﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد سلاطین ووالیان ملک کے خطوط وقتاً فوقتاً موصول ہوتے تھے جو اکثر سریانی میں ہوتے تھے،مدینہ میں سریانی جاننے والے صرف یہود تھے،جن کو اسلام سے شدید بغض وعناد تھا، اس بنا پر مصلحت اوردور اندیشی کا تقاضا تھا کہ خود مسلمان اس زبان کو سیکھیں۔ حضرت زیدؓ بن ثابت نہایت ذکی اورفطین تھے 5ھ میں آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس لوگوں کے خطوط آتے ہیں جن کو میں کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا اس کے سوا مجھے یہود پر اطمینان بھی نہیں اس لیے بہتر ہے کہ تم عبرانی سیکھ لو،چنانچہ حضرت زیدؓ نے 15 دن میں عبرانی اورسریانی میں اس قدر مہارت حاصل کرلی کہ خطوط پڑھ لیتے اورجواب لکھ دیتے تھے۔ [6] ان کی اسی ذہانت اور علم کی بنا پر آنحضرت ﷺ نے ان کو کتابت کے عہدہ پر سرفراز فرمایا تھا،جس پر وہ آنحضرت کی وفات تک فائز رہے۔ حضرت ابوبکرؓ وحضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں بھی ان کا یہ منصب بحال رہا؛ لیکن اب کام کی کثرت ہو گئی تھی اس لیے معیقیب دوسی ان کے مددگار مقرر کیے گئے۔ حکومت اسلامیہ کا ایک جلیل القدر منصب قضا ہے جو حضرت فاروقؓ کے عہدِ میں قائم ہوا، (بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قضا حضرت عثمان ؓ کی ایجاد ہے لیکن یہ صحیح نہیں ،حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے درمیانی عہد میں محکمہ قضا کو وجود کا لباس پہنادیا تھا،چنانچہ یزید بن اخت المنر کو محکمۂ قضا کے چند چھوٹے چھوٹے کام سپرد کیے تھے(75) [7] اس کے ما سوا بعض روایتوں کے بموجب حضرت علیؓ کو بھی قضا کا کاروبار سونپا گیا تھا،کنز [8] آنحضرت ﷺ اورحضرت ابوبکرؓ کے زمانہ تک اس محکمہ کا مستقل وجود نہ تھا، حضرت عمرؓ نے اس کی بنیاد قائم کی اورحضرت زیدؓ کو مدینہ کا قاضی مقرر کیا ،طبقات ابن سعد اور اخبار القضاۃ میں ہے: ان عمر استعمل زیدا علی القضاء وفرض لہ رزقاء یعنی حضرت عمرؓ نے زید کو قاضی بنایا اوران کی تنخواہ مقرر کی۔ اس وقت تک قاضی کے لیے عدالت کی عمارت تعمیر نہیں ہوئی تھی اس لیے زیدؓ کا گھر دار القضا کا کام دیتا تھا،مکان فرش سے آراستہ تھا، اس کے صدر میں حضرت زیدؓ فیصلہ کے وقت متمکن ہوتے تھے ،دار الخلافت اور تمام قرب وجوار کے مقدمات حضرت زیدؓ کے پاس آتے تھے،یہاں تک کہ خود خلیفۂ وقت (حضرت عمرؓ) پر بھی یہاں دعوے داخل کئےجاتے تھے اوراس کا فیصلہ بھی یہیں ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ اورحضرت ابی بن کعبؓ میں کچھ نزاع ہوئی، حضرت زیدؓ کی عدالت میں مقدمہ دائر ہوا، حضرت عمرؓ مدعا علیہ کی حیثیت سے حاضر ہوئے،حضرت زیدؓ نے جیسا کہ آج بھی امرا و روساء کو کرسی دینے کا دستور ہے حضرت عمرؓ کے لیے اپنی جگہ خالی کردی،لیکن مساوات کا جو اصول اسلام نے قائم کیا تھا، صحابہؓ اس پر نہایت شدت سے عمل پیرا تھے،خصوصاً حضرت عمرؓ نےاس کو نہایت عام کر دیا تھا، اس بنا پر حضرت عمرؓ نے زیدؓ سے فرمایا کہ یہ آپ کی پہلی نا انصافی ہے مجھ کو اپنے فریق کے ساتھ بیٹھنا ہے؛چنانچہ دونوں بزرگ عدالت کے سامنے بیٹھے،مقدمہ پیش ہوا، حضرت ابیؓ مدعی تھے اورحضرت عمرؓ کو انکار تھا، شرعاً منکر پر قسم واجب ہوتی ہے ؛لیکن حضرت زیدؓ نے خلافت کے ادب واحترام کی بنا پر مدعی سے درخواست کی کہ اگرچہ یہ قاعدہ نہیں تاہم آپ امیر المومنین کو قسم سے معاف کردیجئے۔ حضرت عمرؓ نے کہا اس رعایت کی ضرورت نہیں،فیصلہ میں عمر اورایک عام مسلمان آپ کے نزدیک برابر ہونے چاہیے۔ [9]

