مرکزی مینیو کھولیں
  
ارتریا
(عربی میں: دولة إرتريا)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ نام (P1448) ویکی ڈیٹا پر
ارتریا
پرچم
ارتریا
نشان

Eritrea on the globe (Africa centered).svg 

ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات 15°29′00″N 38°15′00″E / 15.483333°N 38.25°E / 15.483333; 38.25  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[2]
پست مقام لیک کلول (-75 میٹر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پست ترین مقام (P1589) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 117600 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت اسمارا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان تیگرینیا زبان[3]،  عربی[3]،  انگریزی[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 6333135 (2013)[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
54.693 سال (1999)[5]
55.258 سال (2000)[5]
55.847 سال (2001)[5]
56.483 سال (2002)[5]
57.174 سال (2003)[5]
57.916 سال (2004)[5]
58.691 سال (2005)[5]
59.472 سال (2006)[5]
60.23 سال (2007)[5]
60.94 سال (2008)[5]
61.591 سال (2009)[5]
62.181 سال (2010)[5]
62.718 سال (2011)[5]
63.22 سال (2012)[5]
63.703 سال (2013)[5]
64.174 سال (2014)[5]
64.636 سال (2015)[5]
65.092 سال (2016)[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 1993  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شادی کی کم از کم عمر (P3000) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
مشترکہ سرحدیں
سوڈان (Eritrea–Sudan border)
جبوتی (Djibouti–Eritrea border)
ایتھوپیا (Eritrea–Ethiopia border)
عرب لیگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مشترکہ سرحدیں (P47) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
2607739837.39837 امریکی ڈالر (2011)[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
 ← فی کس 758.704 بین الاقوامی ڈالر (1992)[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں PPP GDP per capita (P2299) ویکی ڈیٹا پر
جی ڈی پی تخمینہ
 ← فی کس 152 امریکی ڈالر (1992)[13]
150 امریکی ڈالر (1993)[13]
172 امریکی ڈالر (1994)[13]
187 امریکی ڈالر (1995)[13]
222 امریکی ڈالر (1996)[13]
217 امریکی ڈالر (1997)[13]
231 امریکی ڈالر (1998)[13]
208 امریکی ڈالر (1999)[13]
208 امریکی ڈالر (2000)[13]
215 امریکی ڈالر (2001)[13]
201 امریکی ڈالر (2002)[13]
232 امریکی ڈالر (2003)[13]
287 امریکی ڈالر (2004)[13]
276 امریکی ڈالر (2005)[13]
297 امریکی ڈالر (2006)[13]
317 امریکی ڈالر (2007)[13]
326 امریکی ڈالر (2008)[13]
430 امریکی ڈالر (2009)[13]
482 امریکی ڈالر (2010)[13]
582 امریکی ڈالر (2011)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں nominal GDP per capita (P2132) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 40490517 امریکی ڈالر (1995)[14]
81319532 امریکی ڈالر (1996)[14]
229576077 امریکی ڈالر (1997)[14]
68154685 امریکی ڈالر (1998)[14]
58866380 امریکی ڈالر (1999)[14]
36131624 امریکی ڈالر (2000)[14]
50449873 امریکی ڈالر (2001)[14]
30282531 امریکی ڈالر (2002)[14]
24707771 امریکی ڈالر (2003)[14]
34746846 امریکی ڈالر (2004)[14]
27944199 امریکی ڈالر (2005)[14]
25354624 امریکی ڈالر (2006)[14]
34284787 امریکی ڈالر (2007)[14]
57898130 امریکی ڈالر (2008)[14]
90010610 امریکی ڈالر (2009)[14]
114149585 امریکی ڈالر (2010)[14]
114795759 امریکی ڈالر (2011)[14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.440 (2017)[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
شرح بے روزگاری 7 فیصد (2014)[16]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں unemployment rate (P1198) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+03:00  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت دائیں[17]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم er.  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 ER  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +291  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر

ارتریا (Eritrea) (تلفظ: /ˌɛrɨˈtr.ə/ یا /ˌɛrɨˈtrə/;[18]ٹگرینیا: ኤርትራ? ʾErtrā ; عربی: إرتريا ) براعظم افریقا کا ایک ملک ہے۔ اس کا دارلحکومت اسمارا ہے۔ اس کے مغرب میں سوڈان، جنوب میں ایتھوپیا اور جنوب مشرق میں جبوتی واقع ہیں۔ شمال مشرقی اور مشرقی طرف بحرِ احمر کے ساحل ہیں جس کی دوسری طرف سعودی عرب اور یمن ہیں۔ ارتریا کا کل رقبہ 1٫17٫600 مربع کلومیٹر ہے اور کل آبادی کا تخمینہ 50 لاکھ ہے۔

