ابو ایوب انصاری

انصاری صحابی
(ابوایوب انصاری سے رجوع مکرر)

ابو ایوب انصاری انصار کے سرکردہ صحابی رسول اور میزبان رسول کہلاتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو ہر شخص میزبانی کا شرف حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس جگہ اونٹنی بیٹھے گی۔ وہیں آپ مقیم ہوں گے۔ اونٹنی ابو ایوب انصاری کے دروازے پر بیٹھی۔ ان کا مکان دو منزلہ تھا۔ نبی اکرم نے نیچے قیام فرمایا اور سات ماہ تک یہاں رہے۔

ابو ایوب انصاری
(عربی میں: أبو أيوب الأنصاري ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Eyupsultan.JPG
 

معلومات شخصیت
پیدائش مدینہ منورہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 674  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قسطنطنیہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن ایوب سلطان مسجد  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ
Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ صحابی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں محاصرہ قسطنطنیہ 674ء تا 678ء،  غزوہ احد  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسبترميم

خَالِد بن زيد نام، ابو ایوب کنیت، مدینہ منورہ کے قبیلۂ خزرج کے خاندان نجار سے تھے، سلسلۂ نسب یہ ہے، خالدبن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبد عوف خزرجی، خاندان نجار کو قبائل مدینہ میں خود بھی ممتاز تھا، تاہم پیغمبر اسلام کی وہاں نانہالی قرابت تھی اس کو مدینہ کے اورقبائل سے ممتاز کر دیا تھا، ابوایوب اس خاندان کے رئیس تھے۔

اسلامترميم

ابوایوب انصاری ان منتخب بزرگان مدینہ میں ہیں، جنھوں نے عقبہ کی گھاٹی میں جاکر پیغمبر اسلام کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کی تھی۔ جب مکہ سے دولت ایمان لیکر پلٹے تو ان کی فیاض طبعی نے گوارا نہ کیا کہ اس نعمت کو صرف اپنی ذات تک محدودرکھیں ؛چنانچہ اپنے اہل و عیال، اعزہ واقربا اوردوست واحباب کو ایمان کی تلقین کی اوراپنی بیوی کو حلقہ اسلام میں داخل کیا۔

حامل نبوت کی میزبانیترميم

خدانے اہل مدینہ کے قبول دعوت سے اسلام کو ایک مامن عطا کردیا اورمسلمان مہاجرین مکہ اوراطراف سے آ آ کر مدینہ میں پناہ گزین ہوئے ؛لیکن جو وجود مقدس قریش کی ستمگاریوں کا حقیقی نشانہ تھا وہ اب تک ستمگاروں کے حلقہ میں تھا،آخر ماہ ربیع الاول میں نبوت کے تیر ہویں سال وہ بھی عازم مدینہ ہوا، اہل مدینہ بڑی بیتابی سے آنحضرتﷺ کی آمد آمد کا انتظار کررہے تھے،انصار کا ایک گروہ جس میں حضرت ابو ایوبؓ بھی تھے روزانہ حرہ تک جو مدینہ سے ۳،۴ میل ہے صبح اٹھ کر جاتاتھااور دوپہر تک حضور کا انتظار کرکے نامراد واپس آتا تھا، اسی طرح یہ لوگ ایک روز بے نیل مرام واپس ہورہے تھے کہ ایک یہودی نے دور سے آنحضرتﷺ کو قرینہ سے پہچان کر انصار کو تشریف آوری کا مژدہ سنایا،انصار جن میں بنو نجار سب سے پیش پیش تھے ہتھیار سج سج کر خیر مقدم کے لئے آگے بڑھے۔ مدینہ سے متصل قبا نامی ایک آبادی تھی،آنحضرتﷺ کچھ دنوں قبا میں رونق افروز رہے،اس کے بعد مدینہ کا عزم فرمایا،اللہ اکبر! مدینہ کی تاریخ میں یہ عجیب مبارک دن تھا، بنو نجار اور تمام انصار ہتھیاروں سے آراستہ دو رویہ صف بستہ تھے،روساء اپنے اپنے محلوں میں قرینے سے ایستادہ تھے،پردہ نشین خواتین گھر سے باہر نکل آئی تھیں،مدینہ کے حبشی غلام جو ش مسرت میں اپنے اپنے فوجی کرتب دکھارہے تھے اورخاندان نجار کی لڑکیاں دف بجا بجا کر "طلع البدرعلینا" کا ترانہ خیر مقدم گارہی تھیں غرض اس شان وشکوہ سے آنحضرتﷺ کا شہر میں داخلہ ہوا کہ و داع کی گھاٹیاں مسرت کے ترانوں سے گونج اٹھیں اور مدینہ کے روز نہائے دیوارنے اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھا جو اس نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اب ہر شخص منتظر تھا کہ دیکھئے میزبان دوعالمﷺ کی مہمانی کا شرف کس کو حاصل ہو، جدھر سے آپﷺ کا گذر ہوتا لوگ "اَھلا وسھلا مرحبا "کہتے ہوئے آگے بڑہتے اور عرض کرتے کہ حضورﷺ یہ گھر حاضر ہے ؛لیکن کارکنانِ قضا وقدر نے اس شرف کے لئے جس گھر کو تاکا تھا وہ ابو ایوبؓ کا کاشانہ تھا،آنحضرتﷺ نے لوگوں سے فرمایا" خلواسبیلھا فانھا مامورۃ" یعنی اونٹنی کو آزاد چھوڑدو ،وہ خدا کی جانب سے خود منزل تلاش کرلے گی،امام مالک کا قول ہے کہ اس وقت آنحضرتﷺ پر وحی کی حالت طاری تھی اور آپ اپنے قیام گاہ کی تجویز میں حکم الہی کے منتظر تھے، آخر ندائے وحی نے تسکین کا سرمایہ بہم پہنچایا اورناقہ قصوانے خانۂ ابوایوبؓ کے سامنے سفر کی منزل ختم کی ،حضرت ابوایوبؓ سامنےآئے اور درخواست کی کہ میرا گھر قریب ہے اجازت دیجئے اسباب اتارلوں، امیدواروں کا ہجوم اب بھی باقی تھا اور لوگوں کا اصرار اجازت سے مانع تھا،آخر لوگوں نے قرعہ ڈالا، ابو ایوبؓ کو اس فخر لازوال کے حصول سے جو مسرت ہوئی ہوگی اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آنحضرتﷺ حضرت ابوایوبؓ کے گھر میں تقریبا ۶ مہینے تک فروکش رہے ،اس عرصہ میں حضرت ابوایوبؓ نے نہایت عقیدت مندانہ جوش کیساتھ آپ کی میزبانی کی؛ لیکن آپﷺ نے اپنی اور زائرین کی آسانی کی خاطر نیچے کا حصہ پسند فرمایا، ایک دفعہ اتفاق سے کوٹھے پر پانی کا جو گھڑا تھا وہ ٹوٹ گیا چھت معمولی تھی ڈر تھا کہ پانی نیچے ٹپکے اورآنحضرتﷺکو تکلیف ہو،گھر میں میاں بیوی کے اوڑھنے کے لئے صرف ایک ہی لحاف تھا، دونوں نےلحاف پانی پر ڈال دیا کہ پانی جذب ہوکر رہ جائے،باایں ہمہ یہ تکلیف ان میزبانوں کے لئے کوئی بڑی زحمت نہ تھی کہ اسلام کی خاطر اس سے بڑی بڑی اورشدید تکلیفوں کے تحمل کا وہ عزم کرچکے تھے،تاہم یہ خیال کہ وہ اوپر اورخود حامل وحی نیچے ہے،ایسا سواہان روح تھا،جس نے حضرت ابوایوبؓ اورام ایوبؓ کو ایک دفعہ شب بھر بیدار رکھا اور دونوں میاں بیوی نے اس سو ادب کے خوف سے چھت کے کونوں میں بیٹھ کر رات بسر کی،صبح حضرت ابو ایوبؓ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوررات کا واقعہ عرض کیااور درخواست کی کہ حضورﷺ اوپر اقامت فرمائیں جان نثار نیچے رہیں گے؛چنانچہ آنحضرتﷺ نے درخواست منظور فرمالی اوربالاخانہ پر تشریف لے گئے۔ آنحضرتﷺ جب تک ان کے مکان میں تشریف فرمارہے،عموما ًانصار یا خود حضرت ابو ایوبؓ آنحضرتﷺ کی خدمت میں روزانہ کھانا بھیجا کرتے تھے،کھانے سے جو کچھ بچ جاتا آپﷺ حضرت ابوایوبؓ کے پاس بھیج دیتے تھے، حضرت ابو ایوبؓ آنحضرتﷺ کی انگلیوں کے نشان دیکھتے اورجس طرف سے آنحضرتﷺ نے نوش فرمایا ہوتا وہیں انگلی رکھتے اور کھاتے ،ایک دفعہ کھانا واپس آیا تو معلوم ہوا کہ حضورﷺ نے تناول نہیں فرمایا،مضطربانہ خدمت اقدس میں پہنچے اورنہ کھانے کا سبب دریافت کیا،ارشاد ہوا کھانے میں لہسن تھا اور میں لہسن پسند نہیں کرتا،حضرت ابوایوبؓ نے کہا"فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَه"جو آپ کو ناپسند ہو یا رسول اللہ ﷺ میں بھی اس کو ناپسند کروں گا۔ [2]

مواخاتترميم

ہجرت کے بعد آنحضرتﷺنے مہاجرین وانصار کو باہم بھائی بھائی بنادیا،آپﷺ نے حضرت انسؓ کے مکان میں مہاجرین وانصار کو جمع کیا اور اتحادمذاق رتبہ اوردرجہ کے لحاظ سے ایک ایک مہاجر کو ایک ایک انصار کا بھائی بنایا ،اس موقع پر حضرت ابو ایوبؓ انصاری کو جس مہاجر کا بھائی قرار دیا وہ یثرب کے اولین داعی اسلام حضرت مصعبؓ بن عمیر قریشی تھے،حضرت مصعب ؓ بن عمیر پرجوش صحابی ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر بڑی بڑی سختیاں جھیلی تھیں اور ہجرت نبوی سے پہلے اسلام کے سب سے اول داعی بنا کر آنحضرتﷺ نے ان کو مدینہ بھیجا تھا،حضرت ابوایوبؓ کی ان سے مواخاۃ یہ معنی رکھتی ہے کہ یہ بھی اپنے اندر اسی قسم کا جوش اور ولولہ رکھتے ہیں اورآخر ان کی زندگی کے واقعات نے اس کو سچ کردیا۔

غزوات اورعام حالاتترميم

حضرت ابوایوبؓ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں دیگر اکابر صحابہؓ کی طرح برابر کے شریک رہے اوراس التزام سے کہ ایک غزوہ کے شرف شرکت سے بھی محروم نہیں رہے،آنحضرتﷺ کے مشہور غزوات میں پہلا غزوہ بدر ہے، حضرت ابوایوبؓ اس میں شریک تھے،بدر کے بعد وہ احد، خندق،بیعت الرضوان وغیرہ اور تمام غزوات میں بھی آنحضرتﷺ کے ہمرکاب رہے۔ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد بھی ان کی زندگی کا بیشتر حصہ جہاد میں صرف ہوا، حضرت علیؓ کے عہدِ خلافت میں جو لڑائیاں پیش آئیں، ان میں سے جنگ خوارج میں وہ شریک تھے اور حضرت علیؓ کی معیت میں مدائن تشریف لے گئے۔ حضرت علیؓ کو آپ کی ذات پر جو اعتماد اورآپ کی قابلیت وحسن تدبیر کا جس قدر اعتراف تھا وہ اس سے ظاہر ہوگا کہ جب انہوں نے کوفہ کودارالخلافہ قرار دیا تو مدینہ میں حضرت ابو ایوب کو اپنا جانشین چھوڑ گئے اوروہ اس عہد میں امیر مدینہ رہے۔ آنحضرتﷺ کے بعد صحابہ کرام ؓ کو ان کی سابقہ حسنِ خدمت کی بنا پر بارگاہ خلافت سے حسب ترتیب ماہانہ وظائف ملتے تھے،حضرت ابوایوبؓ کا وظیفہ پہلے ۴ ہزار درہم تھا، حضرت علیؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں بیس ہزار کردیا، پہلے ۸غلام ان کی زمین کی کاشت کے لئے مقرر تھے،حضرت علیؓ نے ۴۰ غلام مرحمت فرمائے ۔

