سید برکت اللہ مارہروی(8 مارچ 1660ء تا 5 اگست 1729ء) سلسلہ قادریہ کے تینتیسویں امام اور شیخ تھے۔ آپ کے القابات سلطان العاشقین اور صاحب البرکات ہیں۔ آپ کی پیدائش 26 جمادی الثانی 1070ہجری کو بلگرام میں ہوئی۔ ان کا وصال 10 محرم 1142 ہجری کو ہوا۔ آپ کے والد ماجد کا نام سید شاہ اویس تھا جو ایک عظیم ولی اللہ تھے۔[1][2]

عالمِ دین
برکت اللہ مارہروی
پیدائش8 مارچ 1660ء
وفات5 اگست 1729ء
نسلمسلم
شعبۂ زندگیجنوبی ایشیاء
مذہباسلام
فقہحنفی
مکتب فکرسنی
شعبۂ عملتصوف

خاندانی تاریخ

ترمیم

ان کے جد امجد ابوالفرح ہندوستان منتقل ہوئے تھے۔ ان کے وصال کے بعد ان کے پوتے سید شاہ محمد صغریٰ ہندوستان تشریف لائے۔ سلطان شمس الدین التمش ان کی بہت عزت کی اور انھیں بلگرام کے راجا کے برابر فوج دے کر شہر کو فتح کرنے کے لیے بھیجا۔ انھوں نے بلگرام شہر کو فتح کیا۔ وہاں انھوں نے اسلام کے جھنڈے کو مضبوطی سے گاڑتے ہوئے بہت سے لوگوں کے دل اسلام کی طرف پھیر دیے۔ سلطان التمش ان سے بہت خوش ہوئے اور بلگرام انھیں ایک جاگیر کے طور پر دے دیا۔ بھر فاتح بلگرام، سید شاہ محمد صغریٰ نے اپنے بقیہ خاندان کو بھی بلگرام بُلا لیا۔[1]

تعلیم

ترمیم

سید شاہ برکت اللہ ایک علم دوست گھرانے میں پیدا ہوئے تھے لہٰذا انھیں حصول علم کے لیے سفر کرکے کہیں دور نہ جانا پڑا بلکہ انھوں نے اپنے والد سید شاہ اویس کی نگرانی میں تفسیر، حدیث،اورعلم الحدیث، فقہ اور اصول الفقہ جیسے علوم سیکھے۔[1]

مضامین بسلسلہ

تصوف

 

بیعت

ترمیم

تعلیم کے بعد آپ کے والد نے آپ کو کئی سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازا۔ آپ نے سیدنا شاہ فضل اللہ کالپوی سے بھی روحانی فیض حاصل کیا۔[3]

عبادت و ریاضت

ترمیم

انھوں نے 26 سال تک روزہ رکھا وہ سارا دن روزہ رکھتے اور افطار کے وقت صرف ایک کھجور کھاتے۔ وہ راتوں کو جاگ کر اللہ عزوجل کی عبادت کرتے۔ آپ فجر کی نماز کے بعد سے لے کر نمازِ اشراق تک وظائف میں مشغول رہتے۔ وہ نمازِ چاشت کے وقت مدرسہ جایا کرتے اور وہاں موجود طلبہ اور عقیدت مندوں کو علم سے سیراب فرماتے۔ ان کا ایک معمول یہ تھا کہ وہ نمازِ ظہر کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کا آغاز کرتے اور عصر کی اذان سُن کر تلاوت روک دیتے۔ عصر سے مغرب کے دوران وہ سالکین طریقت کی روحانی پیاس بجھاتے۔[1]

سلسلہ برکاتیہ

ترمیم

سلسلہ برکاتیہ مکمل مضمون

شہید علامہ اسید الحق قادری بدایونی لکھتے ہیں، ’’صاحب البرکات سیدنا شاہ برکت اللہ مارہروی نے باقاعدہ مارہرہ میں سکونت اختیار کی اور رشد و ہدایت کے لیے خانقاہ کی بنیاد ڈالی، یہی خانقاہ آج پورے عالم میں خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کے نام سے جانی جاتی ہے- یوپی کا یہ گمنام قصبہ صاحب البرکات کی نسبت اور ان کے فیض سے آج طریقت و معرفت اور رشد و ہدایت کی علامت بن گیا ہے۔‘‘ [4] اس خانقاہ سے بیعت مشائخ اور خلفاء کے سلسلے کو برکاتیہ کہا جانے لگا۔ اور قادری برکاتی لکھا جانے لگا۔ دراصل یہ سلسلہ عالیہ قادریہ ہی ہے اس خانقاہ کے مریدوں میں سے ایک عظیم عالمِ دین اور صوفی، امام اہلسنت اعلیٰ حضرت مولانا مولوی احمد رضا خان اپنے علمی اور تحقیقی کام کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ وہ اپنے مُرشد خانے کا بہت احترام کرتے تھے۔[5]

شعر و ادب

ترمیم

سید برکت اللہ مارہروی کو شعر و ادب سے بھی لگاؤ تھا۔ وہ عربی اور فارسی کے علاوہ اردو (ہندوی، ریختہ) اور سنسکرت پر بھی عبور رکھتے تھے۔ آپ عربی میں ’’عشقی‘‘ اور ہندی میں ’’پیمی‘‘ تخلص فرماتے تھے۔[6]

مزار

ترمیم

آپ کا مزار مارہرہ شریف میں ہے۔[7]

حوالہ جات

ترمیم
  1. ^ ا ب پ ت Hadrat Sayyid Shah Barkatullah Marehrwi (Radi ALLAHu Ta'ala Anho) - Famous Personalities Articles : Hamariweb.com
  2. "TRUE LIBRARY ..:: www.truelibrary.com ::"۔ 20 جنوری 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 جون 2021 
  3. - http://www.nafseislam.net/articles/hazrat-barkatullah-marharvi#sthash.Vh9x3FMW.dpuf آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ nafseislam.net (Error: unknown archive URL)
  4. Religion Articles : Hamariweb.com - خانوادۂ برکاتیہ اور فیضان چشت[مردہ ربط]
  5. "آرکائیو کاپی"۔ 23 نومبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 مئی 2015 
  6. A Book Iqleem E Naat Ka Motabar Safeer Sayyed Nazmi Marehrawi | ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی[مردہ ربط]
  7. Dargah Hazrat Syed Shah Barkatullah Sahab - Marehra

بیرونی روابط

ترمیم