سلسلہ مضامین
یہودیت

  

باب یہودیت

ترجُم (عبرانی: תרגום)‎ تنک کا آرامی ترجمہ جسے یہود ربیوں نے دوسرے انتشار کے بعد لکھا۔ جس وقت آرامی زبان یہود کے مابین رواج پزیر ہو چکی تھی اور عبرانی زبان صرف عبادات و رسوم تک محدود ہو چکی تھی۔

جب بنی اسرائيل اسیری سے واپس آئے تو عزرا فقیہ نے شریعت کا عبرانی نسخہ ان کے سامنے پڑھا تھا۔ لیکن چونکہ عوام الناس عبرانی سے ناواقف تھے اور ارامی زبان ہی جانتے تھے لہذا لاوی ان کے معنی بتاتے "اور اُن پڑھی ہوئی باتوں کی عبارت ان کو سمجھاتے تھے۔"(نحمیاہ 8: 1تا 8) مابعد کے زمانہ میں یہ باقاعدہ دستور بن گیا اور چونکہ عوام الناس عبرانی سے ناواقف تھے۔ لہٰذا عبادت خانوں میں پہلے عبرانی نسخہ کی ایک ایک آیت پڑھی جاتی تھی، پھر ایک اور شخص جو "ترجمان" کہلاتا تھا، اس آیت کا ارامی زبان میں ترجمہ کرکے اپنے الفاظ میں اہلِ یہود کے خصوصی عقائد کے مطابق اس عبارت کو سمجھاتا تھا۔ مترجم کو حکم تھاکہ وہ کوئی کتاب استعمال نہ کرے تاکہ لوگ الہامی عبرانی عبارت میں (جو کتاب میں لکھی ہوتی تھی) اور زبانی ترجمہ کے الفاظ میں تمیز کرسکیں۔ اس ترجمہ شدہ توضیحی ارامی عبارت کا نام یہودی اصطلاح میں "ترجم" (بمعنی مفصل ترجمہ) ہے۔ بعد میں یہ توضیحی تشریحیں احاطہ تحریر میں آئیں جو کنعان و بابل کے مدرسوں کے استادوں نے لکھیں۔ ان میں زيادہ مشہور اونکیلوس یا ایکولا (Onkelos or Aquila) کا "بابلی ترجم" (از 100ء تا 200) ہے جو زیادہ تر تورات کے اس متن کا لفظی ترجمہ ہے جو بابل کے دار العلوم میں مستعمل تھا۔