اسرائیل کی بین الاقوامی تسلیم شدگی

1948ء میں اسرائیل کی تشکیل کے بعد ریاستہائے متحدہ، برطانیہ، روس، فرانس اور چین نے اس ملک کو تسلیم کر لیا۔ موجودہ دور میں بیش تر ممالک، جن میں البانیہ جیسے مسلمان اکثریتی ممالک بھی ہیں، وہ اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔ بھارت نے اسرائیل سے مکمل سفارتی تعلق 1992ء میں قائم کیا جبکہ سعودی عرب نے 2018 میں سفر کی اجازت دے دی ہے اور اب متحدہ عرب امارات نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے جس پر فلسطینیوں نے احتجاج کیا اور کہا یہ ہماری پھیٹ پر چھرا گھونپنے کے مترادف ہے جبکہ ترکی متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے جس کا عندیہ ترک صدر رجب طیب اردوغان نے ایک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دیا جبکہ سعودی حکمرانوں نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔[1][2][3][4]

وہ ممالک جنہوں نے اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کیا یا سفارتی تعلقات قائم نہیں کیےترميم

ایسے ممالک کی کل تعداد 21 ہے اور وہ اس طرح ہے:

ماضی میں اسرائیل کے ساتھ روابط رکھنے والے ممالکترميم

ایسے ممالک کی تعداد 15 ہے۔ سفارتی تعلقات ترک کرنے کی وجہ قوسین میں مذکور ہے:

حوالہ جاتترميم

  1. "متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے امن معاہدے پر ردعمل: 'ڈیئر عربز! ہم غریب ضرور ہیں لیکن بے شرم نہیں'". bbc.com. 
  2. "متحدہ عرب امارات اور اسرائیل معاہدہ: 'تاریخ متحدہ عرب امارات کے منافقانہ طرز عمل کو کبھی فراموش نہیں کر پائے گی'". bbc.com. 
  3. "اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی ڈیل پر عمان کے بعد بحرین کا موقف بھی آگیا، مبارکباد دیدی". 
  4. "اسرائیل سے عرب امارات کے سفارتی تعلقات پر ایران اور ترکی شدید برہم". inquilab.com. 
  5. ^ ا ب These 36 Countries Don’t Recognize Israel – Brilliant Maps