بنیادی طور پر پنجاب کا ایک زمیندار قبیلہ ہے لیکن اس سے تعلق رکھنے والے افراد اب سندھ اور بلوچستان میں بھی آباد ہیں، پنجاب کے سیال اپنے نام کے ساتھ سردار، مہر، نواب خا ں اور جٹ سیال چوہدری کا لاحقہ استعمال کرتے ہیں ۔۔ پنجاب میں یہ قبیلہ جھنگ کے علاوہ سرگودھا، خوشاب ، منڈی بہاؤالدین پھالیہ اور فیصل آباد کے علاوہ کئی اضلاع میں آباد ہے ۔۔۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سیال جو ایک پنوار راجپوت رائے شنکر کی اولاد تھا جو الٰہ آباد اور فتح پور کے درمیانی علاقہ دارا نگر کا رہنے والا تھا ایک کہانی یہ بھی ہے کہ پنواروں کی ایک شاخ دارانگر سے نقل مکانی کر کے جونپور چلی گئی جہاں شنکر پیدا ہوا۔ گورنر پنجاب” ای ڈی میکلیگن “کے مطابق شنکر کے ہاں تین بیٹے ہوئے جن کے نام گھیئو، ٹیئو اورسیئو رکھے گئے انہی سے جھنگ کے سیالوں شاہ پور خوشاب  کے ٹوانوں اور پنڈی گھیب کے گھیبوں کی نسل چلی ۔

ایک اور روایت کے مطابق سیئو (سیال) رائے شنکر کا اکلوتا بیٹا تھا اور یہ کہ ٹوانوں اور گھیبوں کے مورثین محض شنکر کے ہم جد رشتہ دار تھے کہا جاتا ہے کہ شنکر کی زندگی میں تو یہ تمام قبیلہ باہم شیر و شکر رہا مگر شنکر کی مقت کے ساتھ ہی ان میں شدید جھگڑے شروع ہو گئے جس وجہ سے 1241-46 میں اس کا بیٹا سیئو المعروف سیال سلطان رکن الدین کے بیٹے” علاؤ الدین غوری یا مسعود شاہ علاؤ الدین“ کے دورِ حکومت میں پنجاب کو نقل مکانی کر گیا۔

یہ شواہد بھی ملتے ہیں کہ قریباً یہ وہی دور تھا جب متعدد راجپوت خاندانوں نے موجودہ ہندوستان سے پنجاب کو نقل مکانی کی ادھر اسی زمانہ میں بابا فرید الدین گنج شکر کی دینی تعلیمات اور اخلاق حسنہ کی بدولت یہاں اسلام خوب پھیل رہا تھا۔ قرین ِ قیاس ہے کہ سیال آوارہ گردی کرتا ہو ” اجودھن“ موجودہ پاک پتن جا پہنچا اور بابا فرید الدین گنج شکر کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہو گیا۔1265ءمیں بابا فرید الدین کے وصال تک یہ انہی کے پاس مقیم رہا۔ان کے ساتھ راجپوتوں کی ایک شاخ ڈوگر یا ڈوگرہ نے بھی اسلام قبول کیا جو کے اب جٹوں میں شامل کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی رشتہ داری کرتے ہیں، مشہور ہے کہ بابا فرید الدین نے بشارت دی کہ اس کی اولاد دریائے چناب کے آس پاس کےعلاقے نیا نام جھنگ پر حکمرانی کرے گی۔


جھنگ کا پہلا شہر، ایک قبیلہ سردار رائے سیال سیئو نے 1288ء میں اپنے پیر و مرشد حضرت شاہ جلال بخاری کے کہنے پر آباد کیا۔ جھنگ کے پہلے حکمران مل خان 1462ء میں ہوئے۔ سیال قبائل نے جھنگ پر 360 سال حکومت کی اور آخری سیال حکمران احمد خان تھے، جنھوں نے 1812ء سے 1822ء تک حکومت کی، جن کے بعد حکومت سکھوں کے ہاتھ آئی اور پھر ان سے انگریزوں کے قبضہ میں گئی

سیالوں کی آگے بھی بہت سی سب گوتیں ہیں ان میں ایک دلچسپ بات یہ ہے جس بھی قوم کے نام کے آخر میں" آنہ " لفظ ہوگا وہ سیال ہی ہوگا مثلاً فتیانہ، پربانہ، ترہانہ، بھروانہ، درسانہ،ھندلانہ سرگانہ، وغیرہ سیالوں کی رشتے داریاں راوی کے کھرلوں کے ساتھ بھی رہی ہیں اس کے علاوہ چناب کے علاقے کی ایک اور قوم چدھڑ راجپوت کے ساتھ بھی ان کی رشتے داریاں رہی ہیں ایک اور روایت کے مطابق یہ رائے درست نظر آتی ہے کہ سیال ٹوانہ اور گھیبے رائے شنکر کے تین بیٹے بالترتیب سیئو، ٹیئو اور گھیئو کی اولاد ہیں ۔ سیال اور ٹوانہ بھی اس تعلق کو کسی حد تک تسلیم کرتے ہیں۔ اسی بناءپر راجپوت قبائل کے اس گروہ کا پنوار ہونا خلافِ امکان نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گھیبہ خاندان سیال اور ٹوانہ کے بعد پنجاب آیا اور فتح جنگ ، پنڈی گھیب کے نیم پہاڑی علاقہ میں آباد ہوا۔ یہاں وہ اعوانوں گکھڑوں اور دیگر پڑوسی قبائل کے مقابل قائم رہے حتیٰ کہ رنجیت سنگھ نے انہیں 1798ء میں مطیع کر لیا۔ سیال قوم کے ساتھ کھڑی بڑی تعداد جو سیال جٹ ہیں جنہیں سیالوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے سیال کی ال پڑ گئی ہے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی آمد کے بعد سیال جٹ بھی سیال راجپوتوں سے کم نہ رہے یہی وجہ ہے کہ اب ان کا فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے ماضی میں بھی سیال اپنا ثانی نہ رکھتے تھے ہیر رانجھا کی کہانی میں ہیر کا تعلق والد چوہدری چوچک بھی جٹ سیال ہی تھا،اب اب سیالوں کی سب سے مشہور ا قسم ہندلانہ سیال باقی ہے

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم