فقہ جعفری

امام جعفر صادق کی فقہ
(جعفریہ سے رجوع مکرر)

فقہ جعفری اہل تشیع کی فقہ کو کہا جاتا ہے۔ شریعت اسلامی کی اصطلاح میں اپنے چھٹے امام معصوم جعفر صادق علیہ السلام کے بتائے ہوئے فقہی اصولوں اور احکام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عمل کرکے حکم خدا کو استنباط کرنے والے مسلمان جعفری کہلاتے ہیں۔ جنہیں عام طور پر شیعیان علی کہا جاتا ہے۔

اور ان کا مکتب فقہی مکتب جعفریہ اور مذہب شیعہ بھی کہلاتا ہے۔ جس میں شیعہ مجتہدین قرآن و سنت سے مکمل گہرائی سے استدلال کر کے حکم شرعی الہی تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ البتہ کوئی عام شخص براہ راست قرآن و سنت سے اپنی نکالی ہوئی فقہ پر عمل نہیں کر سکتا، بلکہ متبحر جو کئی علوم میں ماہر ہو چکے ہوں اور قدرت استنباط حاصل کر چکے ہوں صرف وہی علما کرام، امام جعفر صادق علیہ السلام اور بقیہ دیگر معصوم اماموں کے بتائے ہوئے دینی اور اسلامی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اجتہاد کرتے ہیں۔ اور ہر دور میں کئی مجتہدین عظام ہوتے ہیں عام لوگ ان مجتہدین عظام میں سے صرف جامع الشرائط (قابل تقلید ہونے کی بہت کڑی شرائط ہیں۔ جیسے اپنے زمانے کے دیگر سب مجتہدین سے اعلم ہونا، اعدل ہونا، افقہ ہونا اور دنیائی و دینی امور میں بے غرض ہونا وغیرہ ضروری ہے لہذا ہر مجتہد قابل تقلید نہیں ہے۔) مجتہد کی تقلید کرتے ہیں۔ جس مجتہد کی لوگ تقلید کریں اس مجتہد کو مرجع تقلید کہتے ہیں۔ اس طرح صدیوں سے ہر دور میں شیعہ مراجع کرام اہل تشیع لوگوں کی دینی رہنمائی کرتے آئے ہیں۔ ہر مرجع مجتہد کی فقہی احکام کی عوامی فقہی کتاب اس کی توضیح المسائل کہلاتی ہیں۔ یعنی بطور مثال سید علی سیستانی مرجع مجتہد کی فقہی عوامی کتاب “سیستانی کی توضیح المسائل" کہلاتی ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے دور میں آٹھ ہزار شاگردوں کی تربیت کی۔ (ان شاگردوں میں سے دو شاگرد امام ابو حنیفہ اور امام مالک بھی ہیں ذیلی بحث میں حوالہ موجود ہے۔) امام جعفر صادق علیہ السلام کے درخشاں و زریں اصول “تفقہ فی الدین“ یعنی اجتہادی اصولوں اور اصول فقہ کی وجہ سے ان کے دور کے شاگردوں کے علاوہ حالیہ دور تک بھی ان کے شاگردان چلے آ رہے ہیں جو انہی کے تعلیم دیے گئے قرآن و سنت سے حکم شریعت اسلام کو استخراج کرنے کے بنیادی فقہی اصولوں کو سامنے رکھ کر اجتہاد و استنباط نیز تقلید کرتے ہیں۔

پس منظر

اہل تشیع امام علی علیہ السلام (شہادت 40 ھ) ہی کے شیعہ ہیں اور جو ہمہ وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہنے والے صحابی ہونے کے علاوہ اہل بیت میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے دین بطور مستقیم مدینۃ العلم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اخذ کیا تھا اور خود باب العلم تھے اور اہل تشیع ان کی فقہ کو مانتے ہیں جس فقہ کو جعفری مکتب فقہ کے نام سے پکارا جاتا ہے کیونکہ جعفر صادق (پیدائش 83ھ وفات 148ھ) نے اس مکتب شیعہ کو ظلم و جبر کے دور کے چھٹنے کے بعد نئے انداز سے بیان کیا تھا۔
مگر اہلسنت و الجماعت کے چار ائمہ ہیں اور چار مکتب فقہی ہیں۔ اہل سنت کے یہ چاروں خود ساختہ مکاتب فقہ، فقہ جعفری (شیعہ مکتب فقہ) کے بہت سالوں بعد وجود میں آئے ہیں جس کی تفصیل آگے آئے گی۔ اور ان چاروں مکاتب کے بانیان صحابی بلکہ تابعی تک نہ تھے۔ اور شیعیان علی علیہ السلام کے مکتب جعفری کے بانی صرف اور صرف اہل بیت خاص طور پر حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام جیسی عظیم شخصیت تھی۔ جس کی تفصیل آگے آئے گی۔

