پاکستان کی کابینہ وزیر اعظم کی زیر قیادت وزراء کی وہ جماعت ہے جو حکومت چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

وزرا کی مجلس کی صدارت وزیر اعظم کرتا ہے۔ تکنیکی طور پر یہ حکومت پاکستان کی کلی خود مختار مجلس ہے۔

موجودہ کابینہترميم

وفاقی وزراترميم

عہدہ برسر منصب جماعت قلمدان سنبھالا
 
وزیر اعظم
باقی تمام عہدے وزیر اعظم نے خود رکھ لیے
 
عمران خان
پاکستان تحریک انصاف 18 اگست 2018
 
وزیر دفاع
 
پرویز خٹک [1]
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر دفاعی پیداوار
 
زبیدہ جلال خان
بلوچستان عوامی پارٹی 20 اگست 2018

وزیر تعلیم
 
شفقت محمود [1]
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر پیٹرولیم
 
غلام سرور خان
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018
 
وزیر خزانہ
 
اسد عمر [2]
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018
 
وزیر خارجہ
 
شاہ محمود قریشی [3]
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر صحت
 
عامر محمود کیانی[1]
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر انسانی حقوق
 
شیریں مزاری
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر اطلاعات و نشریات
 
فواد چودھری
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات
 
خالد مقبول صدیقی
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 20 اگست 2018

وزیر بین الصوبائی رابطہ‬
 
فہمیدہ مرزا
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 20 اگست 2018

وزیر قانون و انصاف
 
فروغ نسیم
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 20 اگست 2018

وزیر مذہبی امور
 
نور الحق قادری
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

 
وزیرِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس

 
طارق بشیر چیمہ
پاکستان مسلم لیگ (ق) 6 ستمبر 2018

وزیر ریلوے
 
شیخ رشید احمد
عوامی مسلم لیگ (پاکستان) 20 اگست 2018

وزیر آبی وسائل
 
خسرو بختیار
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018ء

وزیر مملکت برائے داخلہ
 
شہریار خان آفریدی
پاکستان تحریک انصاف 31 اگست 2018ء

وزیر اعظم کے مشیرترميم

کابینہ
عہدہ برسر منصب قلمدان سنبھالا، قلمدان چھوڑا

مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ
 
محمد شہزاد ارباب [4]
20 اگست 2018

مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، صنعتی پیداوار
 
عبد الرزاق داؤد
20 اگست 2018

مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی
 
ملک امین اسلم
20 اگست 2018

مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری
 
عشرت حسین
20 اگست 2018

مشیر برائے پارلیمانی امور
 
بابر اعوان
20 اگست 2018، 4 ستمبر 2018

2009ء کابینہترميم

26 جنوری 2009ء کو چار نئے وفاقی وزراء کی جانب سے عہدے سنبھالنے کے بعد وفاقی وزراء کی کل تعداد 41 ہو گئی تاہم 16 دسمبر 2009ء کو نئے اعلان کے بعد یہ تعداد 39 رہ گئی۔ ان چار وزراء میں سے دو کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ اور دو کا جمعیت علمائے اسلام ف سے تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ مرکز میں اتحادی حکومت کا حصہ بنی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے لیے حکومت نے وزارت محنت، افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اس طرح محنت و افرادی قوت کی وزارت الگ اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت الگ کر دی گئی۔ موخر الذکر وزارت کے علاوہ بندرگاہوں اور جہاز رانی کی وزارت بھی متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے وزراء کو ملی۔ ان وفاقی وزراء کے علاوہ وزرائے مملکت کی تعداد 17 ہے۔ اس تازہ ترین تبدیلی کے بعد کابینہ کے اراکین میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 42، جمعیت علمائے اسلام ف اور عوامی نیشنل پارٹی کے 3،3، متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان مسلم لیگ ف اور قبائلی علاقہ جات کے 2،2 اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے ایک، ایک رکن کابینہ کا حصہ ہیں جبکہ ایک رکن آزادامیدوار ہیں۔ اس طرح وزراء کی کل تعداد 58 ہے۔

فروری 2009ء میں خواجہ محمد خان ہوتی نے اپنی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت سے اختلافات کے باعث انسداد منشیات کی وزارت سے استعفی دے دیا۔

2009ء میں ہی رحمٰن ملک کو مشیر داخلہ سے وزیر داخلہ قرار دے دیا گیا کیونکہ ایوان بالا سینیٹ کے رکن بن گئے۔ علاوہ ازیں فاروق نائیک کے چیئرمین سینیٹ بننے کے بعد سید مسعود کوثر کو مشیر قانون و انصاف قرار دے دیا گیا۔ اسی سال رضا ربانی اور شیری رحمٰن نے بھی مبینہ طور پر جماعت کی قیادت سے اختلاف کے باعث کابینہ سے استعفا دے دیے ۔[5][6] شیری رحمٰن کی جگہ قمر زمان کائرہ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بنایا گیا۔

ڈاکٹر عاصم حسین کے استعفے کے بعد حکومت نے اگست 2009ء میں وزیر برائے تیل و قدرتی وسائل سید نوید قمر کو وزارت نجکاری کا اضافی عہدہ عطا کیا ۔[7] تاہم دسمبر 2009ء میں وفاقی کابینہ میں ایک مرتبہ پھر رد و بدل کرتے ہوئے حکومت نے ان سے یہ عہدہ وقار احمد خان کو منتقل کر دیا گیا جو پہلے وزیر سرمایہ کاری کے فرائض انجام دے رہے تھے[8] علاوہ ازیں دسمبر 2009ء میں دیگر تبدیلیوں میں میر ہزار خان بجارانی سے وزارت تعلیم کا قلمدان واپس لے کر انہيں وزیر صنعت و پیداوار بنا دیا گیا جبکہ وزیر صنعت و پیداوار منظور وٹو کو وزارت امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کا قلمدان سونپ دیا گیا۔ حکومت نے ساتھ ہی وزارت سرمایہ کاری اور وزارت ترقیات و منصوبہ بندی کے خاتمے کا بھی اعلان کیا اور ان محکموں کو وزیر اعظم کے ماتحت کر دیا[8]۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ Pakistan. "PM Imran Khan approves 20-member federal cabinet | Pakistan". thenews.com.pk. 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018. 
  2. "Finance Minister to be, Asad Umar hints at a bad news for country". Timesofislamabad.com. 2018-07-29. 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018. 
  3.   (2018-08-16). "Expected federal ministers in new government of PTI – Pakistan – Dunya News". Dunyanews.tv. 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018. 
  4. عباس شبیر (2014-06-20). "PM finalises names for 20-member federal cabinet". Samaa.tv. 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018. 
  5. رضا ربانی نے استعفیٰ دے دیا روزنامہ نوائے وقت، 14 مارچ 2009ء
  6. شیری رحمٰن کا استعفا منظور، کائرہ کو اضافی چارج دے دیا گیا - اے آر وائی ون ورلڈ، 14 مارچ 2009ء
  7. سید نوید قمر کا تعارفی صفحہ
  8. ^ ا ب 2 وزارتیں ختم، 4 وزراء کے محکمے تبدیل - روزنامہ جنگ کراچی، 16 دسمبر 2009ء