وفاق المدارس الشیعہ پاکستان

وفاق المدارس الشیعہ پاکستان پاکستان میں شیعہ دینی مدارس کی واحد تنظیم ہے ۔

وفاق المدارس الشیعہ پاکستان پاکستان میں شیعہ دینی مدارس کی واحد تنظیم ہے ۔

تاریخی پس منظرترميم

اس کی داغ بیل بزرگ علما کے پاکیزہ افکار نے ڈالی، اس کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ 1958ء میں پاکستان کے شیعہ مدارس کا سب سے پہلا ملک گیر اجتماع جامعۃ المنتظر کی تحریک پر منعقد ہوا جس سے شیعہ مدارس کے باہمی ارتباط کا باقاعدہ آغاز ہو گیا اس اجتماع میں تمام مدارس کے مشترکہ نصاب ،سالانہ تعطیلات اور طریق امتحانات جیسے اہم امور پر بحث و گفتگو کی گئی۔

تنظیم سازیترميم

ان امور کی نگرانی کے لیے جناب علامہ نصیر حسین فاضل عراق کو متفقہ طور پر ذمہ داری سونپی گئی۔ 1962ء میں جامعہ امامیہ لاہور میں شیعہ مدارس کا دوسرا عظیم اجتماع منعقد ہو۔ اس اجتماع میں مدارس دینیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا مدارس کے درمیان باہمی رابطہ کو وسعت دینے کے لیے مجلس نظارت شیعہ مدارس پاکستان کے نام سے ایک تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا گیا۔ علامہ شیخ محمد حسین نجفی آف سرگودھا کو مجلس کا ناظم مقرر کیا گیا۔ لیکن بعد میں مجلس کی کارکردگی میں مطلوبہ پیش رفت نہ ہو سکی۔

17نومبر 1976ء کو شیعہ مدارس کا تیسرا اہم اجتماع پیر محمد ابراہیم ٹرسٹ کی تحریک پر مدرسہ جعفریہ کراچی میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں جامعۃ المنتظر کے مروجہ نصاب کو تمام مدارس کے لیے منظور کر لیا گیا۔ مدارس کے جملہ امور کی دیکھ بھال اور متفقہ فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کے لیے ایک نگران بورڈ تشکیل دیا گیا، لیکن پیر محمد ابراہیم ٹرسٹ کے بانی کی اچانک وفات کے باعث یہ پروگرام ادھورا رہ گیا۔ جنوری 1979ء میں حکومت نے قومی کمیٹی برائے دینی مدارس بنائی جس میں تمام مدارس کے مشترکہ نصاب اور اسناد کے اجرا پر غور و خوض کیا گیا اس کمیٹی میں دیگرمکاتب فکر کے علاوہ شیعہ مدارس کی نمائندگی علامہ سید صفدر حسین نجفی اورمولانا شبیہ الحسنین محمدی نے کی۔

29 , 30 مارچ 1979ء کو جامعۃ المنتظر میں تمام شیعہ مدارس کا عظیم اجتماع منعقد ہوا۔ جس میں حکومت سے مربوط اموراور دینی مدارس کے دیگر مسائل کے بارے میں غور و فکر کیا گیا اس اجتماع میں متفقہ طور پر دینی مدارس کی باقاعدہ تنظیم کے قیام کو آخری شکل دینے اور اسے فعال بنانے کے فیصلے پر عمل درآمد ہوا اور مجلس نظارت جیسے سابقہ تنظیمی ڈھانچوں کے نتیجے میں وفاق المدارس شیعہ پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔

فعالیتترميم

اپریل 1981ء میں عزیز المدارس چیچہ وطنی میں وفاق المدارس شیعہ پاکستان کا اہم اجلاس منعقد ہوا اس اجلاس میں دیگر امور کے علاوہ تمام علما کرام نے متفقہ طور پر علامہ سید صفدر حسین نجفی کو وفاق المدارس کا صدر منتخب کیا اور انہیں اس تنظیم کو فعال بنانے کے مکمل اختیارات سونپ دیے گئے۔ قومی کمیٹی برائے دینی مدارس کی 55 باقاعدہ نشستوں میں جامعہ کی نمائندگی کرتے ہوئے علامہ صاحب کی باقاعدہ شرکت اور انتھک محنت کے نتیجے میں ایک مشترکہ نصاب کی منظوری اور شیعہ طلبہ کے لیے درجہ سلطان الافاضل کی سند کو ایم۔ اے عربی اسلامیات کے مساوی منظور کرانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ علامہ نجفی صاحب نے امتحانی بورڈ قائم کیا جس کے فرائض میں باقاعدہ امتحان کے بعد کامیاب طلبہ کو سند جاری کرنا شامل ہے۔ اس سند کی بدولت سینکڑوں شیعہ فارغ التحصیل طلبہ تعلیمی اداروں اور دیگر محکموں میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔

2 جنوری 1987ء کو جناب صدر وفاق المدارس نے دستور کمیٹی اور نصاب کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں دستور کی باقاعدہ منظوری دی اور مرتبہ نصاب پر غور و فکر کے لیے جامعہ میں بزرگ علما کرام کی اہم نشست بلائی گئی جس میں اہم دینی مدارس کے اکثر مدرسین اعلیٰ اور اساتذہ نے شرکت فرمائی۔ اس اجلاس میں وفاق کا دستور متفقہ طور پر منظور کیا گیا اور علامہ سیدصفدر حسین نجفی کو مزید 5 سالوں کے لیے وفاق کی صدارت کے فرائض سونپے گئے۔ دسمبر 1989ء میں علامہ صاحب کی وفات کے بعد یہ عہدہ خالی ہو گیا۔

وفاق المدارس شیعہ پاکستان، جامعتہ المنتظر تمام دینی مدارس کی ترجمانی کے فرائض سر انجام دیتا ہے۔ وفاق المدارس شیعہ پاکستان، جامعتہ المنتظر لاہور کی طرف سے شائع شدہ دستور پر ملک بھر بزرگ علما کرام کے تائیدی دستخط جامعہ کے تمام مدارس کا نمائندہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اور اس کے فیصلوں کو تمام مدارس کے علما کرام کی حمایت حاصل ہے۔

وفاق المدارس شیعہ پاکستان کے موجودہ سربراہ جناب علامہ سید ریاض حسین نجفی صاحب ہیں جنہیں مجلس عاملہ نے 3 اپریل 2000ء کو آیندہ 5 سالوں کے لیے رئیس الوفاق منتخب کیا ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم