بلوچستان تنازع بلوچ قوم پرستوں اور حکومت پاکستان و ایران کے درمیان چلنے والا ایک گوریلا جنگ ہے۔ اس تنازع کا خطہ پاکستانی صوبہ بلوچستان، ایرانی صوبہ سستان بلوچستان اور افغانی بلوچستان ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند بلوچستان کے وسائل پر اختیار اور الگ ریاست چاہتے ہیں جبکہ پاکستان ،ایران اور افغانستان کے حکومتیں اسے بغاوت اور مخالفین کے سازشیں ٹھہراتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے فریقین (بلوچ علیحدگی پسندوں اور حکومت پاکستان، ایران و افغانستان) پر انسانی حقوقی کی پامالی کا الزام لگتا رہا ہے۔[17]

بلوچستان تنازع

پاکستان،ایران اور افغانستان میں بلوچ آبادی والے علاقے گلابی رنگ میں دکھائے گئے ہیں،جن کے لیے بلوچ علیحدگی پسند الگ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں
تاریخ1948-تاحال
اہم واقعات: 1948، 1958–59، 1963–69، 1973–77، 2004–تاحال
مقامبلوچستان
حیثیت

جاری

مُحارِب

 پاکستان

حمایت:
 چین (2004 سے)[1]
 ریاستہائے متحدہ
 افغانستان (2004 سے)
 متحدہ عرب امارات


 ایران[2]

بلوچ علیحدگی پسند گروہ

حمایت:
 عراق (1970 کی دہائی)[3]
افغانستان کا پرچم جمہوری جمہوریہ افغانستان (1992 تک)


فرقہ وارانہ گروہ
جند اللہ(ایران)[4][5]
جیش‌العدل
جند اللہ(پاکستان)
القاعدہ
لشکرجھنگوی[3]

سپاہ صحابہ[3]
کمان دار اور رہنما

لیاقت علی خان (1947-1951)
ایوب خان (1974-1979)
ذوالفقار علی بھٹو (1971–1979)
ٹکا خان (1979–2002)
رحیم الدین خان (1979–1988)
پرویز مشرف (2001–2008)
اشفاق پرویز کیانی (2007–2013)
راحیل شریف (2013-تاحال)


شاہ رضا پہلوی (1979–1980)
ایران کا پرچم روح اللہ خمینی (1979–1989)
ایران کا پرچم آیت اللہ سید علی خامنہ ای (1989-تاحال)
ایران کا پرچم سید محمد خاتمی (1979–2005)

ایران کا پرچم Hassan Firouzabadi (1979–تاحال)

کریم خان (جنگی قیدی)
نوروز خان (جنگی قیدی)
نواب خیر بخش مری  
میر بالاچ مری  
براہمدغ خان بگٹی[8]
اللہ نذر بلوچ
Javed Mengal[9]


دادشاه  
عبدالمالک ریگی  
عبدالحمید ریگی  

Muhammad Dhahir Baluch[حوالہ درکار]
طاقت

پاکستان کا پرچم پاکستان

چین کا پرچم چین

بی ایل اے: 10,000[11]


جنداللہ: 700[12]-2,000[13]
ہلاکتیں اور نقصانات

پاکستان کا پرچم Pakistani security forces
1973–1977:
3,000–3,300 ہلاک[14]
2006–2009:
303+ ہلاک[15]
چین کا پرچم Chinese armed forces
2004-تاحال:
نامعلوم


ایران کا پرچم ایران
154 ہلاک (security forces and civilians)[16]

بلوچ فائیر
1973–1977
5,300 ہلاک[14]
2006–2009:
380+ ہلاک[15]


~6,000 پاکستان میں شہری ہلاک (1973–1977)[14]
1,628+ پاکستان میں شہری ہلاک (2004–2009)[10][15]
~4,500 گرفتار (2004–2005)[10]
~140,000 بے گھر (2004–2005)[10]

چین کا پرچم 3 چینی انجینئر ہلاک
4 اغوا
5 تیل کے ٹینکر damaged[1]

