بھارتی مسلح افواج (انگریزی: Indian Armed Forces) بھارت کی رسمی فوج ہے جو تین پروفیشنل [1][2] خدمات پر مشتمل ہے: بھارتی فوج، بھارتی بحریہ اور بھارتی فضائیہ۔ بھارت کا صدر بھارتی مسلح افواج (عسکریہ بھارت) کا سپریم کمانڈر ہے۔ بھارتی مسلح افواج بھارتی حکومت کی وزارت دفاع (ایم او ڈی) کے زیر انتظام ہیں۔اس کے پاس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا دفاعی بجٹ بھی ہے۔[3]

بھارتی مسلح افواج
Bhāratīya Saśastra Senāeṃ
Emblem of Indian Armed Forces
Emblem of Indian Armed Forces
خدماتی شاخیںIndian Army seal بھارتی فوج
Indian Air Force Seal بھارتی فضائیہ
Indian Navy seal بھارتی بحریہ
Indian Coast Guard
صدر دفترنئی دہلی
قیادت
کمانڈر ان چیفصدر بھارت رام ناتھ کووند
وزیر دفاع (بھارت)Ministry of Defence (India) نرملا سیتارمن
رئیسِ عملۂ دفاعجنرل بیپین راوت
افرادی قوت
عسکری مدت18
جبری بھرتیNo
فعال اہلکار1,443,921 (ranked 2nd)
ذخیرہ افواج1,155,000
Expenditures
بجٹامریکی ڈالر63.9 billion(2017)
(فہرست ممالک بلحاظ عسکری اخراجات)
Percent of GDP2.5%(2017)
Industry
Domestic suppliersIndian Ordnance Factories
Hindustan Aeronautics Limited
Bharat Electronics Limited
Bharat Earth Movers Limited
Bharat Dynamics Limited
Mazagon Dock Shipbuilders Limited
Goa Shipyard Limited
Garden Reach Shipbuilders and Engineers
Mishra Dhatu Nigam
غیر ملکی سپلائرز روس
 ریاستہائے متحدہ
 اطالیہ
Annual importsUS$42.9 billion (2000–16)
Annual exportsUS$314 million (2000–16)  افغانستان
 مالدیپ
 تاجکستان
 نیپال
 بھوٹان
 اسرائیل
 سلطنت عمان
 بنگلادیش
 ویت نام
 متحدہ عرب امارات
 ایران
 تھائی لینڈ
 قازقستان
 ترکیہ
 قطر
 ازبکستان
 سعودی عرب
 ملائیشیا
 فلپائن
 کرغیزستان
 انڈونیشیا
متعلقہ مضامین
تاریخMilitary history of India
Presidency armies
برطانوی ہندی فوج
آزاد ہند فوج
درجےArmy
Air Force
Navy

جائزہ

ترمیم

نگار خانہ

ترمیم

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Indian Armed Forces"۔ Know India Portal۔ NIC, GoI۔ 25 ستمبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2015 
  2. "CIC Order" (PDF)۔ Right to Information۔ CIC, GoI۔ 25 ستمبر 2015 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2015 
  3. https://www.sipri.org/sites/default/files/2020-04/fs_2020_04_milex_0_0.pdf