مرکزی مینیو کھولیں
فاروق احمد خان لغاری
تفصیل=

آٹھویں صدر پاکستان
مدت منصب
14 نومبر 1993ء – 2 دسمبر 1997ء
وزیر اعظم بینظیر بھٹو
ملک معراج خالد (نگران)
نواز شریف
Fleche-defaut-droite-gris-32.png وسیم سجاد (نگران)
وسیم سجاد (نگران) Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 29 مئی 1940  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
چھوٹی زیریں  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 20 اکتوبر 2010 (70 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
راولپنڈی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات مرض نظام قلب و عروقی  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی فورمن کرسچین کالج
ایچی سن کالج  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سفارت کار، سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سردار فاروق احمد خان لغاری (29 مئی 1940ء تا 20 اکتوبر 2010ء) پاکستان کے ایک مشہور سیاست دان اور سابقہ صدرِ مملکت تھے۔

ابتدائی زندگیترميم

جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقے چوٹی زیریں کے ایک زمیندار اور سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کرنے کے بعد اعلٰی تعلیم کے بیرون ملک گئے۔ مرحوم وطن واپسی کے بعد سول سروس میں شامل ہو گئے اور مشرقی پاکستان میں فرائض انجام دیے۔ فاروق لغاری نے اپنے والد کی وفات کے بعد سول سروس سے علیٰحدگی اختیار کرلی اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ اس طرح انہوں نے سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔

سیاستترميم

فاروق لغاری ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں سینیٹ کے رکن بنے اور پھر وفاقی کابینہ میں پیداوار کی وزارت کا قلم دان سنبھالا۔ 1988ء میں فاروق لغاری بیک وقت قومی اور پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وہ اس وقت پنجاب کے وزیر اعلٰی کے ایک مضبوط امیدوار سمجھے جاتے تھے۔ لیکن پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم نہ ہو سکی جس کی وجہ سے انہوں نے صوبائی نشست چھوڑی دی اور وفاقی کابینہ میں بجلی کے وزیر بنے۔ 1990ء میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے طور پر قومی اسمبلی میں اپنا کردار ادا کیا اور بعد میں مختصر عرصے کے لیے بلخ شیر مزاری کی نگران حکومت میں وزیر خزانہ بھی رہے۔

صدرِ پاکستانترميم

1993ء میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور بےنظیربھٹو نے انہیں اپنی کابینہ میں وزیر خارجہ بنایا اور صدر پاکستان بننے تک وہ اسی عہدے پر فائز رہے۔ سردار فاروق احمد خان لغاری صدارتی انتخابات میں اپنے مدمقابل حزب اختلاف کے امیدوار سینیٹر وسیم سجاد کو شکست دے کر صدر منتخب ہوئے۔ صدر منتخب ہونے پر انہوں نے پیپلز پارٹی کی رکنیت سے استعفٰی دے دیا۔ بعد ازاں سردار فاروق لغاری اور بینظیر بھٹو کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور نومبر 1996ء میں آئین میں دیے گئے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 58(2B) کے تحت بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی اور اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔ فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی جگہ اپنے ایک قریبی ساتھی اور پیپلز پارٹی کے رہنما ملک معراج خالد کو ملک کا نگران وزیر اعظم بنادیا۔ اسی دوران احتساب کے لیے احتساب آرڈیننس کے نام سے ایک نیا قانون متعارف کرایا تھا جو بعد میں نواز شریف کے دور میں احتساب ایکٹ کہلایا اور سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے اس قانون کو نیب یعنی قومی احتساب بیورو کا نام دیا۔

فاروق لغاری نے احتساب آرڈیننس میں ترمیم کا ارادہ کیا تو اس وقت نگران وزیرِ قانون فخرالدین جی ابراہیم نے اس کی مخالفت کی اور وزیرِ قانون کا عہدہ چھوڑ دیا۔ اسی عرصے میں قومی سلامتی کونسل کی طرز پر ایک آرڈیننس کے ذریعے ایک ادارہ قائم کیا لیکن آرڈیننس کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد یہ ادارہ ازخود ہی تحلیل ہو گیا۔ 1997ء کے انتخابات میں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ ن بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ نواز شریف نے صدر کے اسمبلی توڑنے اور فوجی سربراہاں کی تقرری کا اختیار واپس لینے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے آئین میں ترمیم کی اور اس ترمیم کی منظوری کے لیے اس وقت حزب اختلاف کی قائد بینظیر بھٹو نے بھی ترمیم کی منظوری کے مکمل اور بھرپور حمایت کی۔ 1997ء میں نواز شریف حکومت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے درمیان تنازعے کی وجہ سے صدرِ مملکت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

ق لیگترميم

سردار فاروق احمد خان لغاری نے صدر پاکستان کو منصب چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد اپنی نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔ لاہور میں قائم کی جانے والی اس نئی جماعت کا نام ملت پارٹی رکھا گیا اور اس میں پیپلز پارٹی کے ناراض رہنماؤں اور کارکنوں نے شمولیت اختیار کی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اپنی جماعت ملت پارٹی کو اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ ق میں ضم کر دیا۔ سردار فاروق لغاری نے 2008ء میں ہونے والے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

انتقالترميم

20 اکتوبر 2010ء کو ان کا انتقال راولپنڈی کے سی ایم ایچ ہسپتال میں دل کی دھڑکن رک جانے سے ہوا۔ چند گھنٹے بعد ان کے دل کی جراحت کی جانی تھی۔

بیرونی روابطترميم