فقہی ائمہ کرام بلحاظ ترتیب زمانی ولادت
ترتیب نام امام مکتبہ فکر سال و جائے پیدائش سال و جائے وفات تبصرہ
1 ابو حنیفہ اہل سنت 80ھ ( 699ء ) کوفہ 150ھ ( 767ء ) بغداد فقہ حنفی
2 جعفر صادق اہل تشیع 83ھ ( 702ء ) مدینہ 148ھ ( 765ء ) مدینہ فقہ جعفریہ، کتب اربعہ
3 مالک بن انس اہل سنت 93ھ ( 712ء ) مدینہ 179ھ ( 795ء ) مدینہ فقہ مالکی، موطا امام مالک
4 محمد بن ادریس شافعی اہل سنت 150ھ ( 767ء ) غزہ 204ھ ( 819ء ) فسطاط فقہ شافعی، کتاب الام
5 احمد بن حنبل اہل سنت 164ھ ( 781ء ) مرو 241ھ ( 855ء ) بغداد فقہ حنبلی، مسند احمد بن حنبل
6 داود ظاہری اہل سنت 201ھ ( 817ء ) کوفہ 270ھ ( 883ء ) بغداد فقہ ظاہری،
بنیادی فرق یہ ہے کہ اہل تشیع، دین اسلام کو صرف اور صرف ان صحابہ سے لیتے ہیں جو حدیث ثقلین پر عمل پیرا ہو کر قرآن مجید اور عترت اہل بیت کے مطابق چلتے ہو۔

مذہب و فقہ جعفریہ کی اساس

اہل تشیع کے ہاں امام معصوم کی موجودگی میں اجتہاد جائز نہیں۔ عصر غیبت صغرائے امام زمانہ 260ھ، تک نص و امامت کا زمانہ ہے۔ بارہ امام اپنے سے کچھ نہیں فرماتے وہ صرف اور صرف حکم خدا اور فرمان نبی بیان کرتے تھے اور ان کی اپنی ذاتی رائے سوائے اللہ و رسول کی مرضی کے، کچھ نہیں ہے۔[1] اور چونکہ معصوم ہیں اس لیے ان کے کلام اور فعل میں کسی غلطی کا شائبہ تک نہیں ہے۔

اسی لیے شیعہ بارہ امام میں سے کوئی بھی مجتہد نہیں کہلاتے بلکہ وہ حکم خدا بتاتے ہیں اور امام معصوم عن الخطاء ہیں اور کسی بھی دینی یا دنیوی علوم میں کسی بشر کے محتاج نہیں ہیں اور کبھی کسی بھی غیر معصوم شخص کی شاگردی اختیار نہیں کی ہے۔ اور کسی امام نے کبھی کسی صحابی یا تابعی سے کوئی دینی مسئلہ دریافت نہیں کیا اور وہ سب خود علم کے بیکراں سمندر ہیں۔ اور دنیا کو علوم سکھاتے رہے ہیں۔ ان کا بتایا ہوا ہر حکم، عین حکم خدا ہے۔[2] اور کبھی ان کی کسی علمی بات کو کسی نے آج تک چیلنج نہیں کیا اور ان معصومین کا کوئی قول و فعل غلط ثابت نہیں ہو سکا۔ انھیں کبھی کسی سوال کے جواب میں سوچنا بھی نہیں پڑتا۔ جب بھی کوئی سوال ان سے کیا گیا فوری طور پر اسی وقت جواب سے فیض بخشتے رہے ہیں۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود حضرت علی اور بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہما کو بہت سے علوم و اسرار کائنات بتانے، سکھانے اور لکھوانے شروع کر دیے تھے۔[3] جو ان دونوں نے نوشتۂ جان کر لیے تھے۔ اور بہت سے علوم، تحریر بھی کر لیے تھے۔ (مولا علی نے وفات نبوی کے بعد قسم کھائی تھی کہ جب تک اپنے نوشتہ جات مکمل نہ کر لوں، عبا اپنے کندھے پر نہ ڈالوں گا یعنی کہیں نہیں جاؤں گا۔ [4]) ان دو معصوم ہستیوں کے نوشتہ جات، جو صحیفہ علوی،[5] مصحف علی[6] اور علم الجفر (جفر اکبر اور جفر اصغر)[7] (اور دو صحیفوں کا ذکر بھی ملتا ہے کہ ایک میں اہل بیت کے محبین کے نام ہیں اور دوسرے میں اعداء کے نام ہیں۔) نیز مصحف فاطمہ کے نام سے آئمہ اثنا عشر کے پاس یکے بعد دیگرے چلتے آ رہے ہیں۔ جس میں قیامت تک کے ضروری علوم درج ہیں۔ آج بھی اس کے اہل یعنی امام زمانہ کے پاس محفوظ ہیں۔