پاکستانی صوبہ بلوچستان میں اس سے پہلے کئی مرتبہ اس طرح کے تنازعات 1948, 1958–59, 1962–63 اور 1973–77 میں بھی سامنے آئے۔ لیکن موجودہ تنازع جو ان سب سب سے شدت والا ہے، 2003ء میں شروع ہوا۔ اس تنازع نے شدت زیادہ اس لیے اختیار کی کیونکہ پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں قانون و نفاذ کا مسئلہ رہا جس کے پاکستان پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ افغانستان جنگ نے نہ صرف پاکستانی بلوچستان بلکہ پاکستان کے دیگر علاقوں خاص کر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات پر بھی گہرے اثرات چھوڑے۔ تنازع کے شدت کی ایک وجہ وفاق کے سطح پر عدم استحکام بھی بنا۔ عام طور پر لوگوں میں یہ تعصور پایا گیا کہ وفاق پسماندہ اور چھوٹے صوبوں کی طرف توجہ نہیں دیتا۔

علیحدگی پسندوں کیجانب سے حکومت کے تمام بڑے اور اہم تنصیبات پر حملے کیے گئے جن میں ایک فوجی کنٹونمنٹ بھی شامل ہے جو کوئٹہ شہر میں واقع ہے۔ باغیوں نے اس کنٹونمنٹ پر بھی حملہ کیا جس میں اعلیٰ فوجی افسران جاں بحق ہوئے۔[18] پاکستان کا موقف ہے کہ بلوچستان میں کچھ بیرونی قوتیں مداخلت کر کے دہشت گردی کر رہے ہیں اور پاکستان بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے جائے گا۔[19][20][21][22][23] دوسری جانب بلوچ علیحدگی پسندوں کا یہ موقف ہے کہ مرکزی یا وفاقی حکومت بلوچستان کو توجہ نہیں دیتا،بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ قدرتی وسائل فراہم کرنے والا خطہ ہے لیکن پھر بھی سب سے زیادہ پسماندگی اور غربت بلوچستان میں ہے۔[24]

بلوچ ری پبلکن آرمی کو پاکستان اور برطانیہ دونوں نے ایک دہشت گرد کالعدم تنظیم قرار دیا ہے۔[25]۔ بلوچ ری پبلکن آرمی نے کئی دہشت گردانہ حملے کیے ہیں جن میں بہت بڑی تعداد میں نہتے شہری مارے گئے ہیں۔ اس طرح کے دیگر کالعدم تنظیموں میں لشکر بلوچستان اور بلوچ لیبریشن فرنٹ شامل ہیں جن کو کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث پایا گیا ہے جن میں پاکستانی فوجی،پولیس اور بے گناہ شہری مارے گئے ہیں۔[26][27][28] امریکا نے بلوچستان لبریشن آرمی کو ’عالمی دہشت گرد‘ تنظیم قرار دے دیا۔[29]