آل واولادترميم

حضرت ابو ایوبؓ کی زوجہ کا نام حضرت ام حسن بنت زید انصاریہؓ ہے وہ مشہور صحابیہ تھیں ،ابن سعد کا بیان ہے کہ ان کے بطن سے صرف ایک لڑکا عبدالرحمن تھا،اس حسن خدمت اور محبت کی یادگار میں جو آپ کو آنحضرت ﷺ کی ذات سے تھی،تمام اصحابؓ اوراہل بیت آپ سے محبت وعظمت کے ساتھ پیش آتے تھے،حضرت ابن عباسؓ،حضرت علیؓ کی طرف سے بصرہ کے گورنر تھے،اسی زمانہ میں آپ حضرت ابن عباسؓ کی ملاقات کو بصرہ تشریف لے گئے ابن عباسؓ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ جس طرح آپ نے آنحضرتﷺ کی اقامت کے لئے اپنا گھر خالی کردیا تھا، میں بھی آپ کے لئے اپنا گھر خالی کردوں اوراپنے تمام اہل وعیال کو دوسرے مکان میں منتقل کردیا اور مکان مع اس تمام سازوسامان کے جو گھر میں موجود تھا آپ کی نذر کردیا۔

مصر کا سفرترميم

حضرت علیؓ کے بعد امیر معاویہؓ کی حکومت کا زمانہ آیا، عقبہ بنؓ عامر جہنی کی طرف سے مصر کے گورنر تھے،حضرت عقبہؓ کی امارت میں حضرت ابوایوبؓ کو دو مرتبہ سفر مصر کا اتفاق ہوا، پہلا سفر طلب حدیث کے لئے تھا،انہیں معلوم ہوا تھا کہ حضرت عقبہؓ کسی خاص حدیث کی روایت کرتے ہیں،صرف ایک حدیث کے لئے حضرت ابو ایوبؓ نے عالم پیری میں سفر مصر کی زحمت گوارا کی ،مصر پہنچ کر پہلے مسلمہؓ بن مخلد کے مکان پر گئے، حضرت مسلمہؓ نے خبر پائی تو جلدی سے گھر سے باہر نکل آئے اور معانقہ کے بعد پوچھا کیسے تشریف لانا ہوا، حضرت ابوایوبؓ نے فرمایا کہ مجھ کو عقبہ کا مکان بتا دیجئے، مسلمہ سے رخصت ہوکر عقبہ کے مکان پر پہنچے ان سے "سترالمسلم" کی حدیث دریافت فرمائی اورکہا کہ اس وقت آپ کے سوا اس حدیث کا جاننے والا کوئی نہیں، حدیث سن کر اونٹ پر سوار ہوئے اور سیدھے مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔ [3]

غزوۂ روم کی شرکتترميم

دوسری بار غزوۂ روم کی شرکت کے ارادہ سے مصر تشریف لے گئے،فتح قسطنطنیہ کی آنحضرتﷺ بشارت دے گئے تھے امرائے اسلام منتظر تھے کہ دیکھئے پیشنگوئی کس جانباز کے ہاتھوں پوری ہوتی ہے،شام کے دارالحکومت ہونے کے سبب سے حضرت معاویہؓ کو اس کا سب سےزیادہ موقع حاصل تھا،چنانچہ ۵۲ھ میں انہوں نے روم پر فوج کشی کی، دیگر اصحاب کبار کی طرح حضرت ابوایوبؓ بھی اس پرجوش فوج کے ایک سپاہی تھے،مصر وشام وغیرہ ممالک اسلام کے الگ الگ دستے تھے، مصری فوج کے سرعسکر گورنر مصر مشہور صحابی حضرت عقبہ بن عامرؓ جہنی تھے ،ایک دستہ نضالہ بن عبید کے ماتحت تھا، ایک جماعت عبدالرحمن بن خالد بن ولید کے زیر قیادت تھی ،رومی بڑے سروسامان سے لڑائی کے لئے تیار ہوئے اورایک فوج گراں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے بھیجی ،مسلمانوں نے بھی مقابلہ کی تیاریاں کیں، ان کی تعداد بھی دشمنوں سے کم نہ تھی، جو ش کا یہ عالم تھا کہ ایک ایک مسلمان رومیوں کی پوری پوری صف سے معرکہ آرا تھا، ایک صاحب کے جوش کی یہ کیفیت تھی کہ رومیوں کی صفوں کو چیر کر تنہا اندر گھس گئے اس تیور کو دیکھ کر عام مسلمانوں نے بیک آواز کہا کہ یہ صریح آیت قرآنی"لَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ" (اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو) کے خلاف ہے،حضرت ابو ایوبؓ انصاریؓ آگے بڑھے اورفوج کو مخاطب کرکے فرمایا،لوگو! تم نے اس آیت شریفہ کے یہ معنی سمجھے؟ حالانکہ اس کا تعلق انصار کے ارادۂ تجارت سے ہے،اسلام کے امن و فراخی کے بعد انصار نے یہ ارادہ کیا تھا کہ گزشتہ سالوں میں جہاد کی مشغولیت کی وجہ سے ان کو جو نقصانات اٹھانے پڑےہیں ان کی تلافی کی جائے،اس پر یہ آیت نازل ہوئی ،پس ہلاکت جہاد میں نہیں؛بلکہ ترک جہاد اور فراہمی مال میں ہے۔

