ملا عمر

تحریک طالبان کے بانی

ملا محمد عمر 1960ءمیں افغانستان کے صوبہ قندھار، ضلع خاکریز کے گاوں چاہ ہمت میں پیدا ہوئے۔[1][2] 1994ء میں افغانستان میں امارت اسلامیہ افغانستان کے نام سے طالبان کی حکومت قائم کی جس کے وہ سربراہ چنے گئے۔[3] 2001ء میں امریکہ اور نیٹو افواج نے طالبان حکومت ختم کی تو ملا عمر روپوش ہوئےبلآخر روپوشی ہی کی زندگی میں سال 2013ء میں وفات پائی۔[4]

ملا عمر
(پشتو میں: محمد عمر ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1960  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاکریز  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 اپریل 2013 (52–53 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زابل پراونس  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سل  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Afghanistan (1931–1973).svg مملکت افغانستان
Flag of Afghanistan (1974–1978).svg جمہوریہ افغانستان
Flag of Afghanistan (1987–1992).svg جمہوری جمہوریہ افغانستان
Flag of Afghanistan (1992–2001).svg دولت اسلامی افغانستان
Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد محمد یعقوب  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
مناصب
امیرالمومنین   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
3 اپریل 1996  – 13 نومبر 2001 
Flag of Afghanistan (1931–1973).svg وزیراعظم افغانستان   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
27 ستمبر 1996  – 13 نومبر 2001 
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم حقانیہ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ قاضی حمید اللہ خان  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان پشتو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
عہدہ امیرالمومنین  ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں دہشت پر جنگ،  افغانستان میں سوویت جنگ،  جنگ افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

نسب و خاندانترميم

آپ کے والد کا نام غلام نبی اور دادا کا نام محمد رسول جب کہ پردادا کا نام باز محمد ہے۔آپ کے والداور بالترتیب دادا اور پردادا سبھی عالم دین تھے۔[5] ملا عمر کا تعلق پشتون قبیلے ہوتک کی شاخ تومزئی سے ہے۔ ملا عمر کا خاندان اپنے اپنے وقتوں میں بیرونی دراندازی کے خلاف ہمیشہ مسلح جد و جہد کرتا چلا آیا اسی وجہ سے ان کے خاندان کے چار افراد مارے جا چکے ہیں۔ 7 اکتوبر، 2001ء میں جب نیٹوافواج نے ملا عمر کی حکومت ختم کرنے کے لیے قندھار میں واقع ان کے گھر پرپہلی بمباری کی تو اس کے نتیجے میں سب سے پہلے مارے جانے والے شخص ملا عمر کے چچا ملا محمد حنفیہ تھے۔[6][7]

ابتدائی زندگیترميم

1962ء میں ملا عمر کے والد خاکریز سے صوبہ قندہار ہی کے ایک ضلع ڈنڈ نودی کے ایک گاؤں کی جانب ہجرت کی جہاں تین سال قیام کے بعد ان کے والد مولوی غلام نبی کی 1965ء میں وفات ہوگئی۔ والد کی وفات کے بعد پانچ سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ قندھار کے ضلع ڈنڈ نودی سےصوبہ اروزگان ضلع دہراود بھیجے گئے جہاں اپنے چچاؤں مولوی محمد انور اور مولوی محمد جمعہ کی زیر سرپرستی ان کی زندگی کے ابتدائی مراحل طے ہونے لگے۔[8]

تعلیمترميم

آٹھ سال کی عمر میں دینی علوم حاصل کرنے کے لیے ملا عمر نےضلع دہراود کے شہر کہنہ میں واقع اپنے چچاؤں کے مدرسے میں داخل ہو کر ابتدائی تعلیم و تربیت حاصل کی (اسلامی دینی مدارس کی اصطلاح میں اس تعلیم کومتوسطہ کہتے ہیں)۔18سال کی عمر میں افغانستان میں مروجہ اعلی دینی علوم کے حصول کا آغازکیا۔ مگراعلی دینی علوم کے حصول کے مرحلے پر 1978ء کو افغانستان میں ملکی سطح پرانقلاب ثور برپا ہونے کی وجہ سےتعلیمی سلسلہ ادھورا را چھوڑ دیا۔[9]

