فلم فیئر اعزاز بھارت کی ہندی زبان کی فلم انڈسٹری بالی وڈ سے تعلق رکھنے والی دونوں جمالیاتی اور تکنیکی شخصیات کی بہترین کارکردگیوں کو سراہنے کے لیے سالانہ دئے جانے والے فلمی اعزازات ہیں۔ ان اعزازات کا انعقاد ایک بڑے بھارتی میڈیا گروپ دی ٹائم کی طرف سے ہوتاہے۔ فلم فیئر اعزاز کی تقریب بھارت کی قدیم ترین بھارتی ہندی فلمی اعزاز میں سے ایک ہے۔[1][2][3] اس اعزاز کا آغاز 1954ء میں ہوا، جب نیشنل فلم ایوارڈ بھی قائم ہوا تھا۔ یہ اعزازات بالی ووڈ فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ان کی کارکردگی پرعوام کے ووٹ اور جیوری ارکان کے ووٹ کی بنیاد پرہر سال دیے جاتے ہیں۔

موجودہ: 61 ویں فلم فیئر اعزاز
اعزاز کی ٹرافی
وضاحتفلمی میدان کی نمایاں کارکردگی کے اعزازات
ملکبھارت
میزبانفلم فیئر
ویب سائٹwww.filmfare.com
ٹیلی ویژن/ریڈیو کوریج
نیٹ ورکسونی اینٹیرٹائنمینٹ ٹیلیوژن (2000-تاحال)

یہ تقریب ماضی میں کئی نجی اداروں کی طرف سے سپانسر کی گئی تھی۔ 1990 کی دہائی سے یہ کئی سال کے دوران، ٹیلی ویژن کے ناظرین کے لیے لائیو نشر کیا جا رہا تھا، لیکن بعد میں نامعلوم وجوہات کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔ اب اس تقریب کے انعقاد کے بعد اس تقریب کا ریکارڈ شدہ اور ترمیم شدہ ورژن، ایک یا دو ہفتے کے وقفے کے اندر اندر ٹیلی ویژن پر دکھایا جاتا ہے۔

1990 کی دہا ئی کے وسط تک، فلم فیئر اعزاز سب سے ممتاز تقریب تھی لیکن اس ایوارڈ شو کی دیکھا دیکھی بھارت میں اور بھی مزید فلمی ایوارڈ تقریبات منعقد ہونے لگیں، لیکن کئی بھارتی فلم ایوارڈز کے ہوتے ہوئے بھی فلم فیئر کی اہمیت اپنی جگہ قائم رہی۔ 2000 کی دہائی کے بعد سے فلم فیئر ایوارڈز کو مساوی طور پر آسکر کے درجہ کا ہندی فلم انڈسٹری ایوارڈ سمجھا جانے لگا ہے۔[2][3][1][4]

تاریخ

ترمیم

اس اعزازات کی شروعات فلم فیئر میگزین میں مقبول اداکار اور اداکاراؤں کے لیے کرائے گئے قارئین کے ووٹنگ کی طرف 1953 میں ہوئی تھی جب تقریبا بیس ہزار قارئین نے اس میں حصہ لیا تھا۔ ممبئی میٹرو تھیٹر میں 21 مارچ 1954ء کو ہونے والے پہلے ایوارڈ تقریب میں صرف پانچ ایوارڈ رکھے گئے تھے جس میں دو بیگھہ زمین کو بہترین فلم، بہترین ہدایت کار کے لیے بمل رائے (دو بیگھا زمین)، بہترین اداکار کے لیے دلیپ کمار (داغ)، بہترین اداکارہ کے لیے مینا کماری(بیجو باورا) اور اسی فلم میں بہترین موسیقی کے لیے نوشاد کو اعزاز دیے گئے تھے۔ 1954ء میں ہوئی فلم فیئر اعزاز کی تقریب کو پہلے کلئیر ایوارڈ کے نام سے متعارف کرایا گیا، جو ٹائمز آف انڈیا کے مدیر و مشہور فلم ناقد کلیئر مینڈونسا کے نام پر رکھا گیا تھا، بعد میں اس تقریب کا نام فلم فئیر رکھ دیا گیا۔ پہلے فلم فئیر اعزاز (1954ء) کی تقریب میں مہمان خصوصی بننے کے لیے ہالی ووڈ اسٹار گریگری پیک کو مدعو کیا گیا، لیکن کولمبو سے آنے والی ان کی پرواز تاخیر کا شکار ہو گئی اور وہ تقریب میں نہیں پہنچ سکے، تاہم، گریگری پیک نے ویلنگٹن کلب (جمخانہ)، ممبئی میں ایوارڈ کے بعد کی عشائیے کی تقریب میں شرکت کی تھی۔[5][6]

سال 1985 کے فلم فئیر اعزاز فاتحین کا اعلان 1986 میں کیا جانا تھا اور اس تقریب کے لیے دسمبر 1986ء میں بربون اسٹیڈیم میں انتظاما بھی کیے گئے مگر بدقسمتی سے مہاراشٹر کی حکومت اور 'بمبئی کی فلم انڈسٹری' ​​ کے درمیان بہت سے متنازع مسائل کی وجہ سے فلم انڈسٹری ہڑتال پر چلی گئی تھی اور اس تقریب کو ملتوی کر دیا گیا۔ اور یہ تقریبات 1987ء میں منعقد ہوئیں، سال 1986 کے لیے کوئی ایوارڈ نہیں ہوا۔[7]

بھارتی فلم انڈسٹری میں ایوارڈز کی کئی تقریب کی وجہ سے اکثر یہ سوال اٹھا یا گیا کہ "حقیقی" اور جیوری کی طرف سے دیے گئے منصفانہ فیصلوں پر مبنی ایوارڈ کون سے ہیں۔ اکثر فلم فئیر اعزاز کے فیصلوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ میرٹ کی بنیاد پر ایوارڈ نہیں دے رہے تھے، ان پر ایک متعصب انتخاب کا الزام عائد کیا گیا۔ لیکن، اس طرح کے مسائل ایوارڈ تقریب کے لیے ایک عام رجحان ہے۔[8]

بالی وڈ انڈسٹری جس کو اب ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، بالی وڈ میں ہر سال تقریبا ایک ہزار فلمیں سنیما کی زینت بنتی ہیں، یہ خود بڑی صنعت تسلیم کی جاچکی ہے اور اس انڈسٹری میں بہت سے نئی تکنیک، ٹیلنٹ، کہانیوں اور دیگر کارکردگیوں کی وجہ سے روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 1954ء کے فلم فئیر ایوارڈ کی ابتدا میں اعزازات کی تعداد محض پانچ تھی لیکن آج، اس انڈسٹری کے 31 زمروں کو اعزاز دیا جاتا ہے۔ گذشتہ ایک صدی سے یہ ایوارڈ کسی بھی تنازع کے بغیر ہر سال منعقد ہو رہا ہے۔[9]

فلم فئیر اعزاز کی ٹروفی کا مجسمہ، ایک عورت کا سیاہ مجسمہ ہے جس کے دونوں بازو ایک رقص کی تعداد میں دونوں انگلیوں کو چھو رہے ہیں۔ اسے عام طور پر "سیاہ لیڈی" (یا "بلیک لیڈی") کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ فلم فیئر وسیع پیمانے پر "سیاہ لیڈی" کے لیے مشہور ہے، نا صرف اس کی خوبصورت مجسمہ کے لیے بلکہ یہ ہر فاتح کو پیش کیا جانے والا عزت کا نشان ہے۔ یہ مجسمہ ٹائمز آف انڈیا کے آرٹ ڈائریکٹر والٹر لانگ ہیمر کی زیر نگرانی مجسمہ ساز این جی پنسارے نے ڈیزائن کیا تھا۔ یہ ایک عام طور پر کانسی کا بنا ہوتا ہے، اس کی اونچائی 46اعشاریہ 5 سینٹی میٹر ہے اور یہ تقریباً پانچ کلو وزنی ہے۔[10] اس ایوارڈز کے 25 سال مکمل ہونے پر مجسمہ کو چاندی اور 50 سال مکمل ہون پر سونے سے ڈھالہ گیا۔[11] سال 2000کے بعد سے فلم فیئر ٹرافی ایوارڈ گیلری کی طرف سے تیار کی جا رہی ہے۔[12]

