عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ(41ق.ھ / ) صحابی رسول ہیں ان کی کنیت ابو محمد ہے۔ آپ کی ہمشیرہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں پناہ گزین ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حبشہ کی دونوں ہجرتوں میں شامل تھے۔پھر مدینہ منورہ کی ہجرت کی۔غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور پھر غزوہ احد میں شریک ہو کر لڑے اور شہادت نوش فرمائی۔

عبد اللہ بن جحش
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 580ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 625ء (44–45 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جبل احد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ صحابی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،  غزوہ احد  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسب ترمیم

عبد اللہ نام ،ابو محمد کنیت ،والد کا نام جحش اور والدہ کا نام امیمہ تھا، پورا سلسلہ نسب یہ ہے: عبد اللہ بن جحش بن رباب بن یعمربن مرہ بن کثیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ الاسدی، عبد اللہ کی والدہ حضرت امیمہ بنت عبد المطلب عبد المطلب کی صاحبزادی اور آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی تھیں ِ ایامِ جاہلیت میں وہ حرب بن امیہ کے حلیف تھے، بعض نے قبیلہ بنی عبد شمس کو ان کا حلیف لکھا ہے۔ [1]

اسلام ترمیم

حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابتداہی میں اسلام قبول كيا تھا، اس وقت تک آنحضرت ارقم بن ابی ارقم کے مکان دار ارقم میں پناہ گزین نہیں ہوئے تھے۔ [2][3]

ہجرت ترمیم

مشرکین قریش کے ظلم سے آپ کا خاندان بھی محفوظ نہ تھا، انھوں نے دو دفعہ سر زمین حبش کی طرف ہجرت فرمائی، آخر سفر میں تمام خاندان یعنی دوبھائی ابو احمد، عبید اللہ اور تین بہنیں زینب، ام حبیبہ، حمنہ بنت جحش نیز عبد اللہ کی بیوی ام حبیبہ بنت ابی سفیان ساتھ تھیں۔ عبید اللہ نے حبش میں نصرانیت اختیار کرلی اور وہیں پیوندِ خاک ہوا،عبد اللہ بن جحش اپنے بقیہ خاندان کو پھر مکہ واپس لائے اور یہاں سے اپنے قبیلہ یعنی بنی غنم بن دودان کے تمام ممبروں کو جو سب کے سب دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے تھے،ساتھ لے کر مدینہ منورہ پہنچے ،انھوں نے اپنے رشتہ داروں سے اس طرح مکہ کو خالی کر دیا تھا کہ محلہ کا محلہ بے رونق ہو گیا اور بہت سے مکانات مقفل ہو گئے۔ مدینہ منورہ میں عاصم بن ثابت بن ابی افلح انصاری نے ان کے تمام قبیلہ کو اپنا مہمان بنایا، آنحضرت نے ان دونوں میں بھائی چارہ کرا دیا تھا۔ [2]

