میاں ضمیر الحق فیصل آباد کے ایک نامور ماہر تعلیم تھے۔ ان کے قائم کردہ درجنوں تعلیمی اداروں سے طلباء و طالبات لاکھوں کی تعداد میں فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔

میاں ضمیر الحق چشتی قادری
معلومات شخصیت
اصل نام میاں ضمیر الحق
پیدائش 12 جنوری 1928(1928-01-12)
گرداسپور، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند)
وفات 16 دسمبر 2015(2015-12-16)
فیصل آباد، پنجاب، پاکستان
قومیت ہندوستانی (1928-1947) پاکستانی (1947-2015)
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت والجماعت
فقہی مسلک حنفی
اولاد چار بیٹیاں
والد میاں ظہور الحق چشتی قادری

ولادتترميم

ان کی ولادت 12 جنوری 1928ء کو برطانوی ہندوستان کے شہر گرداسپور میں ہوئی۔

خاندانی پس منظرترميم

ان کے والد میاں ظہور الحق چشتی قادری گرداسپور کے آرائیں خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ میاں ضمیر الحق کے ہاں چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ ان کے ہاں نرینہ اولاد نہ تھی۔ 1981ء میں پہلی اہلیہ کی وفات کے بعد 1986ء میں سیالکوٹ کے اہل علم اور صوفی منش گھرانے میں دوسری شادی کی، جن سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ انہوں نے ہمیشہ ایک بچہ یا بچی کو اپنے گھر میں اپنے بچوں کی طرح پالا اور اعلیٰ تعلیم و تربیت کے بعد جوان ہونے پر اس کی شادی کروا دی۔

تحریک آزادی میں کردارترميم

قیام پاکستان کے دنوں میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے متحرک کارکن کے طور کام کرتے رہے۔

تعلیمترميم

1953ء میں ایم اے اکنامکس اور 1961ء میں ایم اے ایجوکیشن اور ایم ایڈ کیا۔ بعد ازاں کئی محکمانہ تعلیمی کورسز بھی کئے۔

تعلیمی اعزازاتترميم

  • 1958ء میں اعلی تعلیم اور وسیع تعلیمی تجربہ کی بنیاد پر سرگودھا تعلیمی بورڈ کے جنرل سیکرٹری تعینات ہوئے۔
  • 1962ء میں چھ ماہ کے مطالعاتی دورہ پر امریکہ گئے، جہاں امریکی نظام تعلیم کا گہرا مشاہدہ کیا اور وطن واپس آ کر صابریہ سراجیہ اسکولز نیٹ ورک کی بنیاد رکھی۔
  • 1963ء تا 1965ء بوریوالہ ٹیکسٹائل مل کے ہائی اسکول میں بطور ہیڈ ماسٹر ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔
  • 1987ء میں ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن فیصل آباد کے صدر کے طور پر فرائض سرانجام دیئے۔
  • صابریہ سراجیہ سکولز نیٹ ورک میں سے ایک اسکول صابریہ سراجیہ ہائی اسکول پیپلز کالونی نمبر 2 کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے، جو بعد ازاں ہائر سیکنڈری اسکول بنا دیا گیا۔ اس اسکول سے 11 جنوری 1988ء کو ریٹارڈ ہوئے۔[1]

تعلیمی و تدریسی خدماتترميم

انہوں نے متعدد تعلیمی ادارے قائم کئے، جن میں سے چند اکثر کم از کم دو نسلوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر چکے ہیں۔

گورنمنٹ اسکولترميم

1972ء میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں نجی سطح پر چلنے والے اسکول قومی تحویل میں لے لئے گئے، آپ کے زیر انتظام اس وقت پانچ اسکول فروغ علم کے لئے کوشاں تھے:

  1. صابریہ سراجیہ ہائی اسکول نمبر 1، سنت پورہ، لائل پور
  2. صابریہ سراجیہ ہائی اسکول نمبر 2، پیپلز کالونی نمبر 2، لائل پور
  3. قادریہ سراجیہ ہائی سکول، چک نمبر 30، امیں پور بنگلہ، لائل پور
  4. چشتیہ سراجیہ ہائی سکول، چک نمبر 174، ریالہ مانکا، لائل پور
  5. اسلامیہ سراجیہ ہائی اسکول، چک نمبر 106، منشی والا، لائل پور[2]