2012 ء تک، ٹرافی میں چند ایک تبدیلیاں کی گئیں لیکن 2013 میں، ایک بہت بڑی تبدیلی ٹرافی کو سہہ البعادی (تھری ڈی )جھلک دینے والابنایا گیا ہے۔[13] منتظمین نے اس تبدیلی کے لیے دو وجوہات دیں کہ، آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت ترقی کے ساتھ ساتھ آنے والے سالوں میں بہت زیادہ آگے بڑھانے گا جس سے ملنے کے لیے ضروری ہو گیا تھا، اس کے علاوہ، یہ 2013 میں ممبئی میں فلم فیئر میں ایوارڈ کے سیٹ کے موضوع سے مطابقت کرنے کی ایک کوشش تھی۔ جس کا مرکزی خیال، موضوع ایک سو سال مستقبل میں کودنا تھا۔ لہذا، کیا ایک نئے بلیک لیڈی کرنے کے خیال سے بہتر ہے؟ [14] فلم فئیر اعزاز پانے والے فاتحین ہمیشہ اس ٹروفی کو ہاتھوں میں پکڑ کر جزباتی ہوجاتے ہیں جو یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ان کی محنت کے نتیجہ میں ان کے لیے حوصلہ افزائی اور ایک پرجوش احساس کو ظاہر کرتا ہے، بھارتی آبادی کی نظر میں سیاہ شکل و صورت ایک انسان میں کشش کا اظہار نہیں ہے لیکن اس بلیک لیڈی کے لیے کشش کا اظہار بہت حیران کن بات ہے۔[15]

ریڈ کارپیٹ (سرخ قالین ) فلم فئیر ایوارڈ کا ایک حصہ ہے جو مرکزی تقریب سے پہلے ہوتا ہے۔ جب اداکار، اداکارہ، پروڈیوسر، ڈائریکٹر، گلوکاروں، موسیقاروں اور دوسروں کو ہندوستانی سنیما میں اہم کردار ادا کیا ہے متعارف کرایا جاتا ہے۔[16] ریڈ کارپیٹ (سرخ قالین ) کی روایت اب کئی سالوں سے مروج ہے اور دیگر ایوارڈ ز کی تقریبات سے کسی طرح مختلف نہیں ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے، ریڈ کارپیٹ (سرخ قالین ) کی اس تقریب میں فنکار ایک قالین پر چلتے ہیں تاکہ اپنے لباس، بالوں کے طرز وغیرہ حاضرین اور میڈیا کو دکھائیں ۔[17] یہ ایک طریقہ بھی ہے جس میں عوام اپنے پسندیدہ ستاروں کو چلتے پھرتے دیکھ سکتے ہیں اور یہ بھی جان سکتے ہیں کہ فلم انڈسٹری کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح ملتے ہیں، سامعین ہوا میں ہاتھ ہلاکر اپنے فنکار کا خیر مقدم کرتے ہیں اور فنکار بھی ہاتھ ہلا کر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس تقریب میں اخبار، رسائل اور نیوز چینل کے نمائندے، فنکاروں اور دیگر شخصیات سے ان کے فلمی کردار اور کارکردگی کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ فلم فئیر اعزاز (بلیک لیڈی )گھر لے جانے کا مستحق کون ہو سکتا ہے۔[18]

فلم فئیر اعزازات

ترمیم
 
فلم فیئر اعزاز

فلم فئیر اعزازات کی تعادا ابتدا میں 5 تھی، اب ان کی تعداد بڑھ کر 31 ہو گئی ہے۔ یہ اعزاز آرٹسٹک اورٹیکنیکل دونوں شعبوں میں دیے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ خصوصی (اسپیشل )ایوارڈ اور ناقدین (کریٹیک )ایوارڈ بھی دیاجاتاہے۔ ان ایوارڈز کے لیے دو طرح کا ووٹنگ سسٹم بناہوا ہے۔ ایک تو ماہرین (جیوری )کی کمیٹی ہے اوردوسرے عوام ہیں۔ دونوں پہلوؤں سے ایوارڈ دینے سے پہلے دیکھاجاتاہے۔ ان ایوارڈز کی بھارت میں بہت اہمیت ہے۔ یہ ایوارڈز جن شعبوں میں دیے جاتے ہیں، ا ن کی ترتیب کچھ یوں ہے۔[19]

  • میرٹ (مقبول) ایوارڈز (14شعبے)
  • کریٹکس (ناقدین) ایوارڈز (4شعبے)
  • ٹیکنیکل (تکنیکی) ایوارڈز (12شعبے)
  • اسپیشل (خصوصی) ایوارڈز (6شعبے)

مقبول اعزازات

ترمیم
3

ناقدین (كرٹيک) اعزازات

ترمیم
3

تکنیکی اعزازات

ترمیم
3

خصوصی اعزاز

ترمیم
3

دلچسپ حقائق

ترمیم
  • فلم فیئر اعزاز آج بھی بھارتی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز مانا جاتا ہے۔ اکیس مارچ 1954 کو اس فلم فیئرایوارڈ کی بنیاد ڈالی گئی تھی اور اسی سال ’دو بیگھ زمین‘ نے پانچ ایوارڈ اپنے دامن میں سمیٹ لیے تھے۔[20]
  • مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر نے یہ ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ایوارڈ کی شکل ایک بے لباس عورت کی ہے۔ انھیں یہ ایوارڈ کپڑے میں لپیٹ کر دیا گیا تھا۔[20]
  • وجینتی مالا نے فلم دیوداس میں بہترین ساتھی اداکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اس فلم کی ہیروئین سچتراسین کی بجائے وہ ہیں۔[20]

