سوہدرہ

پاکستان کا ایک آباد مقام

سوہدرہ (انگریزی: Sodhra) پاکستان کا ایک تاریخی قصبہ ہے۔ جو ضلع گوجرانوالہ ، تحصیل وزیر آباد کی ایک یونین کونسل بھی ہے،

سوہدرہ
انتظامی تقسیم
متناسقات 32°28′N 74°11′E / 32.46°N 74.18°E / 32.46; 74.18  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر

تاریخترميم

سوہدرہ جس کو کتب تواریخ میں سودرہ ،سودہرہ، سدرہ، جندرہ، ابراہیم آباد کے نام سے لکھا گیا ہے، تاریخ مخزن پنجاب میں لکھا ہے کہ اس قصبہ کی آبادی بہت پرانی ہے اصلی بانی اس کا ملک ایاز، غلام و محبوب سلطان محمود غزنوی کا تھا،جس نے پنجاب کی حکومت کے وقت دریاۓ چناب کے کنارے پر اس شہر کو آباد کرنا چاہا تھا، چونکہ اس کی تجویز یہ تھی کہ اس شہر میں ایک سو دروازے ہوں اور بہت بڑا شہر ہو ،اس سبب سے اس کا نام سودرہ مشہور ہو گیا، اس نے یہاں پہلے پختہ قلعہ کی بنا ڈالی اور فصیل و عالی شان حویلیاں تعمیر کیں، مگر ابھی تمام شہر آبادنہیں ہوا تھا کہ وہ لاہور کی آبادی میں مصروف ہو گیا، جو راجا آنند پال کے محاصرہ کے وقت اجڑ گیا تھا اور اس شہر کی آبادی کی طرف اس کی توجہ رہی، سلطنت مغلیہ میں اس کی آبادی بڑی عروج پر تھی،،محمود غزنوی کے والد امیر سبکتگین(977–997) کے عہد حکومت کے حوالے سے تاریخ فرشتہ میں لکھا ہے اسی زمانے میں سبکتگین نے ہندوؤں کا وہ بت خانہ جو سودرہ کے کنارے پر واقع تھا مسمار کیا، تاریخ سیالکوٹ میں درج ہے کہ محمود غزنوی (998-1030) انند پال کا تعاقب کرتے ہوئے سوہدرہ کے نزدیک چناب کے کنارے پہنچا تو انند پال جموں کے جنگلوں میں چھپ گیا جو سوہدرہ سے شروع ہوتے تھے سوہدرہ اس وقت پرگنہ سیالکوٹ میں شامل تھا، اس کی آبادی ایک لاکھ سے اوپر تھی،محمود سوہدرہ کے کنارے پر خیمہ زن ہو گیا طویل جنگوں کے بعد آرام کے لیے یہیں تادیر قیام کیا، اکبر بادشاہ (1556-1605) کے عہد کے حوالے سے آئین اکبری میں لکھا ہے کہ سودہرہ دریائے چناب کے کنارے پر آباد ہے جہاں ایک بلند اور پختہ مینار بھی ہے، مزید لکھا ہے کہ اس کی پیداوار 121421 بیگے اور بسوئے ہے اس کی فوج کے 100 سوار ہیں جبکہ 1000 فوجیوں پر مشتمل اس کے پیادے ہیں،جبکہ اس میں چیمہ قوم کے افراد ہیں؛ ماثر الامرا اور تاریخ ہندوستان میں درج ہے کہ جہانگیر کے بیٹے خسرو نے جب بغاوت کی تو وہ سوہدرہ سے گرفتار ہوا تھا، خلاصتہ التاریخ میں ہے کہ شاہجہان کے دور میں امیر مردان خان نے اپنے بیٹے کے نام پر ابراہیم آباد موضع آ باد کیا جو سودہرہ سے متصل تھا، وہاں ایک خوش منظر باغ کی بنیاد رکھی جو شالا مار کا جواب ہے اوردلچسپ عمارتیں تعمیر کیں، دریائے توی سے ایک نہر بھی لایا .کل 6 لاکھ روپے خرچ ہوئے سوہدرہ میں احمد شاہ ابدالی اور میر منوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، احمد شاہ کی زمزمہ توپ سوہدرہ کے نزدیک چناب میں ڈوب گئی تھی،جو بعد میں ہری سنگھ بھنگی کے نام پر بھنگیاں والی توپ کہلائی۔، ابھی تک لاہور کے عجائب گھر کے سامنے موجود ہے سکھ عہد میں بھی سوہدرہ کو اہمیت حاصل رہی قلعہ سوہدرہ میں مہان سنگھ اوررنجیت سنگھ براجمان رہے اوریہاں کئی جنگیں لڑیں ،جب رنجیت سنگھ سوہدرہ پرگنہ پر قابض تھا تو اس کی تقسیم یوں کی،،، سوہدرہ کے کل گاؤں 48،، سکھ سلطنت سے پہلے صاحب سنگھ بھنگی کے پاس تھا،،رنجیت سنگھ نے فتح کر کے دیوان دھنپت رائے کو دے دیا اور اس کا انتظام کاردار کے سپرد تھا بعہد انگریز 1886 میں سوہدرہ میونسپلٹی ختم کر دی گئی،اور تحصیلدار کے زیر انتظام آ گیا، 1883 میں ذیلداری نظام رائج ہوا، تذکرہ رووسائے پنجاب کتاب میں سوہدرہ کے رٰیس لالہ گنڈا مل اور اس کے خاندان کا تفصیلی ذکر آتا ہے