وفاتترميم

آپ کی وفات 42ھ 662ء میں ہوئی سفر جہاد میں عام وبا پھیلی اور مجاہدین کی بڑی تعداد اس کے نذر ہو گئی، ابوایوب بھی اس وبا میں بیمار ہوئے، یزید عیادت کے لیے گیا اور پوچھا کہ کوئی وصیت کرنی ہو تو فرمائیے تعمیل کی جائے گی، آپ نے فرمایا تم دشمن کی سرزمین میں جہاں تک جاسکو میرا جنازہ لیجا کر دفن کرنا، چنانچہ وفات کے بعد اس کی تعمیل کی گئی، تمام فوج نے ہتھیار سج کر رات کو لاش قسطنطنیہ کی دیواروں کے نیچے دفن کی، نماز میں جس قدر مسلمان فوجی شامل تھے دفن کرنے کے بعد یزید نے مزار کے ساتھ کفار کی بے ادبی کے خوف سے اس کو زمین کے برابر کرادیا، صبح کو رومیوں نے مسلمانوں سے پوچھا کہ رات آپ لوگ کچھ مصروف سے نظر آتے تھے، بات کیا تھی، مسلمانوں نے کہا کہ ہمارے پیغمبر کے ایک بڑے جلیل القدر دوست نے وفات پائی، ان کے دفن میں مشغول تھے؛ لیکن جہاں ہم نے دفن کیا ہے تمہیں معلوم ہے، اگر مزار کے ساتھ کوئی گستاخی تمہاری طرف سے روا رکھی گئی تویاد رکھو اسلام کی وسیع الحدود حکومت میں کہیں ناقوس نہ بچ سکے گا۔

ابو ایوب کا مزار دیوار قسطنطنیہ کے قریب ہے اور اب تک زیارت گاہ خلائق ہے، رومی قحط کے زمانہ میں مزار پر جمع ہوتے تھے، اس کے وسیلہ سے بارانِ رحمت مانگتے تھے اورخدا کے لطف و کرم کا نظارہ کرتے تھے۔[4][5]

فضل وکمالترميم

حضرت ابوایوبؓ کا فضل وکمال اس قدر مسلم تھا کہ خود صحابہ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے،حضرت ابن عباسؓ، ابن عمرؓ، براء بن عازبؓ،انس بن مالکؓ، ابوامامہؓ ،زید بن خالدؓ جہنی،مقدامؓ بن معدی کرب، جابر بن سمرہؓ، عبداللہ بن یزید خطمی وغیرہ جو آنحضرتﷺ کے تربیت یافتہ تھے،حضرت ابو ایوبؓ کے فیض سے بے نیاز نہیں تھے،تابعین میں سعید بن مسیب ،عروہ بن زبیر، سالم بن عبداللہ،عطاءبن یسار،عطا بن یزید لیثی،ابوسلمہ عبدالرحمن بن ابی لیلی،بڑے پایہ کے لوگ ہیں،تاہم وہ حضرت ابوایوبؓ کے عام ارادتمندوں میں داخل تھے۔

