مرکزی مینیو کھولیں
نظام الملک طوسی
سلجوق سلطنت کا وزیر
مدت منصب
29 نومبر 1064 – 14 اکتوبر 1092
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عمید الملک کندری
تاج الملک فارسی Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1018[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
طوس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 14 اکتوبر 1092 (73–74 سال)[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نہاوند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت سلجوقی سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اہل سنت (اشعری)[6]
اولاد احمد بن نظام الملک
شمس الملک عثمان
ابو الفتح فخر المالک
مؤید الملک
جمال الملک
فخر الملک
عز الملک
عماد الملک ابو قاسم
صفیہ
عملی زندگی
پیشہ سائنس دان،  ومصنف،  وسیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
وفاداری سلجوقی سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وفاداری (P945) ویکی ڈیٹا پر
حشاشین کے ہاتھوں نظام الملک طوسی کا قتل

جس طرح ہارون الرشید کا دور برامکہ کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے اسی طرح سلجوقیوں کا عہد نظام الملک طوسی کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ نظام الملک کا اصل نام حسن بن علی اور لقب نظام الملک تھا۔ وہ طوس کے ایک زمیندار علی کا بیٹا تھا۔ 408ھ میں پیدا ہوا اور بچپن سے ہی بہت ذہین اور کئی خوبیوں کا مالک تھا۔ اپنی ذہانت سے انتہائی کم عمری میں کئی علوم پر عبور حاصل کیا۔ سلجوقی عہد میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوا۔ اس عہد کے تمام کارنامے نظام الملک کے تیس سالہ دور وزارت کے مرہون منت ہیں۔ یہ عہد سلجوقیوں کا درخشاں عہد کہلاتا ہے۔ الپ ارسلان جو ایک مجاہدانہ صفت رکھنے والا بادشاہ تھا نے اپنے کمسن بیٹے ملک شاہ کو نظام الملک کے سپرد کر دیا تا کہ وہ اس کی تربیت کرے اور عصری علوم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حکومت کرنے کے ڈھنگ بھی سکھائے۔ انہی دنوں گرجستان کی مہم پیش آئی جس کے لیے فوج کو نظام الملک کی سربراہی میں بھیجا گیا۔ گرجستان والوں نے ہتھیار پھینک دئے اور مسلم فوج کی شرائط پر صلح کرلی۔ جارجیا کے بادشاہ بقراط کی بھتیجی ہیلینا جو ایک حسین و دلکش دوشیزہ تھی مگر راہبانہ زندگی گزار رہی تھی۔ خواجہ حسن نظام الملک اس سے شادی کرنے کا خواہش مند تھا مگر حالات کے برعکس اس شہزادی ہیلینا کو الپ ارسلان سے نکاح کے لیے مخصوص کر لیا گیا اور شرائط میں اس شرط کو بھی شامل کیا گیا جس پر مسیحی آبادی میں غم و غصہ پایا جانے لگا جبکہ دوسری طرف گرجستان کے اعلیٰ و شاہی خاندان کے نوجوان بھی شہزادی کے طالب تھے مگر اس کی راہبانہ زندگی کے پیش نظر اس سے مدعا بیان نہ کرسکتے تھے۔ شہزادی کوالپ ارسلان کے نکاح میں دے دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد ایک گرجستانی شاعر جو الپ ارسلان کے دربار میں آیا ہوا تھا نے ایک قصیدہ موزوں کرکے گوش گزارنے کی اجازت طلب کی۔ الپ ارسلان نے اجازت دے دی تو اس گرجستانی شاعر نے انتہائی واہیات انداز میں شہزادی ہیلینا اور نظام الملک طوسی کی کردار کشی کی جس کے بعد الپ ارسلان نے اس شرط پر شہزادی ہیلینا کو طلاق دے دی کہ نظام الملک اس سے شادی کرے یا شہزادی گرجستان واپس چلی جائے مگر شہازدی نے واپس جانے سے اس بنا پر انکار کیا کہ اب میری وہاں پہلے والی عزت نہیں رہے گی اور یہ کہ وہ خود کو مسلمانوں میں محفوظ و مامون محسوس کرتی ہے لہذا اس نے نظام الملک سے شادی کرلی سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے نظام الملک کی صلاحیتوں کا اندازہ لگاتے ہوئے وزارت کا منصب اس کے سپرد کر دیا۔ اس نے الپ ارسلان کے عہد میں ایسے جوہر دکھائے کہ تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کی ہزاروں شمعیں روشن ہوگئیں۔ اس نے ملک کو گوشے گوشے میں مدارس کا جال بچھا دیا اور سب سے بڑا اور اہم مدرسہ بغداد کا مدرسہ نظامیہ تھا جس کی تعمیر پر بے پناہ روپیہ صرف کیا گیا۔ اس کے علمی و ادبی کارناموں کی طویل فہرست کے ساتھ مذہبی اور دینی خدمات بھی بے شمار ہیں اور رفاہ عامہ کے کارنامے تاریخ پر انمٹ نقوش ثبت کرتے ہیں۔ اس کی تحریر کردہ کتاب "سیاست نامہ" کو انتہائی شہرت حاصل ہوئی اور اس سے آج بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ یورپ کی مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے۔

عروج کی انتہائی بلندیوں تک پہنچنے کے بعد برامکہ کی طرح اس کی قسمت کا ستارہ بھی زوال میں آگیا اور ملک شاہ اول نے اسے وزارت سے علاحدہ کر دیا۔ زوال کے اسباب بھی برامکہ کے اسباب کی طرح تھے۔ بہرحال اس کے کارنامے سلجوقی حکومت کے لیے لاتعداد ہیں بلکہ اس درخشاں دور کی کامیابیاں سلجوقی سلاطین کے علاوہ اس کی مرہون منت بھی ہیں۔

