مرکزی مینیو کھولیں


آئین ہند (ہندی: भारत का संविधान) جمہوریہ بھارت کا دستور اعلیٰ ہے۔[1] اس ضخیم قانونی دستاویز میں جمہوریت کے بنیادی سیاسی نکات اور حکومتی اداروں کے ڈھانچہ، طریقہ کار، اختیارات اور ذمہ داریوں نیز بھارتی شہریوں کے بنیادی حقوق، رہنما اصول اور ان کی ذمہ داریوں کو بیان کیا گیا ہے۔ آئین ہند دنیا کا سب سے ضخیم تحریری دستور ہے[2][3][4] اور آئین ہند کی مجلس مسودہ سازی کے صدر بھیم راؤ رام جی امبیڈکر کو عموماً اس کا معمار اعظم کہا جاتا ہے۔[5]

آئین ہند کے مطابق بھارت میں دستور کو پارلیمان پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ اسے مجلس دستور ساز نے بنایا تھا نہ کہ بھارتی پارلیمان نے۔ آئین ہند کی تمہید کے مطابق بھارتی عوام نے اسے وضع اور تسلیم کیا ہے۔[6] پارلیمان آئین کو معطل نہیں کر سکتی ہے۔

آئین ہند کو مجلس دستور ساز 26 نومبر 1949ء کو تسلیم کیا تھا اور 26 جنوری 1950ء کو نافذ کیا تھا۔[7] آئین ہند گورنمٹ آف انڈیا ایکٹ، 1935ء کو بدل کر ملک کا بنیادی سرکاری دستاویز بنا اور بھارت ڈومینین جمہوریہ ہند بن گیا۔ آئینی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے آئین ہند کے معماروں نے برطانوی پارلیمان کی دفعات کو آئین ہند کی دفعہ 395 میں کالعدم قرار دے دیا۔[8] آئین ہند کے نفاذ کو بھارت بطور یوم جمہوریہ کو مناتا ہے۔[9]

آئین ہند بھارت کو آزاد، سماجی، سیکیولر [10][11] اور جمہوری ملک بناتا ہے جہاں عوام کے تئیں انصاف، مساوات اور حریت کو یقینی بناتا ہے اور برادری کو فروغ دینے پر ابھارتا ہے۔[12]

پس منظرترميم

برصغیر 1857ء سے 1947ء تک برطانوی راج کے زیر نگیں تھا۔ آئین ہند نے 26 جنوری 1947ء کو نافذ ہونے کے بعد قانون آزادی ہند ایکٹ، 1947ء کو کالعدم قرار دے دیا۔ آئین کے نفاذ کے ساتھ ہی بھارت اب تاج برطانیہ کا ڈومینین نہیں رہا اور ایک آزاد جمہوری ملک کہلایا۔ دفعات 5، 6، 7، 8، 9، 60، 324، 366، 367، 379، 380، 388، 391، 392، 393 اور 394 26 نومبر 1949ء کو ہی نافذ ہو گئی تھیں جبکہ مکمل دستور 26 جنوری 1950ء کو نافذ ہوا۔[13]

سابق دستور سازیترميم

آئین ہند کے کئی ماخذ ہیں۔بھارت کی حالات اور ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین کے معماروں نے سابق دستوروں اور ایکٹوں سے بہت کچھ مدد لی ہے جیسے حکومت ہندوستان ایکٹ 1858، قانون مجالس ہند، 1861ء، قانون مجالس ہند، 1892ء، منٹو مارلے اصلاحات 1909ء، حکومت ہند ایکٹ 1919ء، حکومت ہند ایکٹ،1935ء اور قانون آزادی ہند 1947ء۔ قانون آزادی ہند نے سابق مجلس دستور ساز کو دو حصوں میں منقسم کر دیا۔ ان میں سے ہر ایک کے الگ الگ ملکوں کے لیے دستور سازی کے آزاد اختیارات تھے۔[14]