حضرت ابوایوبؓ کو فضل وکمال میں مرجعیت عامہ حاصل تھی،صحابہ کرامؓ جب کسی مسئلہ میں اختلاف کرتے تو ان کی طرف رجوع کرتے تھے،ابن عباسؓ اورمِسوربن مخرمہ میں اختلاف ہوا کہ محرم حالت جنابت میں غسل کرتے وقت سر ہاتھ سے مل سکتا ہے یا نہیں، ابن عباسؓ کا خیال تھا سر دھوسکتا ہے،مگر مِسور کہتے تھے کہ سردھونا جائز نہیں ،دونوں بزرگوں نے عبداللہ بن حسین کو حضرت ابو ایوبؓ کی خدمت میں بھیجا، حسن اتفاق یہ کہ وہ اس وقت غسل ہی کررہے تھے، عبداللہ نے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے اپنا سر باہر نکال کر ملنا شروع کیا اورفرمایا کہ دیکھو آنحضرتﷺ اسی طرح غسل کرتے تھے۔ [6]

عاصم بن سفیان ثقفی غزوہ ٔسلاسل میں شرکت کی غرض سے گھر سے نکلے تھے،ابھی منزل مقصود سے دور تھے کہ اختتام جنگ کی خبرآئی انہیں نہایت افسوس ہوا اوروہ حضرت امیر معاویہؓ کے دربار میں گئے ،اس وقت حضرت ابو ایوبؓ اورعقبہؓ بن عامر بھی موجود تھے، ان کی موجودگی میں عاصم نے حضرت ابوایوبؓ سے مسئلہ دریافت کیا، ان دونوں بزرگوں سے نہیں پوچھا،حضرت ابوایوبؓ کو یہ گوارانہ ہوا،اس لئے انہوں نے مسئلہ کا جواب دیکر عقبہؓ سے تصدیق کرائی کہ ان کو کسی قسم کا خیال نہ پیدا ہو۔ [7] ابن اسحق (مولیٰ بنی ہاشم)اور بعض دوسرے بزرگوں میں یہ بحث تھی کہ نبیذ کس کس برتن میں بنا سکتے ہیں؟اورقرع کے بارے میں بحث چل رہی تھی، حضرت ابو ایوبؓ انصاری کا ادھر سے گزر ہوا تو لوگوں نے ان کے پاس ایک آدمی کو تحقیق مسئلہ کے لئے روانہ کیا،حضرت ابوایوبؓ نے فرمایا کہ آنحضرتﷺ نے مزفت میں نبیذ بنانے کی ممانعت کی ہے،اس شخص نے قرع کا لفظ دہرایا مگر حضرت ابوایوبؓ نے پھر یہی جواب دیا۔ [8] حضرت ابوایوبؓ کے حب علم اورنشر معارف کی انتہا یہ ہے کہ بستر مرگ پر بھی ان کی زبان اشاعت حدیث کا مقدس فرض ادا کررہی تھی،وفات سے قبل انہوں نے آنحضرتﷺ سے دو حدیثیں روایت کیں، جو پہلے کبھی انہوں نے بیان نہیں کی تھیں، ان کی رحلت کے بعد عام اعلان کے ذریعہ سے وہ لوگوں تک پہنچائی گئیں۔ [9]