فہرست

تعریف اور تاریخترميم

شمالی صومالیہ، جبوتی اور بحیرہ احمر کے سوڈان والے کنارے کے ساتھ ارتریا پرانے دور کی پُنت سرزمین کا حصہ تھا۔ اس سرزمین کا تذکرہ ہمیں 25صدی ق م میں ملتا ہے۔ قدیم پُنت قوم کے مصر کے فرعونوں کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔

دمت نامی سلطنت ارتریا اور شمالی ایتھوپیا میں 8ویں اور 7ویں صدی ق م میں آباد تھی۔ اس کا دار الحکومت یِحا تھا۔ اس سلطنت نے آبپاشی کے لیے منصوبے بنائے، ہل کا استعمال، باجرے کی کاشتکاری اور لوہے کے اوزار اور ہتھیار بنانے شروع کیے۔ 5ویں صدی میں دمت قوم کے زوال کے بعد اس علاقے میں کئی چھوٹی اقوام آباد رہیں۔

ارتریا کی تاریخ اس کی بحیرہ احمر کی ہمسائیگی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے ساحل کی لمبائی 1,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ کئی سائنس دانوں کے خیال میں اسی علاقے سے ہی موجودہ انسان افریقہ کے براعظم سے نکل کر دنیا کے دیگر حصوں کو پھیلے تھے۔ سمندر پار سے آنے والے قابضوں اور نو آبادیاتی اقوام جیسا کہ یمن کے علاقے سے، عثمانی ترک، گوا سے پرتگالی، مصری، انگریز اور 19ویں صدی میں اطالوی وغیرہ یہاں آتے رہے۔ صدیوں تک یہ حملہ آور ہمسائیہ ممالک سے بھی آتے رہے تھے جو مشرقی افریقہ میں ہیں۔ تاہم موجودہ ارتریا 19ویں صدی کے اطالوی حملہ آوروں سے ثقافتی طور پر زیادہ متائثر ہے۔

1869 میں نہر سوئیز کے کلھنے کے بعد جب یورپی اقوام نے افریقی سرزمین پر قبضے کر کے وہاں اڈے بنانے شروع کیے تو ارتریا پر اٹلی نے حملہ کر کے قبضہ کیا۔ یکم جنوری 1890 کو ارتریا باقاعدہ طور پر اٹلی کی نوآبادی بن گیا۔ 1941 میں یہاں کی کل آبادی 7,60,000 تھی جن میں اطالوی باشندے 70,000 تھے۔ اتحادی افواج نے 1941 میں اطالویوں کو نکال باہر کر دیا اور خود یہاں قبضہ جما لیا۔ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت 1951 تک برطانیہ یہاں کا نظم و نسق سنبھالتا رہا۔ اس کے بعد ارتریا ایتھوپا سے مل گیا۔

بحیرہ احمر کے ساحل اور معدنیات کی وجہ سے ارتریا بہت اہم ہے۔ اسی وجہ سے اسے ایتھوپیا سے ملا دیا گیا تھا۔ 1952 میں ارتریا کو ایتھوپیا کا 14واں صوبہ بنا دیا گیا۔ ایتھوپیا نے اپنا قبضہ جمائے رکھنے کے لیے اپنی زبان کو زبردستی ارتریا کے سکولوں میں لاگو کر دیا۔ اس وجہ سے ارتریا میں 1960 کی دہائی میں آزادی کی تحریک چلی۔ اس تحریک کی وجہ سے 30 سال تک ارتریا اور ایتھوپیا کی حکومتوں کے درمیان مسلح لڑائی جاری رہی۔ یہ جنگ 1991 میں ختم ہوئی۔ اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی ہونے والے ریفرنڈم میں ارتریا کے لوگوں نے واضح اکثریت سے آزادی کا فیصلہ کیا اور ارتریا نے آزادی کا اعلان کر دیا۔ 1993 میں اسے بین الاقوامی طور پر تسلیم کر لیا گیا۔

