مرکزی مینیو کھولیں
الواقدی
معلومات شخصیت
پیدائش 10 ستمبر 747[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 اپریل 823 (76 سال)[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
قابل ذکر شاگرد ابن سعد البغدادی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مؤرخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

الواقدی (پیدائش: 10 ستمبر 747ء— وفات: 27 اپریل 823ء) دوسری صدی ہجری کے مؤرخ ہیں۔

فہرست

نام و نسبترميم

الواقدی کا مکمل نام ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن واقدی الاسلمی ہے، جبکہ عموماً الواقدِی کے نام سے معروف و مشہور ہیں۔ خطیب بغدادی نے مکمل نام یوں لکھا ہے : ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن واقد الواقدی المَدینی۔[6] امام الذھبی نے بھی یہی نام لکھا ہے۔[7]

ولادتترميم

الواقدی کی ولادت یکم محرم 130ھ مطابق 10 ستمبر 747ء کو ہوئی۔اُس وقت بنو امیہ کے آخری خلیفہ مروان ثانی کا دورِ حکومت تھا۔ صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی نے الوافی بالوفیات میں سال ولادت 129ھ بیان کیا ہے۔[8] خطیب بغدادی نے سنہ ولادت 130ھ بیان کیا ہے۔[6]

ابتدائی حالات اور عباسی دربار تک رسائیترميم

الواقدی مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور اِن کی نسبت " الواقدِی" اپنے دادا " الواقد الاسلمی" کے نام سے ہے جو مدینہ منورہ میں بنو اسلم کے ایک گندم فروش عبد اللہ بن بریدہ کے غلام تھے۔[9] ابن سعد کے کہا ہے کہ الواقدی بنو اسلم کی ایک شاخ بنو سہم کے مولیٰ تھے۔[10]

سنہ 170 ہجری مطابق 786ء میں جب عباسی خلیفہ ہارون الرشید حج کے لیے بغداد سے حجاز آئے تو الواقدی کا تعارف اُن سے ایک مستعد عالم کی حیثیت سے کروایا گیا۔ چنانچہ جب خلیفہ ہارون الرشید اور اُن کے وزیر یحییٰ برمکی نے مقامات مقدسہ کی زیارت کی تو الواقدی نے اُن کے معلم یعنی رہنما کے فرائض سر انجام دیے (آج کل مقامات کے متعلق معلومات فراہم کرنے والے شخص کو گائیڈ کہاجاتا ہے، یہاں غالبًا الواقدی گائیڈ ہی رہے ہوں گے جو خود مدنی ہونے کے سبب مدینہ منورہ کے تمام مقامات سے واقف تھے۔ )۔[11] ابن سعد نے طبقات الکبیر میں لکھا ہے کہ اِس موقع پر یعنی عباسی خلیفہ کے معلم کی حیثیت سے دربارِ خلافت سے جو مراسم و تعلقات پیدا ہو گئے تھے، الواقدی نے سنہ 180 ہجری مطابق 796ء تک اِن مراسم و تعلقات سے فائدہ اُٹھایا۔[12]

بعد ازاں جب الواقدی کو کچھ مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو وہ پہلے بغداد گئے اور پھر وہاں سے الرقہ روانہ ہوئے جہاں اُن دِنوں عباسی خلیفہ ہارون الرشید مقیم تھے۔[13] عباسی وزیر یحییٰ برمکی نے الواقدی کی بڑی خاطر مدارت کی اور اُنہیں خلیفہ عباسی کی خدمت میں حاضر کیا۔ خلیفہ نے مدینہ منورہ کا سفر یاد کرکے الواقدی کو تحائف سے مالا مال کر دیا۔ اِن تمام حالات کو الواقدی نے جو دربارِ خلافت تک پہنچنے اور وہاں اپنی خاطر مدارت کے دوران میں پیش آئے، مفصل انداز میں تحریر کیے ہیں اور یہ تمام حالات کو ابن سعد نے طبقات الکبیر میں نقل کر دیا ہے۔[14]

تحصیل علمترميم

الواقدی نے جن محدثین اور فقیہین سے تحصیل علم حاصل کیا وہ یہ ہیں :[8][15]

