بلاول بھٹو زرداری

پاکستان میں سیاستدان

بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ ہیں۔ ان کی پیدائش21ستمبر 1988کو کراچی کے لیڈی ڈفرن اسپتال میں ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری سابق وزیر اعظم پاکستان شہید محترمہ بے نظیر بھٹواور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کی اولاد میں سب سے بڑے ہیں۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذو الفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں۔ ان کی پیدائش کے تین ماہ بعد ہی ان کی والدہ شہید بے نظیر بھٹو[1] مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔

بلاول بھٹو زرداری
(انگریزی میں: Bilawal Zardari)،(اردو میں: بِلاوَل بُھٹّو زَرداری)،(سندھی میں: بلاول ڀٽو زرداري ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

پاکستان پیپلز پارٹی
آغاز منصب
30 دسمبر 2007
بینظیر بھٹو
 
معلومات شخصیت
پیدائش 21 ستمبر 1988ء (36 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش بلاول ہاؤس، کراچی
شہریت پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی   ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد آصف علی زرداری   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ بینظیر بھٹو   ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
رشتے دار زرداری خاندان (والد کی طرف سے)
بھٹو خاندان (ماں کی طرف سے)
عملی زندگی
مادر علمی کراچی گرائمر اسکول
کرائسٹ چرچ   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو ،  سندھی ،  بلوچی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل تائیکوانڈو   ویکی ڈیٹا پر (P641) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی زندگی

ترمیم

بلاول بھٹو زرداری نے بچپن ہی سے اپنے والدین کی تکالیف کا اندازہ لگا لیا تھا ،تکالیف اور اذیت کاسفر ان کے عزم کی پختگی بھی ظاہر کرتاہے کیونکہ بچپن کی عمر میں ایک بچے کو اسکول سے لے کر عام زندگی میں کیا کیا تکالیف اور مشکلات پیش آتی ہیں وہ بلاول بھٹو زرداری سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا،بلاول بھٹو زرداری نے زندگی کے ہر موڑ پر بہت کچھ سیکھا اور سمجھا، بلاول کی علمی اور سیاسی تربیت ان کی والدہ نے کی جو دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں لیکچر دیتی تھیں،بلاول بھٹو نے بچپن میں ہی سیاست میں بھٹوکے اصولی افکار اور عوامی جذبوں سے سرشار نظریے کو سمجھ لیا تھا جس کے لیے بڑی عمر کی ضرورت ہوتی ہے۔

تعلیمی سفر

ترمیم

اپنی والدہ بے نظیر بھٹو شہید کے دوسرے دور حکومت میں انھوں نے ابتدائی تعلیم کراچی گرامراسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے فروبلس انٹرنیشنل اسکول ،اسلام آباد سے تعلیم حاصل کی۔

دبئی منتقل ہونے کے بعد انھوں نے اپنی تعلیم راشد پبلک اسکول دبئی میں جاری رکھی۔ جہاں وہ اسٹوڈنٹ کونسل کے نائب چیئرمین بھی رہے۔ راشد پبلک اسکول کا شمار دبئی کے بہترین اسکولز میں ہوتا ہے۔

1999میں اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی خود ساختہ جلا وطنی کے وقت وہ اُن کے ساتھ ہی بیرون ملک چلے گئے۔ ،2007میں بلاول بھٹو نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے سب سے اہم کالج کرائسٹ چرچ کا میں داخلہ لیا، برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی سے ’بی اے آنرز‘ کی سند جدید تاریخ اور سیاست کے شعبے میں حاصل کی۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم  نواب زادہ خان لیاقت علی خان، اسرائیل کے سابق وزیر اعظم بینجمن نتین یاہو، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذو الفقار علی بھٹو اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور بلاول بھٹو کی والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی آکسفورڈ یونی ورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ بلاول بھٹوزرداری یہاں بھی طلبہ یونین میں سرگرم رہے۔ 2010میں انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کرلی۔