تگرینا اور عربی کو بڑی زبانیں مانا جاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے بین الاقوامی معاملات میں انگریزی زبان استعمال ہوتی ہے اور 5ویں سے آگے ہر جماعت میں اسے تدریسی زبان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ارتریا میں ایک ہی سیاسی جماعت ہے۔ 1997 کے آئین کے مطابق صدارتی جمہوریہ ہے اور یک ایوانی پارلیمانی جمہوریہ کا درجہ ملا ہوا ہے تاہم ابھی اس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ 1998 میں ایتھوپیا کے ساتھ سرحدی تنازعے پر دونوں ملکوں کے مابین جنگ ہوئی جس میں 1,35,000 ایتھوپیائی جبکہ 19,000 ارتریائی فوجی ہلاک ہوئے۔

سیاست اور حکومتترميم

ارتریا کا نظام پیپلز فرنٹ فار ڈیمو کریسی اینڈ جسٹس نامی پارٹی چلاتی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونے کی اجازت نہیں حالانکہ آئین ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کو اجازت دیتا ہے۔ قومی اسمبلی میں کل 150 نشستیں ہیں جن میں سے 75 پر متذکرہ بالا جماعت کے اراکین ہیں۔ قومی انتخابات کا اعلان اور ان کی منسوخی مسلسل ہوتی رہی ہے اور ملک میں ابھی تک عام انتخابات نہیں ہو سکے۔ ملک میں قومی سیاست کے بارے آزاد ذرائع موجود نہیں۔ ستمبر 2001 میں حکومت نے تمام نجی پرنٹ میڈیا پر پابندی عائد کر دی اور حکومت پر تنقید کرنے والے افراد کو گرفتار کر کے بغیر مقدمے کے قید رکھا جا رہا ہے۔ 2004 میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی وجہ سے ارتریا کو خصوصی فہرست میں شامل کیا ہے۔

میڈیاترميم

2009 میں پریس کی آزادی کی فہرست میں ارتریا کو 175 ممالک میں آخری درجہ دیا گیا ہے۔ شمالی کوریا اس فہرست میں ارتریا سے ایک درجہ بہتر ہے۔ بی بی سی کے مطابق ارتریا واحد افریقی ملک ہے جہاں نجی اخباری میڈیا موجود نہیں۔

قومی انتخاباتترميم

2001 میں ارتریا میں انتخابات ہونے تھے لیکن کہا گیا کہ چونکہ ارتریا کا 20 فیصد رقبہ ایتھوپیا کے قبضے میں ہے جس کی آزادی تک انتخابات معطل رہیں گے۔

علاقے اور اضلاعترميم

ارتریا کو چھ علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو آگے مزید اضلاع میں منقسم ہیں۔ آبی خصوصیات کی بنا پر علاقوں کو تقسیم کیا گیا ہے۔ اس طرح ہر ضلع کو اپنی زراعت پر پورا قابو رہتا ہے۔

خارجہ تعلقاتترميم

ارتریا افریقن یونین کا حصہ ہے۔ تاہم ایتھوپیا اور ارتریا کے جھگڑوں میں یونین کے غیر عملی کردار کی وجہ سے ارتریا نے اپنا نمائندہ واپس بلا لیا ہے۔

مغرب سے تعلقاتترميم

ریاستہائے متحدہ امریکا کے ساتھ ارتریا کے تعلقات کافی پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔ اگرچہ دونوں ملکوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون جاری ہے تاہم دیگر معاملات میں خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ اکتوبر 2008 سے تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے جب اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ جندیائی فریزر نے ارتریا کو "دہشت گردی کی حامی قوم" قرار دیا اور کہا کہ عین ممکن ہے کہ امریکا ایران اور سوڈان کے ساتھ ساتھ ارتریا کو بھی بدمعاش ریاست قرار دے دے۔ اس واقعے کی وجہ ایک صومالی اسلامی انتہا پسند رہنما کا ارتریا میں پناہ لینا ہے۔

ارتریا کے تعلقات اٹلی اور یورپی یونین کے ساتھ امریکا کی نسبت زیادہ بہتر ہیں۔

2 اگست 2009 کو امریکی [[وزیر خارجہ|وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے الزام عائد کیا کہ ارتریا صومالی مسلح گروہ الشباب کو ہتھیار مہیا کر رہا ہے۔ اگلے ہی دن ارتریا نے اس الزام کی تردید جاری کر دی لیکن اقوام متحدہ اور افریقن یونین نے مل کر ارتریا پر مختلف پابندیاں لگا دیں۔