مولا علی فرماتے تھے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہزار علم کے باب سیکھے اور ان علوم کے ہر باب سے ہزار باب علم میں نے خود نکالے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی بن ابو طالب اس کا دروازہ ہے جو کوئی بھی علم کا طلبگار ہو اسی دروازے سے ائے۔ تاریخ جہان کی اکلوتی ہستی ہیں جنھوں نے سلونی قبل ان تفقدونی کا کامیاب دعوی کیا اور کوئی دینی یا دنیوی سوال بلا جواب رد نہیں فرمایا۔ اور آج تک دیگر کسی مخلوق نے ایسا دعوی نہیں کیا۔[8]

اس باب مدینۃ العلم، علی مرتضی، مشکل کشا نے اپنے زمانے میں ہی اپنے مختلف اصحاب کو بہت سے علوم سکھانے اور لکھوانے شروع کر دیے تھے۔ 35ھ تک بہت سے اصحاب کافی علوم و اصول، تحریر کر چکے تھے۔ عبد اللہ بن عباس کو تفسیر قرآن سکھائی۔ اصبغ بن نباتہ کو تاریخ نگاری سکھائی، جنھوں نے 100ھ تک کے تمام حوادث و واقعات کو لکھا تھا۔ اور حارث ہمدانی کو علم حساب اور علم فرائض سکھایا۔[9] میثم تمار اور رشید البلایا۔[10] [11][12] نیز چند دیگر اصحاب کو علم منایا و البلایا سکھایا۔ کسی کو علم کیمیا عطا کیا تو کسی کو کوئی اور علم بخش دیا۔ ابو اسود دوئلی کو عربی صرف و نحو کا علم مرحمت فرمایا۔ سلیم بن قیس کو دیگر انتہائی حساس اسرار اہل بیت عطا فرمائے۔ کمیل بن زیاد کو اللہ تعالی سے دعا کرنے کا طرقہ سکھایا۔

یہی وجہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری صحابیوں رضوان اللہ تعالی علیہم کی وفات کے قریب قریب یعنی 100ھ کے لگ بھگ امامین صادقین (امام باقر اور امام جعفر صادق) نے علوم کے خزانے عطا کرنا شروع کر دیے تھے اور ان کے ہزاروں شاگرد اور اصحاب تھے جو یاد بھی کرتے تھے اور کچھ لکھ بھی لیتے تھے، ان کتابوں کو اصل کہا جاتا ہے یوں ہزاروں کتابیں رشتہ تحریر میں آ چکی تھیں۔ شیخ حر عاملی کہتے ہیں ائمہ کے زمانے میں یا غیبت صغری اور غیبت کبری کے ابتدائی زمانے تک کی کتابوں کے بارے، رجال استر آبادی میں، جن شیعہ تصانیف کا ذکر کیا گیا ہے ان کی تعداد چھ ہزار چھ سو کتاب ہے۔ سید محسن امین نے بھی الذریعہ میں اسی مسئلے کا ذکر کیا ہے۔

ان ہزاروں کتب میں سب سے مشہور 400 کتابیں اصول اربع مائہ کہلاتی ہیں۔ ان کو کثیر راویوں نے بعد میں نقل کیا بہت زیادہ نقل کیا اور یہی بعد میں یکجا ہو کر جوامع حدیثی میں ضم ہو گئیں جیسے احمد بن محمد بن خالد برقی کی کتاب ”المحاسن “(متوفی 274ھ) ۔ محمد بن احمد اشعری قمی کی کتاب ”نوادر الحکمۃ“ ( 293ھ) ۔ احمد بن بزنطی کی ”کتاب الجامع“ (متوفی 221ھ) ۔ حسن اور حسین پسران سعید بن حمد اہوازی کی ”کتاب الثلاثین“۔ یہ وہ کتابیں ہیں جو پہلے مرحلہ میں لکھی گئی ہیں ۔ لیکن دوسرے مرحلہ میں تیسری اور چوتھی صدی میں ہی کتب اربعہ کی شکل میں صحیح اسلام کی مکمل ترین بنیادی مآخذ اور جوامع حدیث بن گئیں۔

نجاشی اور شیخ طوسی کے بقول اسماعیل بن محمد، اسباط بن سالم، بشر بن یسار، حکم بن ایمن، حبیب خثعمی، جمیل بن دراج، حسن بن موسی، حسن عطار، حفص بن بختری، خفص بن سوقہ، حفص بن سالم، حارث بن احول، خالد بن صبیح، داود بن زربی، ذریح محاربی، ربیع بن اصم، سعید بن غزوان، سعید بن مسلمہ، سفیان بن صالح، شعیب بن اعین، شہاب بن عبد ربہ، ہشام بن سالم و ہشام بن حکم وغیرہ نے اپنے اپنے اصل تحریر کیے۔