عسکری و جہادی زندگیترميم

انقلاب ثور کے بعد ملا عمر اور ان جیسے کئی طلبہ و افغانستان کے علماء نے کمیونسٹوں (انقلاب ثور کے حامیوں) کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کر دی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنا عسکری سلسلہ صوبہ اروزگان کے ضلع دہراوود میں مولوی نبی محمدی کی قائم کردہ تنظیم حرکت انقلاب اسلامی میں شمولیت کر کے کیا۔[10] اس ضلع میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد صوبہ اروزگان کی سطح پر ملا عمر ایک معروف شخصیت بن کے ابھرے اور ارد گرد کے علاقوں سے مسلح جدوجہد کرنے والے گروپوں کی سربراہی ملا عمر کو سونپی گئی جس میں انہوں نے تین سال کے اندر روسی افواج اور کمیونسٹ انقلابیوں کے خلاف متعدد عسکری کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا اور انہیں جنگوں میں وہ پہلی بار زخمی ہوئے۔[11]

ضلع میوندترميم

1983ء میں اپنے ساتھیوں کے ہم راہ نئی صف بندی اور تنظیم سازی کے لیے قندھار کے ضلع میوند گئے وہاں حرکت انقلاب اسلامی کے ایک مشہور عسکری کمانڈر فیض اللہ اخوندزادہ کے محاذ پر روسی اور افغانی کمیونسٹوں کے خلاف مسلح جدو جہد جاری رکھی۔ قندھار میں بھی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں ان کے قریبی احباب کا کہنا ہے کہ ملا عمر فوجی تکنیکوں میں مہارت رکھتے تھے جس وجہ سے وہ علاقائی عسکریت پسند کمانڈروں کی سطح پر جہادی تنظیموں کی توجہ کا مرکز بن گئے، اس طرح انہیں حرکت انقلاب اسلامی کی تنظیم کی جانب مستقل گروپ اور محاذ دیا گیاجس کے وہ عسکری کمانڈر بنائے گئے۔[12]

دیگر عسکری محاذترميم

  • 1983ء سے 1991ء ملا عمرصوبہ قندھارمیں ژڑی، میوند، پنجوائی اور ڈنڈ کے اضلاع جو سوویت فوجیوں کے مراکز سمجھے جاتے تھے ان کے مضافات میں تقریباً روزانہ عسکری مسلح کارروائیاں کرتے رہے۔ [13]
  • اسی طرح صوبہ زابل ، ضلع شہر صفا اور مرکز قلات کے مضافاتی علاقوں میں کابل قندھار شاہراہ روسیوں کے خلاف قابل ڈکر کارروائیاں کیں جس میں وہ بذات خود شریک رہتے۔ ملا عمر کا سب سے پسندیدہ ہتھیار آر پی جی - 7 تھا جسے وہاں کی زبان میں راکٹ کے نام جانا جاتا ہے۔ ملا عمرکے ساتھیوں کے نزدیک انہیں راکٹ چلانے میں بہت زیادہ مہارت حاصل تھی۔ قندھار، میوند، ژڑی اور پنجوائی کے علاقے وہ علاقے تھے جن کا روس کی افغانستان میں شکست کھانے میں اہم کردار تھا۔ اس علاقے میں قندھار ہرات شاہراہ پر کمیونسٹوں کے اتنے زیادہ ٹینک و گاڑیاں تباہ ہوئی تھیں کہ روسی و کمیونسٹوں نے سڑک کے دونوں کناروں پرعسکری مسلح گروہوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ان تباہ شدہ گاڑیوں اور ٹینکوں کی دیوار سی بنالی تھی ۔[14]