بیت المال کی افسریترميم

ممالک اسلامیہ میں اگرچہ بہت سے مقامی بیت المال قائم تھے، حضرت زیدؓ اس کے افسر تھے، 31ھ میں حضرت عثمانؓ نے یہ عہدہ ان کو تفویض فرمایا تھا،بیت المال کے عملہ میں زیدؓ کا ایک غلام وہیب بھی تھا وہ نہایت ہوشیارتھا اور بیت المال کے کاموں میں مدد دیتا تھا، ایک دن وہ بیت المال میں گنگنارہا تھا کہ حضرت عثمانؓ آگئے پوچھا یہ کون ہے، زیدؓ نے کہا میرا مملوک ہے،حضرت عثمانؓ نے فرمایا،اس کا ہم پر حق ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کی مددکرتا ہے (بیت المال کے کام کی طرف اشارہ تھا) چنانچہ 2 ہزار اس کا وظیفہ مقرر کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا،لیکن حضرت زیدؓ کے مزاج میں عصبیت تھی وحروعبد کو ایک نگاہ سے دیکھ نہ سکتے تھے حضرت عثمانؓ سے کہا دو ہزار نہیں ؛بلکہ ایک ہزار مقرر کیجئے،حضرت عثمانؓ نے ان کی درخواست منظور کرلی اوراس کا وظیفہ ایک ہزار مقرر کر دیا۔

مجلس شوریٰ کی رکنیتترميم

حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں انصار ومہاجرین کے ممتاز اصحاب کی جو مجلسِ شوریٰ تھی،حضرت زیدؓ بھی اس کے ایک رکن تھے، حضرت عمرؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں اسی جماعت کو باضابطہ کونسل قراردیا تھا،حضرت زیدؓ اس کے بھی ممبر تھے۔

تقسیم مال غنیمتترميم

ایمان کے ۷۰ سے اوپر شعبے اورشاخیں ہیں،امانت،ایمان کا ایک ضروری جز ء ہے؛ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لا ایمان لمن لا امانۃ لہ جس میں امانت نہیں اس میں ایمان بھی نہیں۔ آنحضرتﷺ کے عہدِ مبارک میں جو مال غنیمت آتا تھا اکثر آپ خود تقسیم فرماتے تھے، اس سے اس کام کی اہمیت پر بخوبی روشنی پڑتی ہے، حضرت عمرؓ کےعہد میں یرموک کا واقعہ نہایت اہم اور مشہور ہے اس میں مال غنیمت کی تقسیم حضرت زیدؓ کے سپرد تھی،اس کے ماسوا حضرت عمرؓ نے جب صحابہؓ کے وظائف مقرر کئے تو انصار کے وظائف کی تقسیم بھی انہی کے سپرد کی،انہوں نے عوالی سے تقسیم شروع کی اس کے بعد عبدالاشہل کا نمبر رکھا، اس کے بعد اوس کے محلہ کا،پھر قبائل خزرج کا اورسب سے اخیر میں اپنا حصہ لیا۔ [10]

سیاسی خدمتترميم

حضرت زید بن ثابتؓ بارگاہ خلافت کے مقربین خاص میں تھے ،حضرت عمرؓ کے احباب میں ان کا ممتاز درجہ تھا، حضرت عثمانؓ کے بھی وہ خاص معتمد تھے ،خلافت عثمانی میں جب آتش فتنۂ وفساد مشتعل ہوئی تو وہ خلیفۂ وقت کے طرفدار تھے اوراس شورش وانقلاب کے زمانہ میں انہوں نے ایک دن انصار کو مخاطب کرکے ایک تقریر کی جس کا ایک بلیغ فقرہ یہ تھا: یا معشر الانصار کو نو انصاراللہ مرتین یعنی اے انصار خدا کے دو مرتبہ انصار بنو۔ بعض صحابۂ کرامؓ حضرت عثمانؓ سے بد ظن تھے،ان میں حضرت ابو ایوبؓ انصاری بھی تھے،انہوں نے کہا کہ تم عثمانؓ کی مدد پر صرف اس وجہ سے لوگوں کو آمادہ کرتے ہوکہ انہوں نے تم کو بہت سے غلام دیئے ہیں، حضرت ابوایوبؓ بھی بہت بااثر بزرگ تھے اس لئے زید کوخاموش ہونا پڑا۔

خانگی حالات اوراہل وعیالترميم

حضرت زیدؓ کی خانگی زندگی نہایت پر لطف تھی ان کی بیوی کا نام جمیلہ اورکنیت ام سعد اورام العلا تھی سعد بن ربیع انصاری مشہور صحابی کی بیٹی تھیں اورخود بھی صحابیہ تھیں۔ حضرت زیدؓ کی اولاد میں خارجہ جو سب سے زیادہ مشہور اور فقہائے سبعہ میں تھے جمیلہ کے بطن ہی سے تھے۔ حضرت زیدؓ کے دوسرے بیٹے اور پوتے بھی اپنے زمانہ میں مشہور اور علم حدیث میں مرجع الخلائق تھے