مجلس دستور سازترميم

آئین ہند کا مسودہ مجلس دستور ساز نے تیار کیا۔مجلس دستور ساز کے ارکان کو صوبائی اسبملیوں کے منتخب ارکان نے منتخب کیا۔[15] اولا مجلس کے ارکان کی تعداد 389 تھی لیکن تقسیم ہند کے بعد ان کی تعداد 299 کردی گئی۔آئین کو بننے میں کل تین سال لگے اور اس دوران میں 165 ایام پر محیط 11 اجلاس منعقد کیے گئے۔[2][14]

رکنیتترميم

مجلس دستور ساز کے اہم ارکان میں بھیم راو امبیڈکر، سنجے فاکے، جواہر لعل نہرو، چکرورتی راجگوپال آچاریہ، راجندر پرساد، ولبھ بھائی پٹیل، کنہیا لال مانیک لال منشی، گنیش واسودیو ماوالانکار، سندیپ کمار پٹیل، ابو الکلام آزاد، شیاما پرساد مکھرجی، نینی رنجن گھوش اور بلونت رائے مہتا تھے۔[2][14] مجلس دستور ساز کے ارکان میں کل 30 نمائندے درج فہرست طبقات و درج فہرست قبائل کے تھے۔ اینگلو انڈین کی نمائندگی فرینک انتھونی کر رہے تھے۔[2] پارسی کی نمائندگی پی ایچ مودی کر رہے تھے،[2] کرچین اسمبلی کے نائب صدر ہریندر کمار مکرجی غیر اینگلو انڈین عیسائیوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ گورکھا قبیلے کی نمائندگی اری بہادر گورنگ کر رہے تھے۔ ججوں میں اللادی کرشن سوامی ایر، بینیگال نرسنگ راو، کے ایم منشی اور گنیش ماولنکر بھی اسمبلی کے رکن تھے۔[2] خواتین میں سروجنی نائیڈو، ہرشا مہتا، درگا بائی دیش مکھ، امرت کور اور وجیا لکشمی پنڈت اسبمبلی کی رکن تھیں۔[2] مجلس کے پہلے صدر سچندا نند صرف دو دن کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ بعد میں راجندس پرساد صدر مقرر ہوئے۔ مجلس کا پہلا اجلاس 9 دسمبر 1946ء کو منعقد ہوا۔[2][15][16]

مسودہ سازیترميم

ایک سول ملازم ، بین الاقوامی عدالت انصاف کے پہلے بھارتی جج اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے صدر بینیگال نرسنگ راو 1946ء میں مجلس کے قانونی مشیر منتضب کیے گئے۔[17] انہوں نے فروری 2948ء میں ابتدائی مسودہ تیار کیا۔ وہی آئین ہند کے بنیادی دھانچے کے بانی کہلائے۔[17][18][19]

14 اگست 1947ء کو ایک اجلاس رکھا گیا۔[15] راو کے مسودہ کو زیر غور لایا گیا، اس پر بحث کی گئی اور آٹھ رکنی ٹیم نے اس میں ترمیم کی۔ 29 اگست 1947ء کو بنی اس ٹیم کے صدر بھیم راو امبیڈکر تھے۔[2][16] 4 نومبر 1947ء کو کمیٹی نے مجلس کو نظر ثانی شدہ مسودہ پیش کیا۔[16] مودہ پر غور کرتے ہوئے مجلس نے اس میں ہوئی 7,635 ترامیم میں سے 2,473 ترامیم کر رد کر دیا۔[14][20] آئین کو نافذ کرنے سے قبل 165 دنوں کی مدت میں مجلس نے 11 اجلاس منعقد کیے۔[2] [14] 26 نومبر 1949ء کو آئین کو تسلیم کر لیا گیا،[2][14][16][19][21] اور 284 ارکان نے دستخط کیے۔،[2][14][16][19][21] اسی دن کو قومی یوم قانون کے طور پر منایا جاتا ہے۔[2][22] اسے یوم آئین ہند بھی کہا جاتا ہے۔[2][23] اس دن کو آئین کی اہمیت اور امبیڈکر کے خیالات کی تشہیر کے لیے بھی منایا جاتا ہے۔[24]

