احمد بن عربشاہ

عرب مصنف اور سیاح


احمد بن عربشاہ یا ابو العباس احمد بن محمد بن عبد اللہ بن ابراہیم شہاب الدین ابن عربشاہ (پیدائش: 14 نومبر 1389ء — وفات: 14 اگست 1450ء) عرب مؤرخ اور سیاح تھے۔ وہ عربی ادب اور تاریخ عرب میں ابن عربشاہ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔

احمد بن عربشاہ
(عربی میں: أحمد بن مُحمَّد بن عبد الله بن إبراهيم الدمشقي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Autograph of Ahmad ibn Arabshah.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش 15 نومبر 1389[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دمشق  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 24 اگست 1450 (61 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مصر  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش دمشق
سمرقند
مصر  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل عربی [2]  ویکی ڈیٹا پر (P172) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  مترجم،  سیاح،  مورخ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[3]،  فارسی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Autograph of Ahmad ibn Arabshah.png
 

سوانحترميم

پیدائش اور ابتدائی حالاتترميم

ابن عربشاہ 25 ذیقعد 791ھ مطابق 14 نومبر 1389ء کو دمشق میں پیدا ہوئے۔ اُن کی اِبتدائی زندگی اور پرورش سمیت اُن کے خاندان کے حالات پردۂ اخفا میں ہیں اور اِن کے متعلق کوئی معاصر کتاب کوئی معلومات پیش نہیں کرتی۔ ابن عربشاہ ابھی بارہ سال کے ہی تھے کہ امیر تیمور نے 803ھ مطابق 1400ء میں دمشق فتح کر لیا اور وہاں کے بہت سے باشندوں کو اپنے ہمراہ زبردستی سمرقند لے گیا تو ابن عربشاہ کا خاندان اُن کے ساتھ سمرقند چلا گیا۔

تعلیمترميم

 
ابن عربشاہ کے دستخط — تصنیف: عجائب المقدور فی اخبار تیمور (839ھ)

ابن عربشاہ بارہ سال کی عمر میں وہ سمرقند پہنچے اور وہیں ابن الجزری (متوفی 833ھ) اور شریف الجرجانی (متوفی 816ھ) اور دیگر علما سے تحصیل علم کیا اور ترکی، فارسی اور منگولی زبانیں سیکھیں۔811ھ مطابق 1408ء میں وہ مغولستان چلے گئے جہاں ختا نامی شہر میں مقیم ہوئے اور وہاں الشیرامی سے علم حدیث پڑھا۔ بعد ازاں خوارزم اور دشت (یعنی سرائے اَورحاجی ترخان) چلے گئے اور وہاں اُن کی اقامت کی نشان دہی 814ھ تک ہوتی ہے۔

معتمد خاصترميم

814ھ مطابق 1411ء میں کریمیا (قرم) سے ہوتے ہوئے ادرنہ جا پہنچے جہاں وہ عثمانی سلطان محمد اول بن بایزید کے معتمدِ خاص بن گئے اور سلطان محمد اول بن بایزید کی خواہش پر عربی اور فارسی سے متعدد کتب کا ترکی میں ترجمہ کیا۔

اواخر سالترميم

عثمانی سلطان محمد بن بایزید کی جانب سے عربی، فارسی، ترکی اور منگولی زبانوں میں خط کتابت بھی کرتے رہے۔ 824ھ مطابق 1421ء میں حلب چلے گئے اور 825ھ مطابق 1422ء میں دمشق چلے گئے جہاں اُنہوں نے اپنے دوست ابوعبداللہ محمد البخاری سے حدیث پڑھی۔ 832ھ مطابق 1429ء میں فریضۂ حج اداء کیا اور 840ھ مطابق 1436ء میں وہ دمشق اور ادرنہ کی بجائے قاہرہ چلے گئے جہاں وہ تا دم آخر مقیم ہوئے۔ قاہرہ میں ابن عربشاہ کے بہترین مراسم ابوالمحاسن ابن تغری بردی سمیت دوسرے فضلاء سے رہے۔[4]

وفاتترميم

ابن عربشاہ نے 5 رجب 854ھ مطابق 14 اگست 1450ء کو قاہرہ میں وفات پائی۔

تصانیف و تالیفاتترميم

فارسی تراجمترميم

ابن عربشاہ نے سلطان محمد اول بن بایزید کی خواہش پر متعدد کتب کے ترکی زبان میں تراجم کیے جن میں سدید الدین محمد عوفی کی فارسی تصنیف جوامع الحکایات و لوامع الروایات کو ترکی زبان میں ترجمہ کیا۔ لیکن کاتب چلبی حاجی خلیفہ کا بیان ہے کہ یہ کتاب عثمانی سلطان مراد ثانی ابن محمد اول بن بایزید کی خواہش پر ترجمہ کی گئی تھی۔علاوہ ازیں تفسیر ابو اللیث سمرقندی،[5] ابوحنیفہ الدینوری کی تعبیر کو بھی ترکی زبان میں ترجمہ کیا۔ [6]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب TDV İslam Ansiklopedisi ID: https://islamansiklopedisi.org.tr/ibn-arabsah-sehabeddin
  2. عنوان : Ибн-Арабшах
  3. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=jo2018995456 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مارچ 2022
  4. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد اول، صفحہ 370۔
  5. کاتب چلبی حاجی خلیفہ: کشف الظنون، جلد 2، صفحہ 352۔
  6. کاتب چلبی حاجی خلیفہ: کشف الظنون، جلد 2، صفحہ 312۔