  1. امام دار الہجرۃ انس بن مالک :93ھ میں ولادت ہوئی اور ربیع الاول 179ھ میں مدینہ میں اِنتقال کیا۔ قریباً 39 سال بنو اُمیہ کا زمانہ دیکھا اور47 سال عباسی خلافت کا عہد۔ ابتدائی عمر فقر و فاقہ میں گزری مگر بعد ازاں خوشحال ہو گئے تھے۔ اُس زمانے میں امام مالک سے بڑا کوئی عالم و فقیہ مدینہ میں نہ تھا بلکہ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث کا مصداق تھے، اِس پیشگوئی کے 83 سال بعد مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور تمام عمر مدینہ منورہ میں مقیم رہے، کہیں اور نہ سفر کیا اور نہ مسکن بنایا۔ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے باوجود اصرار کے مدینہ سے بغداد جانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ احادیث مبارکہ کو ایک کتابی شکل میں مرتب کیا جس کا نام الموطا رکھا جو حدیث کی ابتدائی کتب میں شمار کی جاتی ہے۔ ربیع الاول 179ھ میں مدینہ منورہ کے اِس عظیم عالم نے 86 سال کی عمر میں دنیا کو خیر باد کہا۔ تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔ الواقدی نے عمر کا دو تہائی حصہ امام مالک سے تحصیل علم میں صرف کیا۔
  2. امام الفقیہ المحدث ابو یزید الکلاعی ثور بن یزید : یہ شام کے شہر حمص میں مقیم تھے۔ 153ھ میں شام کے شہر حمص میں اِنتقال کیا۔[16]
  3. امام محمد بن عَجلان القرشی المدنی: مدینہ منورہ میں مقیم رہے، محدثین نے اِنہیں الصادق اور امام القدوۃ کے نام سے پکارا ہے۔ عبد الملک بن مروان کے عہدِ خلافت میں پیدا ہوئے اور 148ھ میں مدینۃ منورہ میں اِنتقال کیا۔[17]
  4. محمد بن عبد الرحمن بن المغیرۃ بن الحارث بن ابی ذئب : مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، الواقدی نے اِن کا سنہ ولادت 80ھ بیان کیا ہے۔ قبیلہ عامر سے تعلق کی بنا پر عامری کہلاتے تھے۔ محدثین نے اِنہیں شیخ الاسلام، الامام الفقیہ کے القابات سے پکارا ہے۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے زمانہ میں بغداد چلے گئے تھے جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اِن سے مستفید ہوئے۔ امام الدارمی سے اِن کے متعلق پوچھا گیا تو کہا " یہ ثقہ ہیں "۔ سنہ 158ھ میں کوفہ عراق میں 78 سال کی عمرمیں اِنتقال کیا۔[18]
  5. ابو عُروۃ مَعمَر بن الراشد بن ابی عمرو الاَذدِی: نام مَعمَر ہے اور کنیت ابو عُروۃ ہے۔ سنہ 95ھ میں بصرہ عراق میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں 110ھ میں تابعی حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے جنازہ میں شرکت کی۔ محدثین نے اِنہیں شیخ الاسلام، الامام الحافظ کے القابات سے پکارا ہے۔ یمن کا سفر بھی اِختیار کیا۔ رمضان المبارک 153ھ میں 58 سال کی عمر میں یمن میں اِنتقال کیا۔[19]
  6. ابو العباس ہشام بن الغاز الامام المُقری الجُرشی الدمشقی: دمشق میں مقیم رہے اور وہیں 153ھ میں اِنتقال کیا۔[20]
  7. ابن جُریج
  8. اُسامہ بن زید التابعی
  9. ابی بکر بن ابی سبرۃ
  10. امام سفیان ثوری
  11. ابی معشر ۔

شاگردترميم

خطیب بغدادی نے ایک فہرست بیان کی ہے جس میں الواقدی سے تحصیل علم کرنے والوں کے نام لکھے گئے ہیں، وہ حضرات یہ ہیں :

محمد بن سعد کاتب الواقدی صاحب طبقات الکبیر متوفی 230ھ۔، ابو حسان الزِّیادی، محمد بن اسحاق الصَّاغانی، احمد بن الخلیل البُرجلانی، عبد اللہ بن الحسن الہاشمی، احمد بن عبید بن ناصح، محمد بن شجاع الثلجی، الحارث بن ابی اُسامہ۔[21]