مجلس کا حتمی اجلاس 24 جنوری 1950ء کو منعقد ہوا۔ تمام ارکان سے آئین کے دونوں نسخوں (ایک ہندی، ایک انگریزی) پر دستخط کیے۔[2][14][19] اصلی نسخہ ہاتھ سے لکھا ہوا ہے جس کا ہر صفحہ شانتی نکیتن کے کلاکاروں کے نقش و نگار سے مزین ہے۔ ان میں بیو ہر رام منوہر سنہا اور نند لال بوس شامل ہیں۔[16][19] اس میں] پریم بہاری نارائن رائیزادہ نے اپنے فن خطاطی کا مظاہرہ کیا۔[16] اس کی طباعت دہرہ دون میں ہوئی اور سروے آف انڈیا نے فوٹو لتھروگرافی کی۔ اصلی نسخہ کے پروڈکشن میں پانچ برس لگ گئے۔ دو دن کے بعد 26 جنوری 1950ء کو یہ نسخہ بھارت کا قانون بن گیا۔[16][25] مجلس دستور ساز کا خرچ تقریباً ₹6.3 کروڑ ( 63 ملین) بتایا گیا ہے۔[14] نفاذ کے بعد دستور مین کئی دفعہ ترمیم کی جا چکی ہے۔[26] آئین کا اصلی نسخہ سنسد بھون نئی دہلی میں ہیلیم سے بھرے ڈبے میں محفوظ رکھا گیا ہے۔[16]

دوسرے قوانین کے اثراتترميم

ڈھانچہترميم

بھاتے کا آئین کسی بھی آزاد ملک کو سب سے بڑا دستور ہے۔[2][3][4] نفاذ کے وقت اس میں 22 ابواب، 8 درج فہرستیں اور 395 دفعات تھیں۔[14] کل 145000 الفاظ کے ساتھ دنیا دوسرا بڑا تحریری دستور تھا۔سب سے ۔ بڑا تحریری دستور آئین البانیا تھا۔[27][28] آئین ہند میں تمہید اور 448 دفعات ہیں۔[16] تمام دفعات 25 حصوں میں منقسم ہیں۔[16] کل 12 درج فہرستیں ہیں [16] اور 5 زائدے ہیں۔[16][29] اب تک کل 103 ترامیم کی جا چکی ہیں۔ حالیہ ترمیم 14 جنوری 2019ء کو ہوئی تھی۔[30]

حصےترميم

آئین کی دفعات کو درج ذیل 25 حصوں میں منقسم کیا گیا ہے:

  • تمہید-[31] الفاظ سماج وادی، سیکیولر اور سالمیت کو 42ویں ترمیم میں 1976ء میں شامل کیا گیا تھا۔[32][33]
  • حصہ 1[34]- بھارت کی ریاستیں اور یونین علاقے
  • حصہ 2[35]- شہریت
  • حصہ 3- بنیادی حقوق
  • حصہ 4[36]-مملکت کی حکمت عملی کے ہدایتی اصول
  • حصہ 54 الف- بنیادی فرائض
  • حصہ 5[37]- یونین
  • حصہ 6[38]- ریاست
  • حصہ 7[39]- پہلے فہرست بند کے حصہ ب میں مندرج ریاستیں ( محذوف)
  • حصہ 8[40]- یونین علاقے
  • حصہ 9[41]- پنچایت
  • حصہ 9 الف [42]- میونسی پالیٹی
  • حصہ 9 ب-معاون انجمنیں [43]
  • حصہ 10- درج فہرست اور قبائلی رقبے
  • حصہ 11- یونین اور ریاستوں کے مابین تعلقات
  • حصہ 12- مالیات، جائداد، معاہدات اور مقدمات
  • حصہ 13- بھارت کے علاقے کے اندر تجارت، بیوپار اور لین دین
  • حصہ 14- یونین اور ریاستوں کے تحت ملازمتیں
  • حصہ 14 الف- ٹریبیونل
  • حصہ 15- انتخابات
  • حصہ 16- بعض طبقوں سے متعلق خصوصی توضیعات
  • حصہ 17- زبانیں
  • حصہ 18- ہنگامی حالات سے متعلق توضیعات
  • حصہ 19- متفرق
  • حصہ 20- آئین کی ترمیم
  • حصہ 21- عارضی، عبوری اور خصوصی توضیعات
  • حصہ 22- مختصر نام، تاریخ نفاذ، مستند ہندی متن اور تنسیخات

