خلافت عباسیہ کے عروج کے زمانے 247ھ تک اندلس اور مراکش کے چھوٹے ملکوں کو چھوڑ کر باقی ساری اسلامی دنیا موجودہ پاکستان اور فرغانہ لے کر قیروان تک عباسی خلافت کے تحت تھی لیکن عباسی خلافت کے زوال کے بعد اس اتحاد اور وحدت کا خاتمہ ہو گیا اور کئی خود مختار حکومتیں قائم ہوگئیں۔ ان حکومتوں میں تین بڑی اور قابل ذکر حکومتوں میں بنی بویہ کی حکومت بھی شامل تھی۔

آل بویہ
آل بویِه
Āl-e Buye
934–1062[1]
359ھ/ 970ء میں آل بویہ کی سلطنت کی حدود کا نقشہ
359ھ/ 970ء میں آل بویہ کی سلطنت کی حدود کا نقشہ
دارالحکومتشیراز
(بویہ فارس, 934–1062)
ری
(بویہ جبال, 943–1029)
بغداد
(بویہ عراق, 945–1055)
عمومی زبانیںفارسی (مادری زبان)[2]
عربی
مذہب
اہل تشیع[3]
(اس کے علاوہ اہل سنت, مسیحی, زرتشتیت, یہودیت)
حکومتموروثی بادشاہت
امیر/شہنشاہ 
• 934-949
عماد الدولہ
• 1048-1062
ابو منصور فولاد ستون
تاریخی دورقرون وسطی
• 
934
• عضد الدولہ "شہنشاہ" کا اعلان
978
• 
1062[1]
ماقبل
مابعد
دولت سامانیہ
زیاری خاندان
بنو الیاس
سلطنت غزنویہ
سلجوقی سلطنت
آل کاکویہ
عقیلی خاندان
مروانی
موجودہ حصہ
آل بویہ کی حکومت

حکومت کا قیامترميم

اس خاندان کا مورث اعلیٰ ابو شجاع بویہ تھا چونکہ اس خاندان کا تعلق ماژندران کے علاقے دیلم سے تھا اس لئے بنی بویہ کو دیالمہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایرانی خاندان تھا۔ اس حکومت کے بانی تین بھائی علی، حسن اور احمد تھے جنہوں نے بالترتیب عماد الدولہ، رکن الدولہ اور معز الدولہ کے لقب اختیار کیے اور ایران اور عراق میں علاحدہ علاحدہ حکومتیں قائم کیں۔ عماد الدولہ ان کا مرکزی سربراہ تھا۔ اس کے بعد یہی حیثیت رکن الدولہ کو حاصل ہوئی اور اس کے بعد عضد الدولہ اور اس کی اولاد کو۔ بغداد پر اسی خاندان کے حکمران معز الدولہ نے 334ھ میں قبضہ کیا تھا۔ عراق کا پورا ملک اور خراسان چھوڑ کر باقی ایران بنی بویہ کے قبضے میں تھا۔ بغداد، اصفہان اور شیراز بویہی سلطنت کے بڑے شہر تھی۔ دولت سامانیہ کے زوال کے بعد رے پر بھی ان کا قبضہ ہو گیا

مشہور حکمرانترميم

بنی بویہ کا سب سے مشہور عضد الدولہ 366ھ تا 372ھ ہے۔ اس کے بعد بنی بویہ کی حکومت میں انتشار پیدا ہو گیا۔ عراق، رے اور فارس میں بویہی شہزادوں نے علاحدہ علاحدہ حکومتیں قائم کر لیں ان میں رے کی حکومت اس لحاظ سے مشہور تھی اس کے اس حکمران فخر الدولہ کو ایک بڑا قابل وزیر صاحب ابن عباد مل گیا تھا۔ صاحب نے 373ھ تا 385ھ تک 12 سال وزارت کی اور ایسی شہرت حاصل کی جیسی خلافت عباسیہ کے زمانے میں برامکہ نے حاصل کی تھی۔

