ریاست بہاولپور، برطانوی ہند میں ایک ریاست تھی۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد اس نے پاکستان سے الحاق کیا لیکن 1955ء تک اس کی ریاستی حیثیت برقرار رہی۔ ریاست بہاولپور دریائے ستلج اور دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ ریاست تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں تقسیم تھی۔

رِیاست بہاولپُور
1802ء–1955ء
Flag of بہاولپور
Flag

معجم سلطانی ہند میں ریاست بہاولپور
دار الحکومتبہاولپور
تاریخ
حکومت
 • قسمفرمانروائی (1690ء–1955ء)
وزیر اعظم 
• 1942ء–1947ء
سر رچرڈ مارش کروفٹن
• 1948ء–1952ء
سر جان ڈرنگ
• 1952ء - 14 اکتوبر 1955ء
اے آر خان
تاریخی دورمغلیہ سلطنت (1802–1858) برطانوی ہند (22 فروری 1858-1947) پاکستان کی نوابی ریاست (1947-1955) مغربی پاکستان کا حصہ (1955-1970) پنجاب، پاکستان (1970ء-تاحال) ضلع بہاولپور، ضلع بہاولنگر اور ضلع رحیم یار خان کے درمیان تقسیم
• 
1802ء
• 
14 اکتوبر 1955ء
ماقبل
مابعد
مغلیہ سلطنت
مغربی پاکستان
آج یہ اس کا حصہ ہے:پاکستان

ریاست بہاولپور کی بنیاد 1690ء میں بہادر خان عباسی دوم نے رکھی۔ نواب محمد بہاول خان سوم نے برطانوی حکومت سے پہلا معاہدہ کیا جس کی وجہ سے ریاست بہاولپور کو خود مختار حثیت حاصل ہوئی۔

تاریخ

ترمیم

ریاست بہاولپور کے ڈاک ٹکٹ

ترمیم

1945ء تک ریاست بہاولپور برطانوی حکومت کے جاری کردہ ڈاک ٹکٹ استعمال کرتی تھی۔ یکم جنوری 1945ء کو سرکاری استعمال کے لیے اپنے ٹکٹ جاری کیے۔ یکم دسمبر 1947ء کو حکمران خاندان کی حکمرانی کے 200 سال پورے ہونے پر یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا جس پر نواب بہاول عباسی کی تصویر اور لفظ بہاولپور لکھا ہوا تھا۔ بعد میں یکم اپریل 1948ء کو مختلف نوابوں اور عمارات کی تصاویر پر مشتمل ڈاکٹ ٹکٹ جاری کیے گئے۔ بعد ازاں اکتوبر 1949ء کو یونیورسل پوسٹل یونین کی 75 ویں سالگرہ پر بھی ٹکٹ جاری کیے گئے۔ اس کے بعد ریاست نے مزید ٹکٹ جاری نہیں کیے اور صرف پاکستان کی جاری کردہ ٹکٹیں ہی استعمال کیں۔