آکسفورڈ یونی ورسٹی

ترمیم

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی[2] کا شمار دنیا بھر کی بہترین یونیورسٹیز میں کیا جاتا ہے۔ آکسفورڈ دریائے آکس کے کنارے، انگلستان کاایک شہر ہے۔ اس کے معنی (دریائے آکس کا گھاٹ) کے ہیں۔ اس جگہ انگلستان کا مشہور اور قدیم دار العلوم واقع ہے۔ اس کی بنیاد قدیم زمانے میں رکھی گئی تھی۔ لیکن باقاعدہ تدریس کا آغاز 1133ء سے ہوا جب پیرس کے رابرٹ پولین نے یہاں تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اس نے یونیورسٹی کی صورت 1163ء میں اختیار کی۔ آکسفورڈڈ یونیورسٹی جنوبی ایشیا میں خاصی معروف ہے جہاں سابق پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو، ان کے والد ذو الفقار علی بھٹو، کرکٹ کھلاڑی اور سیاست دان عمران خان، سابق انڈین وزیر اعظم من موہن سنگھ اور ادیب وکرم سیٹھ کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مشہور شخصیات نے یہاں سے تعلیم حاصل کی ہے۔

والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت

ترمیم

محترمہ بے نظیر بھٹو[1] پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذو الفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی تھیں۔ 21جون1953 میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی،15برس کی عمر میں اولیول کا امتحان پاس کی۔ انھوں نے آکسفورڈ یونی ورسٹی سے فلسفہ، معاشیات اورسیاسیات میں ایم اے کیا۔ 1977میں تعلیم حاصل کر کے وطن واپس آئیں۔ اسی دوران ملک میں مارشل لا کا نفاذ ہوا۔ ان کے والدشہید ذو الفقار علی بھٹو کو جیل بھیج دیا گیاجس کے بعد1979میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے انھیں پھانسی کی سزا سنادی۔ 1984میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی۔ جس کے بعد انھوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے انھیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا۔ 1986ء میں وہ وطن واپس آئیں۔ 1987ء میں  آصف علی زرداری سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔2 دسمبر1988ء میں 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست1990میں ان کو برطرف کر دیا گیا۔ اکتوبر 1993عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے دوسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ 1996میں ایک بار پھر ان کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا۔ جس کے بعد انھوں نے جلا وطنی اختیار کرلی۔ 18 اکتوبر2007کو محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی 8سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئیں۔ کراچی کے ہوائی اڈے سے لاکھوں افراد کے جلوس میں اُن کا قافلہ جب شارع فیصل کارساز کے مقام پر پہنچا تو وہاں ہونے والے دو بم دھماکوں سے یہ سفر وہیں رک گیا۔ اس واقعے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈیڑھ سو سے زائد کارکن جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے، محترمہ بے نظیر بھٹو اس بم حملے میں محفوظ رہیں۔ لیکن 27 دسمبر 2007کو راولپنڈ ی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد اسلام آباد جاتے ہوئے بم حملے میں وہ شہید ہوگئیں۔ اس واقعے کو بلاول بھٹو زرداری نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور اپنی والدہ کے اس نامکمل سیاسی سفر کو مکمل کرنے کا عہد کر لیا۔

دور سیاست

ترمیم

تعلیم مکمل کرنے کے بعد بلاول بھٹو زرداری 2011میں وطن واپس آئے اور سیاسی معاملات میں بڑ ھ چڑھ کر حصہ لیا۔

آغاز سیاست

ترمیم

انھوں نے 2012میں باقاعدہ طور پر کراچی کے ایک بہت بڑے جلسے سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ وہ ابتدا میں ملک کی سیاسی صورت حال اور دیگر معاملات پر اپنے تُند و تیز بیانات اور ٹوئٹرپر پیغامات کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث رہے۔ کراچی کے اِس جلسے کو ملک میں پیپلز پارٹی کی طاقت کے مظاہرے کے طور پر بھی دیکھا گیا، کیوں کہ 2008 سے 2013تک بر سر اقتدار رہنے کے بعد یہ جماعت صرف صوبہ سندھ ہی میں حکومت بنا سکی تھی جس پر سیاسی حلقوں میں اس کی ساکھ سے متعلق چہ مگوئیاں ہوتی رہی تھیں۔

2015 میں آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے اہم اختیارات اُن کے حوالے کردیے، لیکن پارلیمان کا رُکن بننے کے لیے کم از کم عمر25سال ہے۔ اسی قانون کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے 2013 کے انتخابات میں حصہ نہیں لیااور اب وہ لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے نانا شہید ذو الفقار علی بھٹو بھی کم عمر ی میں اسمبلی کے رکن بنے تھے۔ دو بار ملک کی وزیر اعظم رہنے والی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اپنی وصیت میں اپنے شوہر آصف علی زرداری کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کیا،لیکن انھوں نے بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی کا چیئرمین نامزد کر دیا اور اس طرح وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