ہمسائیہ ملکوں سے تعلقاتترميم

حالیہ جنگوں اور اختلافات کی وجہ سے ارتریا کے تعلقات ہمسائیہ ممالک سے کشیدہ ہیں۔ 1994 میں سوڈان سے سفارتی تعلقات ختم کرنا، یمن کے ساتھ جنگ اور ایتھوپیا کے ساتھ 1997-2000 تک سرحدی تنازع اہم ہیں۔ ارتریا اور ایتھوپیا کے بارڈر کمیشن نے اگرچہ سرحد کا تعین کر دیا ہے تاہم ایتھوپیا اسے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

ارتریا کے تعلقات سوڈان سے بہتر ہو چکے ہیں۔

یمن کے ساتھ کچھ جزائر کے تنازعے پر دونوں ممالک کے درمیان مختصر جنگ ہو چکی ہے تاہم دونوں ملکوں نے عالمی ثالثی عدالت کی مدد سے اپنے تنازعے کو حل کر لیا ہے۔

ایتھوپیا سے تعلقاتترميم

ایتھوپیا کی طرف سے سرحدوں کو نہ ماننا اس وقت ارتریا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

جغرافیہترميم

ارتریا افریقہ کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے اور اس کے شمال مشرق اور مشرق کی جانب بحیرہ احمر موجود ہیں۔ جنوب میں ایتھوپیا اور شمال مغرب میں سوڈان ہے۔

ارتریا کے عین وسط سے دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں میں سے ایک گذرتا ہے اور ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرتا جاتا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ عظیم وادئ شق سے پیدا ہوا تھا۔ ساری زرخیز زمینیں مغربی حصے میں اور صحرا مشرقی حصے میں واقع ہیں۔

ملک کا بلند ترین مقام ایمبا سوئرا ہے جو سطح سمندر سے 3٫018 میٹر بلند ہے۔

بڑے شہروں میں دار الحکومت اسمارا، بندرگاہ والا شہر اسیب، مساوا اور کیرین اہم ہیں۔

ماحولترميم

سرکاری طور پر ارتریا میں ہاتھیوں کی بہت بڑی تعداد کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ 1955 سے 2001 تک ہاتھیوں کے غول دکھائی نہیں دیتے تھے کیونکہ سارے ہاتھی جنگِ آزادی کا شکار ہو گئے تھے۔ دسمبر 2001 میں دس نو عمر ہاتھیوں پر مشتمل کل 30 ہاتھیوں کا ایک غول غش دریا کے پاس دیکھا گیا تھا۔ اندازہ ہے کہ پورے ملک میں تقریباً 100 ہاتھی باقی بچے ہیں۔ جنگلی کتے بھی اب ماضی کا قصہ بن گئے ہیں۔

2006 میں ارتریا نے اعلان کیا کہ وہ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے اپنے سارے ساحل کو ماحولیاتی حوالے سے محفوظ علاقہ قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر 350 جزائر کے ساحل بھی اسی فہرست میں حکومتی حفاظت میں آ گئے ہیں۔

معیشتترميم

دیگر افریقی اقوام کی طرح ارتریا کی معیشت کا بھی زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے اور آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ ہے۔ قحط سالی سے بہت مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ 2009 میں کل ملکی پیداوار 1.87 ارب ڈالر تھی۔

ارتریا اور ایتھوپیا کی جنگ سے معیشت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ مئی 2000 میں ایتھوپیا کے حملوں کی وجہ سے 60 کروڑ ڈالر کا مالی نقصان ہوا ہے۔ اسی حملہ کی وجہ سے ملک کے زرخیز ترین حصے میں کاشتکاری نہیں ہو پائی۔

جنگ کے دوران بھی ارتریا نے اپنے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے پر توجہ دی ہے اور نئی سڑکیں بنیں جبکہ پرانی سڑکوں کی مرمت جبکہ بندرگاہوں کو بہتر بنایا گیا۔

معاشرہترميم

آبادیترميم

ارتریا کا معاشرہ نسلی اعتبار سے ملا جلا ہے۔ ابھی تک آزادنہ مردم شماری نہیں ہوئی تاہم مقامی دو قبائل مل کر کل آبادی کا 80 فیصد حصہ بناتے ہیں۔