ریاست کی مختصر تاریخ

ترمیم

ایک خود مختار ریاست کے طور پر بہاولپور کی تاریخ دو سو برس سے زیادہ عرصے پر مشتمل ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ریاستِ بہاولپور کے امورِ خارجہ، دفاع اور کرنسی کا انتظام برصغیر کے حاکم راج برطانیہ کے ذمے تھا جبکہ دیگر معاملات ریاست کے بانی عباسی خاندان کے نواب سنبھالتے تھے۔ پاکستان میں شامل ہونے کے بعد کچھ عرصہ یعنی سنہ 1955 تک بہاولپور کی حیثیت ایک صوبے کی رہی ہے۔' سنہ 1955 میں بہاولپور صوبے کے طور پر ون یونٹ میں شامل ہوا، مگر سنہ 1970 میں ون یونٹ کے خاتمے پر اسے بہاولپور صوبے کے درجے پر بحال نہیں کیا گیا۔ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد، ریاست بہاولپور نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر طاہر کے مطابق، جو صادق ایجرٹن کالج میں شعبہ تاریخ کے صدر رہے ہیں ان کے مطابق بہاولپور کے بیشتر لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ 1955 میں ون یونٹ میں شامل ہونے سے پہلے، بہاولپور تین سال تک ایک علیحدہ صوبے کی حیثیت رکھتا تھا۔ ان کے مطابق، بہاولپور کے حکمران، نواب صادق محمد خان خامس، نے پاکستان کی حکومت کے ساتھ متعدد معاہدے کیے۔ 'ان معاہدوں کے نتیجے میں، ریاست بہاولپور کے اختیارات آہستہ آہستہ ختم ہوتے گئے اور یہ ایک ریاست سے ایک صوبہ بن گئی۔' 1952ء کے انسٹرومنٹ آف ایکسیشن، جو ایک ضمنی معاہدہ تھا، کے تحت، بہاولپور کے تمام مرکزی امور حکومت پاکستان نے سنبھال لیے تھے۔ 'صوبائی امور جو دوسرے صوبوں کو حاصل تھے، ان کا اختیار بہاولپور کو دے دیا گیا تھا۔' اس طرح بہاولپور ایک علیحدہ یونٹ بن گیا جہاں باقاعدہ انتخابات ہوئے۔ پاکستان کے باقی حصوں کی طرح، بہاولپور میں بھی یہ انتخابات 'ون مین ون ووٹ' کی بنیاد پر ہوئے اور یہاں کے لوگوں نے بھی مسلم لیگ کو ووٹ دیا۔ پروفیسر طاہر کے مطابق، مسلم لیگ کی طرف سے سید حسن محمود، جو صادق آباد سے تعلق رکھتے تھے، بہاولپور کے وزیرِ اعلیٰ بنے۔ 'اس طرح 1952 سے 1955 تک بہاولپور کی حیثیت ایک صوبے کی تھی۔' پروفیسر طاہر کے مطابق، بہاولپور کی ایک علیحدہ منتخب اسمبلی تھی اور وزیرِ اعلیٰ بہاولپور کو وہی اختیارات حاصل تھے جو دوسرے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو حاصل تھے۔ 'بہاولپور کا وزیرِ اعلیٰ منتخب ہو کر آیا، جو اسمبلی کے اجلاس میں بیٹھتا تھا، وہاں قانون سازی ہوتی تھی اور اسمبلی کا اپنا سیکریٹریٹ تھا۔ حتیٰ کہ یہاں کا اپنا پبلک سروس کمیشن تھا۔' باقی صوبوں کی طرح بہاولپور صوبے کا بھی بجٹ پیش ہوتا تھا۔ اگرچہ بہاولپور کا رقبہ زیادہ بڑا نہیں تھا، پروفیسر طاہر کے مطابق 1951 اور 1952 میں 'بہاولپور کا بجٹ اس وقت کے صوبہ سرحد کے برابر تھا۔' 1955 میں وزیرِ اعظم چوہدری محمد علی بوگرہ کی حکومت نے مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو ملا کر ایک یونٹ یعنی ون یونٹ اور مشرقی پاکستان کو علیحدہ یونٹ بنا دیا۔ بہاولپور بھی باقی چار صوبوں کی طرح ون یونٹ میں شامل ہوا۔ 1970 میں لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے ون یونٹ تحلیل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر طاہر کے مطابق، 1969 میں جب اس وقت کے فوجی آمر جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ کو ختم کرنے کا اعلان کیا تو بہاولپور کے عوام کو اپنی سابقہ ریاست کی بحالی کی امید پیدا ہوئی۔ تاہم، جب ایسا نہ ہوا تو بہاولپور کے باسیوں نے اپنے حقوق کے لیے ایک زبردست تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کا مرکز بہاولپور کا تاریخی فرید گیٹ تھا، جہاں عوامی جلسے اور مظاہرے کیے جاتے تھے۔ یہ تحریک تقریباً چھ ماہ تک جاری رہی لیکن بالآخر اسے تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا۔ مظاہرین پر گولی چلائی گئی، آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور تحریک سے وابستہ افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ 1970 میں پاکستان کے پہلے عام انتخابات میں صوبہ بہاولپور کی بحالی ایک اہم انتخابی موضوع بن کر ابھرا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ، دیگر تمام سیاسی جماعتیں، جن میں مسلم لیگ، تحریک استقلال اور جماعت اسلامی شامل تھیں، ایک متحدہ محاذ کی شکل میں اس مطالبے کی حمایت میں کھڑی ہوئیں۔ انتخابی نتائج نے بہاولپور کے عوام کی خواہش کی عکاسی کی۔ قومی اسمبلی کی آٹھ میں سے چھ اور صوبائی اسمبلی کی 18 میں سے 16 نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدوار صوبہ بہاولپور کی بحالی کے حامی تھے۔ انتخابات کے بعد، متحدہ محاذ نے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے سربراہ، شیخ مجیب الرحمٰن سے ملاقات کی۔ واضح رہے کہ ان انتخابات میں عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ 300 نشستوں کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں عوامی لیگ نے 160 نشستیں جیتی تھیں جبکہ پیپلز پارٹی 81 نشستوں پر کامیاب ہوئی تھی۔ حکومت بنانے کے لیے 151 نشستوں کی ضرورت تھی۔ مجیب الرحمٰن نے متحدہ محاذ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ وزیر اعظم بننے کے بعد بہاولپور کو صوبے کا درجہ دیں گے۔ اس وقت کے نوجوان طالب علم ڈاکٹر طاہر کو یاد ہے کہ فرید گیٹ کے قریب واقع حبیب ہوٹل میں عوامی لیگ کے دفتر پر جھنڈا لہراتا تھا۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ حالات نے پلٹا کھایا اور مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک نے زور پکڑ لیا۔ اس کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ بہاولپور کو صوبہ بنانے کا خواب ادھورا رہ گیا اور اسے صوبہ پنجاب کا ایک ڈویژن بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر طاہر کے مطابق، بہاولپور ڈویژن تین اضلاع، بہاولپور، رحیم یار خان اور بہاولنگر پر مشتمل ہے۔ اس کا رقبہ 45 ہزار 588 مربع کلومیٹر ہے، جس میں چولستان صحرا 20 ہزار 200 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس خطے کی جغرافیائی خصوصیات اسے ایک قدرتی طور پر الگ صوبہ بنانے کی دلیل فراہم کرتی ہیں۔ شمال میں پانچ دریا اسے پنجاب سے الگ کرتے ہیں جبکہ مشرق میں انڈیا کا صحرا اور مغرب میں سندھ کی سرحد اس کی حد بندی کرتی ہے۔ ڈاکٹر طاہر کا ماننا ہے کہ بہاولپور کے عوام کی اکثریت اسے ایک علیحدہ صوبہ دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ بہاولپور کی تاریخ اور مستقبل دونوں اس کی علیحدہ شناخت سے وابستہ ہیں۔ ریاست بہاولپور برصغیر کی امیر ترین ریاستوں میں سے ایک تھی۔ اس نے ریاست کے دور میں جو ترقی کی رفتار پکڑی تھی، وہ صوبے کے دور میں بھی جاری رہی لیکن بعد ازاں تھم گئی۔ تعلیم کے میدان میں بہاولپور کا پہلا کالج 1886 میں قائم ہوا۔ 1922 میں شروع ہونے والے ستلج ویلی پراجیکٹ نے نہری نظام کے ذریعے بہاولپور کی آمدن میں کئی گنا اضافہ کیا۔ بہاول وکٹوریہ ہسپتال، لائبریری، گرلز کالج اور ڈرنگ اسٹیڈیم جیسی تعمیرات بھی بہاولپور کی ترقی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ڈرنگ اسٹیڈیم کا ہاکی گراؤنڈ اس وقت ایشیا کا سب سے بڑا گراؤنڈ تھا جبکہ اس کے کرکٹ گراؤنڈ نے جنوری 1955 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کی میزبانی کی۔ ڈاکٹر طاہر کے مطابق، بہاولپور کے عوام کی اکثریت اسے ایک علیحدہ صوبہ دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ بہاولپور کی تاریخ اور مستقبل دونوں اس کی علیحدہ شناخت سے وابستہ ہیں۔

