مقداد بن اسود الکندی (عربی: المقداد بن الأسود الكندي) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب میں سے تھے۔ ان کا شجرہ یوں ہے: مقداد بن عمرو بن ثعلبہ بن مالک بن ربیعہ بن عامر۔ ان کا تعلق قبیلہ کندہ سے تھا جو نواحِ یمن میں حضرموت میں رہتے تھے۔ مقداد اپنے قبیلہ سے نکل کر مکہ میں رہائش پزیر ہو گئے تھے جہاں اسود نامی شخص کے ساتھ منسلک رہے یا انہیں اسود نامی شخص نے پالا چنانچہ انہیں ابن الاسود کہا جانے لگا۔ مقداد نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مکہ و مدینہ میں گزارا۔

مقداد بن اسود
(عربی میں: المقداد بن الأسود ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Bagicemetry.JPG
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 589  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
یمن  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 653 (63–64 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ ضباعہ بنت زبیر  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سائنس دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غازی،  اسلامی فتح شام،  اسلامی فتح مصر  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حلیہترميم

ان کا رنگ گندمی اور قد لمبا تھا۔ پیٹ قدرے بڑھا ہوا تھا، سر کے بال کثیر اور بھویں آپس میں ملی ہوئی تھیں۔[1]

قبولِ اسلامترميم

انہوں نے چوبیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور اولین مسلمانوں میں سے تھے۔ آپ ہجرتِ حبشہ کے دوسرے گروہ میں شامل تھے اور بعد میں مکہ سے مدینہ بھی ہجرت فرمائی، اسی لیے انہیں وھاجر الھجرتین بھی کہا جاتا ہے۔ مدینہ میں عقدِ مواخات کے دوران انہیں بعض روایات کے مطابق عبد اللہ بن رواحہ اور بعض کے مطابق جبار بن صخر کا بھائی بنایا گیا۔

مقداد  کی شادی زبیر بن عبد المطلب کی بیٹی اور  عبد اللہ بن زبیر  کی بہن ضباعہ سے ہوئی جو خود بھی اولین مسلمات سے تھیں۔

غزوات و جنگوں میں شرکتترميم

آپ غزوہ بدر سمیت تمام اہم غزوات میں شریک تھے۔ غزوہ بدر میں آپ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر آپ ہمیں آگ میں کودنے یا کانٹوں پر پا برہنہ چلنے کا حکم دیں تو ہم آپ کا حکم دل و جان سے قبول کریں گے اور یہود کی طرح ہرگز آپ سے نہ کہیں گے کہ آپ اپنے خدا کے ساتھ جنگ کریں اور ہم یہاں بیٹھتے ہیں بلکہ آپ کے ہم رکاب جنگ کریں گے۔ یہ سن کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خوش ہوئے اور مقداد کو دعا دی کہ خدا تمہیں جزائے خیر عطا کرے۔ غزوہ احد میں آپ ان لوگوں میں شامل تھے جو میدانِ احد سے فرار نہیں ہوئے۔ 25ھ میں آپ فتحِ مصر میں بھی شریک تھے۔

وفاتترميم

بعض روایات کے مطابق آپ ان لوگوں میں شامل تھے جو علی علیہ السلام کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین سمجھتے تھے لہٰذا آپ مدینہ چھوڑ گئے تھے اور حرف نامی جگہ پر آپ کی وفات 33ھ میں ہوئی۔

حوالہ جاتترميم

  1. اسد الغابہ، ج 3، ص 246