عسکری میدان میں نمایاں کارنامےترميم

  • صوبہ قندہار میں روسی افواج کی اہم پوسٹ جسے بدوانوپوسٹ کہا جاتا تھا۔ اس پوسٹ کے ساتھ انتہائی حساس اور خفیہ جگہ پر زمین کے اندر ایک ٹینک کو گاڑھا گیا صرف اس کے دہانے والا حصہ باہر رکھا گیا تاکہ کسی عسکری گروہ کے حملے سے ممکنہ بچا جاسکے۔ اس ٹینک کو کئی عسکریت پسند گروہوں نے کئی مرتبہ اڑانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے بلآخر ملا عمر نے راکٹ کے ذریعے اس ٹینک کو اڑا دیااس وقت یہ عسکری گروہوں کی جانب سے ایک بڑی کاروائی سمجھی گئی۔[15]
  • ملا عمر کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ قندھار محلہ جات کے علاقے میں روسی کانوائے پر ملا عمر اور ان کے قریبی ساتھی ملا عبیداللہ اخوند نے مل کر اتنے راکٹ حملے کیے کہ اگلے روز تباہ شدہ اور جلی ہوئی گاڑیوں کی قطاریں دیکھ کر دیکھنے والے سمجھے کہ شاید روسی کانوائے ابھی تک اپنی جگہ کحڑا ہے گیا نہیں حالاں کہ اکثر گاڑیاں جل چکیں تھیں اور بقیہ روسی فوجی اپنے مرکز کی جانب لوٹ گئے تھے۔[16]
  • روسی افواج سے جنگ کے دوران قندھار ہرات شاہراہ پر ضلع ژڑی میں سنگ حصار کے علاقے میں روسی ٹینک گزر رہے تھ۔ملاعمر کے قریبی ساتھی ملا عبدالغنی برادر تھے، روسی فوج پر حملہ کے لیے ان کے پاس صرف 4 راکٹ گولے تھے تاہم انہوں نے انہی گولوں کی مدد سے چار روسی ٹینک تباہ کر دیے۔[17]
  • عبدالغنی برادر کے بقول کہ ملا عمر نے اتنے ٹینک تباہ کیے جن کی کثرت تعداد کی وجہ سے گنتی کرنا مشکل ہے۔[18]

ذاتی زندگیترميم

بحیثیت حکمران انھوں نے افغانستان میں امن ‍ قائم کیا۔ اور منشیات کا خاتمہ کیا۔ یہ وہ کام ہیں جو ان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکا۔ یاد رہے کہ طالبان کابل پر قبضے کے ایک سال بعد بامیان پر قبضہ کر پائے تھے۔

ملا عمر نے بہت کم انٹرویو دیے۔ اور ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم لوگوں کو پتہ ہے۔

ملا محمد عمر کی زندگی اور افغانستان کی سیاست میں 1979ء کا سن کافی اہمیت رکھتا ہے- اسی برس ایک طرف تو افغانستان کے پڑوسی ملک ایران میں خمینی انقلاب آتا ہے اور مغربی ذرائغ ابلاغ میں لفظ فنڈامینٹلزم یعنی قدامت پرستی پہلی دفعہ سنائی دیتا ہے- دوسری طرف روسی افواج افغانستان میں داخل ہوتی ہیں- یہ سرد جنگ کا دور تھا- مغربی ممالک بالخصوص امریکا پاکستان کے سہارے کمیونسٹ افواج کے خلاف افغانستان میں جنگجوؤں کی امداد کرتے ہیں- یہ جنگجوؤں کو اس وقت مجاہدین کہا جانے لگا تھا- انہیں میں بیس برس کا ایک نوجوان شامل تھا جس کا نام محمد عمر تھا-

روس کی واپسیترميم

1989ء میں روسی افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد ملامحمد عمر اپنے گا ؤں واپس چلے جاتے ہیں- جہاں وہ مدرسے میں تعلیم و تربیت میں مصروف ہو جاتے ہیں اور مقامی مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں- بظاہر وہ سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ روسی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان میں لاقانونیت کا دور شروع ہوجاتاہے- کل کے مجاہدین اب شرپسندی پر اتر آتے ہیں- جن کے ہاتھ میں طاقت ہے ان کی من مانی ہے- کہیں عورتوں کی آبروریزی کی جاتی ہے تو کہیں مسافروں کو لوٹ لیا جاتا ہے- افغانستان کی سڑکوں پر ظلم و ستم کرنیوالوں نے چیک پوسٹیں بنا رکھی ہیں۔