یعنی 150ھ سے پہلے زمانے میں ہی ہزاروں اصحاب امامین الصادقین (امام باقر و امام جعفر صادق) کی کم از کم 400 کتب تحریر اور مشہور ہو چکی تھیں اور ابھی اہل سنت کا کوئی فقہی مذہب سامنے بھی نہیں آیا تھا۔ اور ان کی کوئی جامع حدیثی بھی نہ تھی۔ مگر مذہب اہل بیت واضح اور مدون تھا۔ اور ان دو اماموں نے مذہب اسلام بتانا شروع کیا تھا جسے بعد میں لوگوں نے ان کے بتانے کی وجہ سے مکتب جعفری یا مذہب جعفری یا فقہ جعفری کہنا شروع کر دیا۔ جو اصل میں حقیقی اسلام ہے۔

امام جعفر صادق کے دو تبع تابعی شاگردوں (ابوحنیفہ اور مالک بن انس) نے یکے بعد دیگرے اہل سنت کے دو نئے فقہی فرقے حنفی اور مالکی بنانے شروع کیے۔ بقیہ دو مکتب اہل سنت بعد میں بنے۔

ایک شاگرد امام ابو حنیفہ (وفات 150ھ) تھے اور جنھوں نے ایک فقہی مذہب کی طرح ڈالی جسے ان کی وفات کے کئی سالوں بعد ان کے شاگرد ابو یوسف (وفات 182ھ) نے پروان چڑھانے کی کوشش کی اور 1000 کے قریب تابعین سے منقول احادیث پر مبنی کتاب الآثار کو ابو حنیفہ سے روایت کرنا شروع کیا جو بعد میں ان کے شاگرد شیبانی (وفات 189ھ) کے ہاتھوں فقہ حنفی کی بنیاد بنا اور اہل سنت کی پہلی مدون فقہ معرض وجود میں آئی پھر اس کے بعد کے 100 سال کے دوران بقیہ تین سنی مکاتب فقہی (مالکی، حنبلی اور شافعی) بھی امام جعفر صادق کے شاگردوں کے شاگرد کے توسط سے بنتے رہے ہیں۔ اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ان چار فقہی فرقوں کے بعد اہل سنت کے ہاں، اجتہاد مطلق کا دروازہ مکمل طور پر آج تک بند ہے اور کوئی مفتی بھی ان چار فقہی اماموں کے مذہب کے خلاف فتوی دینے کی جرئت نہیں کر سکتا۔

شیعہ اماموں کی زندگی (جو عصر نص و امامت کہلاتی ہے) میں ہی تمام احادیث اور فرامین یک جا جمع ہونا شروع ہو گئے تھے اور اصول و فروع کے جوامع حدیثی مرتب کر کے امام معصوم کی خدمت میں پیش کر دیے گئے اور ان کی تائید حاصل کی گئی۔ جیسے محمد بن یعقوب الکلینی (258ھ - 329ھ) کی اصول کافی کے بارے مولا امام زمانہ علیہ السلام نے فرمایا الکافی کاف لشیعتنا یا پھر امام معصوم نے، شیخ صدوق اور شیخ مفید کو اچھے تائیدی الفاظ میں توقیعات وغیرہ کے ذریعے دعائیں دیں۔

اب کلینی اور شیخ صدوق کی کتابیں حد کفایت میں دین اسلام بتا سکتی تھیں مگر کچھ وجوہات کی بنیاد پر شیخ طوسی کو بھی دو حصوں پر مبنی ایک جامع حدیثی تیار کرنا پڑا۔

اس طرح حدیث ثقلین کے مطابق قرآن و عترت محمد یعنی قرآن و کتب اربعہ مذہب و فقہ جعفری کے بنیادی مآخذ قرار پائے۔ اور اجتہاد کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔

مگر مکتب تشیع کے علاوہ بقیہ مذاہب اربعہ نے اجتہاد کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ وہ سد ذرائع کا بہانہ بنا کر اپنے چار فقہی مذاہب پر جمود کیے ہوئے ہیں اور آج تک ان جائز الخطاء، چار فقہاء کے خلاف فتوی کی جرئت نہیں کر سکے۔

اس کی بنیادی وجہ عترت اور اہل بیت سے دوری ہے۔ وہ اہل بیت سے احادیث نہیں لیتے بلکہ ان لوگوں سے دینی تعلیمات لیتے ہیں جن می سے کچھ، مشکوک اور متنازع اور کچھ دشمن اہل بیت ہیں۔ ایرانی علما کی لکھی ہوئی صحاح ستہ میں سے ایک صحیح بخاری کے متعلق ایک اہم بات یہی ہے جس کو جان کر ہر محب اہل بیت سُنی کا سر چکرا جائے۔ قرآن کے بعد سب سے صحیح ترین مانی جانے والی کتاب صحیح بخاری کے ایرانی مصنف محمد بن اسماعیل بخاری (وفات 256ھ) نے اپنی کتاب میں امام جعفر صادق، امام موسی کاظم، امام علی رضا، امام محمد تقی، امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہم السلام سے ایک روایت بھی نقل نہیں کی جبکہ یہ ان کے ہم عصر شمار ہوتے تھے۔