غزوات ترمیم

ماہ رجب 2 ھ میں رسول اللہ نے ان کو ایک جمعیت کی امارت سپرد کی اور سربمہرفرمان دے کر حکم دیا کہ دو روز سفر کرنے کے بعد کھول کر پڑھیں اور اس کی ہدایتوں کو اپنا طرزِ عمل بنائیں، عبد اللہ نے حسبِ ارشاد دو منزلوں کے بعد کھول کر پڑھا، اس میں حکم دیا گیا تھا کہ مکہ اور طائف کے درمیان جو نخلستان ہے وہاں پہنچ کر قریش کی نقل و حرکت اور دوسرے ضروری حالات کا پتہ چلائیں،انھوں نے نہایت ادب کے ساتھ اس حکم پر سمعاً وطاعۃ کہا اور اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوکر بولے : "صاحبو میں رسول اللہ کے اس فرمان کو پورا کرکے رہوں گا ،تم لوگوں میں سے جو شہادت کا آرزو مند ہو ساتھ چلے اورجو اس کو ناپسند کرتا ہو وہ لوٹ جائے، میں کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ " اس تقریر پر سب نے جوش کے ساتھ رفاقت وجان نثاری کی ہامی بھری اور نخلستان پہنچ کر قریش کے تجسس میں مصروف ہوئے ،اتفاقاً اس طرف سے ایک تجارتی قافلہ گذرا، گوماہِ رجب میں مراسمِ جاہلیت کے مطابق قتل و خونریزی ناجائز تھی، تاہم مسلمانوں نے حملہ آورہونے کی رائے قائم کرلی اور یکایک ٹوٹ پڑے،عمرو بن حضرمی جو اس قافلہ کا سرگروہ تھا ماراگیا ،عثمان بن عبد اللہ اور حکیم بن کیسان گرفتار ہوئے، بہت سامالِ غنیمت ہاتھ آیا،عبد اللہ بن جحش نے اس میں سے ایک خمس نکال کر باقی حصہ مساوی تمام شرکائے جنگ میں تقسیم فرما دیا، اس وقت تک تقسیم غنیمت کے متعلق کوئی قانون وضع نہیں ہوا تھا،لیکن عبد اللہ کا اجتہاد صحیح ثابت ہوا اورقرآن میں اسی کے مطابق خمس کی آیت نازل ہوئی۔ عبد اللہ بن جحش مالِ غنیمت کا خمس لے کر دربارِ نبوت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اس کے لینے میں پس و پیش کیا اور فرمایا کہ میں نے تم کو ماہِ حرام میں خونریزی کا حکم نہیں دیا تھا، مسلمانوں نے بھی اس جسارت پر ملامت کی، قریش نے اس واقعہ کو زیادہ شہرت دی اور کہنے لگے، محمد اور ان کے اصحاب نے ماہِ محرم کو حلال کر لیا اور قتل وخونریزی کرکے اس کی بے حرمتی کی،لیکن وحیِ الہی نے ان کو اوران کے ساتھیوں کو ان جگر دوزطعنوں سے بری کر دیا۔[4] "يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ"(البقرۃ:217) لوگ آپ سے حرمت والے مہینے کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس میں جنگ کرنا کیسا ہے؟آپ کہ دیجئے کہ اس میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے،مگر لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنا اس کے خلاف کفر کی روش اختیار کرنا،مسجد حرام پر بندش لگانا اور اس کے باسیوں کو وہاں سے نکال باہر کرنا اللہ کے نزدیک زیادہ بڑا گناہ ہے اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین چیز ہے۔ عبد اللہ بن جحش غزوۂ بدر واحد میں شریک تھے، سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ جنگ اُحد کے ایک روز پہلے میں نے اور عبد اللہ نے ایک ساتھ دعا مانگی تھی میرے الفاظ یہ تھے: "اے خدا! کل جو دشمن میرے مقابلہ میں آئے وہ نہایت بہادر اورغضبناک ہوتاکہ میں تیری راہ میں اس کو قتل کروں" عبد اللہ نے آمین کہا، پھر دست بدعا ہوئے: "خدایا! مجھے ایسا مقابل عطاکر جو نہایت شجاع اور سریع الغضب ہو، میں تیری راہ میں اس سے معرکہ آراہوں یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کرکے ناک کان کاٹ ڈالے، جب میں تجھ سے ملوں گا اور تو فرمائے گا اے عبد اللہ!یہ تیرے کان ،ناک کیوں کاٹے گئے؟ تو عرض کروں گا تیرے لیے اور تیرے رسول کے لیے، ان کو اپنی یہ تمنا اس قدر متوقع محصول نظر آتی تھی کہ قسم کھا کھا کر کہتے تھے، خدایا! میں تیری قسم کھاتا ہوں کہ میں دشمن سے لڑوں گا، یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کرکے میرا مثلہ کرلے گا۔" [5]