منصب قضاۃ یا قاضی عسکرترميم

قدیم تر ماخذ کتب میں یہ ذِکر نہیں ملتا کہ الواقدی کو خلیفہ ہارون الرشید کی طرف سے بغداد کے مشرقی حصہ کی قضاۃ کا منصب بھی عطا ہوا تھا۔، یہ ذِکر اولاً یاقوت حموی کی کتاب معجم الادباء میں مذکور ہوا ہے اور اِس کی کوئی سند بھی بیان نہیں کی گئی۔[22] اِس کے برعکس یہ امر یقینی ہے جِسے طبری نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے کہ عباسی خلیفہ مامون الرشید نے بغداد میں داخلے کے بعد 204 ہجری مطابق 819ء میں الواقدی کو رصافہ میں قاضی عسکر مقرر کر دیا تھا۔[8][23]

خلیفہ عباسی مامون الرشید کے ابتدائی عہدِ خلافت یعنی 198 ہجری مطابق 814ء/815ء تک الواقدی پیرانہ سالی میں آچکے تھے، اُن کی عمر کے 68 سال گزر چکے تھے۔ اِسی طرح جب 204 ہجری مطابق 819ء میں اُنہیں رصافہ میں قاضی عسکر مقرر کیا گیا تب وہ 74 برس کے ہوچکے تھے اور مامون کے عہدِ خلافت میں یہ اِنتہائی پیرانہ سالی کی تقرری تھی۔

ابن خلکان کو اِس تقرری پر مغالطہ ہوا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ رصافہ میں قاضی عسکر ابن قتیبہ کو مقرر کیا گیا تھا اور الواقدی کو بغداد کے مغربی علاقے کا قاضی مقرر کیا گیا تھا، حالانکہ ابن قتیبہ نے ابن سعد سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مغربی بغداد کے قاضی نے الواقدی کی نمازِ جنازہ پڑھائی تھی۔[24]

خلیفہ عباسی مامون الرشید سے وابستگیترميم

خلیفہ عباسی مامون الرشید کے ساتھ الواقدی کے تعلقات نہایت گہرے تھے۔ الواقدی نے اپنا وصی خلیفہ کو مقرر کیا تھا، جب 207 ہجری کے اِختتام پر الواقدی اِنتقال کر گئے تو خلیفہ عباسی مامون الرشید نے بذاتِ خود اُن کے تمام فرائض کو خود سر انجام دِیا۔[22][25][26][27][28]

الواقدی اور خلفائے عباسیہترميم

الواقدی کی ولادت آخری اُموی خلیفہ مروان ثانی کے عہدِ خلافت میں ہوئی تھی۔ الواقدی 2 سال کے تھے جب بنو اُمیہ کا اِقتدار بنو عباس نے اُلٹ دیا اور براہِ راست عباسیوں کی حکومت و خلافت قائم ہو گئی۔ الواقدی نے آٹھ خلفاء کا عہدِ خلافت دیکھا۔ گوناگوں سیاسی حالات کی خرابی اور اِنتظامی خرابیاں جو بنو اُمیہ کے اواخر عہد میں پیدا ہو گئی تھیں، تب الواقدی بچپن کے دِن گزار رہے تھے۔ بنو عباس کے قیام میں وہ لڑکپن میں آچکے تھے اور ابو جعفر المنصور کی خلافت کے اواخر سالوں میں وہ عہدِ شباب میں داخل ہوچکے تھے۔ گویا بنو عباس کی ابتدائی تاریخ اُن کی آنکھوں کے سامنے گزری اور تاریخ کے اوراق پر محفوظ ہوئی اور اِن ابتدائی حالات کو مرتب کرنے والوں میں سے ایک وہ خود بھی تھے۔

الواقدی اور عباسی وزیر یحییٰ برمکیترميم

برامکہ کے زوال کے بعد بھی الواقدی نے یحییٰ برمکی کے ساتھ اپنی احسان مندی کا اِظہار کبھی اخفا میں نہیں کیا۔ عباسی وزیر یحییٰ برمکی نے اُنہیں خلیفہ ہارون الرشید کی خدمت میں حاضر کیا تھا اور کئی بار الواقدی کو مالی مشکلات سے نجات دلائی تھی جن میں وہ کئی بار مبتلا ہوئے، اِس کی ایک مثال خود الواقدی نے بیان کی ہے، اِس مثال کو ابن سعد نے طبقات الکبیر میں نقل کر دیا ہے۔[29] اِس مثال سے وزیر یحییٰ برمکی کے جودو سخاء کا معلوم ہوتا ہے۔ یہ قصہ بعد ازاں مورخ المسعودی، یاقوت الحموی اور ابن خلکان نے قدرے اِختلاف کے ساتھ ذکر کیا ہے۔[30][31][32]