اخلاقترميم

حضرت ابوایوبؓ کے مجموعہ اخلاق میں تین چیزیں سب سے زیاہ نمایاں تھیں،حب رسول ،جوش ایمان اور حق گوئی،آنحضرتﷺ کے ساتھ حضرت ابو ایوبؓ کو جو محبت تھی اور حضرت رسالت پناہ ﷺ کے ساتھ جو آداب وہ ملحوظ رکھتے تھے،میزبانی کے ذکر میں وہ واقعات گزرچکے ہیں۔ وفات نبویﷺ کے بعد جان نثاروں کیلئے روضہ اقدس کے سوا اورکیا شئے مایۂ تسلی ہوسکتی تھی؟ ایک دفعہ حضرت ابو ایوبؓ آنحضرتﷺ کے روضہ اطہر کے پاس تشریف رکھتے تھے اوراپنا چہرہ ضریح اقدس سے مس کررہے تھے، اس زمانہ میں مروان مدینہ کا گورنر تھا وہ آگیا اس کو بظاہر یہ فعل خلافِ سنت نظر آیا؛ لیکن حضرت ابو ایوبؓ سے زیادہ مروان واقف رموز نہ تھا،اصل اعتراض کو سمجھ کر آپ نے فرمایا میں آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اینٹ اور پتھر کے پاس نہیں آیا۔ جوشِ ایمان کو تم اوپر دیکھ چکے ہو ،غزوات نبوی میں سے کسی غزوہ کی شرکت سے وہ محروم نہ تھے ،اسی برس کی عمر میں بھی وہ مصر کی راہ سے بحرروم کو عبور کرکے قسطنطنیہ کی دیواروں کے نیچے اعلائے کلمۃ اللہ میں مصروف تھے۔ حق گوئی کا یہ عالم تھا کہ حکومت اورامارت کا دبدبہ وشان بھی اس سے باز نہیں رکھ سکتا تھا، ایک دفعہ مصر کے گورنر عقبہؓ بن عامر جہنی نے جو خود صحابی تھے کسی سبب سے مغرب کی نماز میں دیر کردی ،حضرت ابوایوبؓ نے اٹھ کر پوچھا "ما ھذا الصلوۃ یا عقبہ؟" عقبہ یہ کیسی نماز ہے؟ حضرت عقبہؓ نے کہا ایک کام کی وجہ سے دیر ہوگئی،آپ نے کہا تم صاحب رسول اللہ ﷺ ہو ،تمہارے اس فعل سے لوگوں کو گمان ہوگا کہ شاید آنحضرتﷺ اسی وقت نماز پڑہتے تھے ؛حالانکہ آنحضرتﷺ نے مغرب کے وقت تعجیل کی تاکید فرمائی ہے۔ [10]حضرت خالد بن ولیدؓ کے صاحب زادے عبدالرحمن نے کسی جنگ میں چار قیدیوں کو ہاتھ پاؤں بندھواکر قتل کرادیا، حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو خبر ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ اس قسم کے وحشیانہ قتل سے آنحضرتﷺ نے ممانعت فرمائی ہے اور میں تو اس طرح مرغی کا مارنا بھی پسند نہیں کرتا۔ غزوہ ٔروم کے زمانہ میں جہاز میں بہت سے قیدی افسر تقسیمات کی نگرانی میں تھے، حضرت ابو ایوبؓ ادھر سے گذرے تو دیکھا قیدیوں میں ایک عورت بھی ہے جو زار زار رو رہی ہے ،حضرت ابو ایوبؓ نے سبب پوچھا،لوگوں نے کہا کہ اس کا بچہ اس سے چھین کر الگ کردیا گیا ہے،حضرت ابو ایوبؓ نے لڑکے کا ہاتھ پکڑ کر عورت کے ہاتھ میں دیدیا ،افسر نے امیر سے اس کی شکایت کی ،امیر نے باز پرس کی تو بولے رسول اللہ ﷺ نے اس طریقہ ستم کی ممانعت کی ہے اور بس۔ [11] حضرت ابوایوبؓ کی حریت ضمیر کا یہ فطری تقاضا تھا کہ جو بات اسلام کے خلاف دیکھیں اس پر لوگوں کو متنبہ کریں؛چنانچہ جب وہ شام اورمصر تشریف لے گئے اور وہاں پاخانے قبلہ رخ بنے ہوئے دیکھے تو بار بار کہا کیا کہوں؟ یہاں پاخانے قبلہ رخ بنے ہیں ؛حالانکہ آنحضرتﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ [12] حضرت ابوایوبؓ کی حیا کا یہ حال تھا کہ کنوئیں پر نہاتے تو چاروں طرف سے کپڑا تان لیتے تھے۔ [13]

حوالہ جاتترميم

  1. عنوان : Абу Аййуб аль-Ансари
  2. (مسلم:۲/۱۹۷)
  3. (مسنداحمد:۴/۱۵۳)
  4. اسد الغابہ، تذکرہ ابو ایوب انصاری
  5. ابن سعد، جلد3
  6. (بخاری:۱/۲۴۸)
  7. (مسند احمد:۵/۴۲۳،ونسائی،باب فضل الوضو)
  8. (مسنداحمد:۵/۴۱۴)
  9. (مسند احمد:۵/۴۱۴)
  10. (مسند احمد:۵/۴۱۷)
  11. (مسند احمد:۵/۴۱۷)
  12. (مسنداحمد:۴۱۵)
  13. (بخاری:۱/۲۴۸)