اقتباس نورطریقت تالیف لطیف پیرسیدبدرمسعود شاہ گیلانی

بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا طریقت شریعت سے کوئی الگ چیز ہے یا یہ دونوں ایک ہی ہیں؟ترميم

حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ شریعت و طریقت کے متعلق فرماتے ہیں؛ترميم

ظاہر کو ظاہر شریعت کے ساتھ اور باطن کو باطن شریعت کے ساتھ (جو حقیقت سے عبارت ہے) آراستہ اور مزین رکھیں کیونکہ حقیقت و طریقت، حقیقت ِشریعت اور اس حقیقت کے راستے سے عبارت ہیں یہ بات نہیں کہ شریعت اور چیز ہے اور طریقت و حقیقت دوسری بات ہے۔ اس طرح (شریعت و طریقت علیحدہ ہونے کا) سوچنا الحاد اور زندقہ ہے۔

“ (مکتوب نمبر؛1/57)

مفہومترميم

اس کا مفہوم یہ ہے کہ شریعت اُن احکامات پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے، جو قرآن و سنت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔دوسرے لفظوں میں شریعت ظاہری طور پر احکاماتِ الٰہی پر عمل پیرا ہونے اور طریقت باطن میں خشیت ِالٰہی اور ذکرِا لٰہی کے جاری ہونے اور ان اعمال میں اخلاص حاصل ہونے کا نام ہے۔

خشیت، ذِکرِ الٰہی اور اخلاص کے حصول کے لیے سلف صالحین سے چار سلاسل طریقت مذکور ہیں، سلسلہ نقشبندیہ،قادریہ، چشتیہ اورسہروردیہ۔[1]ترميم

طریقت نقشبندیہ خالصتاً ان اعمال کو ادا کرنے کا نام ہے، جو حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت ِ مبارکہ سے اخذ کئے گئے ہیں، عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کوئی مخصوص طرزِ زندگی اپنانے یعنی کسی جنگل یا چلہ گاہ میں تنہائی اختیار کرنے کو طریقت کہتے ہیں، اگرچہ کئی سلاسلِ طریقت میں اس طرزِ عمل کو ا ختیار بھی کیا جاتا ہے اور سالک سے مختلف قسم کی ریاضتیں اور چلہ کشیاں کرائی جاتی ہیں لیکن طریقتِ نقشبندیہ سالک کے روزمرہ کے معمولات کو جاری رکھتے ہوئے ان معمولات کو حضور نبی کریمﷺ کی حیات ِ مبارکہ کا آئینہ بنا دیتی ہے، جس کے وسیلہ سے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

یہ جذبہ محبت ِ الٰہی سالک کے باطن کو صاف و شفاف بنا دیتا ہے اور اس صفائی کی بدولت سالک کے باطن کا آئینہ چمک اُٹھتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کے انوارات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

 
طریقت :از سیدبدرمسعود شاہ گیلانی

طریقت کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ انسان کسی ایسے صالح شخص کی بیعت اختیار کرے، جو حضورﷺ کی کامل اتباع کرتا ہو اور حضورسرورِ کونینﷺ کے مقاصد ِبعثت میں سے ایک مقصد   ویزکیھم کے زُمرے میں آتا ہو یعنی اللہ کے فضل اور کرم سے سنت رسولﷺ پر عمل کرتے ہوئے اس نے تزکیہ نفس کی منزل پا لی ہو، یہ منزل حضورﷺ کی تبعیت کے صلے میں بطور وراثت ِ نبویﷺ ملتی ہے۔اس طرح ایسا صالح انسان طالب کی تربیت کرتے ہوئے اس کا تزکیہ نفس کرتا ہے اوراسے قرب اِلٰہی کی منازل طے کراتا ہے۔

 یہ سب کچھ اخلاص کی بنیاد پرقائم خانقاہی نظام سے ہی ممکن ہے۔
  1. نور طریقت صفحہ نمبر8.