ابو سلمہ عبد اللہ

ابو سلمہ عبد اللہ ابن عبد الاسد مخزومی ان کا نام عبد اللہ بن عبد الاسد تھا ام المؤمنین ام سلمہ پہلے ان کے نکاح میں تھیں۔ ان کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی تھیں اوریہ رسول اللہ اور حمزہ بن عبد المطلب رضاعی بھائی تھے۔

ابو سلمہ عبد اللہ
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عبد اللہ بن عبد الاسد
تاریخ پیدائش 1 ہزاریہ  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 625 (24–25 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو سلمہ
زوجہ ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ مخزومیہ
اولاد سلمہ، عمر، درہ، زينب
عملی زندگی
نسب المخزومی القرشی
پیشہ سائنس دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ بدر
غزوہ احد

نسبترميم

پورا شجرہ ابو سلمہ بن عبد الاسد بن ہلال بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم بن یقظہ بن مرہ بن كعب قرشی مخزومی ہے۔

ذاتی زندگیترميم

ابو سلمہ کا شمار سب سے پہلے حلقہء اسلام میں داخل ہونے والوں میں ہوتا ہے۔ اصحاب صفہ میں سے تھے۔ آپ کا نکاح ہند بنت ابی امیہ سے ہوا اور آپ کے چار بچے سلمہ، عمر، زینب اور درا تھے۔ آپ کی دوسری زوجہ حضرت ام سلمہ تھی کہ جو آپ کی وفات کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نکاح میں آگئیں۔ دو ہجرتوں والے تھے۔ اپنی بیوی ام سلمہ کے ساتھ حبشہ ہجرت کی۔ واپس مدینہ منورہ میں آئے بدر اور احد میں شرکت کی۔

کاتب وحیترميم

دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کتابت کا شرف بھی حاصل ہوا، اس کی صراحت ابن سید الناس، ابن مِسکویہ، ابو محمد دمیاطی، عراقی یعمری اور انصاری نے کی ہے، [1]

عسکری زندگیترميم

ابو سلمہ آخری دفعہ غزوہ احد میں شریک ہوئے جس میں آپ شدید زخمی ہوئے۔ جب قبیلہ بنو اسد نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مدینہ کی اسلامی ریاست کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابو سلمہ کی سربراہی میں بنو اسد پر چڑھائی کے لیے لشکر روانہ کیا۔ مدینہ واپسی پر ابو سلمہ کا ایک زخم جو انہیں احد میں لگا تھا، پھر پھوٹ پڑا جس کی وجہ سے وہ جلد ہی وفات پا گئے۔ ابو سلمہ کی اس آخری مہم کو سریہ ابو سلمہ مخزومی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

وفاتترميم

غزوہ احد میں زخمی ہوئے ٹھیک ہو گئے دوبارہ زخم ہونے سے جمادی الاخر میں وفات پا گئے۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. عیون الاثر 2/316 تجارب الامم 1/291، المصباح المضئی 34/ب، العجالة السنیہ شرح الفیہ عراقی ص 346
  2. اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ابن اثیر، حصہ 10، صفحہ538، المیزان پبلیکیشنز لاہور