وفاتترميم

پچپن،چھپن سال کا سن مبارک تھا کہ پیام اجل آگیا اور 45ھ میں وفات پائی اس وقت تخت حکومت پر امیر معاویہ متمکن تھے اور مروان بن حکم مدینہ منورہ کا امیر تھا وہ زید سے دوستانہ تعلقات رکھتا تھا، چنانچہ اسی نے نماز جنازہ پڑھائی تمام لوگ سخت غمگین تھے، ابوہریرہ نے موت کی خبر سن کر کہا آج حبرالامۃ اٹھ گیا۔

علم و فضلترميم

قرأت فرائض قضا اور فتویٰ میں وہ نہایت ممتاز تھے قرآن مجید میں علماء کی شان یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ راسخین فی العلم ہوں حضرت زید بن ثابتؓ راسخ فی العلم تھے، حضرت عبداللہ بن عباسؓ جو صحابہ میں دریائے علم کہلاتے تھے حضرت زیدؓ کو راسخین فی العلم شمار کرتے تھے۔

قرأتترميم

اسلام نے جن علوم وفنون کی بنیاد قائم کی ان میں قرأت ایک ممتاز علم ہے حضرت زیدؓ کو اس فن میں جس قدر دخل تھا اس کا اعتراف صحابہ کرامؓ اور تابعین کے ہر فرد کو تھا، امام شعبیؓ جو علامۃ التابعین تھے کہا کرتے تھے کہ زیدؓ فرائض کی طرح قرأت میں بھی تمام صحابہؓ سے فوقیت لے گئے تھے۔ قرآن مجید کے ساتھ حضرت زیدؓ کو جو شغف تھا اس کا ظہور ان کے قبولِ اسلام کے وقت ہوچکا تھا،صرف ۱۱ برس کے سن میں وہ ۱۷ سورتوں کے حافظ ہوچکے تھے باقی زندگی کتابت وحی میں گذری تھی، مبلغ وحی پر قرآن کا جتنا حصہ اترتا ان کو معلوم ہوجاتا تھا اور وہ اس کو یاد کرلیتے تھے ،چنانچہ آنحضرتﷺ کے عہد میں ان کو پورا قرآن حفظ ہوگیا تھا۔ اس بناء پر جب حضرت ابوبکرؓ نے قرآن لکھوایا تو اس خدمت کے لئے حضرت زیدؓ ہی کو منتخب فرمایا اورحضرت عثمانؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں جب اس کی نقلیں کرائیں تو اس میں حضرت زیدؓ کی شرکت بھی ضروری سمجھی۔ حضرت عمرؓ ابی بن کعبؓ کے مقابلہ میں جو قاریوں کے سر دار تھے حضرت زیدؓ کی قرأت کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت زیدؓ کا سلسلۂ قرأت دور دور تک پھیلا ہوا تھا اورچونکہ قرأت قریش کے مطابق پڑہتے تھے،اس لئے لوگوں کا رجحان انہی کی قرأت کی طرف تھا ،حضرت ابی بن کعبؓ کی زندگی تک اگرچہ وہ مرجع انام نہ ہوسکے،لیکن ان کی وفات کے بعد تمام عالم اسلامی ان ہی کی طرف رجوع کرتا تھا، مدینہ منورہ میں حضرت زیدؓ کی ذات اقدس تمام اکناف واطراف کی قبلۂ حاجات بنی ہوئی تھی۔ حضرت زیدؓ سے جو قرأت قائم ہوئی تھی وہ ۱۳۰۰ سو برس گذرنے پر بھی باقی ہے ابن عباسؓ ،ابو عبدالرحمن سلمی، ابو العالیہ ریاحی، ابو جعفر، یہ سب ان کے شاگرد تھے،اورآج تک روئے زمین کی ۴۰ کروڑ مسلم آبادی معنوی طور سے ان کے آستانہ پر زانوے تلمذی تہ کرتی ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب عنوان : Зейд ибн Сабит
  2. عنوان : Зейд ибн Сабит
  3. مرأۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، مفتی احمد یار خان، جلد 8، صفحہ605
  4. (مسند احمد،باب حدیث زید بن ثابت عن النبی ﷺ،حدیث نمبر:20631)
  5. (ایضاً:186)
  6. (مسند:5/186)
  7. کنزالعمال بحوالہ طبقات ابن سعد :3)
  8. بحوالہ جامع عبدالرزاق :3/175)
  9. (کنزالعمال:3/174،بحوالہ بخاری وشکم)
  10. (کتاب:۱/، ابی یوسف:۲۶)