سوچ میں تبدیلیترميم

شاید ان کی عمر درس وتدریس اور ترغیب و تبلیغ میں گزر جاتی۔ اور تاریخ میں انکا نام کبھی ثبت نہ ہو پاتا مگر 1994ء کے موسمِ خزان میں ایک لرزہ خیز واقعے نے ان کی زندگی اور افغانستان کی تاریخ کا دھارہ بدل دیا۔ انہیں اطلاع ملی کہ ایک ظالم کمانڈر نے دو نو عمر لڑکیوں کو اغواہ کر لیا ہے، ان کے سر مونڈ دئے ہیں اور انہیں مردانہ لباس پہنا کر اپنے فوجی کیمپ لے گیا ہے جہاں کٸی بار ان کی عصمت دری کی گٸی ہیں۔ یہ درد ناک واقعہ سن کر ملا محمد عمر سے برداشت نہ ہو سکا۔ انہوں نے اپنے مدرسے کے طلبہ کو جمع کیا جو تیس کے لگ بھگ تھے۔ ان میں سے صرف 16 کے پاس راٸفلیں تھیں۔ ملا عمر ان طلبہ کو لے کر اس ظالم کمانڈر کی چوکی پر ٹوٹ پڑے۔ لڑکیوں کو چھڑوا لیا گیا۔ کمانڈر کو توپ کے دہانے سے لٹکا کر پھانسی دی گٸی اور چوکی پر قبضہ کر لیا۔ طلبہ کی یہ چھوٹی سی جماعت بعد میں طالبان کہلاٸی۔

کابل پر قبضہترميم

ملا محمد عمر کی قیادت میں پاکستان اور عربوں کی مدد سے طالبان نے 1996ء میں کابل پر قبضہ کر لیا۔ اور افغانستان کو اسلامی امارات قرار دیکر ملا محمد عمر کو امیرالمومنین کے خطاب سے نوازا گیا- جلد ہی طالبان نے افغانستان کے نوے فیصدی حصے پر قبضہ کر لیا- افغانستان پر گزشتہ بائیس برسوں میں سے پانچ برس طالبان کا قبضہ رہا۔ تقریبًا سات برس لاقانونیت کی نظر تھے اور دس برس روسی افواج قابض تھیں۔

حلیہ اور شخصیتترميم

ملا محمد عمر مقامی کسانوں کی بولی بولتے تهے- وہ پانچ فٹ گیارہ انچ لمبے تهے- کبھی کبھی چشمہ لگاتے تھے- اور تفریح کے لیے اپنے دوست اسامہ بن لادن کے ساتھ مچھلی پکڑنے جاتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی دو بیویاں اور آٹھ یا نو بچے ہیں- ان کے گھر پر 1999ء میں بم سے ایک حملہ کیا گیا جس میں ان کا گھر تباہ ہو گیا اور ان کے دو بھائی اور ان کی پہلی بیوی سے تین بچے ہلاک ہو گئے۔ افغانستان میں سوویت جنگ کے دوران روسیوں کے خلاف لڑتے ہوئے کہیں بار ملا عمر زخمی بھی ہوئے تھے جس میں انہوں نے اپنی دائیں آنکھ بھی کھودی تھی۔ معروف پاکستانی صحافی اوریا مقبول جان کا ملا عمر کی شخصیت کے متعلق کہنا ہے کہ میں 1988ء میں چمن میں ہوتا تھا وہاں اکثر قبائلی لڑائیاں ہوا کرتی تھی، ایک مرتبہ جب نورزئی اور اچکزئی قبیلے کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی تو میں نے ملا عمر کو دیکھا کہ بہت پریشان تھے، وہ ہمیشہ اس بات سے دکھی ہوتے تھے کہ میری قوم آپس میں کیوں ایک دوسرے سے لڑ رہی ہے۔ ملا عمر نے جب ابتدا میں افغانستان پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے صوبہ کندہار سے شروع کیا۔