سیاسی نظریہ

ترمیم

جمہوریت کی بقا اور استحکام

انتخابی نعرہ’’روٹی ،کپڑا اور مکانــ‘‘

مزدوروں کی آواز

طبقاتی نظام کے خلاف

عوام کی خدمت

اسلام ہمارا مذہب، جمہوریت ہماری سیاست، سوشلزم ہماری معیشت اور عوام ہماری طاقت۔

 
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری

سماجی حقوق کے حامی

ترمیم

خواتین کے حقوق

اقلیتوں کے حقوق

سیاسی پارٹی کی سربراہی

ترمیم

بلاول بھٹو زرداری اپنی والدہ شہید بے نظیر بھٹو کی وفات کے بعد 30 دسمبر2007کو پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ نامز ہوئے۔ ان کا نام بلاول علی زرداری سے تبدیل کرکے بلاول بھٹو زرداری کر دیا گیا۔ بلاول بھٹو نے سیاست کے میدان میں اپنے نانا ذو الفقار علی بھٹو کا اثر قبول کیا۔ ان کی طلسماتی شخصیت اور انداز بیاں کو اپنایا اور اپنے نام کے ساتھ بھٹو کا نام جوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی کی فکر اور سوچ کو عوام تک منتقل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ بلاول بھٹو کی پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے عہدے پر تعیناتی کو ملک کے جمہوری حلقوں نے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا کیوں کہ ملک کی سب سے بڑی جمہوری قوت ہونے کے ناتے پیپلز پارٹی کو اپنے سربراہ کا انتخاب جمہوری طریقے سے کرنا چاہیے تھا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے اعلیٰ حلقوں کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنی وصیت میں انتقال کے بعد آصف علی زرداری کو جماعت کی قیادت دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انھوں نے قیادت کا بوجھ بلاول کے کاندھوں پر ڈال دیا۔

جلسوں میں شرکت

ترمیم

کراچی جلسہ

ترمیم

2014 میں کراچی کے باغ قائد میں تاریخی جلسہ کیا اور اسی جلسے سے بلاول بھٹو زرداری نے اپنے سیاسی سفر کا باقاعدہ آغاز کیا۔ انھوں نے اُس ٹرک سے اپنے سفر کا آغاز کیا جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے 18اکتوبر2007کو استقبالی جلوس کی قیادت کی تھی جس میں انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ کے حوالے سے نظم پڑھی تھی۔ [6](وائس آف امریکا،18اکتوبر 2014)

کوٹلی جلسہ

ترمیم

30 اپریل 2016کو کوٹلی اسٹیڈیم میں جلسہ کیا، جس میں پہلی باربلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے عوام سے خطاب کیا،جلسے میں ہزاروں کی تعداد میں جیالوں نے شرکت کی۔ [7]

(اے آر وائی نیوز، 30 اپریل2016) [[|تصغیر| بلاول بھٹو زرداری پارٹی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے]]

میر پور جلسہ

ترمیم

30 مئی 2016 کو بلاول بھٹو زرداری نے میرپور کرکٹ اسٹیڈیم میں تاریخی جلسہ کیا، جو پاکستان اور آزاد کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ثابت ہوا، جس میں بلاول بھٹو زرداری نے کچھ اہم اعلانات بھی کیے۔ جلسے کے لیے اسٹیڈیم میں 80فٹ لمبااور 24 فٹ چوڑا اسٹیج تیارکیا گیا۔ شہر بھر کو پارٹی پرچموں سے سجایا گیا اور جگہ جگہ بلاول بھٹو کے لیے خوش آمدید کے ہورڈنگ بورڈزبھی لگائے گئے۔ اسی کرکٹ اسٹیڈیم میں 1973میں بلاول بھٹو کے نانا ذو الفقار علی بھٹو شہید اور 1992میں ان کی والدہ شہید بے نظیر بھٹو نے جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔ [8]

(روزنامہ جنگ ،30مئی 2016)

