مرکزی مینیو کھولیں

شریف خاندان

پاکستانی کاروباری و سیاسی خاندان
(حسن نواز سے رجوع مکرر)

خاندان کے افراد کی فہرستترميم

پہلی نسل
  • محمد شریف، پاکستانی کاروباری شخصیت اور نواز شریف و شہباز شریف کے والد۔[2]
    • شمیم اختر، محمد شریف کی زوجہ اور نواز شریف و شہباز شریف کی والدہ۔[3]
دوسری نسل
تیسری نسل


دیگر رشتہ دارترميم

دولتترميم

شریف خاندان اتفاق گروپ کا مالک ہے، یہ ایک ملٹی ملین ڈالر سٹیل کمپنی ہے۔[15] 2005ء میں، روزنامہ پاکستان نے ایک جائزہ شائع کیا جس کے مطابق شریف خاندان پاکستان کا چوتھا امیر ترین خاندان ہے اس کے اثاثوں کا اندازہ صرف 1.4 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔[16] یہ خاندان غیر معمولی طور پر بڑے رائےونڈ محل لاہور کے بھی مالک ہیں۔

  • ( اتفاق ٹیکسٹائل مل)
  • (برادرز ٹیکسٹائل مل)
  • (خالد سراج ٹیکسٹائل مل)
  • (حسیب وقاص شوگن مل)
  • (اتفاق ٹیکسٹائل)
  • (مہران رمضان ٹیکسٹائل)
  • (برادرز ٹیکسٹائل مل)
  • (رمضان بخش ٹیکسٹائل مل)
  • (محمد بخش ٹیکسٹائل مل)
  • (حمزہ اسپننگ مل)
  • (اتفاق شوگر مل)
  • (رمضان شوگر مل)
  • (چوھدری شوگر مل)
  • (اتفاق فاؤنڈری (پرائیویٹ) لیمیٹڈ)
  • (برادرز اسٹیل مل)
  • (اتفاق برادرز (پرائیویٹ) لیمیٹڈ)
  • (الیاس انٹرپرائز)
  • (حدیبیہ پیپر مل)
  • (حمزہ بورڈ مل)
  • (حدیبیہ انجیرنگ)
  • (خالد سراج انڈسٹریز)
  • (علی ہارون ٹیکسٹائل مل)
  • (حنیف سراج ٹیکسٹائل مل)
  • (فاروق برکت (پرائیویٹ) لیمیٹڈ)
  • (عبد العزیز ٹیکسٹائل مل)
  • (برکت ٹیکسٹائل مل)
  • (صندلبار ٹیکسٹائل مل)
  • (حسیب وقاص رائس مل)
  • (سردار بورڈ اینڈ پیپر مل)
  • (ماڈل ٹریڈنک ہاؤس (پرائیویٹ) لیمیٹڈ)
  • (حمزہ پولڑی فارمز)
  • انہار ملک
  • ناصر ملک
  • ایف زیڈ ای کیپٹیل[17]
  • مۓفیئر اپارٹمنث[18]

تصاویرترميم

مزید دیکھیےترميم

مزید پڑھیےترميم

  • "حکومت پنجاب، پاکستان"۔ punjab.gov۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2012۔
  • "پنجاب اسمبلی ویب سائٹ"۔ pap.gov۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2012۔
  • "پانامہ اسکینڈل-بگ پلیرز آن اسکرین، پاکستان"۔ PowerPlay.pk۔
  1. "As Nawaz Sharif becomes PM, Kashmir gets voice in Pakistan power circuit"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ DailyTimes نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. "Sharifs seek NAB cases quashed"۔ Dawn۔ Herald۔ 18 اکتوبر 2011۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 اپریل 2013۔
  4. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Nawaz1 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Nawaz2 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  6. ^ ا ب پ "Kulsoom vows to return in a few days"۔ دی نیوز۔ 11 ستمبر 2007۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 ستمبر 2012۔
  7. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Shahbaz نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  8. ^ ا ب نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Sharif_Family نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  9. "Nawaz Sharif's brother passes away"۔ The Express Tribune۔ 11 جنوری 2013۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جنوری 2013۔
  10. ^ ا ب پ نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Dawn2012 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  11. Sherbano Taseer (30 مارچ 2012)۔ "The Rebirth of Maryam Nawaz Sharif"۔ Newsweek Pakistan۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 ستمبر 2012۔
  12. Sherbano Taseer۔ "The rebirth of Maryam Nawaz Sharif"۔ The Nation۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 ستمبر 2012۔
  13. Malik Asad (21 اکتوبر 2012)۔ "Bakery tortures of employee: CM's son-in-law sent on judicial remand"۔ Daily Times۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 اکتوبر 2012۔
  14. Malik Asad (8 ستمبر 2012)۔ "Court orders newspaper ad for Hamza appearance"۔ Daily Times۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 اکتوبر 2012۔
  15. Raymond Baker۔ Capitalism's Achilles heel: Dirty Money and How to Renew the Free-market System۔ John Wiley and Sons۔ صفحات 82–83۔ آئی ایس بی این 978-0-471-64488-0۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2012۔
  16. اسد کھرل (11 نومبر 2011)۔ "نواز شریف کی اپنی صرف ایک شوگر مل ہے؟"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2012۔
  17. The technicality that led to Nawaz Sharif's disqualification - Pakistan - DAWN.COM
  18. Sharif family are owners of London flats since '90s: BBC report | Pakistan | thenews.com.pk |