Order of Pakistan.png

نشان پاکستان پاکستان کا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے۔

نشان پاکستان پانے والے غیر ملکیترميم

سال نام شعبہ ملک
9 نومبر 1959 محمد رضا شاہ پہلوی شاہ ایران   پہلوی خاندان
1960 ایلزبتھ دوم ملکہ مملکت متحدہ
(سابقہ ملکہ ڈومنین پاکستان)
  مملکت متحدہ اور دیگر دولت مشترکہ قلمرو
13 جنوری 1961 مارشل ٹیٹو صدر یوگوسلاویا   یوگوسلاویہ
1962 پھومیپھون ادونیادیت شاہ تھائی لینڈ   تھائی لینڈ
7 دسمبر 1957 ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور صدر ریاستہائے متحدہ امریکا   ریاستہائے متحدہ
1 اگست 1969 رچرڈ نکسن[1] صدر ریاستہائے متحدہ امریکا   ریاستہائے متحدہ
1983 King Birendra شاہ نیپال   نیپال
23 مارچ 1983 آغا خان چہارم[2] رہنما اسماعیلی   مملکت متحدہ
19 مئی 1990 مورار جی دیسائی[3] وزیراعظم بھارت   بھارت
18 ستمبر 1992 حسن البلقیہ[4] سلطان برونائی دار السلام   برونائی دارالسلام
3 اکتوبر 1992 نیلسن منڈیلا[5][6] صدر جنوبی افریقا   جنوبی افریقا
10 اپریل 1999 لی پنگ پریمیئر عوامی جمہوریہ چین   چین
6 اپریل 1999 حمد بن خلیفہ الثانی[7] امیر قطر   قطر
21 اپریل 2001 قابوس بن سعید آل سعید[8] سلطان عمان   سلطنت عمان
1 فروری 2006 عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود[9] شاہ سعودی عرب   سعودی عرب
24 نومبر 2006 Hu Jintao[10] صدر عوامی جمہوریہ چین   چین
26 اکتوبر 2009 رجب طیب اردوغان[11][12] وزیر اعظم ترکی   ترکی
آکی ہیتو شہنشاہ جاپان   جاپان
31 مارچ 2010 عبد اللہ گل[13][14] صدر ترکی   ترکی
22 مئی 2013 لی کی چیانگ[15] پریمیئر عوامی جمہوریہ چین   چین
21 اپریل 2015 شی جن پنگ[16] صدر عوامی جمہوریہ چین   چین
23 مئی 2018 فیدل کاسترو[17] صدر کیوبا   کیوبا
18 فروری 2019 محمد بن سلمان[18] ولی عہد سعودی عرب   سعودی عرب

حریت رہنما سید علی گیلانی کو 14 اگست 2020ء بھی نشان پاکستان دینے کا اعلان

  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

حوالہ جاتترميم

  1. Richard Nixon, Remarks on Accepting the Nishan-e-Pakistan، Published 1 Aug 1969, Retrieved 28 مئی 2016
  2. "In recognition of his sense of commitment in promoting social and economic welfare activities of Pakistan"، ismaili.net website, Published 23 مارچ 1983, Retrieved 28 مئی 2016
  3. When India and Pakistan almost made peace، مورار جی دیسائی and محمد ضیاء الحق meeting in کینیا، Rediff.com newspaper website, Published 11 جولائی 2001, Retrieved 28 مئی 2016
  4. حسن البلقیہ
  5. List of Nelson Mandela awards and honours
  6. "Mandela in Pakistan". The Independent مملکت متحدہ newspaper. 1992-10-03. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 مئی 2016. 
  7. http://www.ssig.kpkk.gov.my/ssig/news/fullnews.php?news_id=77780&news_cat=sn[مردہ ربط]
  8. "The Al-Busaid Dynasty: Genealogy". Royalark.net. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 مارچ 2014. 
  9. King Abdullah ends Asian tour with state visit to Pakistan آرکائیو شدہ 2008-06-18 بذریعہ وے بیک مشین
  10. Subramanian، Nirupama (Nov 25, 2006). "Hu Jintao awarded Nishan-e-Pakistan". دی ہندو (newspaper). 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 جنوری 2017. 
  11. Erdogan: Pakistan, Turkey can together bring peace to region آرکائیو شدہ 2012-03-04 بذریعہ وے بیک مشین
  12. "Erdogan conferred Nishan-e-Pakistan". The Nation. APP. اکتوبر 27, 2009. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 جنوری 2017. 
  13. "Nawaz thanks Gul for supporting Pakistan in hard times". دی نیوز. اپریل 2, 2010. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 جنوری 2017. 
  14. "Turkish President arrives on four-day visit". دنیا نیوز. مارچ 30, 2010. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 جنوری 2017. 
  15. "Chinese PM awarded Nishan-e-Pakistan on arrival in Islamabad". دی ایکسپریس ٹریبیون. 22 مئی, 2013. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 جنوری 2017. 
  16. "Nishan-e-Pakistan award conferred on Xi Jinping". دی ہندو. PTI. Apr 21, 2015. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 جنوری 2017. 
  17. "Pakistan is honouring late Cuban leader Fidel Castro with Nishan-e-Pakistan today – here's why". 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 6 اپریل 2018. 
  18. "President Alvi confers Nishan-e-Pakistan on Saudi Crown Prince Mohammad bin Salman". دی ایکسپریس ٹریبیون. Feb 18, 2019. اخذ شدہ بتاریخ 18 فروری 2019.