شہادت ترمیم

شوال معرکۂ کا رزار گرم ہوا، حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس جوش سے لڑے کہ تلوار ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی، آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کھجور کی چھڑی مرحمت فرمائی جس نے ان کے ہاتھ میں تلوار کا کام دیا، دیر تک لڑتے رہے، بالآخر اسی حالت میں ابوالحکم ابن اخنس ثقفی کے وار نے شہادت کی تمنا پوری کردی، مشرکین نے مثلہ کیا اوران کے ناک کان کاٹ کر دھاگے میں پروئے، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا تو بولے: " خدا کی قسم عبد اللہ کی دعا میری دعا سے بہتر تھی" چالیس برس سے کچھ زیادہ عمر پائی، اپنے ماموں سید الشہداء امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک ہی قبر میں مدفون ہوئے۔[6][7][8]

اخلاق ترمیم

گذشتہ واقعات سے عبد اللہ بن جحش کے مذہبی جوش و وارفتگی کا اندازہ ہوا ہوگا، جفاکشی ان کی فطرت میں داخل تھی، چنانچہ نخلستان کی مہم پر مامور کیے گئے تو آنحضرت نے ان کے ساتھیوں سے فرمایا تھا : "گو عبد اللہ بن جحش ؓ تم لوگوں میں سب سے بہتر نہیں ہے تاہم بھوک پیاس کی سختیوں کو زیادہ برداشت کرسکتا ہے۔ [9] خدا اور رسول کی محبت نے ان کو تمام دنیا سے بے نیاز کر دیا تھا، انھیں اگر کوئی تمنا تھی تو صرف یہ کہ جان عزیز کسی طرح راہِ خدا میں نثار ہو جائے، چنانچہ یہ آرزو پوری ہوئی اور"المجدع فی اللہ" یعنی گوش بریدہ راہ خدا ان کے نام کا فصل امتیازی ہو گیا۔ [10][11]

حلیہ ترمیم

حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حلیہ مبارک یہ تھا قد میانہ ،سر کے بال نہایت گھنے۔ [12][13]

اولاد ترمیم

حضرت عبد اللہؓ بن جحش کے ازواج و اولاد کی تفصیل معلوم نہیں،غالباً ایک لڑکا تھا، آنحضرت اس کے ولی تھے اور آپ نے اس کے لیے خیبر میں جائداد بھی خرید فرمائی تھی۔ [14]

حوالہ جات ترمیم

  1. الطبقات الكبرى لابن سعد - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشِ (1) آرکائیو شدہ 2016-12-26 بذریعہ وے بیک مشین
  2. ^ ا ب أسد الغابة في معرفة الصحابة - عبد الله بن جحش آرکائیو شدہ 2016-12-26 بذریعہ وے بیک مشین
  3. الطبقات الكبرى لابن سعد - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشِ (3) آرکائیو شدہ 2016-12-26 بذریعہ وے بیک مشین
  4. سیرۃ ابن ہشام:1/344
  5. الطبقات الكبرى لابن سعد - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشِ (2) آرکائیو شدہ 2016-12-26 بذریعہ وے بیک مشین
  6. اسد الغابہ :3/131
  7. طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث ،ابن سعد
  8. الإصابة في تمييز الصحابة - عبد اللَّه بن جحش الأسدي (1) آرکائیو شدہ 2016-12-26 بذریعہ وے بیک مشین
  9. (اصابہ تذکرہ عبد اللہ بن جحشؓ)
  10. ( اسد الغابہ جلد 3 :132)
  11. الإصابة في تمييز الصحابة - عبد اللَّه بن جحش الأسدي (2) آرکائیو شدہ 2016-12-26 بذریعہ وے بیک مشین
  12. (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :64)
  13. حلية الأولياء لأبي نعيم، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ، رقم الحديث: 338 آرکائیو شدہ 2017-11-15 بذریعہ وے بیک مشین
  14. (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :64)