امام طبرانی (عربی زبان: ابو القاسم سلیمان ابن احمد ابن الطبرانی المعروف طبرانی ) (پیدائش: دسمبر 873ء– وفات: 23 ستمبر 971ء) محدث، فقیہ اور عالم تھے۔ امام طبرانی کو تیسری/ چوتھی صدی ہجری میں سرفہرست علمائے اسلام میں شمار کیے جاتے تھے۔ امام طبرانی کی وجہ شہرت معجم الکبیر طبرانی، معجم الاوسط طبرانی اور معجم الصغير طبرانی ہیں۔

طبرانی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 دسمبر 873ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عکہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 ستمبر 971ء (98 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصفہان [2]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت دولت عباسیہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ ابو عوانہ ،  ابویعلیٰ الموصلی ،  ابو زرعہ دمشقی   ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص ابو نعیم اصفہانی ،  حافظ ابو بكر البزار   ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث ،  مفسر قرآن ،  فقیہ   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ ،  علم حدیث ،  تفسیر قرآن   ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں معجم الکبیر طبرانی ،  معجم الاوسط طبرانی ،  معجم الصغير طبرانی   ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

تلامذہ ترمیم

آپ امام طحاوی کے نامور شاگرد تھے۔ آپ نے طلبِ علم میں حجاز، عراق (کوفہ، بصرہ، بغداد) یمن، شام، مصر اور اصفہان کے سفر کیے۔

کتب ترمیم

کتب حدیث میں ان کی تین کتابیں المعجم الکبیر، معجم الاوسط اور المعجم الصغیر مشہور ہیں۔ المعجم الکبیر احادیث کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب 25 جلدوں میں 7800 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ طبرانی کے نام سے مشہور ہیں۔ ابوالعباس احمد بن منصور کہتے ہیں میں نے طبرانی سے تین لاکھ حدیثیں سنی ہیں۔

وفات ترمیم

امام طبرانی کی وفات بروز ہفتہ 28 ذوالقعدہ 360ھ/ 23 ستمبر 971ء کو اصفہان میں ہوئی۔[3] اُس وقت عمر 100 سال 9 ماہ قمری اور بلحاظِ شمسی 97 سال 9 ماہ تھی۔ حافظ ابونعیم اصفہانینے نمازِ جنازہ پڑھائی۔

حوالہ جات ترمیم

  1. ^ ا ب ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: https://id.worldcat.org/fast/162205 — بنام: Sulaymān ibn Aḥmad Ṭabarānī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. عنوان : Табарани Сулейман
  3. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ،  جلد 11، صفحہ 478، تحت واقعات 478ھ۔ مطبوعہ لاہور۔