شکیب ارسلان لبنان کے ایک شاعر، سیاست دان اور ادیب گزرے ہیں۔ان کی ولادت 25 دسمبر 1869ء کو ہوئی اور وفات 9 دسمبر 1946ء کو ہوئی۔ ان کو امیر البیان کا خطاب ملا تھا۔ وہ بیک وقت شاعر، ادیب، کاتب اور سیاست دان تھے۔ ان کو عربی، ترکی، فرانسیسی اور جرمن زبانوں پر ملکہ حاصل تھا۔ انہوں نے کئی ممالک کا سفر کیا اور کئی بڑے ادبا اور سیاست دانوں سے ملاقات کی جن میں جمال الدین افغانی اور احمد شوقی شامل ہیں۔ سفر سے لبنان کے طرف واپسی کے بعد انہوں نے چند مشہور اسفار کیے جن میں سویٹذرلینڈ کا لوزان، اطالیہ کا نابولی، مصر کا پورٹ سعید جیسی مشہور جگہیں شامل ہیں۔ مگر ان کا سفر یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ انہوں نے نہر سوئز ہوتے ہوئے بحیرہ احمر کو عبور کیا اور پھر جدہ میں قدم رکھا۔ پھر مکہ گئے۔ انہوں نے اپنے اسفار کی تمام روداد قلمبند کی ہیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں الحلل السندسية[2]، "لماذا تأخر المسلمون وتقدم غيرهم؟"، و"الارتسامات اللطاف"، و"تاريخ غزوات العرب"، و"عروة الاتحاد"، و"حاضر العالم الإسلامي" مشہور ہیں۔ ان کی کثرت کتب کی وجہ سے انہیں امیر البیان کا خطاب ملا۔ وہ ان چند مفکرین میں سے ہیں جوامت اسلامیہ میں اتحاد کے داعی تھے اور اسلامی وحدت و ثقافت کے لیے کوشاں رہتے تھے۔

شکیب ارسلان
(عربی میں: شكيب ارسلان ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Shakib Arslan.gif

معلومات شخصیت
پیدائش 25 دسمبر ء1869
شویفات (نزد بیروت)
وفات 9 دسمبر 1946(1946-12-90) (عمر  76 سال)
بیروت  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت لبنانی
کنیت امیر البیان
عملی زندگی
پیشہ
  • سیاست دان
  • ادیب
  • شاعر
  • مورخ
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نسب اور پرورشترميم

ان کا مکمل نسب نامہ شكيب بن حمود بن حسن بن يونس بن منصور بن عباس بن فخر الدين بن حيدر بن سليمان بن فخر الدين بن يحيى بن مذحج بن محمد بن احمد بن خليل بن مفرج بن يحيى بن صالح بن مفرج بن يوسف بن صالح بن علي بن بحتر بن علي بن عمر بن عيسى بن موسى بن مطوع بن تميم بن المنذر بن النعمان بن عامر بن هاني بن مسعود بن أرسلان بن مالك بن بركات بن المنذر بن مسعود الشهير بقحطان بن عون بن ملك الحيرة المنذر المغرور ابن الملك النعمان أبي القابوس ابن الملك المنذر ابن الملك المنذر بن ماء السماء ہے۔

ان کی ولادت بیروت کے قریب شویفات نامی گاوں میں پیر کی رات 1286ھ کے ماہ رمضان کے آغاز میں بمطابق 25 دسمبر 1869ء کو ہوئی۔ شکیب فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں صبر کرنے والا اور ارسلان ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی شیر ہے۔ [3] شکیب ارسلان کی شخصیت سازی میں چند اہم علما اور مفکرین کا کردار رہا ہے۔ جن میں ان کے اساتذہ بھی شامل ہیں۔ ان کے سب سے پہلے استاذ شیخ عبد اللہ البستانی تھے جنہوں نے انہیں "مدرسة الحكمة" میں پڑھایا تھا۔ ان کے علاوہ انہوں نے امام محمد عبدہ، محمود سامی بارودی، عبد اللہ فکری، محمد رشید رضا، ابراہیم یازجی، احمد شوقی، اسماعیل صبری جیسے نامور ادبا، شعرا اور مفکرین سے ملاقاتیں کیں اور کسب فیض کیا۔ انہیں جمال الدین افغانی سے بہت لگاؤ تھا اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔ شکیب ارسلان کی فکری زندگی شیخ جمال الدین کی ہی مرہونِ منت ہے۔ سیاست بھی ان سے ہی سیکھی۔ ان کے علاوہ انہوں نے اسلامی فکر اور اسلامی خلافت (سلطنت عثمانیہ) کے شدید حامی احمد فارس شدیاق سے بھی ملاقات کی اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے امریکی عالم کرنیلوس فائدیک سے بھی کسبِ علم کیا۔

مذہبترميم

شکیب ارسلان کی ولادت دروز مذہب میں ہوئی۔ دروز ایک خاص قسم کا مذہب ہے جو کسی غیر کو قبول نہیں کرتا ہے اور نہ ہی کسی دروز کو کوئی دوسرا مذہب اپنانے کی اجازت ہے۔ لیکن شکیب ارسلان اہل سنت کے طرز پر عبادت کرتے تھے۔[4] اور نماز، روزہ، حج اور دیگر تمام عبادات اہل سنت کے طرز پر کرتے تھے۔انہوں نے ادیگی قوم میں شادی کی۔

سیاسی زندگیترميم

شکیب ارسلان عربیت اور امت اسلامیہ کے اتحاد پر بہت زور دیتے تھے۔ انہوں نے استعماریوں کا عرب پر حملہ کرنے کے اقدام کو اپنا نشانۂ تنقید بنایا۔ عربیت اور اسلامیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور اس کے لیے انہوں نے اپنی ساری زندگی وقف کردی۔ ان کے مقالات اتحاد کی دعوت دیتے تھے اور امت عربیہ اور اسلامیہ کی کمزوری، کسمپرسی سے چھٹکارا پانے کے لیے راستہ تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔

بیرونی روابطترميم

امیر شکیب ارسلان کی کتب کے اردو تراجم

حوالہ جاتترميم

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12390517x — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. الحلل السندسية في الاخبار والآثار الأندلسية[مردہ ربط] عن الحياة اللندنية24-4-2005. تاريخ الولوج 6-6-2009. آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ daralhayat.com (Error: unknown archive URL)
  3. "خواطر حول الوهابية" لمحمد إسماعيل المقدم
  4. "شكيب أرسلان" للشيخ أحمد الشرباصي