تصانیفترميم

الواقدی کی 31 تصانیف میں سے اب صرف ایک باقی ہے جو مکمل محفوظ ہے اور وہ ہے " اَلْمَغَازِی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "۔ امتداد زمانہ کے سبب 30 تصانیف میں سے صرف ایک کا مخطوطہ گزشتہ صدی دریافت ہوا تھا اور وہ بھی نامکمل صورت میں۔ ابن سعد نے الواقدی کی کئی تصانیف کو اپنی تصانیف کا حصہ بناتے ہوئے محفوظ کر دیا ہے اور اب یہ ابن سعد کی کتب میں ہی ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ ابن ندیم کا الفہرست میں الواقدی کی اُن کتب کا تذکرہ کرنا جو اب موجود نہیں، سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن ندیم کے زمانہ تک یہ تمام کتب دستیاب ہوسکتی تھیں اِسی لیے اِن کا تذکرہ کیا گیا۔ ابن ندیمنے الفہرست میں الواقدی کی جن تصانیف کا ذکر کیا ہے، قریب قریب یاقوت الحموی نے بھی معجم الادباء میں اِنہی تصانیف کا ذکر کیا ہے۔ الواقدی کی تصانیف کا ایک بڑا حصہ تاریخی نوعیت کا ہے اور بعض قران کریم، حدیث اور فقہ سے متعلق ہیں۔ ابن سعد بغدادی نے طبقات الکبیر میں اور ابن ندیم نے الفہرست میں جن تصانیف کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہیں :[33] الصفدی نے بھی الوافی بالوفیات میں اِنہی کتب کا ذکر کیا ہے۔[8] براکلمان نے بھی الواقدی کی تصانیف کا تذکرہ کیا ہے۔[34]

 فہرست تصانیف ترميم

  • التاریخ وَ المغَازِی والمَبْعث
  • کتاب الترغیب فی علم المغازِی و غلط الرجال
  • کتاب المناکح
  • کتاب ذکر الاذان
  • کتاب الآداب
  • کتاب التاریخ الکبیر
  • کتاب غلط الحدیث
  • کتاب السنۃ والجماعۃ و ذم الھوی و ترک الخروج فی الفتن
  • کتاب الاختلاف و یحتوی علی الاختلاف اھل المدینۃ والکوفۃ فی الشفعۃ و الصدقۃ والھبۃ والعمری والرقی والودیعۃ والعاریۃ و البضاعۃ والمضاربۃ والغصب والشرکۃ والحدود والشہادات۔
  • اخبار مکہ
  • الطبقات
  • فتوح الشام
  • فتوح العراق
  • الجمل
  • مقتل الحسین رضی اللہ عنہ
  • السیرۃ
  • ازواج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
  • اَلرِّدَّۃ وَ الدَّار
  • حزب الاوس وَ الخَزرج
  • صفین
  • وفات النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
  • اُمراء الحبشۃ والفیل
  • السقیفۃ و بیعۃ ابی بکر رضی اللہ عنہ
  • سیرۃ ابی بکر و وفاتہ
  • مراعی قریش وَ الانصار فی القتائع و وضعع وعمر *الدواوین و تصریف القبائل و مراتبھا واَنسابہا
  • مولد الحسن والحسین رضی اللہ عنہم
  • ضرب الدنانیر والدراہم
  • تاریخ الفقہا
  • کتاب فی الطعام النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
  • فتوح ارمینیۃ و بلاد مابین النہرین
  • فتوح البنساء