بقیہ آبادی افریقی ایشیائی اور اطالوی النسل ہے۔

آبادی میں سب سے جدید اضافہ بنی رشید قبائل ہیں جو سعودی عرب سے آئے ہیں۔

زبانیںترميم

ارتریا میں بہت ساری زبانیں بولی جاتی ہیں۔ سرکاری زبان کا درجہ کسی کو حاصل نہیں بلکہ آئین کے مطابق ارتریا کی تمام زبانوں کو برابر کا درجہ دیا گیا ہے۔ تاہم عربی اور تگرینا زبان کو سرکاری کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انگریزی اور اطالوی بھی عام سمجھی جاتی ہے۔

تعلیمترميم

ارتریا میں سکول کے پانچ درجے ہوتے ہیں جو پری پرائمری، پرائمری، مڈل، سیکنڈری اور پوسٹ سیکنڈری ہیں۔ ان سکولوں میں تقریباً 2٫38٫000 طلبہ و طالبات داخل ہیں۔ ملک میں کل 824 سکول ہیں۔ ارتریا میں کل دو یونیورسٹیاں اور کئی دیگر چھوٹے کالج اور ٹیکنیکل سکول ہیں۔

ارتریا کے نظام تعلیم کا اہم ترین مقصد ملک کی ہر زبان میں بنیادی تعلیم مہیا کرنا ہے۔

تاہم تعلیم کے سلسلے میں مقامی رسوم و رواج، سکول کی فیس وغیرہ اہم رکاوٹیں ہیں۔

مذہبترميم

ارتریا میں دو اہم مذاہب ہیں جو عیسیائیت اور اسلام ہیں۔ دونوں مذاہب کو پچاس پچاس فیصد آبادی مانتی ہے۔ اکثر مسلمان سنی العقیدہ ہیں جبکہ رومن کیتھولک مسیحی مذہب کے پیروکاروں کا اہم عقیدہ ہے۔

صحتترميم

ارتریا کی حکومت نے لڑکیوں کے ختنے پر پابندی لگا دی ہے اور کہا ہے کہ یہ تکلیف دہ عمل ہے اور اس سے بہت سارے خطرناک مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اولاد پیدا کرنے کی شرح فی خاتون 5 بچے ہے۔ شیر خوار بچے انفیکشن سے سب سے زیادہ ہلاک ہوتے ہیں۔ ملیریا اور تپ دق عام ہیں۔ ایڈز کی شرح 15 سے 49 سال کی عمر کے افراد میں 2 فیصد ہے۔ گذشتہ دہائی سے پیدائش کے وقت زچہ کی شرح اموات بہت گھٹی ہے۔

ثقافتترميم

ارتریا کا علاقہ تاریخی اعتبار سے دنیا میں تجارت کا مرکز ہے۔ اس وجہ سے بے شمار ثقافتیں ملک بھر میں دکھائی دیتی ہیں۔ دار الحکومت اسمارا پر سب سے گہرا اثر اٹلی کا پڑا ہے۔

شہروں میں ماضی قریب میں بالی وڈ کی فلموں کی برآمد عام بات تھی۔ سینماؤں میں امریکی اور اطالوی فلمیں عام دکھائی جاتی تھیں۔ 1980 کی دہائی اور پھر آزادی کے بعد امریکی فلمیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ لباس کسی خاص انداز تک محدود نہیں اور خواتین عموماً شوخ اور بھڑکیلے رنگ پہنتی ہیں۔ مسلم قبائل میں عربی یعنی بنو رشید ہی برقعے کی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

فٹ بال اور سائیکل ریس مقبول کھیل ہیں۔ حالیہ برسوں میں ارتریا کے کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر زیادہ کامیاب ہونے لگے ہیں۔

فہرست متعلقہ مضامین ارتریاترميم

حوالہ جاتترميم

  1. https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Emblem_of_Eritrea_(or_argent_azur).svg
  2.     "صفحہ ارتریا في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 جولا‎ئی 2019۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  3. ^ ا ب پ http://www.eritrean-embassy.se/about-eritrea/people-and-languages/
  4. ناشر: عالمی بنک
  5. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  6. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  7. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  8. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  9. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  10. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  11. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=ER — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اکتوبر 2018 — ناشر: عالمی بنک
  12. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.PP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 11 جون 2019 — ناشر: عالمی بنک
  13. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 27 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  14. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  15. http://hdr.undp.org/en/data — ناشر: United Nations Development Programme
  16. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  17. http://chartsbin.com/view/edr
  18. "Merriam-Webster Online"۔ Merriam-webster.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 مئی 2010۔

بیرونی روابطترميم

حکومت