اسامہ اور عمرترميم

اگرچہ مغربی میڈیا اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر کی سیاست میں زیادہ تفریق نہیں کرتے تھے لیکن یہ بات اہم ہے کہ اسامہ بن لادن ذاتی طور پر مغربی ممالک کے خلاف لڑ رہے چاہتے تھے جبکہ ملا محمد عمر نے عالمی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی- انہوں نے اپنا پہلا غیر ملکی ریڈیو انٹرویو بی بی سی کی پشتو سروس کو 25 فروری 1998 کو دیا۔ ملا محمد عمر صرف ایک دفعہ افغانستان سے باہر گئے تھے- اور یہ واقعہ تب پیش آیا جب روسی افواج کے خلاف لڑتے وقت ان کی ایک آنکھ میں چوٹ لگی تھی- اور انہیں پاکستان آنا پڑا جہاں عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کے ڈاکٹروں نے ان کی آنکھ کا آپریشن کیا- وہ آخر تک صرف ایک آنکھ سے ہی دیکھ سکتے تھے۔

افغانستان پر امریکا قبضے اور طالبان کے خاتمے کے بعد ملا عمر آخر تک روپوش رہے ان کے آڈیو بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے متعلق آخر تک کوئی نہیں جان سکا کہ وہ کہاں رہتے تھے۔

امریکا کا مطالبہ اور افغانستان پر جنگترميم

1979ء جب سوویت اتحاد یا عام طور پر جسے روس کہا جاتا تھا، روس نے افغانستان پر اپنا قبضہ چاہا جس کے لیے روس ایک خود مختار ملک افغانستان میں کود پڑا، اسی بات نے پوری اسلامی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی کے نتیجے میں روسیوں سے نمٹنے کے لیے مجاہدین کی تنظیم وجود میں آئی جس کو پاکستان، سعودی عرب، امریکا سمیت بیشتر اسلامی ممالک نے امداد فراہم کی۔ ایک طویل عرصے کے بعد مجاہدین کامیاب ہو گئے اور سوویت اتحاد کو ایک زبردست شکست دی جس کی نتیجے میں نہ صرف سوویت اتحاد کو افغانستان سے بھاگنا پڑا بلکہ سویت اتحاد جو ایک عظیم ملک تھا اور جو ایشیا اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر پھیلا ہوا تھا، شکست کے بعد سوویت اتحاد بھی نہ بچ سکا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا جس سے نئے ممالک وجود میں آئے جن میں روس، ازبکستان، ترکمنستان، تاجکستان، آرمینیا، یوکرین اور جارجیا وغیرہ شامل ہیں۔ ایک طویل لڑائی اور خون ریزی کے بعد افغان مجاہدین جب فتح یاب ہوئے تو افغانستان میں اسلامی امارت افغانستان قائم ہوا جس کو پاکستان اور سعودی عرب نے کھل کر تسلیم کیا۔

اس کے بعد سانحہ گیارہ ستمبر (نائن الیون) پیش آیا جس کا الزام امریکا نے اسامہ بن لادن پر لگایا۔ اسامہ نے جا کر افغانستان میں پناہ لی، یاد رہے کہ اس وقت اسلامی امارت افغانستان کی حکومت مجاہدین یا افغان طالبان کے ہاتھوں میں تھی جس کی قیادت ملا محمد عمر کر رہے تھے۔ امریکا نے ملا محمد عمر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرے ورنہ انجام برا ہوگا۔ اس کے جواب میں ملا عمر نے کہا کہ اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اگر تمہارے گھر میں کوئی پناہ لے تو اس کی حفاظت کرو۔ ملا عمر نے اسلامی اور پشتون روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو حوالہ کرنے سے واضح طور پر انکار کر دیا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملا عمر نے ہزاروں علما کو دعوت پر بلایا کہ کیا اسلام ہمیں اس بات کا اجازت دیتا ہے کہ ہم اسامہ جیسے افراد کو کسی اور کے حوالے کرے تو علما نے ان کو کہا کہ اسلام کے مطابق اگر کوئی آپ کے گھر پناہ لے تو ہرگز اس کو دشمن کے حوالے مت کرنا۔