شخصیاتترميم

  1. عمر سرفراز چیمہ (گورنر پنجاب)
  2. بھائی کنہیا جی [1648-1718/ سماجی کارکن]
  3. نواب ابراہیم خان[شاہجہان کا منصب دار+ مصنف]
  4. انند رام مخلص [ فاسی ادیب/پ 1699-م1743]
  5. احمد یار مرالوی [ پنجابی شاعر/پ1768]
  6. خالد اختر افغانی [کارکن تحریک پاکستان]
  7. عنایت اللہ نسیم سوہدروی [کارکن تحریک پاکستان]
  8. برگیڈیئر (ر) علاؤالدین بابر (سماجی کارکن/ سیاسی رہنما/ ستارہ جرات، ملٹری )
  9. عبد الرشید عراقی [ مصنف و سوانح نگار]
  10. غلام مصطفی سوہدروی[ مصنف+ معلم]
  11. عبد العزیز فاروق[ مورخ]
  12. وقار ملک[ صحافی]
  13. حکیم شہباز حسین اعوان کمالی سوہدروی [ طبیب]
  14. حکیم راحت نسیم سوہدروی [طبیب]
  15. ڈاکٹر محمد عبد اللہ[مصنف و محقق زراعت]
  16. حکیم ولی الرحمان ناصر [طبیب و ادیب]
  17. احمد جمیل بٹ[ٹی وی فنکار]
  18. نجیب االہ ملک[صحافی]
  19. مولانا عبد المجید سوہدروی [عالم دین/ طبیب]
  20. سید بشیر احمد خورشید سہروردی[عالم/ عامل، کارکن تحریک پاکستان]
  21. سید لخت حسنین [ بانی مسلم ہینڈز انٹرنیشنل ]
  22. مولانا منظور حسین شاہ[ شیعہ ذاکر]
  23. صوفی عبد المجید حمید[والد خالد مجید مہر]
  24. شیراز ساگر ۔..اردو شاعر
  25. مولانا ادریس فاروقی
  26. ملک شاکر (صحافی اینکر پرسن ، بانی ایم ایس نیوز)
  27. کامران اعظم سوہدروی (ادیب و شاعر و تاریخ دان)
  28. طارق محمود (کرکٹر)

آبادیترميم

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سوہدرہ قصبہ کی آبادی

  • 10135 = 1981ء
  • 13948 = 1998ء
  • 17296 = 2017ء

محلےترميم

  • محلہ ملکاں (ککے زئیاں)
  • محلہ اعواناں
  • محلہ قاضیاں
  • محلہ چوہدریاں
  • محلہ معماراں
  • محلہ آرائیاں
  • محلہ کوچہ بندی
  • محلہ سیداں
  • محلہ نتھو پورہ
  • محلہ شاہ لٹھا
  • تلواڑہ
  • نئی بستی
  • نعیم کالونی
  • غازی کالونی
  • کرسچن کالونی

تعلیمی ادارےترميم

  • گورنمنٹ گرلز کالج
  • گورنمنٹ ہائی سکول (سوہدرہ موڑ)
  • گورنمنٹ گرلز ہائی سکول
  • گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول
  • الائیڈ سکول
  • سپرٹ سکول
  • فالکن ہاؤس پبلک سکول
  • مسلم ہینڈز سکول و کالج

طبی مراکزترميم

  • سول ہسپتال
  • بٹ کلینک (ڈاکٹر طارق بٹ)
  • ڈاکٹر یوسف کلینک
  • پاک بلڈ ویلفیئر ہسپتال
  • ڈاکٹر افتخار کلینک

تجارتی مراکزترميم

  • مین بازار
  • انار کلی بازار
  • چاند مارکیٹ
  • ملک عاشق مارکیٹ
  • خان صاحب مارکیٹ

محل وقوعترميم

سطح سمندر سے یہ قصبہ 222 میٹر یعنی 731 فٹ بلند ہے، وزیر آباد سیالکوٹ ریلوے سیکشن پر سوہدرہ کوپرہ ریلوے اسٹیشن بھی ہے، جب کہ عام طور پر امدو رفت بذریعہ شاہراہِ ہے، کیونکہ ریلوے اسٹیشن کافی فاصلے پر ہے،

سوہدرہ کا دیگر شہروں سے بذریعہ روڈ فاصلہ

  • وزیر آباد سے شمال مشرق میں سیالکوٹ روڈ پر 9 کلو میٹر
  • سیالکوٹ سے مغرب جنوب میں وزیر آباد روڈ پر 35 کلو میٹر
  • گوجرانوالا سے براستہ جی ٹی روڈ شمال مغرب میں 40 کلومیٹر
  • لاہور سے براستہ سیالکوٹ موٹر وے شمال میں 145 کلومیٹر ، براستہ جی ٹی روڈ 110 کلومیٹر
  • گجرات سے جنوب مشرق میں 30 کلو میٹر کی دوری پر آباد ہے،

کتابیاتترميم

[1]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. تحریر و تحقیق کامران اعظم سوہدروی