اور اسی طرح سے امام حسن، ان کے فرزند حسن بن حسن، زید بن علی بن حسین، یحیی بن زید اور نفس زکیہ اور دیگر ائمہ اور ان کی اولاد سے ایک روایت بھی نقل کرنا گوارا نہیں کی۔ حالانکہ ان افراد نے دین اور اس کے احکام کی سربلندی کی خاطر اپنی زندگی وقف کی اور اپنی جانوں کے نذرانے دیے اور کسی لمحہ بھی کوئی برائی ان کے قریب نہیں پھٹکی۔

جب کہ امام حسن مجتبی رسول خدا کے سبط اکبر اور ریحانہ الرسول اور سردار جوانان جنت ہیں لیکن اس کے باوجود ان سے بھی ایک روایت نقل نہیں کی۔

جبکہ عمران بن حطان خارجی جیسے دیگر دشمنان اہل بیت سے روایات جابجا نقل کی ہیں۔ بلکہ اگر کتب اہل سنت کو دیکھا جائے تو ان کا وتیرہ ہی یہ تھا کہ جو صحابی، تابعی اور راوی محب اہل بیت و علی ہیں ان کے فضائل نیز ان کی روایت کو اخذ کرنے کے معاملے میں بے رخی برتتے ہیں یا منفی و مشکوک رویہ رکھتے ہیں۔[13] لیکن دشمنان علی و اہل بیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

اس اہمال، غفلت اور لا تعلقی کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ کہ جب بعد از رسول اللہ ص افضل ترین افراد بشر، خاندان محمد ہے۔ ان سے اس قدر لاتعلقی اور بے پروائی کے باوجود ایسی کتاب کو بعد از قرآن سب سے افضل ترین کتاب کا درجہ کیسے مل سکتا ہے؟ آخر وہ کونسا معیار تھا؟ کیا کہیں یہ معیار بغض اور دوری از اہل بیت تو نہیں؟

ہر اس صحابی اور راوی کو ترک کر دیا گیا جو اہل بیت اور علی کا ساتھی رہا ہو۔ اسی لیے اہل سنت کی فقہ بہت سی دینی سوالوں کے جواب میں متحیر نظر آتی ہے۔ مگر فقہ جعفری کسی ایک دینی مسئلے میں بھی جمود کا شکار نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اہل تشیع سنیوں کی احادیث کو معتبر نہیں سمجھتے اور ان کی کتب صحاح جیسے صحاح ستہ اور کتب مسانید نیز کتب سنن کو دینی احکام کے بیان میں درست نہیں مانتے۔ اور جو نیک، عادل اور ثقہ راوی، اہل بیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ماننے والے ہوں انہی کی بیان کردہ حدیث کو در خور اعتنا جانتے ہیں اور دشمن اہل بیت کے اقوال کو ہرگز دینی مسئلے کا مآخذ قرار نہیں دیتے۔

اہل سنت کا مذہب اہل بیت سے اختلاف

  • اہل سنت اہل بیت سے احادیث نبوی نہیں لیتے بلکہ صرف چند خاص اصحاب سے لیتے ہیں۔ جبکہ اہل تشیع اولویت اہل بیت کو دیتے ہیں پھر اصحاب کو۔
  • اہل سنت اجتہاد کا راستہ مکمل طور پر بند سمجھتے ہیں جبکہ اہل تشیع کسی بھی جائز الخطاء مجتہد کی بات کو حرف آخر نہیں سمجھتے اور دین فہمی کا راستہ بند نہیں سمجھتے اور جدید مسائل میں بھی بند گلی میں قرار نہیں پاتے اور ہر دینی مسئلے میں حکم شرعی کے استنباط میں قرآن و سنت کو اصلی منبع قرار دیتے ہیں۔
  • اہل سنت قیاس غیر منصوص العلہ جیسے ظنی راستے پر چلتے ہیں اور اہل بیت علیہم السلام اس کو مکمل طور پر غیر شرعی جانتے ہیں۔
  • اہل سنت قرآن اور نبی اکرم کے حکم سے ثابت حکم شرعی کو منسوخ قرار دے لیتے ہیں مگر مذہب اہل بیت، دین اسلام کے احکام کو تا قیامت لاگو سمجھتا ہے اور کسی شخص یا گروہ کو حکم شرعی کے منسوخ کرنے کا مجاز نہیں جانتا۔ جیسے حکم متعہ یا طواف النساء کا مسئلہ۔
  • قرآنی احکام میں جہاں فہم نبوی موجود ہو کسی دیگر فرد کا فہم حیثیت نہیں رکھتا مگر اہل سنت چند مسائل میں کسی صحابی یا فقیہ کے حکم کو مقدم جانتے ہیں جیسے تین طلاق یا اشہاد عدلین یا تحریم ذبیحہ کتابی یا تحریم تزویج با یہود و نصاری یا وضو میں مسح پا اور جوتے و جراب پر مسح وغیرہ میں کرتے ہیں۔[14]