فہرست بندترميم

فہرست بند میں وہ امور بین کیے گئے ہیں جو افسر شاہی سرگرمی اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق ہیں۔

  • پہلا فرست بند ( دفعہ 1 تا 4)- بھارت کی ریاستیں اور علاقے، ان کی سرحدوں میں تبدیلی اور ان سے متعلق قوانین۔
  • دوسرا فہرست بند ( دفعہ59(3)، 65(3)، 75(6)، 97, 125, 148(3)، 158(3)، 164(5)، 186 اور 221)- بھارتی افسر شاہوں، ججوں اور بھارتی ناظر حسابات و محاسب عام کی تنخواہیں۔
  • تیسرا فہرست بند (5(4)، 99, 124(6)، 148(2)، 164(3)، 188 اور 219)- حلف کی قسمیں-حلف یا اقرار صالح کے نمونے۔
  • چوتھا فہرست بند ( دفعہ 4(1) اور 80(2))- راجیہ سبھا میں نشستوں کی تقسیم
  • پانچواں فہرست بند (دفعہ 244(1))- درج فہرست رقبوں اور ردج فہرست قبیلوں کے نظم و نسق اور ان کی نگرانی کے متعلق توضیعات۔
  • چھٹا فہرست بند (دفعہ 244 (2) اور 275 (1))- آسام، میگھالیہ، تریپورہ اور میزورم کے ریاستی قبائلوں کے نظم و نسق کے بارے میں توضیعات-
  • ساتوان فہرست بند ( دفعہ 246)- یونین فہرست، ریاستی فہرست اور متوازی فہرست۔
  • آٹھواں فہرست بند ( دفعہ 344(1) اور 351)- زبانیں۔
  • نواں فہرست بند ( دفعہ 31 ب) - بعض ایکٹ اور دساتیر العمل کا جواز۔
  • دسواں فہرست بند (دفعہ 102(2) اور 191 (2))- دل بدل کی بنیاد پر نا اہلیت کی نسبت توضیعات-
  • گیارہواں فہرست بند ( دفعہ 243 (G)- پنچایت کے اختیارات، اتھارٹی اور ذمہ داریاں۔
  • بارہواں فہرست بند (دفعہ 243 (W))- میونسی پولٹیوں کے اختیارات، اتھارٹی اور ذمہ داریاں۔

ضمیمےترميم

  • ضمیمہ 1- آئین (جموں اور کشمیر) حکم ، 1954
  • ضمیمہ 2 -
  • ضمیمہ3-
  • ضمیمہ 4-
  • ضمیمہ 5-

آئین اور حکومتترميم

بھارت کی عاملہ، مقننہ اور عدلیہ اپنا اختیار آئین سے حاصل کرتی ہیں اور آئین کے ہی پابند ہیں۔[44] حکومت بھارت کا پارلیمانی نظام آئین کی مدد سے چلتا ہے جہاں عاملہ براہ راست مقننہ کو جوابدہ ہے۔صدر بھارت آئین کی دفعہ 52 اور 53 کے تحت عاملہ کا سربراہ ہے۔ دفعہ 60 صدر کو آئین کی حفاظت کرنے، دیکھ بھال کرنے اور دفاع کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ دفعہ 74 وزیر اعظم بھارت کو کابینہ بھارت کا سربراہ نامزد کرتی ہے اور وہی صدر کو اس کے آئینی فرائض کی انجام دہی میں مشورہ دیتا ہے۔ دفعہ 75(3) کے تحت کابینہ لوک سبھا کو جوابدہ ہے۔