ریکارڈز

ترمیم

سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والی فلم

ترمیم

سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والے ہدایت کار

ترمیم

سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والے اداکار

ترمیم

سب سے زیادہ ناقدین اعزاز حاصل کرنے والے اداکار

ترمیم

سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والی اداکارہ

ترمیم

سب سے زیادہ ناقدین اعزاز حاصل کرنے والی اداکار ہ

ترمیم

سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والے معاون اداکارہ

ترمیم

سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والی معاون اداکارہ

ترمیم

سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والے موسیقی ہدایت کار

ترمیم

سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والے گیت کار

ترمیم

سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والے پس پردہ گلوکار

ترمیم

سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والی پس پردہ گلوکارہ

ترمیم

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. ^ ا ب Alوجے مشرا، بالی وڈ سینما : ایک تنقیدی شجرہ (PDF)، وکٹوریہ یونیورسٹی آف ویلنگسٹن، صفحہ: 9، اخذ شدہ بتاریخ 24 فروری 2011 
  2. ^ ا ب مونیکا مہتا (2005)، "گلوبلائزنگ بمبئی سنیما"، کلچرل ڈائنامکس، 17 (2): 135–154 [145]، doi:10.1177/0921374005058583 
  3. ^ ا ب کائلی بولٹن (خزاں 2003)، "ساتھیہ: ساوتھ انڈیا سنیما"، میٹرو میگزین (136): 52–5، ISSN 0312-2654 
  4. "فلم فیئر ایوارڈز اپنی چمک کھورہے ہیں"۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 مارچ 2011۔ فلم فیئر ہندوستان میں آسکر کے مساوی ہیں 
  5. "'I behaved like Gregory Peck to impress Suraiya' – The Times of India"۔ Timesofindia.indiatimes.com۔ 2003-06-14۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2012 
  6. "Filmfare Awards Facts"۔ Liveindia.com۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2012 
  7. "50 years of filmfare awards"۔ Hamara Forums۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2012 
  8. "FILM AWARDS GENERATE CONTROVERSY - Bollywood Article"۔ Smashits.com۔ 2002-01-10۔ 01 فروری 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اگست 2014 
  9. "Brief history of Bollywood | The Jillbrary"۔ Jillbrary.wordpress.com۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اگست 2014 
  10. Pinto, Jerry (April 1997)۔ "Tangy titbits from the Filmfare past"۔ Filmfare۔ 05 جولا‎ئی 1998 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2012  "آرکائیو کاپی"۔ 05 جولا‎ئی 1998 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اکتوبر 2016 
  11. "A golden glow for Filmfare"۔ The Hindu۔ PTI۔ 2005-01-28۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جنوری 2011 
  12. "The Award Gallery – Trophy Partners"۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اکتوبر 2016 
  13. "Filmfare Award 2014: Priyanka Chopra Unveils Special 3D Trophy [PHOTOS]"۔ Ibtimes.co.in۔ 2014-01-07۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اگست 2014 
  14. "Filmfare Awards to be held on January 24 - The Times of India"۔ Timesofindia.indiatimes.com۔ 2014-01-07۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اگست 2014 
  15. "Call of The Black Lady: Filmfare Awards"۔ Mensxp.com۔ 2013-07-23۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اگست 2014 
  16. Kritika Ajmani (2014-01-25)۔ "59th Idea Filmfare Awards 2013: Amitabh Bachchan, Salman Khan, Priyanka Chopra sizzle on the red carpet. View pics! – Bollywood News & Gossip, Movie Reviews, Trailers & Videos at"۔ Bollywoodlife.com۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اگست 2014 
  17. "Filmfare Awards: Red Carpet dazzles with Bollywood's beautiful"۔ Emirates 24/7۔ 2014-01-25۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اگست 2014 
  18. "Tonight at 7.30pm: we live blog (well, not really) about the Filmfare Awards | The National"۔ Blogs.thenational.ae۔ 2014-01-26۔ 29 جنوری 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اگست 2014 
  19. شوبز کی دنیا کے بین الاقومی ایورڈز۔ روزنامہ دنیا
  20. ^ ا ب پ بھارتی فلمی صنعت کا سب سے مقبول ’فلم فیئر ایوارڈ‘۔ بی بی سی اردو

بیرونی روابط

ترمیم