وفاتترميم

الواقدی 78 سال کی عمر میں سوموار 11 ذوالحجہ 207 ہجری مطابق 27 اپریل 823ء کو بوقتِ عشاء بغداد میں فوت ہوئے۔ تدفین منگل 12 ذوالحجہ 207ھ مطابق 28 اپریل 823ء کو کی گئی۔[35] تدفین مقبرہ خیزران میں کی گئی جو خلفائے عباسیہ اور بغداد کے مشاہیر کے لیے وقف تھا۔ ابن سعد نے طبقات الکبیر میں اور ابن ندیم نے الفہرست میں یہی تاریخ بیان کی ہے۔[8][33][36][37][38][39][40] خطیب بغدادی نے عباس الدُّورِی کا قول نقل کیا ہے جس روز الواقدی فوت ہوئے تو خلیفہ المامون خود اِن کی تجہیز وتکفین کے لیے محل سے نکلا اور اِنہیں اپنے ہاتھوں سے سپردِ خاک کیا۔[10]

الواقدی بحیثیت مورخ اور کتاب المَغَازِیترميم

الواقدی بحیثیتِ مورخ، تاریخ اِسلام کے ابتدائی مورخین میں شمار ہوتے ہیں۔ ابن سعد جن کی طبقات الکبیر جو طبقات ابن سعد کے نام سے مشہور ہے، وہ بھی الواقدی کے کاتب اور شاگرد تھے اور عمومًا کاتب الواقدی کے لقب سے مشہور ہوئے۔ الواقدی کا تاریخی ذوق مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ کی ابتدائی اور اِسلام کی ابتدائی تاریخ و زمانہ تابعین کی تاریخ پر حاوی ہے۔ الواقدی کی تمام تصانیف میں ست صرف " المَغَازِی" بطور ایک مستقل کتاب کے محفوظ رہ سکی ہے۔ کتاب طبقات جو 186ھ تک کے تاریخی واقعات پر مبنی ہے، اِس کتاب کو ابن سعد نے اپنی تصنیف طبقات الکبیر کے لیے اساس بنایا ہے اور اِس سلسلے میں الواقدی کی السیرۃ اور ازواج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے استفادہ حاصل کیا ہے۔ مزید یہ کہ ابن سعد کی طبقات الکبیر میں مغازی اور واقعات کی اصل سند الواقدی ہی ہیں۔ مورخ طبری نے اپنی تصنیف "تاریخ الرسل والملوک" المعروف بہ تاریخ طبری میں جا بجا الواقدی کے اِقتباسات و حوالہ جات دیے ہیں، تاریخ طبری کے بغور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سنہ 179ھ تک لازمًا تاریخی واقعات الواقدی کی " اَلمَغَازِی" سے ہی نقل کیے گئے ہیں۔ ابن حبیش (متوفی 584ھ) نے بھی کتاب الرِّدَّۃ وَ الدَّار کے بہت سے اِقتباسات کو نقل کرکے محفوظ کر دیا ہے، یہ کتاب خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت کے متعلق تاریخی واقعات پر مبنی ہے۔ مستشرق کائتانی نے یہ کتاب گزشتہ صدی میں دریافت کرلی تھی۔ جس کا مخطوطہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔ فتوح الشام اور فتوح العراق محفوظ نہیں رہ سکیں اور جو کتب علاوہ اِس کے ہیں، وہ بہت بعد کی ہیں۔ الواقدی نے اپنی اہم ترین اسناد کی فہرست اپنی کتاب " المغَازِی" کے شروع میں درج کردی ہے جس کا حصہ سوم کریمر (H. Von Kremer) نے کلکتہ سے 1856ء میں History of Muhammad's Compaigns کے نام سے شائع کیا تھا۔ اِس کا خلاصہ مستشرق وِلہاوزن Wellhausen نے جرمن زبان میں برلن سے 1882ء میں شائع کیا۔

الواقدی کی تصانیف کی فہرست کو ابن سعد نے طبقات الکبیر میں بھی لکھا ہے اور مستشرق سخاو Schau نے اِس فہرست پر مفصل بحث کی ہے۔ اِس فہرست میں اُن سب علما کے نام درج ہیں جو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے یا مدینہ منورہ آ کر مقیم ہوئے اور اُنہوں نے الواقدی سے تمام معلومات بہم پہنچائیں اور خود اُن کا سلسلہ اسناد امام الزہری متوفی 124ھ، عاصم بن عمر، یزید بن رومان تک جا پہنچتا ہے۔ اِس سلسلے میں بہت سے راویوں نے جیسے کہ ابو معشر، معمر بن الراشد، موسیٰ بن عقبہ نے جن سے الواقدی نے روایت کیا، خود بھی المَغَازِی پر کتب تصنیف کیں۔