بہاولپور کے حکمران

ترمیم
دور حکومت نواب/امیر بہاولپور
1690ء - 1702ء بہادر خان دوم
1702ء - 1723ء مبارک خان اول
1723ء - 11 اپریل 1746 صادق محمد خان اول
11 اپریل 1746 - 12 جون 1750 محمد بہاول خان اول
12 جون 1750 - 4 جون 1772 مبارک خان دوم
4 جون 1772 - 13 اگست 1809 محمد بہاول خان دوم
13 اگست 1809 - 17 اپریل 1826 صادق محمد خان دوم
17 اپریل 1826 - 19 اکتوبر 1852 محمد بہاول خان سوم
19 اکتوبر 1852 - 20 فروری 1853 صادق محمد خان سوم
20 فروری 1853 - 3 اکتوبر 1858 فتح محمد خان
3 اکتوبر 1858 - 25 مارچ 1866 محمد بہاول خان چہارم
25 مارچ 1866 - 14 فروری 1899 صادق محمد خان چہارم
14 فروری 1899 - 15 فروری 1907 محمد بہاول خان پنجم
15 فروری 1907 - 14 اکتوبر 1955 صادق محمد خان پنجم
14 اکتوبر 1955 ریاست بہاولپور کا خاتمہ

مزید دیکھیے

ترمیم

٭ پاکستان کی نوابی ریاستیں