آئین ہند فطری طور پر فیڈرل ہے اور روحانی طور پر وحدانی ریاست ہے۔ یہ تحریری آئین فیڈریشن، دستور عظمی، سہ درجے والا حکومتی ڈھانچہ (مرکز، ریاست اور علاقائی)، اختیارات کی تقسیم، دو ایوانیت، آزاد عدلیہ اور وحدانی خصوصیات جیسے ایک دستور، ایک شہریت، منظم عدلیہ، قابل ترمیم دستور، مضبوط مرکزہ حکومت، مرکزی حکومت کے زیر نگرانی ریاستی گورنر کی نامزدگی، آل انڈیا سول سروسز جیسی خصوصیات کا حامل ہے۔ ان تمام خصوصیات کا یہ مجموعہ بھارت کو نیم فیڈرل حکومت بنایا ہے۔[45]

آئین ریاست اور یونین علاقہ کو حکومت بنانے کا جواز فراہم کرتا ہے۔ آئین صرف مرکزی حکومت صدر اور وزیر اعظم کو عہدہ دیتا ہے، باقی ریاسوں اور یونین علاقہ میں سے ہر ایک کو گورنر، لیفٹنینٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کا عہدہ فراہم کرتا ہے۔ اگر کسی ریاست میں ہنگامی حالات پیدا ہوجائیں اور ریاستی حکومت آئین کے مطابق حکومت کرنے میں ناکام رہے تو آئین کی دفعہ 356 صدر کو ریاستی حکومت کو برخواست کرنے اور براہ راست وہاں کی حکومت اپنی ذمہ لینے کا اختیار دیتی ہے۔ اس اختیار کو صدر راج کہا جاتا ہے۔حالانکہ ماضی میں صدر کا غلط استعمال بھی ہوا ہے جب بہت ہی معمولی وجہ کی بنیاد پر ریاست کی حکومت کو برخواست کر دیا گیا تھا۔ پھر ایس آر بومائی برخلاف یونین آف انڈیا معاملہ کے بعد دعالت نے صدر راج کو تھوڑا مشکل بنا دیا ہے کیونکہ ریاست کو جائزہ کا حق دے دیا ہے۔[46][47][48] آئین کی 73ویں اور 74ویں ترمیم سے دیہی علاقوں میں پنچایت راج او شہری علاقوں میں نگر پالیکا کا تعارف کرایا گیا۔[16] بھاتیی آئین کی دفعہ 370 جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دیتی ہے۔

آئین اور مقننہترميم

ترامیمترميم

آئین کے کسی حصہ میں اضافہ کرنے، کچھ حذف کرنے یا تبدیلی کرنے کے لیے پارلیمان کو ترمیم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔[49] دفعہ 368 میں ترمیم کی تفصیل درج ہے۔ترمیمی بل دونوں ایوانوں سے کل ارکان میں سے دو تہائی ارکان کی منظوری ضروری ہے اور وہ بھی اس صورت میں کہ دو تہائی ارکان ایوان میں حاضر ہوں۔ دستور کے فیڈرل طبیعت والی دفعات میں ترمیم کے لیے بھی صوبائی مققنہ کی اکثریت کا ووٹ ضروری ہے۔ دفعہ 245 اور (مالی بل) کے علاوہ کسی بھی بل کے لیے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا مشترک اجلاس ضروری نہیں ہے۔ جب پارلیمان کا کام کاج نہیں چل رہا ہو تب صدر کسی بھی بل کو دفعہ 123، باب 3، آئین میں ضروری ترامیم کے تحت اپنے مقننہ اختیار کو حاصل کر کے ممتاز نہیں کر سکتا ہے۔ صدر کو یہ اختیار 24ویں ترمیم میں دفعہ 368 الف میں دیا گیا ہے۔[49] جولائی 2018ء تک آئین میں 124 ترامیم پارلیمان میں پیش کی جا چکی ہیں جن میں 103 ترمیمی قانون بنے ہیں۔252 ترمیم کے اتنے سخت قوانین کے بعد بھی آئین ہند دنیا کے سب سے زیادہ ترمیم کیے جانے والے دستوروں میں سے ایک ہے۔[50] 2000ء میں جسٹس مانے پلی راو وینکٹا چلیا کمیشن بنائی گئی جس کا مقصد آئین کو اپڈیٹ کرنا تھا۔[51] حکومت ہند قانونی اصلاحات کے لیےمختصر مدتی قانونی کمیشن کو متعین کرتی رہتی ہے تاکہ حکومت قانون کے مطابق چلتی رہے۔

