کالے چور

پاکستانی ڈبنگ فلم

کالے چور (انگریزی: Kalay Chor) ڈبل ورژن اردو / پنجابی میں فلم کا آغاز کیا۔ اس فلم كو 4 جنوری، 1991ء كو ریلیز ہوئى۔ پاکستانی اس فلم کا کریکٹر ایکشن، جرائم اور سیاسی فلموں کے بارے میں فلم کی تکمیل کی گی ہیں۔ یہ فلم باکس آفس میں ہٹ ہوئی تھی یہ فلم کراچی کے لیرک سنیما میں سلور جوبلی اس کی دو ڈھائی ماہ تک کامیاب نمائش ہوئی تھی اور یہی فلم سپر شبستان سنیما کافی ہفتے لاہور ڈائمنڈ جوبلی تک کامیاب نمائش ہوئی تھی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر نذرالاسلام تھے۔ پروڈیوسر حبیب جالب تھے۔ کہانی ناصر ادیب نے لکھی تھی اور موسیقی وجاہت عطرے نے بنائی تھی۔ اس فلم میں نیلی، جاوید شیخ، سلطان راہی، افضال احمد اور ہمایوں قریشی وغیرہ تھے۔ اور ’’کالے چور‘‘کو احباب حبیب جالب پروڈکشنزکی طرف سے نذر الاسلام نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک شبستان سنیما میں لاتعداد سپُر ہٹ فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جا چکی ہیں پاکستان فلم انڈسٹری میں کامیابی کی نئی تاریخ رقم کرنے والی شہرہ آفاق فلمیں ’’مولا جٹ ‘‘اور ’’کالے چور ‘‘اسی سنیما میں ریلیز ہوئیں۔

کالے چور
انگریزیBlack Thief
ہدایت کارنذرالاسلام
پروڈیوسرحبیب جالب
عبدالحبیب
محمود رنگووالا
میاں محمد آصف
تحریرناصر ادیب
کہانیحبیب جالب
ستارے
راویسلیم احمد سلیم
موسیقیوجاہت عطرے
سنیماگرافیوقار بخاری
عبدالغنی
ایڈیٹرمحمد سرور
پروڈکشن
کمپنی
تقسیم کاراحباب حبیب جالب پروڈکشن
تاریخ نمائش
دورانیہ
2:31:54 دقیقہ
ملک پاکستان
زباناردو
پنجابی
بجٹروپیہ 18 ملین (US$170,000)
باکس آفسروپیہ 30 کروڑ (US$2.8 ملین)

سٹوری

ترمیم

1991ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”کالے چور“ کی کہانی کا کردار ایک کالی نام کا شخص جس کا کردار (ہمایوں قریشی) نے کیا وہ سیاسی لیڈر کا رہنما ہوتا ہے۔ ڈپٹی عاشق شاہ کالی کے خلاف کچھ ثبوت اکٹھے کرتا۔ ایک پارٹی میں جا کر کسی بڑے آدمی کی جیب تراش کرتا۔ جس کی جیب تراش کرتا اس آدمی کو قتل کر دیتا ہے اور خود پانچ سو کروڑ کا ملک بن جاتا۔ جو کالی خلاف آواز اٹھاتا اسے کسی نہ کسی مسئلے میں ملوث کر دیتا۔ کیونکہ اس کا دعوی تھا کہ قانون میری موٹھی میں اور وکیل میری جیب میں۔ ڈپٹی عاشق شاہ اس کے جرائم کو بے نقاب کرتا ہے اور اسے جیل کی طرف روانہ کر دیتا ہے۔ لیکن ناکام ہوجاتا ہے۔ ڈپٹی عاشق کی بیٹی کی شادی ہوتی اور ڈپٹی جعفر کا کردار (منصور بلوچ) نے کیا کالی ڈپٹی جعفر کو کسی جھوٹے مقدمے میں اس کے گھر بھیج دیتا۔ کہ آپ کی بیٹی کے ناجاہز سمبند تھے اور جس سے پیار کرتی تھی اسے قتل کر دیا۔ لہٰذا ہم آپ کی بیٹی کو گرفتار کرنے آئے ہیں۔ وہ عدالتوں میں انصاف کے لیے جاتا کہ میری بیٹی کی بارات آنے والی ہے جج صاحب۔ مگر کوئی چارہ نہیں چلتا برات واپس چلی جاتی۔ ڈپٹی عاشق اس سے حادثے سے اپنی جان کا گوا لیتا۔ ڈپٹی عاشق کا کردار (عابد علی) نے کیا۔ اس فلم کا ڈائیلاگ ”یہ قانون انسان نے بنایا ہے انسان کے لیے بنایا ہے اگر یہ قانون انسان کے کام نہ آیا یا یہ قانون مٹ جاے گا یا یہ قوم مٹ جاے گی“۔ اس کا ایک بیٹا ہوتا ہے جس کا نام کبیرا ہوتا ہے وہ اس کا کردار (سلطان راہی) میں کیا۔ اس میں جج شیر افگن کا دعوی ہوتا ہے کہ عدالت صرف آٹھ گھنٹے تک کھلی رہے گی۔ اگلے دن ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے کبیرہ کی بہن کو رہا کر دیا جاتا۔ لیکن وہ اپنی بے عزتی کی وجہ سے مر جاتی۔ کبیرا بھری عدالت میں اعلان کرتا ہے کہ آگے سے عدالت آٹھ گھنٹے نہیں 24 گھنٹے کھلی رہ گئیں یہ کبیرا اعلان ہے۔ اور میری عدالت کا نام عوامی عدالت ہو گا۔ اور (جاوید شیخ) ایک رپورٹر کا بیٹا ہوتا ہے جس کو کالی شروع میں قتل کر دیتا ہے۔

اداکار

ترمیم

ساؤنڈ ٹریک

ترمیم

فلم کی موسیقی وجاہت عطرے نے ترتیب دی، فلم کے نغمات حبیب جالب، سلیم احمد سلیم اور وارث لدھیانوی نے گیت لکھے۔ فلم کی لسٹ ریکارڈنگ میں شامل ظہور احمد انھوں نے گیتوں کی بہترین ریکارڈنگ کی اور نورجہاں، اے نیّر اور مہناز نے گیت گائے۔ ساؤنڈ ٹریک کو پلاننٹ لولی ووڈ نے لولی ووڈ کے 100 بہترین ساؤنڈ ٹری میں شامل کیا ہے۔

نمبر.عنوانپردہ پش گلوکاراںطوالت
1."چور چور کالے چور، تن دے اُجلے من دے مالے"نورجہاں5:21
2."چھلا پا دے رانجھنا، گلاں تیرے نال ہون دیاں گوڑیاں"نورجہاں4:31
3."ہاے میں کھا لی ہری مرچ، پینڈا گیا میرا ٹڑک ٹڑک"نورجہاں، اے نیّر3:44
4."کہے یہ ہر کوٸی مجھ کو چونن، سارے گائے میرے گوںن"نورجہاں4:44
5."خوشیایں دی ہوئی برسات نی تیری مہندی دی آٸی رات نی"نورجہاں، مہناز4:21
6."سجن میرے آ، گونگے دی رمضن گونگا جانے"نورجہاں4:57
کل طوالت:27:23

بیرونی روابط

ترمیم