چترال جلسہ

ترمیم

5 اگست2017کو چترال کے پولو گرائونڈ میں جلسہ کیا، جس میں 60ہزار سے زائد افراد نے شرکت کر کے پاکستان پیپلز پارٹی سے محبت کا اظہار کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ جلسہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے انتخابی عمل کے حوالے سے اہمیت کا حامل تھا۔ [9]

(چترال ٹائمز،7اگست2017)

چنیوٹ جلسہ

ترمیم

بلاول بھٹو زرداری نے 12 اگست 2017کو چنیوٹ کے عوام سے خطاب کیا،جہاں انھوں نے ماضی میں چنیوٹ میں کی جانے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی خدمات کا ذکر کیا۔ محترمہ بے نظ

یر بھٹو شہید کے دور میں چنیوٹ میں سوئی گیس کے بڑے منصوبوں، نوجوانوں کے لیے چنیوٹ میں اسٹیڈیم کا قیام اورپاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذو الفقار علی بھٹو کا سیلاب سے بچنے کے لیے باندھے گئے بند کا بھی ذکر کیا۔ جلسے میں بڑی تعداد میں چنیوٹ کے عوام اور جیالوں نے شرکت کی۔ [10](سما نیوز، 12 اگست2017)

افتتاح

ترمیم
نوری آباد پاور پلانٹ
ترمیم

مئی2017 میں بلاول بھٹو زرداری نے نوری آباد میں گیس سے چلنے والے 100میگا واٹ پاور پلانٹ کا افتتاح کیا۔ نوری آباد منصوبے میں 50، 50 میگا واٹ کے 2 پاور پلانٹ لگائے گئے ہیں، جو سندھ حکومت نے نجی اشتراک سے لگایا ہے۔ نوری آباد پاور پلانٹ سے کراچی میں بجلی کا شارٹ فال کم ہوگا۔ [11]

(جیو نیوز31مئی 2017)

منزل پمپ فلائی اوور
ترمیم

جون 2017 میں بلاول بھٹو زرداری نے قائد آباد منزل پمپ فلائی اوور کا افتتاح کیا۔ تین ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہونے والا فلائی اوور 50 کروڑ 14 لاکھ سے روپے  سے زائد لاگت سے تعمیر کیا گیا۔ پل کی لمبائی 560 میٹر اور چوڑائی دس میٹر سے زائد جو تین رویہ ہے۔ منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر جیالوں کا جشن بھی قابل دید رہا۔ پارٹی کارکنوں نے آتش بازی کی اور بلاول سمیت پارٹی کے حق میں خوب نعرے بازی بھی کی۔ [12]

(اب تک نیوز،19جون2017)

منور سہر وردی انڈر پاس
ترمیم

جولائی 2017 میں شارع فیصل پر ڈرگ روڈ کے مقام پر منور سہروردی انڈر بائی پاس کا افتتاح کیا۔ شاہراہ فیصل پر ڈرگ روڈ کے مقام پر بننے والا انڈرپاس 4 ماہ میں مکمل کیا گیا جس کی لمبائی 412 میٹر ہے جب کہ اس کا ٹنل 52 میٹر طویل ہے اور انڈرپاس میں روشنی کے لیے 68 پولز نصب کیے گئے ہیں۔ انڈر پاس 3 ٹریکس پرمشتمل ہے جس کی تعمیر پر 44 کروڑ روپے لاگت آئی ہے جب کہ انڈر پاس کی اندرونی دیواروں پر خوبصورت پینٹنگز بنائی گئی ہیں۔ [13]

(اے آروائی نیوز،12جولائی 2017)

کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزسینٹر
ترمیم

جولائی 2017  چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اندرون سندھ کے پہلے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز کا افتتاح کیا ،35کروڑ روپے سے بننے والے اس سینٹر میں ابتدائی طور پر 12 کمرے تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہاں اندرون ملک سمیت سندھ اور بلوچستان کے مریضوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ [14]

(روزنامہ جنگ،30جولائی 2017)

جھرک پُل
ترمیم

اگست 2017میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جھرک ملا کا تیار پل کا افتتاح کیا۔ ساڑھے چار بلینروپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے پل کی لمبائی 1.7 کلومیٹر ہے، پل کے ساتھ طویل لنک روڈ بھی تعمیر کی گئی ہے، پل ٹنڈو محمد خان کو ٹھٹھہ سے ملانے والے پل کے ساتھ لنک روڈ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ [15]

