غلام مصطفی جتوئی پاکستان کے پہلے نگران وزیر اعظم، سربراہ نیشنل پیپلز پارٹی، سابق راہنما پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ رہے۔ آپ 14 اگست 1931ء کو سندھ کے ضلع نواب شاہ کے علاقے نیو جتوئی میں پیدا ہوئے اور طویل علالت کے بعد 78 سال کی عمر میں 20 نومبر 2009ء کو لندن میں وفات پائی ۔

غلام مصطفی جتوئی
 

نگران وزیر اعظم پاکستان
قائم مقام وزیر اعظم
مدت منصب
6 اگست 1990 – 6 نومبر 1990
صدر غلام اسحاق خان
بینظیر بھٹو
نواز شریف
وزیر اعلیٰ سندھ
مدت منصب
25 دسمبر 1973 – 5 جولائی 1977
گورنر
ممتاز بھٹو
غوث علی شاہ
معلومات شخصیت
پیدائش 14 اگست 1931ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع نواب شاہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 20 نومبر 2009ء (78 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان
برطانوی ہند   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی
نیشنل پیپلز پارٹی   ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد غلام مرتضیٰ خان جتوئی   ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کیمبرج   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
غلام مصطفی جتوئ

ابتدائی زندگی

ترمیم

غلام مصطفیٰ جتوئی نے کراچی گرامر اسکول سے سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا۔ انیس سو باون میں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ چلے گئے تاہم انھیں والد کی خرابی صحت کے باعث ایک سال میں ہی تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔ غلام مصطفی جتوئی سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ان کے دادا خان بہادر امام بخش خان جتوئی 1923ء،1927ء،1931ء کے دوران ممبئی قانون ساز اسمبلی کے ارکان رہے جبکہ اس وقت اندرون سندھ صرف چار نمائندے تھے۔ مصطفی جتوئی کے تین بھائی تھے وہ تمام بھائیوں میں سے بڑے تھے۔

سیاسی زندگی

ترمیم

غلام مصطفی جتوئی نے 1952ء ءمیں اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور اسی سال ہی ضلع نوابشاہ کے ڈسٹرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنے۔ انھیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ ڈسٹرکٹ بورڈ کے سب سے کم عمر چیئرمین تھے۔ ۔1958ء میں پہلی مرتبہ مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔1965ءمیں انھوں نے یہ الیکشن دوبارہ جیتا۔ 1969ءمیں پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور 1970ءمیں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس دوران وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں ان کو سیاسی امور، پورٹ اینڈ شپنگ، کمیونی کیشن، قدرتی وسائل، ریلوے اور ٹیلی کمیونی کیشن کے عہدے دیے گئے۔

غلام مصطفیٰ جتوئی 1973ءمیں وزیر اعلیٰٰ سندھ بنے اور یہ عہدہ ان کے پاس 1977ءتک رہا۔ جبکہ انھیں یہ بھی امتیاز حاصل ہے کہ وہ مارشل لاءسے پہلے سندھ میں سب سے زیادہ عرصے تک وزیر اعلیٰٰ رہنے والے شخص تھے۔ مصطفی جتوئی نے بحالی جمہوریت تحریک (ایم آر ڈی) میں اہم کردار ادا کیا۔ انھیں 1983ء اور 1985ء میں گرفتار بھی کیا گیا۔ بعد ازاں انھوں نے نیشنل پیپلزپارٹی کے نام سے ایک جماعت قائم کی۔ کئی بڑے لیڈروں نے اس جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ مصطفی جتوئی اس پارٹی کے چیئرمین تھے۔

مصطفی جتوئی1988ءمیں اسلامی جمہوری اتحاد کے بانی بنے اور 1989ءمیں وہ مظفرگڑھ سے ضمنی الیکشن میں رکن اسمبلی منتخب ہو ئے اور قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کے منتخب لیڈر بنے۔ مصطفی جتوئی بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت برطرف کیے جانے کے بعد ملک کے نگران وزیر اعظم بنے جبکہ بعد ازاں مصطفی جتوئی نے نواز شریف حکومت کیخلاف تحریک میں اپوزیشن کا ساتھ دیا جس کی قیادت بینظیر بھٹو کر رہی تھی بعد ازاں 1993ءکے الیکشن میں مصطفی جتوئی نے پیپلزپارٹی سے ملکر الیکشن لڑا جبکہ وہ نیشنل الائنس میں بھی رہے اور اس دوران نیشنل الائنس نے 16 نشستیں قومی اسمبلی میں حاصل کیں۔

مصطفی جتوئی کے بیٹے بھی سیاست میں ہیں ان کے بیٹے غلام مرتضی خان جتوئی نے 12فروری 2008ء کے انتخابات میں نوشہرو فیروز کے حلقہ این اے 211سے نیشنل پیپلزپارٹی کے جھنڈے تلے کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست دی جبکہ ان کے دوسرے بیٹے عارف مصطفی جتوئی نے پی ایس 19 سے اور تیسرے بیٹے مسرور جتوئی نے پی ایس 23 سے کامیابی حاصل کی۔ عارف مصطفی سابق وزیر خوراک و زراعت بھی رہے جبکہ آصف مصطفی جتوئی سینیٹر بنے اور جتوئی خاندان کے لیے یہ ایک ریکارڈ ہے کہ ایک وقت میں چار بیٹوں نے کسی بھی قانون ساز فورم میں کامیابی حاصل کی اور وہ قومی و صوبائی اسمبلی و سینٹ کے ارکان ہے ۔


سیاسی عہدے
ماقبل  وزیر اعلٰی سندھ
1973 – 1977
مابعد 
ماقبل  وزیراعظم پاکستان (نگران)
1990
مابعد 

حوالہ جات

ترمیم

}