حدودترميم

کیشو نند بھارتی بمقابلہ ریاست کیرلا معاملہ میں بھارتی عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سنایا کہ ترمیم کے ذریعے آئین کے بنیادی ڈھانچہ کو نہیں بدلا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی کوئی بھی ترمیم کالعدم قرار دی جائے گی۔حالانکہ آئین کا کائی بھی حصہ ناقابل ترمیم نہیں ہے: بنیادی ڈکٹرائن آئین کے کسی بھی پروویزن کو محفوظ نہیں کرتا ہے۔ڈاکٹرائن کے مطابق آئین کی بنیادی خصوصیات کو ختم یا کمزور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آئین کی بنیادی خصوصیات کو پوری طرح سے متعارف نہیں کرایا جا سکا ہے۔[44] اور یہ بھی متعین نہیں ہے کہ آیا عدالت عظمی آئین کے بنیادی ڈھانچہ یا بنیادی خصوصیات میں کوئی فیصلہ کےسکتا ہے۔[52] کیشو نند اور ریاست کیرلا میں مندرجہ آئین ہند کی ذیل خصوصیات قرار پائیں:[53]

  1. آئینی برتری
  2. جمہوریت اور جمہوری طرز حکومت
  3. فطری طور پر سیکیولر ہونا
  4. اختیارات کی تقسیم
  5. فیڈرل ہونا[53]

اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ پارلیمان اس کے بنیادی ڈھانچہ میں ترمیم نہیں کرسکتی ہے۔ ایسی کسی بھی ترمیم کو عدالت عظمی یا کوئی عدالت عالیہ کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ایسا صرف ان حکومتوں میں ممکن ہے جہاں پارلیمانی نظام حکومت ہو اور عدالت پارلیمان کے اختیارات میں محاسب کا کام کرتی ہے۔ کولگ ناتھ بمقابلہ ریاست پنجاب قضیہ میں عدالت عظمی نے کہا کہ ریاست پنجاب آئین کے بنیادی ڈھانچہ نے جو بنیادی حقوق متعین کردئے ہیں ریاست پنجاب ان سے کسی کو محروم نہیں کرسکتی ہے۔[54] اسی ضمن میں زمینی ملکیت اور اختیار پیشہ بنیادی حقوق قرار پائے۔[55] بعد میں 1971ء میں 24ویں ترمیم کر کے اس فیصلے کو بدل دیا گیا۔[55]

