عباس بن عبد المطلب

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سگے چچا
(عباس بن عبدالمطلب سے رجوع مکرر)

عباس ابن عبد المطلب (پیدائش: 568ء15 فروری 653ء) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سگے چچا تھے۔

عباس بن عبد المطلب
(عربی میں: العباس بن عبد المطلب‎‎ ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
العبَّاس بن عبد المُطلب.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 568  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 فروری 653 (84–85 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ لبابہ بنت حارث  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبد اللہ بن عباس،  فضل ابن عباس،  عبید اللہ بن عباس،  تمام بن عباس،  معبد ابن عباس،  قثم بن عباس  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد 10   ویکی ڈیٹا پر (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عبد المطلب  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ نتیلہ بنت جناب  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ ریاست کار،  تاجر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،  فتح مکہ،  غزوہ حنین  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام،نسبترميم

عباس نام ،ابوالفضل کنیت، والد کا نام عبد المطلب اوروالدہ کا نام نتیلہ بنت جناب تھا،آپ واقعہ فیل سے پہلے پیدا ہوئے۔

شجرہ نسبترميم

شجرہ نسب یہ ہے۔ عباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد المناف الہاشمی القرشی حضور سے دو برس عمر میں زیادہ تھے۔ فرماتے تھے بڑے حضور ہیں، عمر میری زیادہ ہے،[2]

ابتدائی حالاتترميم

عباس عہد طفولیت میں ایک مرتبہ گم ہو گئے تھے،ان کی والدہ نے خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی نذر مانی ،چنانچہ ان کے صحیح وسلامت مل جانے کے بعد نہایت تزک واحتشام کے ساتھ یہ نذرپوری کی گئی،بیان کیا جاتا ہے کہ یہ پہلی عرب خاتون تھی ،جنہوں نے ایام جاہلیت میں خانہ کعبہ کو دیبا وحریرسے مزین کیا۔ زمانہ جاہلیت میں وہ قریش کے ایک سربرآوردہ رئیس تھے،خانہ کعبہ کا اہتمام وانصرام اورلوگوں کو پانی پلانے کا عہدہ ان کو اپنے والد عبد المطلب سے وراثت میں ملا تھا۔[3][4]

تاخیر اسلام اورقیامِ مکہترميم

عباس ایک عرصہ تک مکہ میں مقیم رہنا اورعلانیہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہونا درحقیقت ایک مصلحت پر مبنی تھا،وہ کفارمکہ کی نقل وحرکت اوران کے رازہائے سربستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع دیتے تھے، نیز اس سرزمین کفر میں جو ضعفائے اسلام رہ گئے تھے ان کے لیے تنہا مامن وملجا تھے،یہی وجہ ہے کہ عباس نے جب کبھی رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے بازرکھا اورفرمایا کہ "آپ کا مکہ میں مقیم رہنا بہتر ہے،خدانے جس طرح مجھ پر نبوت ختم کی ہے ،اسی طرح آپ پر ہجرت ختم کرے گا۔[3]

اسلام وہجرتترميم

فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے عباس کو ہجرت کی اجازت مل گئی،چنانچہ وہ مع اہل و عیال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعلانیہ بیعت کرکے مستقل طورسے مدینہ میں سکونت پزیر ہوئے۔

خلفائے راشدینترميم

آن حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعدخلفائے راشدین نے بھی عباس کی عزت واحترام کا مخصوص لحاظ رکھا،عمر اورعثمان اگر کبھی گھوڑے پر سوار ہوکران کی طرف سے گذرتے تو تعظیما اترپڑتے، اورفرماتے کہ "یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عم محترم ہیں۔

اولادترميم

عباس بن عبد المطلب کے دس بیٹے تھے۔[5]

وفاتترميم

عباس 88 برس کی عمر پاکر 32ھ میں بماہ رجب یا رمضان ،جمعہ کے روز رہگزین عالم جادواں ہوئے،خلیفہ ثالث نے نمازِ جنازہ پڑھائی اورعبداللہ بن عباس نے قبر میں اترکر سپرد خاک کیا۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. عنوان : Аббас, Абул-Фадль Эль-Гашими — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume I, 1890
  2. ^ ا ب الاستیعاب تذکرہ عباس بن عبد المطلب
  3. ^ ا ب اسدالغابہ:3/109
  4. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد1 صفحہ28نعیمی کتب خانہ گجرات
  5. تاریخ ابن کثیر جلد 7