خاتمہترميم

رے کی حکومت کی 420ھ میں غزنی کے حکمران محمود غزنوی نے خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد 447ھ میں سلجوقیوں نے بغداد پر قبضہ کرکے بنی بویہ کی سلطنت کا ہر جگہ سے خاتمہ کر دیا۔ بنی بویہ عقیدے کے لحاظ سے شیعہ تھے اور محرم کے مہینے میں تعزیہ نکالنے اور عاشورہ کی رسوم ادا کرنے کا آغاز انہی کے حکمران معز الدولہ کے زمانے سے ہوا۔

علم و ادب کی سرپرستیترميم

بنی بویہ کے کئی حکمران اور وزیر علم وادب کے بڑے سرپرست تھے۔ عضد الدولہ اور صاحب ابن عباد خاص طور پر اس لحاظ سے مشہور تھے۔ عربی زبان کا سب سے بڑا شاعر متنبی 910ھ تا 965ھ اسی زمانے میں ہوا ہے ۔

مشہور طبیب اور فلسفی بو علی سینا 370ھ تا 428ھ اسی زمانے میں ہوا ہے ۔ رازی کے بعد ابن سینا سب سے بڑا مسلمان طبیب تھا۔ طب میں اس نے جو کتاب لکھی اس کا نام ”القانون“ ہے اور فلسفے کے موضوع پر جو سب سے بڑی کتاب لکھی اس کا نام ”الشفاء“ہے۔ یہ دونوں کتابیں کئی جلدوں میں ہیں اور عربی زبان میں ہیں۔ بعد میں ان کتابوں کا لاطینی اور یورپ کی دوسری زبانوں میں ترجمہ ہوا اور فرانس، جرمنی اور اٹلی کے مدرسوں میں کئی سال تک پڑھائی جاتی رہی ں۔

اسی زمانے کے سائنس دانوں میں ابن الہیثم 348ھ تا 430 ھ بمطابق965ءتا 1039ءکا نام بھی قابل ذکر ہے۔ وہ بصرہ کا رہنے والا تھا اور ابن سینا کا ہم عصر تھا۔ اس نے علم طبیعیات اور سائنس سے متعلق کئی کتابیں لکھیں۔ یورپ کے محققین کا کہناہے کہ کیمرا جس نظریے کی بنیاد پر بنایا گیا وہ نظریہ سب سے پہلے ابن الہیثم نے ہی پیش کیا۔ اس کی کتاب ”کتاب المناظر“ جس میں اس نے یہ نظریہ پیش کیا تھا بارہویں صدی میں عربی سے لاطینی زبان میں ترجمہ کی گئی اور یورپ کے سائنس دانوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ اس کے ان کمالات کی وجہ سے پاکستان میں نومبر 1969ء میں ابن الہیثم کا جشن ہزار سالہ منایا گیا۔ فلسفہ کی مشہور کتاب ”رسائل اخوان الصفا“ بھی اسی زمانے میں لکھی گئی۔

بنی بویہ کے ان کارناموں کے باوجود ان کا دور حکومت مسلمانوں میں عقائد کی کمزوری اور اخلاقی خرابی کا باعث ہوا۔ مذہبی تعصب اور فرقہ بندی نے چوتھی صدی ہجری میں مسلمانوں میں مضبوطی سے جڑیں پکڑلی تھیں اور عباسی دور کے برخلاف مختلف عقائد رکھنے والے علماءدست و گریباں نظر آتے تھے۔ بغداد فرقہ وارانہ فساد کا گڑھ بن گیا۔

امرائے بنی بویہترميم

فارس میں بویہترميم

رے میں بویہترميم

عراق میں بویہترميم

حوالہ جاتترميم

  1. C.E. Bosworth, The New Islamic Dynasties, (Columbia University Press, 1996), 154.
  2. "Persian Prose Literature." World Eras. 2002. HighBeam Research. (September 3, 2012);"Princes, although they were often tutored in Arabic and religious subjects, frequently did not feel as comfortable with the Arabic language and preferred literature in Persian, which was either their mother tongue—as in the case of dynasties such as the Saffarids (861–1003), Samanids (873–1005), and Buyids (945–1055)...". [1]
  3. Abbasids, B.Lewis, The Encyclopaedia of Islam, Vol. I, Ed. H.A.R.Gibb, J.H.Kramers, E. Levi-Provencal and J. Schacht, (Brill, 1986), 19.