حوالہ جاتترميم

  1. Original edition with original artwork - The Constitution of India۔ New Delhi: Government of India۔ 26 نومبر 1949۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 مارچ 2019۔
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض "Preface, The constitution of India" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Government of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 فروری 2015۔
  3. ^ ا ب Moolamattom Varkey Pylee۔ India's Constitution (اشاعت 5th rev. and enl.۔)۔ نئی دہلی: R. Chand & Company۔ صفحہ 3۔ آئی ایس بی این 978-8121904032۔ او سی ایل سی 35022507۔
  4. ^ ا ب Elizabeth Nix (9 اگست 2016)۔ "Which country has the world's shortest written constitution?"۔ History۔ A&E Networks۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جولا‎ئی 2018۔
  5. "The Constitution of India: Role of Dr. B.R. Ambedkar"۔ مورخہ 2 اپریل 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "Constitutional supremacy vs parliamentary supremacy" (پی‌ڈی‌ایف)۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اکتوبر 2015۔
  7. "Introduction to Constitution of India"۔ Ministry of Law and Justice of India۔ 29 جولا‎ئی 2008۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اکتوبر 2008۔
  8. Swaminathan، Shivprasad (26 January 2013). "India's benign constitutional revolution". The Hindu: opinion. http://www.thehindu.com/opinion/lead/indias-benign-constitutional-revolution/article4345212.ece۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 February 2013. 
  9. Hari Das۔ Political System of India (اشاعت Reprint۔)۔ نئی دہلی: Anmol Publications۔ صفحہ 120۔ آئی ایس بی این 978-8174884961۔
  10. WP(Civil) No. 98/2002 (12 ستمبر 2002)۔ "Aruna Roy & Ors. v. Union of India & Ors." (پی‌ڈی‌ایف)۔ Supreme Court of India۔ صفحہ 18/30۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 نومبر 2015۔
  11. "Preamble of the Constitution of India" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Ministry of Law & Justice۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 مارچ 2012۔
  12. V.P. Menon (15 ستمبر 1955)۔ The story fo the integration of the India states۔ Bangalore: Longman Greens and Co۔ |access-date= requires |url= (معاونت)
  13. "Commencement"۔
  14. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ "The Constituent Assembly Debates (Proceedings):(9th December,1946 to 24 January 1950)"۔ The Parliament of India Archive۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 فروری 2008۔
  15. ^ ا ب پ R. Krithika (21 جنوری 2016)۔ "Celebrate the supreme law"۔ دی ہندو۔ N. Ram۔ ISSN 0971-751X۔ او سی ایل سی 13119119۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جولا‎ئی 2018۔
  16. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز Jetling Yellosa (26 نومبر 2015)۔ "Making of Indian Constitution"۔ The Hans India۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2018۔
  17. ^ ا ب M. Laxmikanth۔ "INDIAN POLITY"۔ McGraw-Hill Education۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اپریل 2019۔
  18. India Today Web Desk New DelhiNovember 26؛ 2018UPDATED: November 26؛ 2018 15:31 Ist۔ "Constitution Day: A look at Dr BR Ambedkar's contribution towards Indian Constitution"۔ India Today۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اپریل 2019۔
  19. ^ ا ب پ ت ٹ "Denying Ambedkar his due"۔ 14 جون 2016۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اپریل 2019۔
  20. "Constituent Assembly of India Debates"۔ 164.100.47.194۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اپریل 2019۔
  21. ^ ا ب Rajeev Dhavan (26 نومبر 2015)۔ "Document for all ages: Why Constitution is our greatest achievement"۔ ہندوستان ٹائمز۔ او سی ایل سی 231696742۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جولا‎ئی 2018۔
  22. Biswaraj Patnaik (26 جنوری 2017)۔ "BN Rau: The Forgotten Architect of Indian Constitution"۔ The Pioneer۔ بھونیشور: Chandan Mitra۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جولا‎ئی 2018۔
  23. "Archived copy"۔ مورخہ 20 فروری 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جون 2013۔