امام محمد بن اسحاق جو ابن اسحاق کے نام سے ابتدائی سیرت نگاروں کی فہرست میں شامل ہیں، اِن کی وفات بغداد میں 151ھ میں ہوئی جب الواقدی کی عمر 21/22 سال کے قریب قریب تھی، مگر کہیں بھی الواقدی نے براہِ راست ابن اسحاق سے کسی روایت کے سماع کا ذکر نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُنہیں ابن اسحاق سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ علاوہ ازیں یہ بات زیادہ عجیب ہے کہ الواقدی نے " المَغَازِی" میں کسی بھی سند میں ابن اسحاق کا نام بھی نہیں لکھا، لیکن بقول طبری الواقدی ابن اسحاق کے متعلق بڑے اچھے جذبات و خیال رکھتے تھے اور بلا شک وشبہہ الواقدی نے ابن اسحاق کی " السیرۃ النبویہ سے اپنی کتاب کے لیے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے اور بظاہر مواد کی ترتیب بھی ایک جیسی نظر آتی ہے۔[41]

الواقدی کے معترفترميم

  • ابن سعد بغدادی نے لکھا ہے : الواقدی عالم مغازی، عالم سیر، عالم الفتوحات تھے۔[42]
  • امام شمس الدین الذہبی نے لکھا ہے کہ : اُن کی یادداشت اعلیٰ درجہ کی تھی اور اُنہیں تاریخ، سوانح، واقعاتِ حرب، تاریخی واقعات، جنگیں، عوامی تہوار و تقریبات اور فقہ کے متعلق حالات یاد تھے۔[43]
  • یاقوت الحموی نے خطیب بغدادی کا قول نقل کیا ہے کہ : وہ اُن اشخاص میں سے ایک تھے جن کی شہرت زمین میں مشرق اور مغرب میں پھیلی ہوئی ہے۔ جو کوئی تاریخ سے شغف رکھتا ہے وہ الواقدی کو جانتا ہے، وہ اُن کے علوم کو اپنے پاس رکھتا ہے جیسے کہ مغازِی، سیر، طبقات، حیات ہائے انبیائے کرام علیہم السلام اور واقعات حیاتِ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ۔[21][44]

الواقدی ناقدین کی نظر میںترميم

تاریخ میں الواقدی کے کام کے سبھی معترف ہیں مگر محدثین نے الواقدی کو محدث تسلیم نہیں کیا، علم الحدیث کے علوم و فنون کی رو میں اُنہیں ضعیف، کمزور، غیر ثقہ یہاں تک کہ موضوع احادیث کا خالق کہا گیا۔ خطیب بغدادی نے امام بخاری کا قول نقل کیا ہے کہ : " محمد بن عمر الواقدی قاضی بغداد، متروک الحدیث" یعنی الواقدی کو متروک الحدیث کہا۔[45] جن محدثین نے الواقدی کو علم الحدیث میں ضعیف یا غیر ثقہ کہا ہے وہ یہ ہیں :