(دن نیوز،27فروری 2017)

پیپلز ایمبولینس سروس
ترمیم

اگست 2017 میں بلاول بھٹو زرداری نے پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر ٹھٹھہ اور سجاول کے لیے 25پیپلز ایمبولینس سروس کا آغاز کیا،جس میں ہمہ وقت ڈاکٹر، پیرا میڈیکل اسٹاف،جدید سہولیات، آلات اور ادویات موجود ہیں۔ ایمبولینس سروس کو تمام صوبے میں پھیلانے کا ارادہ ۔[16]

(سچ ٹی وی،18مارچ2017)

ذاتی زندگی

ترمیم

بلاول بھٹو زرداری شادی سے زیادہ عوام کی خدمت کو اہمیت دیتے ہیں۔ شادی کی بے شمار آفرز ہیں لیکن اُن کا شادی کرنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو لڑکی ان کی زندگی میں آئے گی اُس کے لیے ذمے داریاں نبھانا آسان نہیں ہوگا۔ بلاول بھٹو اپنی بہنوں بختاور اور آصفہ سے بہت محبت کرتے ہیں اور اپنے لیے اُسی لڑکی کو قبول کریں گے جو اُن کی بہنوں کو پسند ہوگی۔ [17]

شادی کے حوالے سے بلاول بھٹو کے بارے میں یہ خبر بھی عام ہوئی کہ وہ میر مرتضی بھٹو کی صاحب زادی فاطمہ بھٹو سے شادی کر رہے ہیں اور دونوں خاندانوں کے درمیان میں حائل خلیج بھی ختم ہو گئی ہے، لیکن یہ باتیں صرف اخبارات کی زینت بن کر رہ ہی گئیں۔ حقیقت سے ان کا کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔ [18]

بلاول بھٹو زرداری پاکستان کی تما م زبانیں سیکھنا چاہتے ہیں، اُردو زبان پر انھیں کافی حد تک عبور آگیا ہے اور اب اُن کی زیادہ توجہ سندھی زبان سیکھنے پر مرکوز ہے۔ [19]

بلاول بھٹو شوخ طبیعت کے مالک بھی ہیں، رنگوں سے کھیلنا انھیں پسند ہے، یہی وجہ ہے کہ2016میں سندھ میں منائی جانے والی ہولی کی تقریبات میں انھوں نے بطور خاص شرکت کی۔ ہولی کھیلی، مبارک باد دی اور اقلیتوں کے حقو ق کی بات بھی کی۔ [20]

ہولی تو ہولی بسنت میلے میں بھی ان کی دلچسپی بھر پور ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے 2018میں کراچی میں بسنت منانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ [21]

سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرنے اور سندھ کے قدیم وتاریخی مقامات کو ان کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے کے لیے بلاول بھٹو زرداری کی نگرانی میں سندھ فیسٹیول کی 15روزہ تقریبات کا آغاز ہوا۔ افتتاحی تقریب لاڑکانہ کے قریب تاریخی ورثے موئن جو دڑو کے مقام پر ہوئی۔ تقریب میں بلاول بھٹو زرداری، ان کی ہمشیرہ بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے شرکت کی۔ جبکہ شرکاء کے بیٹھنے کے لیے موئن جودڑو کے تاریخی ورثہ کے سامنے لکڑی سے 80 فٹ چوڑا اور 50 فٹ لمبا اسٹیج تیار کیا گیا ہے جبکہ موئن جودڑو کے مختلف حصوں میں رنگ برنگی لائٹس بھی لگائی گئی ہیں۔ [22]

حال ہی میں بلاول بھٹو نے عمران خان کی حکومت کے بارے میں متضاد بیان دیے اور اس بات پر پیپلز پارٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے یہ بات میڈیا پر چلی جسے ایک اردو نیوز کی ویب ساءیٹ نے بھی نشر کیا اور اس میں کہا گیا کہ اگر بلاول کو کچھ ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار عمران خان ہوں گے۔[23]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم

بیرونی روابط

ترمیم
سیاسی جماعتوں کے عہدے
ماقبل  شریک کرسی نشین پاکستان پیپلز پارٹی
2007–تاحال
With آصف علی زرداری
برسرِ عہدہ