  24. "Celebrating Constitution Day"۔ دی ہندو۔ N. Ram۔ 26 نومبر 2015۔ ISSN 0971-751X۔ او سی ایل سی 13119119۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جولا‎ئی 2018۔
  25. "Archived copy"۔ مورخہ 11 مئی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2014۔
  26. "Some Facts of Constituent Assembly"۔ Parliament of India۔ National Informatics Centre۔ مورخہ 11 مئی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2011۔ On 29 August 1947, the Constituent Assembly set up a Drafting Committee under the Chairmanship of B. R. Ambedkar to prepare a Draft Constitution for India
  27. "November 26 to be observed as Constitution Day: Facts on the Constitution of India"۔ India Today۔ 12 اکتوبر 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 نومبر 2015۔
  28. "Original unamended constitution of India, January, 1950"۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اپریل 2014۔
  29. "THE CONSTITUTION (AMENDMENT) ACTS"۔ India Code Information System۔ Ministry of Law, Government of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 دسمبر 2013۔
  30. Raghav Bahl (27 نومبر 2015)۔ "How India Borrowed From the US Constitution to Draft its Own"۔ The Quint۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جولا‎ئی 2018۔
  31. Madabhushi Sridhar۔ "Evolution and Philosophy behind the Indian Constitution (page 22)" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Dr.Marri Channa Reddy Human Resource Development Institute (Institute of Administration), Hyderabad.۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اکتوبر 2015۔
  32. Tim Lockette (18 نومبر 2012)۔ "Is the Alabama Constitution the longest constitution in the world?Truth Rating: 4 out of 5"۔ The Anniston Star۔ Josephine Ayers۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جولا‎ئی 2018۔
  33. "Constitution of india"۔ وزارت قانون و انصاف، حکومت ہند۔
  34. "NOTIFICATION" (پی‌ڈی‌ایف)۔ egazette.nic.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جنوری 2019۔
  35. Aparijita Baruah (2007)۔ Preamble of the Constitution of India: An Insight and Comparison with Other Constitutions۔ New Delhi: Deep & Deep۔ صفحہ 177۔ آئی ایس بی این 81-7629-996-0۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 نومبر 2015۔
  36. Seema Chishti؛ Utkarsh Anand (30 جنوری 2015)۔ "Legal experts say debating Preamble of Constitution pointless, needless"۔ The Indian Express۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 نومبر 2015۔
  37. "Forty-Second Amendment to the Constitution"۔ Ministry of Law and Justice of India۔ 28 اگست 1976۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اکتوبر 2008۔
  38. Part I
  39. Part II
  40. Part IV
  41. Part VI
  42. Part V
  43. Part VII
  44. ^ ا ب Part VIII
  45. Part IX
  46. Part IXA
  47. http://indiacode.nic.in/coiweb/amend/amend97.pdf
  48. N.R. Madhava Menon (26 ستمبر 2004)۔ "Parliament and the Judiciary"۔ The Hindu۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 نومبر 2015۔
  49. ^ ا ب M Laxmikanth۔ "3"۔ Indian Polity (اشاعت 4th۔)۔ McGraw Hill Education۔ صفحہ 3.2۔ آئی ایس بی این 978-1-25-906412-8۔
  50. R.J. Rajendra Prasad۔ "'Bommai verdict has checked misuse of Article 356'"۔ Frontline (Vol. 15 :: No. 14 :: 4–17 July 1998)۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 نومبر 2015۔
  51. Praveen Swami۔ "Protecting secularism and federal fair play"۔ Frontline (Vol. 14 :: No. 22 :: 1–14 Nov. 1997)۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 نومبر 2015۔
  52. "Pages 311 & 312 of original judgement: A. K. Roy, Etc vs Union Of India And Anr on 28 December, 1981"۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 اگست 2014۔
  53. ^ ا ب name="amendments"
  54. Krishnamurthi، Vivek (2009). "Colonial Cousins: Explaining India and Canada's Unwritten Constitutional Principles". Yale Journal of International Law 34 (1): 219. http://www.yale.edu/yjil/files_PDFs/vol34/Krishnamurthy.pdf. 
  55. ^ ا ب Dr. Ashok Dhamija (2007)۔ Need to Amend a Constitution and Doctrine of Basic Features۔ Wadhwa and Company۔ صفحہ 568۔ آئی ایس بی این 9788180382536۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2014۔