باب تایخ اسلام

610ء میں قرآن کی پہلی صدا کی بازگشت ایک صدی سے کم عرصے میں بحر اوقیانوس سے وسط ایشیا تک سنائی دینے لگی تھی اور پیغمبرِ اسلام کی وفات (632ء) کے عین سو سال بعد ہی اسلام 732ء میں فرانس کے شہر تور (tours) کی حدود تک پہنچ چکا تھا۔

منتخب مقالہ

سلطنت عثمانیہ اپنے عروج پر

سلطنت عثمانیہ یا خلافت عثمانیہ (عثمانی ترک زبان: "دولت علیہ عثمانیہ"، ترک زبان:Osmanlı Devleti) سن 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔

منتخب تصویر

اس مہینہ میں

خبریں

منتخب شخصیت

صلاح الدین ایوبی

سلطان صلاح الدین (عربی: صلاح الدين الأيوبي) ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں ۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار باکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنہوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔

کیا آپ جانتے ہیں...

کیا آپ جانتے ہیں کہ علامہ شبلی نعمانی نے کہا تھا یورپ کی ترقی آگے بڑھنے میں ہے کیونکہ ان کا ماضی تاریک ہے، اور ہماری ترقی پیچھے ہٹنے میں۔ ہم پیچھے ہٹتے چلے جائیں یہاں تک قرن اول تک پہونچ جائیں۔

منتخب اقتباس

آج 4 مئی 1799ء ہے۔ سلطان ٹیپو حسب معمول مسجد اعلی میں باجماعت فجر کی نماز ادا کرتا ہے۔ نماز کے بعد سلطان کے خصوصی سیکریٹری میر حبیب اللہ نے عرض کیا، وقت کا تقاضا ہے کہ سلطان جان عزیز پر رحم فرمائیں اور شہزادوں اور شہزادیوں کی یتیمی واسیری کا تصور فرمائیں۔ سلطان نے غیرت مندانہ اور مومنانہ جواب دے کر ان کو خاموش کردیا:
یہ ملک خداداد ہماری رعایا اور بالخصوص مسلمانوں کی ملکیت ہے۔ ہم نے سالوں اس کی حفاظت کی فکر کی اور اس کو بچانے کی تدبیریں کیں۔ مگر وزراء اور افسران درپردہ اس کی تباہی میں لگے رہے۔ اب اپنے اعمال کا مزہ چکھنا ضروری ہے۔ جہاں تک میری ذات کا سوال ہے میں اپنی ذات، جان ومال اور اولاد کو دین محمدی پر نثار کرچکا ہوں۔ انسان کو صرف ایک دفعہ موت آتی ہے، اس سے ڈرنا لاحاصل ہے۔ یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ کب اس کو موت آئے گی۔ دو سال بکری کی طرح جینے سے شیر کی طرح دو دن کی زندگی گزارنا پسند کرتا ہوں۔
(صحیفۂ ٹیپو سلطان 737-738)

زمرہ جات

آپ کیا کرسکتے ہیں

متعلقہ ابواب

ویکیمیڈیا ساتھی منصوبے

تاریخ اسلام تاریخ اسلام تاریخ اسلام تاریخ اسلام تاریخ اسلام تاریخ اسلام تاریخ اسلام
ویکی اخبار
آزاد متن خبریں
ویکی اقتباسات
مجموعہ اقتباسات متنوع
ویکی کتب
آزاد نصابی ودستی کتب
ویکی منبع
آزاد دارالکتب
وکشنری
لغت ومخزن
ویکیورسٹی
آزاد تعلیمی مواد ومصروفیات
العام
انبار مشترکہ ذرائع
Wikinews-logo.svg
Wikiquote-logo.svg
Wikibooks-logo.svg
Wikisource-logo.svg
Wiktionary-logo-en.svg
Wikiversity-logo.svg
Commons-logo.svg

سرور کیش کو صاف کریں