بیرون ملک اسکولترميم

سقوط ڈھاکہ سے قبل ایک اسکول مشرقی پاکستان میں بھی قائم کیا گیا تھا:

  1. صابریہ سراجیہ ہائی سکول، ڈھاکہ، مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش)

1972ء کے بعد قائم کردہ ادارےترميم

ان کی قائم کردہ جماعت سراجیہ کے تحت جاری تعلیمی ادارے حسب ذیل ہیں:

  1. انجمن صابریہ سراجیہ ہائی سکول، لال کوٹھی، جیون سنگھ، پیپلز کالونی نمبر 1، فیصل آباد
  2. انجمن صابریہ سراجیہ ہائی سکول، پیپلز کالونی نمبر 2، فیصل آباد
  3. انجمن صابریہ سراجیہ گرلز ہائی سکول، سراجیہ کالونی، فیصل آباد
  4. صابریہ سراجیہ ماڈل گرلز ہائی اسکول، بجلی محلہ، حافظ آباد
  5. صابریہ سراجیہ گرلز ہائی سکول، شکرگڑھ ضلع نارووال
  6. صابریہ سراجیہ گرلز ماڈل سکول، عبداللہ روڈ، کامونکی ضلع گوجرانوالہ
  7. دارالعلوم سراجیہ، پیپلز کالونی نمبر 2، فیصل آباد[3]

فلاحی خدماتترميم

پیپلز کالونی نمبر 2 میں ایک فری ڈسپنسری قائم کر رکھی ہے، جہاں ان کی وفات کے بعد بھی ان کی قائم کردہ جماعت سراجیہ کے تحت مستحق اور نادار مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔

شجرہترميم

  1. شاہ ضمیر الحق
  2. شاہ محمد ظہور الحق
  3. شاہ محمد سراج الحق
  4. صوفی سید علی حسین
  5. محمد محمود شاہ
  6. شاہ غلام حسین
  7. خواجہ عبدالرحمن
  8. خواجہ عبدالکریم
  9. شاہ عنایت اللہ
  10. سید بھیکھ میراں
  11. شاہ ابو المعالی
  12. شاہ داؤد عزیز
  13. شاہ محمد صادق
  14. خواجہ ابو سعید
  15. نظام الدین بلخی
  16. شاہ جلال الدین
  17. شاہ عبدالقدوس
  18. شیخ محمد عارف (کمال الدین محمد)
  19. شاہ عارف (احمد عارف)
  20. شاہ احمد عبدالحق
  21. شاہ جلال الدین (کبیراولیاء)
  22. شمس الدین ترک پانی پتی
  23. سید علی احمد صابر کلیر
  24. بابا فرید الدین مسعود گنج شکر
  25. خواجہ قطب الدین بختیار کاکی
  26. خواجہ معین الدین چشتی اجمیری
  27. شاہ عثمان ہارونی
  28. خواجہ شریف زندنی
  29. خواجہ مودود چشتی
  30. شاہ ناصر الدین یوسف
  31. شاہ محمد زاہد
  32. خواجہ ابو احمد ابدال چشتی
  33. ابو اسحاق شامی
  34. شاہ ممشاد علوی
  35. ابو ہبیرہ بصری
  36. خواجہ حذیفہ مرعشی
  37. ابراہیم بن ادھم
  38. خواجہ فضیل بن عیاض
  39. خواجہ عبدالواحد
  40. شاہ حسن بصری
  41. حضرت علی المرتضی
  42. حضرت محمد رسول اللہ[4]

وفاتترميم

ان کی وفات 16 دسمبر 2015ء بمطابق 4 ربیع الاول 1437ھ کو پاکستان کے شہر فیصل آباد میں ہوئی اور لال کوٹھی واقع پیپلز کالونی (نمبر 1) کے پاس اپنے والد اور مرشد میاں ظہور الحق کے پہلو میں مدفون ہوئے۔

حوالہ جاتترميم

  1. محمد حنیف چشتی، جمال ضمیر الحق، صفحہ نمبر 20
  2. السراج، صفحہ نمبر 9
  3. سوانح میاں ضمیر الحق، صفحہ نمبر 19
  4. شجرہ شریف مرکز جماعت سراجیہ، صفحہ نمبر 37