فقہ جعفری کے بنیادی مآخذ

فقہ جعفریہ کی جوامع احادیث کی چار بنیادی کتابیں ہیں جو فقہ جعفریہ کا قرآن مجید کے بعد اصل ماخذ ہیں "کتب اربعہ" کہلاتی ہیں۔ یہ کتب احادیث نبوی نیز آئمہ اثنا عشریہ کے فرامین پر مشتمل ہیں جو ابتدائی دو صدی میں لکھی گئی ہزاروں شیعہ کتب سے ماخوذ ہیں۔[15] اور یوں بنیادی احادیث کی جمع آوری گیارہویں امام حسن بن علی عسکری کے دور (232ھ[16] تا 260ھ) میں ہی مرتب ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ بلکہ آخری امام کے نواب کی موجودگی میں ہی دو جامع حدیث تحریر ہو چکی تھیں اور آخری دو جوامع میں موجود احادیث علاحدہ علاحدہ پراکندہ تحریروں میں اور زبانی بھی نقل تو ہوتی رہی مگر یکجا تحریری شکل ان دو کے کچھ بعد میں ہوئی۔
کتاب الکافی، من لا یحضره الفقیہ، تہذیب الاحکام، الاستبصار

الکافی

جس کے مرتب ابو جعفر کلینی ہیں یہ کتاب امام جعفر صادق کے وصال کے تقریباً 180 سال کے بعد لکھی گئی۔

من لا یحضرہ الفقیہ

اس کے مرتب محمد بن علی ابن بابویہ (معروف بہ شیخ صدوق) ہیں جو امام جعفر صادق کے 230 سال بعد لکھی گئی۔

تہذیب الاحکام

یہ محمد بن حسن طوسی (معروف بہ شیخ طوسی) کی مرتب کردہ ہے جو امام جعفر صادق کے 310 برس بعد لکھی گئی۔

الاستبصار

یہ بھی محمد بن حسن طوسی (شیخ طوسی) کی مرتب کردہ ہے جو تقریبا امام جعفر صادق کے 310 برس بعد لکھی گئی۔[17]

امام جعفر صادق علیہ السلام، سب سے بڑے امام و فقیہ تھے:

امام صادق (علیہ السلام) اپنے زمانہ کے تمام لوگوں کے نزدیک بہت ہی ممتاز تھے، یہاں پر ہم آپ کے بعض معاصرین کے اقوال کو بیان کرتے ہیں :

١۔ ابوحنیفہ، نعمان بن ثابت (ت : 150ھ۔ ق۔) وہ کہتے ہیں : «جعفر بن محمد افقہ من رایت « ۔[18] میری نظر میں جعفر بن محمد سب سے زیادہ فقیہ ہیں ۔[19][20] دوسری جگہ پر انھوں نے کہا ہے : «لولا السنتان لہلک النعمان « ۔[21] اگر وہ دو سال نہ ہوتے جن میں میں نے امام صادق (علیہ السلام) کے علوم سے استفادہ کیا ہے تو میں ہلاک ہوجاتا۔ بلکہ اس نام کی دو جلدی کتاب بھی ہے امام ابو حنیفہ کی۔

حافظ شمس الدین محمد بن محمد جزری نے کہا ہے : « وثبت عندنا انّ کلا من الامام مالک و ابى حنیفۃ صحب الامام ابا عبد الله جعفر بن محمّد الصادق حتى قال ابوحنیفۃ: مارأیت افقہ منہ۔..« [22]۔

ہمارے لیے ثابت ہو گیا ہے کہ مالک اور ابوحنیفہ، امام ابو عبد اللہ جعفر بن محمد الصادق (علیہ السلام) کے مصاحب تھے، یہاں تک کہ ابوحنیفہ نے کہا ہے : میں نے کسی کو، ان (یعنی امام جعفر صادق) سے زیادہ فقیہ نہیں پایا۔

٢۔ مالک بن انس (ت : 179ھ۔ ق۔) « ما رأت عین و لا سمعت اذن و لا خطر على قلب بشر افضل من جعفر بن محمّد الصادق علماً وعبادة و ورعاً «[22] ۔ علم و عبادت اور تقوی میں امام جعفر صادق سے افضل کبھی نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی دل پر ظاہر ہوا ہے ۔