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/102372179 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb15506017w — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/al-Waqidi — بنام: al-Waqidi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. اجازت نامہ: CC0
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb15506017w — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. ^ ا ب خطیب بغدادی: تاریخ مدینۃ السلام المعروف بہ تاریخ بغداد، جلد 4 ص 5، الرقم الترجمہ 1203۔
  7. امام الذھبی: تذکرۃ الحفاظ، جلد 1 ص 348، الرقم الترجمہ 334۔ طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان۔ 1373ھ/ 1951ء۔
  8. ^ ا ب پ ت ٹ صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی : الوافی بالوفیات، جلد 4 ص 168، الرقم الترجمہ 1769۔
  9. عمر رضا کحالہ: معجم المولفین، جلد 11 ص 95/96۔
  10. ^ ا ب خطیب بغدادی: تاریخ مدینۃ السلام المعروف بہ تاریخ بغداد، جلد 4 ص 31، الرقم الترجمہ 1203۔ طبع دارالغرب الاسلامی، بیروت لبنان۔ 2001ء۔
  11. طبری: تاریخ طبری، جلد 3 ص 605۔
  12. ابن سعد: طبقات الکبیر، جلد 2/7 ص 77۔
  13. طبری: تاریخ طبری، جلد 3 ص645۔
  14. ابن سعد: طبقات الکبیر، جلد 7 ص 314۔
  15. ابن الجوزی: المنتظم فی تاریخ الملوک والامم، جلد 10 ص 170 تا 177، الرقم الترجمہ 1152۔
  16. امام الذھبی: سیر اعلام النبلا، جلد 6 ص 345، الرقم الترجمہ 146۔
  17. امام الذھبی: سیر اعلام النبلا، جلد 6 ص 322، الرقم الترجمہ 135۔
  18. امام الذھبی: سیر اعلام النبلا، جلد 7 ص 139 تا 149، الرقم الترجمہ 50۔
  19. امام الذھبی: سیر اعلام النبلا، جلد 7 ص 5 تا 18، الرقم الترجمہ 1 من طبقۃ السادسۃ۔
  20. امام الذھبی: سیر اعلام النبلا، جلد 7 ص 5 تا 18، الرقم الترجمہ 21 من طبقۃ السادسۃ۔
  21. ^ ا ب خطیب بغدادی: تاریخ مدینۃ السلام المعروف بہ تاریخ بغداد، جلد 4 ص 5، الرقم الترجمہ 1203۔ طبع دارالغرب الاسلامی، بیروت لبنان۔ 2001ء۔
  22. ^ ا ب یاقوت الحموی: معجم الادباء، جلد 7 ص 56۔
  23. طبری: تاریخ طبری، جلد 3 ص 1037۔
  24. ابن خلکان: وفیات الاعیان، جلد 1 ص 640۔
  25. ابن سعد: طبقات الکبیر، جلد 5 ص 321۔
  26. ابن سعد: طبقات الکبیر، جلد 2/7، ص 77۔
  27. ابن قتیبہ: المعارف، ص258۔
  28. ابن قتیبہ: المعارف، ص258۔ السمعانی: الورق، مخطوطہ 577 ب۔
  29. ابن سعد: طبقات الکبیر، جلد 5 ص 319۔
  30. المسعودی: مروج الذھب، جلد 2، ص 237، طبع قاہرہ مصر۔
  31. یاقوت الحموی: معجم الادباء، جلد 7 ص 57۔
  32. ابن خلکان: وفیات الاعیان، جلد 11 ص 641۔
  33. ^ ا ب ابن ندیم: الفہرست، ص 111، الجز الثالث: الاخبار والآداب والسیر ولانساب، ذکر " اخبار الواقدی"
  34. تکملۃ براکلمان: جلد 1 ص135۔
  35. خطیب بغدادی: تاریخ مدینۃ السلام المعروف بہ تاریخ بغداد، جلد 4 ص 6، الرقم الترجمہ 1203۔ طبع دارالغرب الاسلامی، بیروت لبنان۔ 2001ء۔
  36. امام جلال الدین السُیُوطی: تاریخ الخلفاء، ص 264، تذکرہ الوفیات من خلافۃ المامون الرشید۔
  37. امام الذھبی: تاریخ الاسلام ووَفیات المشاہیر والاعلام، جلد 5 ص 16، ذکر سنۃ 207ھ۔
  38. ابی سلیمان محمد بن عبد اللہ بن زبر الربعی: تاریخ مولد العلماء ووَفیاتہم، ص 197۔ ذکرسنۃ 207ھ۔
  39. امام الذھبی: العبر فی خبر من غبر، جلد 1، ص 277، ذکر سنۃ 207ھ۔
  40. امام ابن کثیر الدمشقی: البدایۃ والنہایۃ، جلد 14 ص 165، ذکر سنۃ 207ھ۔
  41. دائرۃ المعارف الاسلامیہ [انسائیکلوپیڈیا آف اِسلام] : جلد 22، ص586۔ طبع جرمنی۔
  42. ابن سعد: طبقات الکبیرلابن سعد، جلد 7 حصہ 2، ص 67، طبع لائیڈن 1918ء۔
  43. امام الذھبی: میزان الاعتدال فی نقد الرجال، جلد 3 ص 110، طبع قاہرہ مصر 1907ء۔
  44. یاقوت الحموی: معجم الادباء، جلد 18 ص 278، طبع قاہرہ مصر 1936ء۔
  45. خطیب بغدادی: تاریخ مدینۃ السلام المعروف بہ تاریخ بغداد، جلد 4 ص 23، الرقم الترجمہ 1203۔ طبع دارالغرب الاسلامی، بیروت لبنان۔ 2001ء۔