وہ 1063ء تا 1072ء الپ ارسلان کے دور حکومت اور 1072ء تا 1092ء ملک شاہ اول کے دور حکومت میں وزارت کے عہدے پر فائز رہا۔

نظام الملک نے اپنی مشہور تصنیف "سیاست نامہ" میں سلطنت کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک جدید نظریے کی بنیاد رکھی اور سلطان کو نئے معنی سے مدلل کرنے کی کوشش کی۔ مصنف نے سلطنت کی ابتدا اور سلطان کے معنی پر بحث کی ہے۔

علاوہ ازیں اس نے اپنے بیٹے ابو الفتح فخر الملک کے لیے ایک کتاب "دستور الوزراء" بھی تحریر کی۔ نظام الملک 10 رمضان 485ھ بمطابق 14 اکتوبر 1092ء کو اصفہان سے بغداد جاتے ہوئے حسن بن صباح کے فدائین "حشاشین" کے ہاتھوں شہید ہوا۔ مؤرخوں کے مطابق ملک شاہ اول جو خواجہ حسن نظام الملک کو خواجہ بزرگ اور پدر معنوی جیسے القاب سے نوازتا تھا اور خواجہ حسن کو خاص مقام حاصل تھا کہ وہ بادشاہ کے کمرہء خاص یا آرام کرنے کے کمرے میں بھی آمد و رفت رکھتے تھے۔ چونکہ وہ ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے اور انکو علوم خاص و عام میں رسوخ حاصل تھا۔ ملک شاہ اول کی شادی سلجوقی خاندان کی ایک خاتون جن کا نام زبیدہ خاتون تھا سے ہوئی اور ان کے بطن سے ملک شاہ اول کا سب سے بڑا بیٹا تولد ہوا۔ ملک شاہ اول نے ایک شادی خانان قاراخانی یا قاراخانی شہزادی سے بھی کی تھی جس کا نام ترکان خاتون تھا۔ کہتے ہیں کہ ملک شاہ اول کے دو بڑے بیٹوں داوود اور احمد جن کا بالترتیب 1082 اور 1088میں انتقال ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد ترکان خاتون اپنے بیٹے محمود جو سب سے کم سن تھا کو ولی عہد نامزد کروانا چاہتی تھی جبکہ خواجہ حسن نظام الملک طوسی نے ترکان خاتون کی مخالفت کی اور زبیدہ خاتون کے بڑے بیٹے برکیارق کو ملک شاہ اول کا جانشین و ولی عہد نامزد کرنے پر اصرار کیا جس پر ترکان خاتون کی نظام الملک کے ساتھ سرد جنگ شروع ہو گئی اور اس نے اپنے معتمد خاص تاج الملک االمعروف بہ المزرزبان کے ساتھ جوڑ توڑ کرکے نظام المک کو ان کے عہدہء وزارت سے ہٹانے کی سازشیں شروع کیں مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔ خواجہ حسن نظام الملک کی وفات کے بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ بہت سوں کا کہنا ہے کہ ایک دن ملک شاہ اول جو پہلے ہی وزیر مملکت کے خلاف ہونے والی محلاتی سازشوں سے دل برداشتہ ہو رہا تھا کو وزارت سے معزول کر دیا اور معزولی کا حکم سننے کے بعد نظام الملک واپس اپنی جاگیر یا بغداد جا رہے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ ملک شاہ اول کے حکم پر ضروری کام سے بغداد جا رہے تھے کہ اچانک ایک درویش نے ان سے دادرسی چاہی، شفیق و مہربان نظام الملک نے دادرسی کرنے کی خاطر اس درویش کو قریب بلایا مگر وہ درویش کے روپ میں قلعہ الموت کی طرف سے بھیجا گیا ایک فدائی تھا اس کا وار خواجہ حسن نظام الملک کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ خواجہ حسن جانبر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے انکی وفات پر پورا عالم اسلام اور بالخصوص رے غمزدہ و اداس ہو گیا۔ نوحہ گروں نے نوحہ کیا اور مرثیہ لکھنے والوں نے مرثئے لکھے۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ان دنوں شیعہ سنی مناظرے منعقد ہوا کرتے تھے جن میں ملک شاہ اول اور نظام الملک طوسی بھی بہ نفس نفیس شریک ہوتے تھے خواجہ حسن بزرگ نظام الملک طوسی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا اور جس دن ان پر حملہ ہوا اسی دن ملک شاہ اول کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا مگر ملک شاہ اول پر حملہ کامیاب نہ ہو سکا۔

حوالہ جاتترميم

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118588222 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. او ایل آئی ڈی: https://openlibrary.org/works/OL4485882A — بنام: Nizam al-Mulk — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — مصنف: آرون سوارٹز — اجازت نامہ: GNU Affero General Public License, version 3.0
  3. دائرۃ المعارف یونیورسل آن لائن آئی ڈی: https://www.universalis.fr/encyclopedie/nizam-al-mulk/ — بنام: NIẒĀM AL-MULK — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ناشر: Encyclopædia Britannica Inc.
  4. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/159087 — بنام: Niẓām al-Mulk — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Nizam-al-Mulk-Seljuq-vizier — بنام: Nizam al-Mulk — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  6. Henry Corbin (2014)۔ History Of Islamic Philosophy۔ Routledge۔ صفحہ 119۔ آئی ایس بی این 1135198896۔