نیز کہا ہے : « کنت آتى جعفر بن محمّد و کان کثیر التبسّم، فاذا ذکر عنده النبىّ اخضرّ واصفرّ، وما رأیتہ قطّ یحدّث عن رسول الله الاّ عن طہارة « [23] میں جعفر بن محمد کی خدمت میں پہنچا تو اس وقت وہ بہت زیادہ مسکرا رہے تھے اور جب بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا نام آتا تھا تو آپ کا رنگ بدل جاتا تھا۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے وضو کے بغیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حدیث نقل کی ہو۔

٣۔ منصور دوانیقی : « انہ لیس من اہل بیت الا وفیہم محدث وان جعفر بن محمد محدثنا الیوم «۔[24] ہر زمانہ میں اہل بیت سے ایک شخص محدث رہا ہے اور یقینا اس وقت جعفر بن محمد ہمارے محدث ہیں۔[25]

چند کتب

  1. اصول کافی
  2. استبصار
  3. من لا یحضرہ الفقیہ
  4. تہذیب الاحکام
  5. وسائل الشیعہ
  6. جامع مسانید ابى حنیفہ
  7. مختصر التحفۃ الاثنى عشریۃ
  8. اسنى المطالب
  9. تہذیب التہذیب۔
  10. تاریخ یعقوبى۔
  11. اہل بیت از دیدگاه اہل سنت، على اصغر رضوانى۔[26]