حوالہ جات

ترمیم
  1. ^ ا ب پ Kiyya Baloch (27 March 2015)۔ "Chinese Operations in Balochistan Again Targeted by Militants"۔ The Diplomat۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جنوری 2016 
  2. Abubakar Siddique (20 October 2009)۔ "Jundallah: Profile Of A Sunni Extremist Group"۔ Radio Free Europe/Radio Liberty۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2014 
  3. ^ ا ب پ B Raman (25 January 2003)۔ "Iraq's shadow on Balochistan"۔ Asia Times۔ 22 November 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010 
  4. Hossein Aryan۔ "Iran Offers Short-Term Solutions To Long-Term Problems Of Baluch Minority – Radio Free Europe / Radio Liberty 2010"۔ Radio Free Europe/Radio Liberty۔ 25 November 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010 
  5. "Iranian group makes kidnap claim – Middle East"۔ Al Jazeera۔ 10 October 2010۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010 
  6. "IB advise talks with Baloch separatists"۔ Dawn۔ 29 February 2012۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جنوری 2016 
  7. "President, PM must talk to Baloch leadership: Nawab Talpur"۔ Pakistan Observer۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مئی 2012 
  8. "PressTV – Baloch rebels 'linked with Afghanistan'"۔ Press TV۔ 3 September 2009۔ 05 مارچ 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010 
  9. "Butchering settlers on Independence day"۔ Pakistan Observer۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2014 
  10. ^ ا ب پ ت ٹ Ray Fulcher (30 November 2006)۔ "Balochistan: Pakistan's internal war"۔ Europe Solidaire Sans Frontières۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2014 
  11. Maloy Krishna (10 August 2009)۔ "Balochistan: Cruces of History- Part II"۔ Maloy Krishna Dhar۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010 
  12. "Asia Times Online :: South Asia news, business and economy from India and Pakistan"۔ Asia Times۔ 7 August 2009۔ 29 November 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010 
  13. "Asia Times Online :: South Asia news, business and economy from India and Pakistan"۔ Asia Times۔ 25 February 2010۔ 29 November 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010 
  14. ^ ا ب پ "Eckhardt, SIPRI 1988: 3,000 military + 6,000 civilians = 9,000, Clodfelter: 3,300 govt. losses"۔ Users.erols.com۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اکتوبر 2014 
  15. ^ ا ب پ "Balochistan Assessment – 2010"۔ Satp.org۔ 11 November 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010 
  16. Patrick Goodenough (20 June 2010)۔ "Iran Executes Insurgent Leader, Accused of Ties With American Intelligence"۔ CNSnews.com۔ 16 جنوری 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 جولا‎ئی 2015 
  17. "Baloch separatists attack traders"۔ BBC News۔ 27 July 2009۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مئی 2012 
  18. Malik Siraj Akbar (3 November 2014)۔ "The End of Pakistan's Baloch Insurgency?"۔ World Post۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جون 2015 
  19. Pakistan to seek extradition of top Baloch insurgents - The Express Tribune
  20. RAW instigating terrorism, says army - Pakistan - DAWN.COM
  21. "Indian RAW Involved in Balochistan and Karachi Unrest"۔ 29 مئی 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جنوری 2016 
  22. 'RAW Is Training 600 Balochis In Afghanistan'
  23. Makhdoom Babar (23 February 2012)۔ "Indian RAW's 'Kao Plan' unleashed in Balochistan"۔ Terminal X۔ 24 جولا‎ئی 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جنوری 2016 
  24. Geoffrey Kemp (2010)۔ The East Moves West: India, China, and Asia's Growing Presence in the Middle East (1st ایڈیشن)۔ Brookings Institution۔ صفحہ: 116۔ ISBN 978-0-8157-0388-4 
  25. "Proscribed Terrorist Organisations"۔ Home Office (Government of the United Kingdom۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جنوری 2016 
  26. "Balochistan: "We only receive back the bodies""۔ The Economist۔ Quetta۔ 7 April 2012۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 جولا‎ئی 2015 
  27. "Waking up to the war in Balochistan"۔ BBC News۔ 28 February 2012۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 07 اپریل 2012۔ The civil war has left thousands dead – including non-Baloch settlers and has gone on for the past nine years, but it hardly made the news in Pakistan, let alone abroad. 
  28. ""Their Future is at Stake": Attacks on Teachers and Schools in Pakistan's Balochistan Province" (PDF)۔ نگہبان حقوق انسانی۔ December 2010۔ militant Baloch groups such as the Baloch Liberation Army (BLA) and the Baloch Liberation United Front (BLUF) seeking separation or autonomy for Balochistan have targeted Punjabis and other minorities, particularly in the districts of Mastung, Kalat, Nushki, Gwadar, Khuzdar, and Quetta. 
  29. [BBC امریکا نے بلوچستان لبریشن آرمی کو ’عالمی دہشت گرد‘ تنظیم قرار دے دیا https://www.bbc.com/urdu/pakistan-48842471]