اس کے بعد جب ملا عمر نے پھر واضح طور پر اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو امریکا نے افغانستان میں افواج اتارے اور ایک اور جنگ شروع ہو گئی۔ امریکا کے پاس وسائل تھے جبکہ دوسری طرف اسلامی امارت افغانستان کے پاس اتنے وسائل اس لیے نہیں تھے کیونکہ امریکا کے بہ نسبت افغانستان ایک چھوٹا اور کمزور ملک تھا اور اس سے پہلے وہ سوویت اتحاد سے ایک عظیم جنگ کرچکا تھا جس سے افغانستان کمزور ہوا تھا۔ پاکستان بھی امریکا کے خلاف اسلامی امارت افغانستان کی مدد کرتا رہا لیکن آخر کار اسلامی امارت ختم ہو گئی اور ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ سے افغانستان کی حکومت چلی گئی۔ امریکہ اور طالبان کے مابین جنگ 2001ء میں شروع ہوئی تھی اور تا حال جاری ہے۔

جنگ سے قبل خطابترميم

عجیب بات ہے کہ میں نہ حواس باختہ ہوتا ہوں اور نہ ہی بے دینوں کے ساتھ اسلام کے خلاف راستہ اختیار کرتا ہوں، باوجود یہ کہ میرا اقتدار بھی خطرے میں ہے، میری سربراہی اور کرسی بھی خطرے میں ہے۔ میری زندگی بھی خطرے میں ہے، پھر بھی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، اگر میں کافروں کے مطالبے پر ایسی راہ اختیار کرلوں جو اسلام کے خلاف ہو ان کے ساتھ موافقت کروں اور ان کے ساتھ معاملات ٹھیک رکھوں تو میری ہر چیز مستحکم ہوگی، میری بادشاہی اور سلطنت بھی برقرار رہے گی اور اسی طرح طاقت، پیسہ اور جاہ و جلال بھی خوب ہوگا، جس طرح دیگر ممالک کے سربراہوں کا ہے، لیکن اسلام کی خاطر ہر قربانی کے لیے حاضر ہوں، سب کچھ کرنے کے لیے حاضر ہوں، جان قربان کرتا ہوں، سب کچھ سے بے پرواہ ہو چکا ہوں، سلطنت، اقتدار، طاقت اور ہر چیز کی قربانی کا عزم کر چکا ہوں ، اسلامی غیرت کرتا ہوں، اسلام پر فخر کرتا ہوں، اس پاک وطن پر غیرت کرتا ہوں۔

[19]

وفاتترميم

29 جولائی 2015 کو افغان مخابرات نے یہ خبر دی تھی کہ ملا محمد عمر کا کراچی میں انتقال ہو گیا ہے، کچھ طالبان نے اس بات کی تردید کردی تھی کیونکہ مری میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے، لیکن جب اس خبر نے زور پکڑ لیا تو افغان طالبان نے 30 جولائی 2015 کو اس بات کی تائید کردی کہ ملا عمر کا صوبہ ہلمند میں انتقال ہوا تھا طالبان کے مطابق اُن کی وفات دل کے دورے کے باعث ہوئی۔ وفات کے وقت اُن کے ساتھ ان کے اہم کمانڈر عبد الجبار تھے۔ کمانڈر عبد الجبار نے ہی طالبان کے پانچ اہم کمانڈروں کو ملا عمر کی موت کی اطلاع دی۔ طالبان نے یہ بھی بتایا کہ نائب امیر ملا اختر منصور افغان طالبان کے نئے امیر ہوں گے۔[20]

حوالہ جاتترميم

  1. "BBC". 
  2. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  3. "BBC". BBC. BBC. 18-08-2021. 
  4. https://www.rt.com/news/311043-mullah-omar-taliban-dead/.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  5. . 08-07-2021 https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  6. https://www.history.com/this-day-in-history/u-s-led-attack-on-afghanistan-begins.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  7. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  8. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  9. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  10. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  11. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  12. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  13. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  14. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  15. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  16. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  17. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  18. https://web.archive.org/web/20210807061009/https://alemarahurdu.org/?p=36899. 07 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2021.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  19. افغانستان پر امریکی حملوں سے قبل ملا عمر کا اپنی قوم سے خطاب
  20. افضان طالبان کی ملا عمر کی وفات کی تصدیق