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. امام باقر علیہ السلام نے جابر سے فرمایا: یا جابر انّا لو کنّا نحدّثکم براٴینا و ہوانا لکنّا من الہالکین، ولکن نحدّثکم باحادیث نکنزہا عن رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) یعنی اے جابر ؛ اگر ہم اپنی رائے اور خواہشات نفسانی کی بنا پر تمھارے لیے کوئی بات بیان کریں تو ہم تباہ ہونے والوں میں شامل ہو جائیں گے، لیکن ہم تم لوگوں کے لیے ایسی احادیث نقل کرتے ہیں جو ہم نے رسول خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے خزانہ کی صورت میں جمع کی ہیں۔ بنقل از جامع احادیث الشیعہ، ج 1 ص 18 از مقدمات، حدیث 116
  2. امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ایک حدیث میں مذکور ہے کہ کسی نے امام (ع) سے سوال کیا اور حضرت (ع) نے جواب دیا۔ اس شخص نے امام کی رائے تبدیل کرنے کی غرض سے بحث شروع کر دی تو امام صادق نے فرمایا: (ما اجبتک فیہ من شے فہو عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) یعنی میں نے تجھے جو جواب دیا ہے وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے (اور اس میں بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے)۔ (اصول کافی، ج 1 ص 58 حدیث 121)
  3. امام باقر (علیہ السلام) نے اپنے ایک صحابی حمران بن اعین سے ایک بڑے کمرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اے حمران! اس کمرہ میں ایک نوشتہ ہے جس کی لمبائی ستر ہاتھ کی ہے اور اس کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی علیہ السلام کو املا کیا ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے، خدا کی قسم اگر ہمیں حکومت مل جائے تو ہم اس چیز کی بنیاد پر حکم کریں گے جو خداوند عالم نے نازل کیا ہے۔
  4. " إنّي لم أزل منذ قبض رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) مشغولاً بغسله وتجهيزه ثم بالقرآن حتى جمعته كله ولم ينزل الله على نبيّه آية من القرآن إلاّ وقد جمعتها " احتجاج طبرسی ص 82
  5. یا صحیفہ علی، ابو جحیفہ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ : کیا تمھارے پاس کوئی (اور بھی) کتاب ہے؟ انھوں (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ: نہیں! مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ میں نے پوچھا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انھوں (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: دیت اور قیدیوں کی رہائی وغیرہ کا بیان ہے اور یہ حکم کہ مسلمان، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ صحیح بخاری، كتاب العلم، باب: کتابۃ العلم، حدیث: 111
  6. اسے الجامعہ بھی کہتے ہیں۔ یہ علی علیہ السلام کا اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن کا وہ نسخہ ہے جو انھوں نے اس قرآن سے کاپی کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دور میں خود جمع کروایا تھا۔ منبر نبوی کے قریب رکھا ہوتا تھا اور صحابہ اسی سے قرآن سیکھتے اور نسخہ برداری کرتے تھے۔ بعد میں اپنے اس مصحف میں حضرت علی نے ہر آیت یا سورہ کی شان نزول اور مزید وضاحتی حاشیے اور نبی اکرم سے سنے ہوئے اضافات بھی کیے تھے۔
  7. یہ چمڑے کے دو صندوقچوں میں بند، کتب انبیائے سابق اور مجموعہ معارف اور دیگر اشیاء ہیں جو علی و فاطمہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وراثت میں ملی تھیں۔
  8. تاریخ میں اکا دکا افراد نے ایسے دعوے کی ناکام جرئت کی مگر جلد ہی رسوا ہوئے اور دعوی واپس لینا پڑا۔
  9. مولا نے حارث ہمدانی سے فرمایا یا حار ہمدان من یمت یعنی اس دنیا میں جو بھی مرے گا مجھے ضرور دیکھے گا۔
  10. امام علی (ع) نے انھیں رشید البلایا کا نام دیا۔ اعیان الشیعہ، ج 7، ص 7
  11. امام کاظم (ع) نے ان کے بارے میں اپنے ایک صحابی سے فرمایا:يَا إِسْحَاقُ قَدْ كَانَ رُشَيْدٌ الْهَجَرِيُّ يَعْلَمُ عِلْمَ الْمَنَايَا وَ الْبَلَایا۔ اے اسحاق! رشید ہجری منایا اور بلایا کا علم جانتے تھے۔ کافی، ج 1، ص 484
  12. بحار الانوار، ج22، ص123، ج48، ص54؛ المناقب، ج 4، ص 287
  13. قال الإمام الحديث أبو حيان سعيد الحديث مثل المتعة واللحوم والحبر والحديث قرطاس وقلم,حديث لوح فاطمة، حديث مهدي , جميع الأحاديث عن آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ مزيفة, كتاب الفتن وأشراط الساعة , لَاوَاِنِّیْ اَوْتیت الْقُرْاٰنَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ , حَدِيثُ اَلكِسَاء وكلها مزيفة ومزخرفة ، وقال إن البخاري والمسلم أخذوا آلاف المزيفة. ، أحاديث مفبركة في مجموعاتهم. قال الإمام الحديث أبو حيان سعيد أن كل أحاديث كتاب الفتن في البخاري ومسلم مزيفة ومختلقة.
  14. لا يعتمدون في الفقه بعد القرآن إلا على الأحاديث التي رواها أئمة الشيعة من آل البيت، كما أنهم يرون فتح باب الاجتهاد، ويرفضون القياس غير المنصوص العلة، وينتشر هذا المذهب حاليا في إيران والعراق. وفقه الإمامية لا يختلف في الأمور المشهورة عن فقه أهل السنة إلا في سبع عشرة مسألة تقريباً، من أهمها إباحة نكاح المتعة، وإيجاب الإشهاد على الطلاق، وتحريم ذبيحة الكتابي وتحريم الزواج بالنصرانية أو اليهودية، وتقديم ابن العم الشقيق في الإرث على العم لأب، وعدم مشروعية المسح على الخفين، ومسح الرجلين في الوضوء، ويزيدون في أذانهم: «أشهد أن علياً ولي الله»، و«حي على خير العمل»، وتكرار جملة: «لا إله إلا الله». نقل عن الفقه الإسلامي وأدلته لوهبة الزحيلي ج 1 ص 58 و 59
  15. شیخ حر عاملی کہتے ہیں ائمہ کے زمانے میں تا غیبت صغری اور غیبت کبری کے ابتدائی زمانے تک کی کتابوں کے بارے، رجال استر آبادی میں، جن شیعہ تصانیف کا ذکر کیا گیا ہے ان کی تعداد چھ ہزار چھ سو کتاب ہے۔ سید محسن امین نے بھی الذریعہ میں اسی مسئلے کا ذکر کیا ہے۔
  16. فقہ جعفریہ جلد اول، محمد علی، صفحہ 58، مکتبہ نوریہ حسنیہ، لاہور
  17. فقہ جعفریہ جلد اول، محمد علی، صفحہ 58، مکتبہ نوریہ حسنیہ، لاہور
  18. "جامع مسانید ابى حنیفہ، ج 1، ص 222."۔ 06 مارچ 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 اکتوبر 2015 
  19. بہت سی کتابوں میں ہے منجملہ تهذيب الكمال - للمزّي / ج 5 / ص 79
  20. "وسُئل الإمام أبو حنيفة عن أفقه من رأى فقال: ما رأيت أحدًا أفقه من جعفر بن محمد"۔ 24 دسمبر 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 اکتوبر 2015 
  21. مختصر التحفۃ الاثنى عشریۃ، ص 9، مطبعہ سلفیہ، قاہرہ۔
  22. ^ ا ب اسنى المطالب، ص 55.
  23. تہذیب التہذیب، ج 2، ص 104.
  24. تاریخ یعقوبى، ج 3، ص 177.
  25. اہل بیت از دیدگاه اہل سنت، على اصغر رضوانى، ص 100.
  26. بحوالہ ویب گاہ آیت اللہ مکارم شیرازی۔